چینی نائب صدر کا دورۂ امریکہ، نوجوان امریکی چین کو خطرہ سمجھتے ہیں

نوجوان امریکی قومی قرضہ، چین جیسی غیر ملکی طاقتوں کے مقروض ہونے، اور تیل کے بیرونی ذخائر پر انحصار

کو قومی سلامتی کے سرفہرست مسائل سمجھتے ہیں

واشنگٹن، 16 فروری 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

اس وقت جبکہ چین کے نائب صدر سی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پانچ روزہ دورے پر ہیں، جس میں ضلع کولمبیا، آیووا، اور کیلی فورنیا کے دورے شامل ہیں، جنریشن اپرچونٹی اپنے قومی پول کے نتائج سے ظاہر کرتا ہے کہ امریکی نوجوان کس طرح امریکہ، امریکی قومی سلامتی اور امریکی حکومت کے اخراجات سے متعلق سوچتے ہیں۔ پول کی توجہ خصوصاً 18 سے 29 سال کے نوجوان امریکیوں پر ہے اور یہ پول چین کے مقرو‎ض ہونے، امریکی قرضے اور مختلف اقتصادی چیلنجز کے حوالے سے نوجوان امریکی باشندوں کی آراء کو ظاہر کرتا ہے۔ جنریشن اپرچونٹی ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی انجمن ہے جو 2.3 ملین فیس بک فینز کی حامل ہے جو نوجوان امریکی باشندوں کو سوشل میڈیا اور زمینی آپریشنز کی بنیاد پر حکمت عملی کے ذریعے متحرک کر رہی ہے۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110805/DC48058LOGO)

نائب صدر سی جن پنگ رواں سال کے اواخر میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی زمامِ کار سنبھالیں کے اور یوں 2013ء میں چین کے صدر بنیں گے۔

پول ظاہر کرتا ہے کہ 76 فیصد نوجوان امریکی باشندے چین کو اقتصادی یا عسکری خطرہ سمجھتے ہیں، 62 فیصد کا ماننا ہے کہ امریکہ کا سرفہرست قومی سلامتی کا مسئلہ امریکی قرضہ ہے – جس کے بعد توانائی انحصار اور غیر ملکی قوتوں کا مقروض ہونا کا نمبر آتا ہے – اور 70 فیصد سے زائد نے امریکہ کے خسارے کے حوالے سے بہت زیادہ خدشات کی جانب اشارہ کیا۔

 ”نوجوان امریکی اس یقین پر سختی سے ڈٹے ہیں کہ امریکہ ایک غیر معمولی قوم ہے، لیکن ان کا مننا ہے کہ ہمارا بڑھتا ہوا قرضہ، غیر ملکی طاقتوں کا مقروض ہونا، جیسا کہ کمیونسٹ چین کا، اور توانائی کے لیے غیر ملکی وسائل پر ہمارا انحصار ہمارے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اب جبکہ نائب صدرسی امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ نوجوان امریکیوں کی بڑی تعداد چینی حکومت کو ایک اقتصادی یا عسکری خطرہ سمجھتی ہے اور وہ امریکی معیشت و توانائی کے حوالے سے آزادی کو بڑھانے سے وابستہ ہیں تاکہ امریکہ بدستور عالمی رہنما رہے۔

جنریشن اپرچونٹی [http://www.generationopportunity.org/] کے صدر پال ٹی کونوے اور امریکی محکمہ محنت کے سابق انڈر سیکرٹری ایلین ایل چاؤ نے کہا کہ “امریکیوں، خصوصاً نوجوان باشندوں’ کے لیے ایسے غیر ملکی رہنماؤں سے متاثر ہونا مشکل ہے جو اپنے شہریوں کو اظہار رائے اور مذہبی آزادی جیسے بنیادی انسانی حقوق نہ دیں، خصوصاً سوشل میڈیا اور عالمی تجارت کے اس عہد میں۔ ” کونوے امریکی محکمہ تحفظِ مادرِ وطنمیں ایک عہدیدار کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے چکے ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹیکے جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں ایگزیکٹوز اِن نیشنل اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی پروگرام کے طالب علم تھے اور دی ہیریٹج فاؤنڈیشن میں بھی کام کر چکے ہیں۔

اس زد پذیر حالت کو کم کرنے اور امریکہ کے قومی سلامتی کے چیلنجز کو سنبھالنے کے لیے نوجوان امریکیوں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں منتخب افراد کو محصولات میں اضافے کے بجائے وفاقی اخراجات کو کم کر کے زیادہ مستحکم معیشت پر ملک کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی امننا ہے کہ امریکہ کو تیل، قدرتی گیس اور کوئلے جیسے مقامی توانائی وسائل کی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

جنریشن اپرچونٹی [http://www.generationopportunity.org/]نے پولنگ کمپنی، بشمول/وومن ٹرینڈ(16 تا 22 اپریل 2011ء، غلطی کی +/-4 فیصد گنجائش)  کے ساتھ پول حوالے کیا تھا اور اس کے نتائج کی چند جھلکیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

چینی خطرہ:

* 76 فیصد نوجوان امریکی چین کو خطرہ سمجھتے ہیں۔

                * 48 فیصد ایک اقتصادی خطرے کے طور پر

* 28 فیصد اقتصادی و عسکری دونوں خطروں کے طور پر

امریکی قومی سلامتی:

* امریکہ کی قومی سلامتی کو لاحق تین سب سے بڑے خطرات: قومی قرضہ جات (62 فیصد)، توانائی پر انحصار (61 فیصد) اور غیر ملکی طاقتوں کا مقروض ہونا (50 فیصد)۔ دہشت گردی کا خطرہ (39 فیصد) چوتھے بڑے قومی خطرے کی حیثیت سے ان کے بعد آتا ہے۔

* 71 فیصد نے امریکہ کے “خسارے” کے حوالے سے سخت تشویش ظاہر کی۔

*70 فیصد (خالص) تیل، قدرتی گیس اور کوئلے جیسے مقامی توانائی وسائل کو بڑھانا ہوگا

امریکی خصوصیت:

* 56 فیصد –نصف سے زائد- نے “امریکی خصوصیت” پر اتفاق پایا – جس کی تعریف بطور  آزادی اور جمہوریت کے نصب العین امریکہ کی خصوصی و بے مثال حیثیت کے ذریعے کی۔

واشنگٹن کے رہنماؤں اور معیشت کے حوالے سے امریکی نوجوانوں کے نظریے:

* 69 فیصد نے کہا کہ سیاسی رہنما نوجوان امریکیوں کے مفادات کی عکاسی نہیں کرتے۔

*صرف 31 فیصد نے صدر اوبامہ کی امریکی نوجوانوں میں بے روزگاری کے حوالے سے کوششوں کی حمایت کی۔

*مجموعی ہزاریوں میں سے  76 فیصد نے وفاقی اخراجات میں اضافے کے حولاے سے کمی کی حمایت کریں اگر انہیں امریکہ کی مالیاتی ترجیحات کے تعین کا موقع ملے۔

* 69 فیصد وفاقی میزانیہ کو متوازن کرنے کے لیے لوگوں پر محصولات کے اضافے پر وفاقی اخراجات میں کمی کو ترجیح دیں گے۔

*مجموعی ہزاریوں میں سے  59 فیصد نے رضامندی ظاہر کی کہ معیشت اس وقت بہترین انداز میں بڑھتی ہے جب افراد کو حکومتی مداخلت کے بغیر کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔

*مجموعی ہزاریوں میں سے  53 فیصد نے رضامندی ظاہرکی کہ اگر کاروباری منافع پر محصولات کم کیے جائیں تو ادارے زیادہ افراد کو ملازمتیں دیں گے۔

جنریشن اپرچونٹی کے بارے میں

جنریشن اپرچونٹی ایک غیر منافع بخش اور آزاد 501 (سی) (4) انجمن ہے جو نوجوان باشندوں سے لے کر ابتدائی کیریئر ماہرین، کالج طلبہ، نوجوان والدین، تعمیراتی کارکنوں، مرد و خاتون سرکاری ملازمین، بزرگ، کاروباری منتظمین اور ایسے تمام امریکی جو خود کو امور ریاست سے غیر مطمئن پاتے ہیں اور ایک بہتر کل کی تخلیق کے خواہشمند ہیں، کو منسلک کرنا چاہتی ہے۔

جنریشن اپرچونٹی ایک حکمت عملی چلاتی ہے جو 18 سے 29 سال کے امریکی باشندوںتک پہنچنے کے لیے جدید سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آزمودہ عملی تدابیر کو ملاتی ہے۔ ادارے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز – فیس بک پر “بینگ امریکن بائے گو” اور فیس بک پر “دی کانسٹی ٹیوشن بائے گو” – کل 2.3 ملین کی فین بیس رکھتے ہیں۔ دونوں صفحات متعلقہ مقالوں اور رپورٹوں کے لنکس پوسٹ کرتے ہیں جن میں وفاقی دفتر عمومی احتساب (جی اے او) سے لے کر نیو یارک ٹائمز، دی واشنگٹن پوسٹ، دی وال اسٹریٹ جنرل، دی ہفنگٹن پوسٹ اور دی ہیریٹج فاؤنڈیشن جیسے ذرائع شامل ہیں۔

جنریشن اپرچونٹی کےبارے میں معلومات یہاں پڑھیے [http://www.generationopportunity.org/]؛ فیس بک پر “بینگ امریکن بائے گو” کو یہاں [https://www.facebook.com/BeingAmericanByGO] اور فیس بک پر ہی “دی کانسٹی ٹیوشن بائے گو” کو یہاں [https://www.facebook.com/TheConstitutionByGO] ملاحظہ کیجیے۔

ہمارے ہسپانوی زبان کے صفحے کے لیے – جنریشن اپرچونیڈیڈ – یہاں کلک کیجیے [http://generationopportunity.org/espanol/]۔

رابطہ:

میتھیو فاراسی

202-997-1636

ای میل: matthew@generationopportunity.org

Leave a Reply