Daily Archives: September 21, 2018

‫گوانگچو: شہری جدت طرازی ماحول کو تشکیل دینے میں پیش پیش شہر – “گوانگچو نائٹ” ایونٹ گرمائی ڈیووس کو تحریک دیتا ہوا

گوانگچو، 20 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 19 ستمبر کی شام لنگنان ثقافت کو پیش کرنے والا “گوانگچو نائٹ” ایونٹ تیانجن، شمالی چین میں عالمی اقتصادی فورم کے نیو چیمپیئنز 2018ء (گرمائی اجلاس) سالانہ اجلاس کے ساتھ منعقد ہوا تھا۔

یہ مسلسل چوتھا سال ہے کہ گوانگچو حکومت نے گرمائی ڈیووس میں شہر کو پیش کیا، جو رواں سال “چوتھی صنعتی انقلاب میں جدت طراز معاشروں کی تشکیل” کے موضوع پر منعقل ہوا تھا۔ گوانگچو نائٹ میں، “دنیا کے لیے متحرک گوانگچو” کے موضوع کے ساتھ، شہر نے اپنی توانائی اور تنوع کے ساتھ ساتھ ڈیووس کے تقریباً 400 مہمانوں کے سامنے جدید ٹیکنالوجی جدت طرازی کا بھی مظاہرہ کیا۔

شب نے گوانگچو کی تاریخ پر ایک عظیم 3ڈی اینیمیشن اسکرول ساؤتھ چائنا کمرشل کیپیٹل کا زبردست آغاز ملاحظہ کیا۔ اسے لنگنان کی ایک معروف تصویر “جنگمنگ میلے کے دوران دریا کے ساتھ ساتھ” کے طور پر سراہا گیا تھا۔ گوانگچو کی ثقافت اور جدت طرازی کے تمام عناصر نے حاضرین کی توجہ حاصل کی اور لنگنان خصوصیات کے ساتھ ٹیکنالوجی کا حامل گوانگچو ظاہر کیا۔

“گوانگچو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی ترویج اور گوانگڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا کی تعمیر میں ایک مرکزی شہر کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک قابل فخر تاریخ اور ثقافت کا لطف اٹھاتا ہے اور نقل و حمل کا ایک مؤثر نظام اور جدت طراز ذرائع کی بڑی مقدار رکھتا ہے۔ امید ہے کہ نئے عہد میں ترقیپاتے گوانگچو کے فراہم کردہ مواقع پیش کر سکیں گے۔” گوانگچو کے میئر وین گوہوئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

چین میں علاقائی جدت طراز ماحول صورت پا رہا ہے۔ گوانگچو، شینچین، ہانگچو وغیرہ کی زیر قیادت شہری جدت طرازی چین کو ایک جدت طراز معیشت بنانے میں مدد دے گی۔ گوانگچو، اپنے ثقافتی تنوع کی وجہ سے، ایک مکمل اور جدت طراز دوست ماحول ترتیب دے چکا ہے اور ہزار برس پرانے کاروباری مرکز سے ایک بین الاقوامی مرکز تک ترقی پا چکا ہے۔ یہاں تک کہ آج بھی جدت طرازی شہر کو باقی چین اور اس سے آگے منسلک کرنے کے لیے ایک محرک ہے۔

سیڈر ہولڈنگز ایک گوانگچو میں قائم گھر سے بننے والے نجی ادارے کی نمائندگی کرتی ہے جو فورچیو گلوبل 500 فہرست میں شامل ہے۔جدی اسمارٹ سپلائی چین کے ایک ادارے کے طور پر سیڈر نے عالمی سطح پر جانے کے لیے اقدامات اٹھانے پر دنیا کی قیادت کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خلاصہ ہے کہ گوانگچو نے کس طرح ایک نئی معیشت کی توانائی کو ظاہر کرنے کے لیے جدت طرازی سے تحریک پاتی ترقی کی حکمت عملی اختیار اور چین کے اصلاح اور کھلنے کے گزشتہ 40 سال کے دوران جدت طرازی کی صلاحیت کو بہتر بنایا۔

“اداروں کے گہوارے کے طور پر گوانگچو نجی اداروں اور جدت طرازی کے لیے سب سے مددگار ماحول رکھتا ہے۔” چانگ جن، سیڈر کے صدر اور بانی اور نیو چیمپیئنز کے نمائندے نے کہا۔

2017ء میں گوانگچو نے آئی اے بی (انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جینس اور بایومیڈیسن) پر اپنی حکمت عملی ظاہر کی۔ اپنی مقامی برتری، مضبوط صنعتی بنیاد اور سائنسی و ٹیکنالوجی جدت طرازی میں استحکام کی بدولت شہر نے ابھرتی ہوئی صنعت کی زبردست ترقی دیکھی۔ جدت طراز اداروں کا جمع ہونا اب یہاں تیزی اختیار کر رہا ہے۔

چینی اسٹارٹ اپ جنگ چی، جو پہلے سلیکیون ویلی، امریکا میں قائم ہوا تھا، اپنے صدر دفاتر کو گزشتہ سال دسمبر میں گوانگچو منتقل کیا۔ رواں سال مئی میں اسمارٹ موبلٹی کمپنی نے جی اے سی (گوانگچو آٹوموبائل گروپ کمپنی لمیٹڈ) کے جی ای3 ای وی ماڈل کو سیلف ڈرائیورنگ ورژن میں تبدیل کرنے اور سڑک پر لانے میں کامیاب ہوا۔ “گوانگچو چین میں سرفہرست 3 سیلف-ڈرائیونگ کمپنیوں میں سے دو کا مسکن ہے۔ ہم یہاں نمایاں ترقی کر رہے ہیں اور چینی ساختہ سیلفی ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو ان طریقوں سے آگے بڑھائیں گے جو لوگوں کے سفر کرنے کے طریقے تبدیل کرے گی۔ ” چانگ لی، جنگ جی میں نائب صدر آپریشن نے کہا۔

کشادگی اور تنوع گوانگچو کے بنائے جا رہے جدت طرازی ماحول کی بنیاد ہے۔ مسلسل تین سالوں سے گوانگچو چین کے سرفہرست 50 جدت طراز اداروں کی تعداد کے لحاظ سے مقامی شہروں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ اب 286 انکیوبیٹرز اور 181 میکر اسپیسز رکھتا ہے، جن کا رقبہ 10 ملین مربع میٹرز سے زیادہ ہے۔

ایک اور جدت طراز اسٹارٹ پونی ڈاٹ اے آئی، جو نینشا نیو ایریا، گوانگچو میں قائم ہے، نے کیلیفورنیا، امریکا میں اپنی سیلف ڈرائیونگ کاروں کے کامیاب روڈ ٹیسٹس کیے۔ “ہم مقامی جدت طراز اداروں کی ترویج کو اہمیت دیتے ہیں،” سی سیاؤہوئی، سیکرٹری انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ پروموشن بیورو آف گوانگچو نینشا ڈیولپمنٹ زون، نے کہا۔ “آتش پذیر برف کے منصوبے پر اے آئی روبوٹکس جیسے مستقبل بین اداروں کی بڑی تعداد یہاں قائم ہے۔”

“گوانگچو کے لائے گئے صنعتی قائدین کو مدد دینے کی پالیسی نے ہمارے اسٹارٹ اپ مرحلے پر بہت مالی مدد دی۔” جیا پینگ چینگ، صدر گوانگچو اسٹاروے کمیونیکیشن فرم نے کہا۔

موبائل ادائیگی کے ذریعے میٹرو چیک-ان، ایئرپورٹ سکیورٹی چیک پر چہرہ پہچاننے، وی چیٹ پر ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لینا ۔۔ یہ گوانگچو میں عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی انقلاب کے ایک نئے مرحلے کا سامنا کرتے ہوئے شہر منصوبے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ جدت طرازی کو ترویج دے گا اور مستحکم ٹیکنالوجی میلان رکھنے والے ماحول کو مضبوط کرے گا۔

جدت طرازی کسی شہر کی صنعتی ترقی کو فروغ دیتی اور معیشت کو آگے بڑھاتی ہے۔ حال ہی میں جاری کردہ اقتصادی اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ 2018ء کی پہلی ششماہی میں گوانگچو کا جی ڈی پی 1.0653 ٹریلین رینمنبی (155.5 ارب امریکی ڈالرز) تک جا پہنچا جو 2017ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.2 فیصد زیادہ ہے۔

آج، گوانگچو ٹیکنالوجی جدت طرازی میں عالمی باصلاحیت افراد کے لیے عام جگہ بن چکا ہے، جس میں فورچیون کے برین اسٹورم ٹیک، چائنا انوویشن کانفرنس اور چائنا انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ فیئر جیسے بڑے ایونٹس مستقل یہیں ہوتے ہیں۔ جدت طراز وسائل کی توجہ مبذول کروانے والے ماحول کے ساتھ گوانگچو میں ایک کاروبار شروع جدت طرازی کو مضبوط کریں۔

چائنیز سٹی بزنس انوائرومینٹ 2017ء پر گوانگڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ گوانگچو کاروباری ماحول کے اعتبار سے درجہ اول پر ہے اور یہ 2017ء میں عالمی شہروں کے کاروباری ماحول کے لحاظ سے وغیر معمولی شہروں میں سے ایک تھا۔

معروف جدت طراز ماحول کے ساتھ گوانگچو تیز ترین معیشت اور سماجی ترقی دیکھ چکا ہے۔ گلوبل اربن کمپیٹیٹونیس رپورٹ 2017-2018ء کے مطابق گوانگچو عالمی اقتصادی مسابقتی اشاریے میں 15 ویں درجے پر ہے۔

“گوانگچو چین کی اقتصادی ترقی کے نئے محرک کے طور پر کام کر رہا ہے اور عالمی معیشت کے مراکز میں سے ایک بن چکا ہے۔ متعد عالمی ادارے گریٹر بے ایریا کی تعمیر میں شہر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” کلاؤس شواب، ایگزیکٹو چیئرمین ورلڈ اکنامک فورم نے کہا۔

ذریعہ: عوامی حکومت گوانگچو بلدیہ

‫20 ستمبر کو چیجیانگ کے ضلع کیچیاؤ میں 2018ء ڈبلیو ٹی ایم سی کا آغاز

شاؤسنگ، چیجیانگ، 21 ستمبر 2018ء/سنہوا فائنانس ایجنسی-ایشیانیٹ/– 2018ء دی فرسٹ ورلڈ ٹیکسٹائل مرچنڈائزنگ کانفرنس (2018ء ڈبلیو ٹی ایم سی) 20 ستمبر کو مشرقی چین کے صوبہ چیجیانگ کے کیچیاؤ ضلع، شاؤسنگ شہر میں شروع ہوئی۔

“کشادگی، سائنس و ٹیکنالوجی، فیشن، ماحول دوست ترقی” پر توجہ کے ساتھ اس کانفرنس نے شرکاء کو عالمی ٹیکسٹائل فیشن صنعت کی یکساں ترقی اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین کی ٹیکسٹائل صنعت میں تبدیلی کے خیالات پیش کرتے دیکھا۔

شین چیجیانگ، پارٹی سیکرٹری کیچیاؤ ضلع، شاؤسنگ شہر، نے کہا کہ کیچیاؤ ضلع عالمی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک اہم اجتماعی جگہ ہے۔ دنیا کی ٹیکسٹائل مصنوعات کے تقریباً ایک چوتھائی کی تجارت چین کے ٹیکسٹائل شہر میں ہوتی ہے جو اس ضلع میں واقع ہے، 200 ارب یوآن کے سالانہ حجم کے ساتھ۔

“ٹیکسٹائل صنعت چین میں زبردست مستقبل رکھتی ہے۔ صنعت میں بہترین مواقع پر مزید ممالک بھی توجہ دیں گے،” جسویندر بیدی، چیئرمین انٹرنیشنل ٹیکسٹائل مینوفیکچررز فیڈریشن (آئی ٹی ایم ایف) (2016-2018) اور افریقن کاٹن اینڈ ٹیکسٹائل انڈسٹریز فیڈریشن (اے سی ٹی آئی ایف) نے کہا، انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ توقع ہے چین 2020ء تک یورپ اور امریکا کو پیچھے چھوڑتے سب سے بڑی ریٹیل مارکیٹ بن جائے گا۔

سن روئچی، صدر چائنا نیشنل ٹیکسٹائل اینڈ ایپیرل کونسل (سی این ٹی اے سی) کے مطابق چین کی ٹیکسٹائل صنعت کی تبدیلی ساخت گری کو جدید بنانے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ وہ زیادہ انٹیلی جنٹ، خدمات کے مطابق اور ماحول دوست ہو جائے۔ اسی دوران ایک پیشہ ور اور بین الاقوامی صنعتی اجتماع کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں تاکہ عالمی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔

کانفرنس، کے دوران چین، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، فرانس، ترکی، ویت نام، کمبوڈیا اور لاؤس جیسے ممالک کی ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے 12 نمائندگان پر مشتمل ورلڈ ٹیکسٹائل مرچنڈائزنگ کانفرنس کونسلکا باضابطہ قیام عمل میں لایا گیا، جس کا ہدف ٹیکسٹائل صنعت کی ماحول دوست ترقی کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔

ذریعہ: چائنا اکنامک انفارمیشن سروس

Virgin Hyperloop One Chooses the Royal Kingdom of Saudi Arabia as Site of Upcoming Global Promotional Film

Jeddah chosen as principal Mideast location for groundbreaking filming initiative by Virgin Hyperloop One

Engagement to display how hyperloop would promote Saudi economic and social modernization in concert with Vision 2030 ideals

LOS ANGELES, Sept. 21, 2018 (GLOBE NEWSWIRE) — Virgin Hyperloop One, the California-based hyperloop company that is leading the revolution in mass transportation, has chosen Jeddah as the principal site for the Middle Eastern segment of a global promotional campaign to air later this fall.  The film will highlight the future of mobility, environmental sustainability, and human connectivity through the transformative proprietary technology.

“We are privileged to further deepen our close relationship with the Kingdom in choosing Jeddah as the Mideast site of this major campaign,” said Josh Giegel, the Co-Founder of Virgin Hyperloop One.  “Jeddah is an up-and-coming modern urban center in the region and is setting high standards to achieve the objectives of Vision 2030.  We know there is a bright future for Saudi Arabia, already evidenced in our partnership with the Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Foundation ‘MISK’ to collaborate with young & talented Saudis about how our cutting-edge technology can transform the world.”

With such popular filming locations in the United Arab Emirates to represent Mideast modernization, the choice of Jeddah highlights the company’s belief in the socio-economic advances of the Kingdom and the ideals of Vision 2030.   The Vision is the landmark blueprint authored by HRH Crown Prince Mohammad bin Salman bin Abdulaziz to provide a new foundation of growth, prosperity and highly advanced technological progress in Saudi Arabia to the next generations of women and men in the country.

“We are very excited by the choice of Jeddah for our filming of this key promotional documentary in the Middle East,” said Ryan Kelly, Head of Marketing and Communications for Virgin Hyperloop One.  “Jeddah, in addition to being beautiful, is an up-and-coming destination for international companies doing business in the region, for global media and for the booming sector of Red Sea tourism.  We are inspired by the changes going on in the country and we hope to play a pivotal role in seeing our shared ideals for the future become reality.”

The relationship between Virgin Hyperloop One and the Kingdom reached new heights in April of this year when executives from Virgin Hyperloop One hosted HRH Crown Prince Mohammad bin Salman bin Abdulaziz, during his visit to Virgin Galactic test site in the Mojave Desert. During his visit, HRH the Crown Prince unveiled the Vision 2030 Hyperloop Pod, further cementing the commitment between the Kingdom and Virgin Hyperloop One to bring hyperloop technology to Saudi Arabia.

The commitment between the two countries continued into the summer by hosting twenty-one high school and university students from the Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Foundation (MiSK), a non- profit organization founded in 2011 to discover, develop and empower Saudi youth to become active participants in the future economy.  The students took an active role in the study of hyperloop technologies, presenting several iterations of customer experience models for passenger travel and cargo options.

With speeds 2-3 times faster than high-speed rail and an on-demand, direct to destination experience, hyperloop technology can reduce journey times across the kingdom, exponentially increasing connectivity across not only across KSA but throughout the GCC. Traveling from Riyadh to Jeddah would take around 76 minutes (currently over 10 hours) utilizing the land bridge for both passenger and freight movement, positioning KSA as the gateway to 3 continents. Traveling from Riyadh to Abu Dhabi would about 48 minutes (currently over 8.5 hours).

About Virgin Hyperloop One

Virgin Hyperloop One is the only company in the world that has built a full-scale hyperloop system. Our team consists of the world’s leading experts in engineering, technology and transport project delivery, working in tandem with global partners and investors to build the future of transportation. Virgin Hyperloop One is backed by key investors including Virgin Group, DP World, Caspian VC Partners, Sherpa Capital, Abu Dhabi Capital Group, SNCF, GE Ventures, Formation 8, 137 Ventures, WTI, among others. For more information, visit www.virginhyperloopone.com.

Media Contacts

Virgin Hyperloop One
Marcia A. Christoff
Public Relations Manager
marcia@hyperloop-one.com
+1-213-718-6279

Virgin Hyperloop One
Ryan Kelly
Head of Marketing and Communications
press@hyperloop-one.com
+1-610-442-1896

Bombardier Delivers First 90-seat Q400 Aircraft to SpiceJet

  • SpiceJet becomes the first airline to take advantage of the Q400 aircraft’s increased profit potential

TORONTO, Sept. 21, 2018 (GLOBE NEWSWIRE) — Bombardier Commercial Aircraft today announced the delivery of its first 90-seat Q400 aircraft. The aircraft was handed over to India’s SpiceJet Limited (“SpiceJet”) the launch operator for the extra-capacity, 90-seat aircraft.Spice_Jet_Q400

“We are excited to induct the 90-seat Q400 aircraft into our fleet,” said Ajay Singh, Chairman and Managing Director, SpiceJet. “The additional seats and performance improvements will result in substantial reduction in unit costs and also we will enable us to address our market needs in the regional space.”

“The delivery of the first 90-seat Q400 aircraft showcases the commitment of Bombardier’s Q Series turboprop program to respond to customer requirements as they address traffic growth in regional markets,” said Todd Young, Head of the Q Series Aircraft Program, Bombardier Commercial Aircraft.
“I thank and congratulate the employees and suppliers who have worked tirelessly to deliver this most recent enhancement to the Q400 aircraft, and I also thank our customer, SpiceJet for its strong support and collaboration in this continuous improvement program.”

“This is a very important milestone for the Q400 aircraft program because the 90-seat option demonstrates the increased profitability potential that this unique turboprop has to offer,” said
Colin Bole, Senior Vice President, Commercial, Bombardier Commercial Aircraft. “The increased passenger capacity allows 15 per cent reduction of seat cost compared to the previous standard Q400 aircraft and provides an enormous benefit for airlines. We are thrilled that SpiceJet will be the first operator to showcase the unique capabilities and unbeatable productivity of our turboprops.”

About SpiceJet Ltd
SpiceJet is India’s favourite airline that has made flying affordable for more Indians than ever before. SpiceJet operates 412 average daily flights to 54 destinations, including 47 domestic and 7 international ones. The airline connects its network with a fleet of 36 Boeing 737NG and 22 Bombardier Q400 aircraft. The majority of the airline’s fleet offers SpiceMax, the most spacious economy class seating in India.

SpiceJet also operates a dedicated air cargo service under the brand name SpiceXpress offering safe, on-time, efficient and seamless cargo connectivity across India and on international routes. SpiceJet is the first Indian airline to offer end-to-end cargo services and the airline’s freighters fleet consist of Boeing 737 aircraft.

SpiceJet’s standing as the country’s favourite airline has been further reinforced by the multiple awards and recognitions which includes the US-India Strategic Partnership Forum Leadership Award to Ajay Singh, , Global ‘Low-Cost Leadership Award’ conferred to Mr Singh at the Airline Strategy Awards 2018 in London, ‘BML Munjal Awards 2018’ for ‘Business Excellence through Learning and Development’, ‘Best Domestic Airline’ Award at Wings India 2018, ‘EY Entrepreneur of the year 2017 for Business Transformation’ by Ernst & Young, The CAPA Chairman’s Order of Merit for fastest turnaround in FY 2016, ‘Asia’s Greatest Brands – 2016’, ‘Global Asian of the Year Award’  & ‘Asia’s  Greatest CFO 2016’ at the AsiaOne Awards held in Singapore, ‘World Travel Leaders Award’ at WTM London, ‘Best Check- in Initiative’ award by Future Travel Experience global awards in Las Vegas, ‘Best Domestic Airline’ award at the 10th ASSOCHAM International Conference & Awards (Civil Aviation & Tourism).

About Bombardier
With over 69,500 employees across four business segments, Bombardier is a global leader in the transportation industry, creating innovative and game-changing planes and trains. Our products and services provide world-class transportation experiences that set new standards in passenger comfort, energy efficiency, reliability and safety.

Headquartered in Montreal, Canada, Bombardier has production and engineering sites in 28 countries across the segments of Transportation, Business Aircraft, Commercial Aircraft and Aerostructures and Engineering Services. Bombardier shares are traded on the Toronto Stock Exchange (BBD). In the fiscal year ended December 31, 2017, Bombardier posted revenues of $16.2 billion US. News and information are available at bombardier.com or follow us on Twitter @Bombardier.

Notes to Editors
Images of Q400 aircraft in the livery of SpiceJet are posted with this news release at www.bombardier.com.

The Q400 aircraft backgrounder is available in the BCA Media Hub

For information about SpiceJet, visit: www.spicejet.com

Follow @BBD_Aircraft on Twitter to receive the latest news and updates from Bombardier Commercial Aircraft.

To receive our press releases, please visit the RSS Feed section of Bombardier’s Website.

Bombardier, Q400 and Q Series are trademarks of Bombardier Inc. or its subsidiaries.

For Information
Nathalie Scott
Communications and Public Affairs
Bombardier Commercial Aircraft
+1 416-375-3030

bca_press@aero.bombardier.com
www.bombardier.com

A photo accompanying this announcement is available at http://www.globenewswire.com/NewsRoom/AttachmentNg/c544b583-1d93-4887-9938-9919934aac60

Guangzhou: leading city in shaping urban innovation ecosystem — “Guangzhou Night” event ignites the Summer Davos

GUANGZHOU, China, Sept. 20, 2018 /Xinhua-AsiaNet/–  On the evening of September 19, the “Guangzhou Night” event, featuring the Lingnan culture, was held on the sidelines of World Economic Forum’s Annual Meeting of the New Champions 2018 (Summer Davos) in Tianjin, northern China.

It is the fourth year in a row that the Guangzhou government has presented the city at the Summer Davos, which was held under the theme of “Shaping Innovative Societies in the Fourth Industrial Revolution” this year. At the Guangzhou Night, with a theme of “Dynamic Guangzhou for the World”, the city demonstrated its vitality and diversity as well as modern technological innovation to some 400 guests from Davos.

The night witnessed an astonishing debut of South China Commercial Capital, a grand 3D animation scroll on Guangzhou’s history. It was hailed as Lingnan’s “Along the River During the Qingming Festival”, a renowned Chinese painting. All the elements of Guangzhou’s culture and innovation caught the eye of the audience and showed a technological Guangzhou with Lingnan features.

“Guangzhou represents a core city in promoting the Belt and Road Initiative and constructing the Guangdong-Hong Kong-Macao Greater Bay Area. It enjoys a time-honored history and culture, and boasts an efficient transportation system and an influx of innovative resources. Hopefully we all can share the opportunities provided by a thriving Guangzhou in a new era,” addressed Guangzhou’s mayor Wen Guohui at the event.

In China, the regional innovation ecosystem is being shaped. The practices of urban innovation led by Guangzhou, Shenzhen, Hangzhou, etc., will help make China an innovative economy. Guangzhou, due to its cultural diversity, has fostered an inclusive and innovation-friendly atmosphere and has thrived, from a millennium-old business city to an international hub. Even today, innovation remains a thrust for the hub city to connect the rest of China and beyond.

Cedar Holdings represents a Guangzhou-based home-grown private company in the Fortune Global 500 list. As an enterprise of the modern smart supply chain, Cedar has led the world by taking initiative to go global. Experts say it is the epitome of how Guangzhou has carried out the strategy of innovation-driven development to unleash vitality of a new economy and enhance innovation capacity during the past 40 years of China’s reform and opening-up.

“As the cradle of enterprises, Guangzhou boasts the most favorable climate for private companies and for innovation,” said Zhang Jin, Cedar’s president and founder and representative of the new champions.

In 2017, Guangzhou unveiled its strategy on IAB (information technology, artificial intelligence and biomedicine). Thanks to its location advantage, solid industrial base and scientific and technological innovation strength, the city saw a rapid growth of emerging industries. The clustering of innovative enterprises is speeding up here.

The Chinese startup JingChi, which was previously founded in Silicon Valley, the US, relocated its headquarters to Guangzhou last December. In May this year, the smart mobility company, managed to convert the GE3 EV model of GAC (Guangzhou Automobile Group Co., Ltd.) into a self-driving version and put it on the road. “Guangzhou is home to two of the Top 3 self-driving companies in China. We are making marked progress here and will advance the China-developed self-driving technology in ways to change the way people travel,” said Zhang Li, vice president of operation at JingChi.

Openness and diversity have been the bedrock of an innovation ecosystem that Guangzhou is shaping. For three consecutive years, Guangzhou has ranked third among domestic cities by the number of China’s Top 50 innovative companies it hosts. It has now housed 286 incubators and 181 maker spaces, with an area of more than 10 million square meters.

Another innovative startup Pony.ai, which is based in Nansha New Area, Guangzhou, has conducted successful road tests for its self-driving cars in California, the US. “We value the cultivation of local innovative enterprises,” said Xie Xiaohui, secretary of Investment and Trade Promotion Bureau of Guangzhou Nansha Development Zone. “On tops of the combustible ice project, a number of futuristic companies like AI Robotics have settled here.”

“The policy to support industrial leaders that Guangzhou carried out has offered us much financial support at our start-up stage,” said Jia Pengcheng, president of Guangzhou Starway Communication firm.

Metro check-in with mobile payment, facial recognition at airport security check, making a doctor appointment on WeChat… These have become part of people’s daily life in Guangzhou. Facing a new round of global technological revolution, the city is striving to seize the initiative. It will promote innovation and foster a sound technology-oriented climate.

Innovation promotes industrial upgrading and boosts the economy of a city. The just-released economic data show that in the first half of 2018, Guangzhou’s GDP reached 1.0653 trillion RMB (155.5 billion USD), an increase of 6.2% over the same period of 2017.

Today, Guangzhou has become a regular venue for global talents in technological innovation, with grand events like the Fortune’s Brainstorm Tech, China Innovation Conference and China Innovation and Entrepreneurship Fair permanently settling here. An atmosphere to attract innovative resources, start a business and make innovations is being fostered in Guangzhou.

The Report on Chinese City Business Environment 2017 released by the Guangdong-Hong Kong-Macao Greater Bay Area Institute shows that Guangzhou ranked first in terms of the business environment, and it was one of the most outstanding cities in the 2017 report on the business environment of global cities.

With a leading innovation ecosystem, Guangzhou has seen rapid economic and social development. According to the Global Urban Competitiveness Report 2017-2018, Guangzhou ranks 15th by the global economic competitiveness index.

“Guangzhou is acting as a new drive for China’s economic growth and has become one of the centers of the global economy. Numerous global firms intend to jointly work with the city in  constructing the Greater Bay Area,” said Klaus Schwab, Executive Chairman of the World Economic Forum.

SOURCE: The People’s Government of Guangzhou Municipality

2018 WTMC kicks off at Keqiao of Zhejiang in Sept. 20

SHAOXING, Zhejiang, Sept. 21, 2018/Xinhua Finance Agency-AsiaNet/– 2018 The First World Textile Merchandising Conference (2018 WTMC) kicked off at the Keqiao District, Shaoxing City of east China’s Zhejiang Province on September 20.

Focusing on “Opening-up, Science & Technology, Fashion, Green Growth”, the conference has seen participants share their ideas on the coordinated development of global textile fashion industry and transformation of China’s textile industry under the Belt and Road Initiative.

Shen Zhijiang, party secretary of Keqiao District, Shaoxing City, said that Keqiao District is an important gathering place of the global textile industry. Nearly a quarter of the world’s textile products are traded in China Textile City which is located in the district, with an annual turnover of nearly 200 billion yuan.

“Textile industry boasts promising future in China. More countries will pay attention to the tremendous opportunities of the industry,¡± noted Jaswinder Bedi, chairman of the International Textile Manufacturers Federation (ITMF) (2016-2018) and the African Cotton and Textile Industries Federation (ACTIF), adding that China is expected to surpass Europe and the United States to become the largest retail market in the world by 2020.

According to Sun Ruizhe, president of China National Textile and Apparel Council (CNTAC), the transformation of China¡¯s textile industry calls for upgrading of manufacturing so as to make it more intelligent, service-oriented and environmentally-friendly. In the meantime, efforts should be made to forge a professional and international industry cluster to enhance global cooperation.

During the conference, World Textile Merchandising Conference Council, consisting of 12 representatives from textile associations of countries like China, Egypt, Indonesia, Malaysia, France, Turkey, Vietnam, Cambodia and Laos, has been formally established, aiming to realize sustainable development of the textile industry.

SOURCE: 2018 WTMC kicks off at Keqiao of Zhejiang in Sept. 20