خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق کے لیے پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کی مالک ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نے 2012ء نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شنیا یاماناکا کے خلاف مقدمے کا اعلان، 2013ء کے امریکی صدارتی خطاب میں اعضاء کی تخلیق سرفہرست ترجیح کے طور پر پیش کی گئی

لاس اینجلس، 16 مئی 2013ء/پی آرنیوزوائر–

انسانی جسم کی تجدیدی بحالی کی سائنس کے بانی اور معروف حیاتی و طبی سائنسدان ڈاکٹر رونگ سیانگ سو، جو ممکنہ طور پر واحد فرد ہیں جنہوں نے خراب اعضاء کی براہ راست دوبارہ تخلیق کی ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کروایا، نے 8 مئی 2013ء کو عضویات یا طب کے 2012ء نوبل انعام یافتگان میں سے ایک ڈاکٹر شنیا یاماناکا کے خلاف سپیریئر کورٹ آف کیلیفورنیا، کاؤنٹی آف سان فرانسسکو میں مقدمہ درج کر دیا ہے۔ مقدمہ ڈاکٹر شنیا یاماناکا پر دھوکہ دہی سمیت دیگر الزامات عائد کرتا ہے۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130515/LA14340)

20130515132147ENPRNPRN MEBO INTERNATIONAL DR RONGXIANG XU 90 1 1368624107MR خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق کے لیے پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کی مالک ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نے 2012ء نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شنیا یاماناکا کے خلاف مقدمے کا اعلان، 2013ء کے امریکی صدارتی خطاب میں اعضاء کی تخلیق سرفہرست ترجیح کے طور پر پیش کی گئی

ڈاکٹر سو کے وکیل کے مطابق 3 دسمبر 2012ء کو نوبل اسمبلی کے خلاف ڈاکٹر سو کی جانب سے مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں عضویات اور طب میں 2012ء نوبل انعام دینے کے حوالے سے چند بیانات کی وضاحت طلب کی گئی تھی۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور مقدمہ ابھی تک زیر التواء ہے۔ البتہ ڈاکٹر سو نے ڈاکٹر یاماناکا کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی پر براہ راست ایک اور مقدمہ کر دیا ہے۔

ڈاکٹر سو کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر یاماناکا کی مصنوعی بین الجینیاتی خلیہ تحقیق کے تحت “جسمانی خلیات کی اسٹیم سیلز میں شمولیت” کے عنوان سے شایع کردہ بیانات ہیں جو ڈاکٹر سو کی پیٹنٹ یافتہ ٹیکنالوجی تھی، اور اس نے ان کی ساکھ اور ادارے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ڈاکٹر سو دعویٰ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر یاماناکا نے حیاتی سائنس پر جستجو اور تحقیق میں کئی اچھی ساکھ رکھنے والے ماہرین کو دھوکہ دیا ہے۔ البتہ ڈاکٹر سو سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر یاماناکا نے ان ماہرین کو غلط راستے پر ڈال دیا۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر مانتے ہیں کہ ڈاکٹر یاماناکا کے پروپیگنڈے کی زد میں امریکی حکومت تک آ گئی جب 2008ء کے اسٹیٹ آف دی یونین خطا ب میں جلدی خلیات دوبارہ تیار کرنے کے ایک طریقے کی حمایت کا حوالہ دیا گیا جیسا کہ ایمبریونک اسٹیم سیلز، ڈاکٹر یاماناکا کے دعوے کے مطابق۔ ڈاکٹر سو مانتے ہیں کہ لاکھوں ٹیکس دینے والوں کا پیسہ ایسی غلط سائنس کے لیے سرمایہ کاری میں ضایع کیا گیا۔

نوبل اسمبلی نے 2012ء میں ڈاکٹر یاماناکا کو عضویات یا طب میں انعام سے نوازا، اور ان کی مصنوعی بین الجینیاتی خلیات کی انسانی تجدیدی صلاحیتوں کو تسلیم کیا۔ انسانی زندگی کو مستقبل میں ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر سو قانونی راستے سے ایسی دھوکہ دہی کوروکنے کے لیے کام کر رہےہیں۔

ڈاکٹر یاماناکا اونکوجین منتقلی کے ذریعے بنائے جانے والے مصنوعی خلیہ کو “پلیوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز میں جسمانی خلیات کی شمولیت ” کا نام دیا، یعنی کہ انہوں نے انہوں نے پلین ٹف کی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کے نام پر مصنوعی بین الجینیاتی خلیہ کی تحقیق کا دعویٰ کیا اور اسے مختصراً iPSC کا نام دیا، جسے فوری طور پر قبول کیا گیا اور معروف سائنسدانوں کے گروہ نے اس کی پیروی کی تاکہ وہ ایمبریونک اسٹیم سیل تحقیق کے اخلاقی پہلو کو حل کریں۔

ڈاکٹر یاماناکا کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح ڈاکٹر سو کے پیٹنٹس کا مغز ہے، جس میں یو ایس پیٹنٹ 6991813 شامل ہے اور ڈاکٹر سو الزا لگاتے ہیں کہ ڈاکٹر یاماناکام کی تحقیق دراصل اسٹیم سیل کے ساتھ کچھ نہیں کرتی۔ ڈاکٹر یاماناکا نے سیل اسٹیم سیل میگزین میں 2012ء میں شایع ہونے والے ایک مضمون میں تسلیم کیا تھا کہ وہ جسمانی سیل شمولیت کے ذریعے قدرتی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز حاصل نہیں کرتے۔ ڈاکٹر سو کے مطابق یہ مضحکہ خیز سائنسی دھوکہ آخر کیوں گزشتہ چند سالوں سے دنیا بھر میں غالب ہے۔

انسانی جسمانی خلیہ کی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم سیل میں شمولیت ڈاکٹر سو کے پیٹنٹ یافتہ “خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق” کا بنیادی جز ہے اور طبی ایپلی کیشن میں اسے کامیابی ملی ہے۔ البتہ یہ ٹیکنالوجی جو “خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق” کی اجازت دیتی ہے عوام تک پہنچنے میں ڈاکٹر یاماناکا کی سائنسی دھوکہ دہی رکاوٹ ہے، اور لاکھوں افراد کو علاج کے لیے جدید سائنس و ٹیکنالوجی تک پہنچنے کے امکانات کا خاتمہ کر رہی ہے۔

“خراب اعضاء کو ازسر نو تخلیق کرنے کے لیے ادویات بنانا” کے لیے سائنسی طریقہ قوم کی توجہ کے حامل اہم موضوعات میں سے ایک ہے اور اسے صدر اوباما نے اپنے 2013ء اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بھی موضوع گفتگو بنایا تھا، جہاں انہوں نے کہا کہ “اب،اگر ہم بہترین مصنوعات بنانا چاہیں، تو ہمیں بہترین خیالات میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ہر ڈالر جو ہم انسانی جینوم کی نقشہ سازی پر خرچ کر رہے ہيں ہماری معیشت کو 140 ڈالرز واپس کرے گا۔ ہر ڈالر۔ آج، ہمارے سائنس دان الزیمر کے لیے جوابات تلاش کرنے کے لیے انسانی دماغ کی نقشہ سازی کر رہے ہیں۔ ہم خراب اعضاء کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے ادویات تیار کر رہے ہیں اور بیٹریوں کو 10 گنا زیادہ طاقتور بنانے کے لیے نئے مواد وضع کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم ان ملازمت تخلیق کرنے والی سرمایہ کاریوں کو سائنس اور جدت کا راستہ دیں۔ اب یہ وقت ہے کہ ہم تحقیق اور ترقی کی اس سطح پر پہنچیں جسے خلائی دوڑ کے عروج کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔ ہمیں ایسی سرمایہ کاریاں کرنے کی ضرورت ہے۔”

ڈاکٹر سو اجزاء کی دوبارہ تخلیق کے اہم شعبے کو تسلیم کرنے پر اوباما انتظامیہ کے مشہور ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ سمت امریکی اور دنیا بھر کے عوام کے لیے رحمت ہوگی۔

ذریعہ: میبو انٹرنیشنل، آرڈینٹ لا گروپ

Leave a Reply