سی اے اے ایس اور این اے ٹی ایس کے درمیان فضائی ٹریفک کے انتظام پر تعاون کا معاہدہ

سنگاپور، 25 مئی 2012ء / پی آر نیوز وائر / –

ایم او سی فضائی آمد و رفت کے انتظام میں پیش آنے والی مشکلات کی متحد ہو کر نشاندہی کرنے کے لیے اشتراکی فریم ورک بنائے گا

سول ایوی ایشن اتھارٹی آف سنگاپور (سی اے اے ایس) اور برطانیہ (یو کے) کے معروف فضائی راہنمائی خدمت فراہم کنندہ (اے این ایس پی)این اے ٹی ایس نے آج تعاون کی یادداشت (ایم او سی) پر دستخط کردیئے ہیں۔  ایم او سی دونوں فریقین کے لیے تعاون، تبادلہ خیال اور تجربات کے ساتھ فضائی آمد و رفت کے انتظام (اے ٹی ایم) کی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اقدامات اٹھانے اور ان پر عملدرآمد  کے قابل بنائے گا۔ ایم او سی پر سی اے اے ایس کے معاون ڈائریکٹر – جنرل سوپو تھین اور  این اے ٹی ایس سروسز کے منیجنگ ڈائریکٹر پال ریڈ نے سنگاپور میں دستخط کئے۔

سی اے اے ایس کے معاون ڈائریکٹر – جنرل سو پو تھین نے کہا کہ “ایک فضائی مرکز کی ترقی کے لئے فضائی آمد و رفت کا انتظام  ایک نازک معاملہ ہے۔سی اے اے ایس چانگی اور خطے میں آمد و رفت میں اضافہ کی شرح کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے سنگاپور کی فضائی آمد و رفت کے انتظام کی وسعت میں اضافہ چاہتا ہے۔ ہم نے اپنی گنجائش اور کارکردگی میں بہتری  کے ساتھ حوصلہ افزا نتائج کے لیے اقدامات لیے ہیں تاہم مزید کیا جاسکتا ہے۔ این اے ٹی ایس  انتہائی محنت طلب  ماحول میں کام کے تجربے کی خاصیت کا حامل ہے۔ سی اے اے ایس کے جلد سیکھنے کی صلاحیت کے علاوہ ہمیں امید ہے کہ یہ تعاون  ہوابازی  میں ظاہر ہونے والی مشکلات کے لیے نئے حل بھی تیار کر سکے گا۔

امکانی تعاون کے شعبوں میں یہ شامل ہیں:

– عملے کے تبادلے اور دیگر پروگراموں  کے ذریعے معلومات، آگہی اور مہارت کا تبادلہ

– انسانی کارکردگی  اور فضائی آمد و رفت کے بہاؤ  و گنجائش  کو بہتر بنانے  کے لیے ایئر نیوی گیشن سروس فراہمی میں بہترین عمل کا فروغ

– فضائی آمد و رفت کے انتظامات کے نظام کو جدید بنانے کے لیے فضائی آمد و رفت نظام کے نئے تصورات کی تحقیق کے لیے کاروائیوں میں تعاون

ایشیا میں ہوا بازی کی مستحکم ترقی نے خطے میں تمام اے این ایس پیز کے لیے فضائی آمد و رفت کے انتظام میں کئی چیلنجز کو پیش کیا ہے۔ لندن ہوائی اڈوں پر فضائی آمد و رفت کی نگرانی فراہم کرنے والے ادارہ این اے ٹی ایس نے یورپ میں اہم فضائی مرکز ہونے کی حیثیت سے کاروائیوں کے یکساں چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور سی اے اے ایس کے ساتھ اپنے تجربات اور فضائی آمد و رفت کاروائیوں  کی زیادہ شدت  کے انتظام کی مہارت کو شیئر کر رہے ہیں۔

این اے ٹی ایس کے پال ریڈ نے کہا کہ “سنگاپور  آمد و رفت کی رفتار میں تیزی سے اضافہ کے اثرات کا تجربہ شروع کر رہاہے۔ہمیں امید ہے کہ دنیا کے چند مصروف ترین ہوائی اڈوں اور انتہائی پیچیدہ فضائی حدود  کے انتظام کے ہمارے تجربے کی بنیاد پر ہم سی اے اے ایس کے ساتھ فضائی آمد و رفت خدمات کی فراہمی اور ہوابازی کی ترقی کو ایک محفوظ اور موثر انداز میں  جاری رکھنے کے لیے کام کرسکتے ہیں۔”

سی اے اے ایس کے بارے میں

سول ایوی ایشن اتھارٹی آف سنگاپور (سی اے اے ایس) کا مشن “ایک محفوظ، فعال فضائی مرکز اور شہری ہوا بازی کے نظام کی ترقی، سنگاپور کی کامیابی میں ایک اہم شراکت بنانا” ہے۔ سی اے اے ایس کا کام  ہوابازی کی صنعت میں تحفظ کو فروغ دینے کی نگرانی، فضائی مرکز اور ہوا بازی کے شعبے کی ترقی، ایئر نیوی گیشن خدمات کی فراہمی، ہوابازی کی معلومات اور مشق کے لیے سنگاپور کی بطور مرکز تعمیر، اور بین الاقوامی ہوابازی کی  ترقی کے لیے شراکت داری کرنا ہے۔

ویب سائٹ: http://www.caas.gov.sg

این اے ٹی ایس کے بارے میں

این اے ٹی ایس برطانیہ میں ایئر ٹریفک مینجمنٹ (اے ٹی ایم) خدمات  کا نمایاں فراہم کنندہ ہے، جس نے 2011ء میں 2.1 ملین پروازوں کا انتظام،برطانیہ اور مشرقی شمالی اوقیانوس کا احاطہ کیا۔

این اے ٹی ایس سوانوک، ہیمپشائر اور پریسٹوک، آئرشائر کے مراکز سے فضائی آمد و رفت کی نگرانی انجام دیتا ہے۔

این اے ٹی ممالک کے 15 بنیادی ہوائی اڈوں بشمول ہیتھرو، گیٹوک، اسٹینسٹڈ، برمنگھم، مانچسٹر، ایڈن برگ اور گلاس گو پر فضائی آمد و رفت کی نگرانی کے ساتھ جبرالٹر ہوائی اڈے پر فضائی آمد و رفت خدمات کے ساتھ بھی پیش کر رہا ہے۔

ذریعہ: این اے ٹی ایس

Leave a Reply