Category Archives: Travel & Leisure

نئے سال پر ٹائمز اسکوائر میں چین کے شہر چونگشان کے افتتاح کی تشہیری وڈیو

چونگشان، چین، 2 جنوری 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– اپنی تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے معروف چین کے شہر چونگشان نے 1 جنوری 2018ء کو مقامی وقت کے مطابق رات 0:00 بجے نیو یارک میں ٹائمز اسکور پر بالکل نئی تشہیری وڈیو کے ساتھ آغاز لیا اور نئے سال کے پہلےدن دنیا کو اپنی دعوت پیش کی۔ یہ اشتہار 31 جنوری 2018ء تک مسلسل جاری رہے گا۔

کہا جاتا ہے کہ کسی شہر کی شہرت ایک شخصیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ “چین کا چونگشان، عظیم شخصیت کا شہر” کے موضوع پر فلم سن یات-سین (چینی پنین میں سن چونگشان) کی کہانی بیان کرتی ہے۔ چونگشان کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں بصری نقوش کے ذریعے عوام اس شہر کے بارے میں نئی سوجھ بوجھ حاصل کرنے کے قابل ہیں جو ایک عظیم شخصیت کے نام پر چین کا واحد شہر ہے۔

اس وڈیو میں چین کی پائیدار کشش اور ثقافتی خصوصیات کو ظاہر کیا گیا ہے۔ وڈیو چونگشان کے شہری پھول سے شروع ہوتی ہے – شجر ہائے گلنار جو سن یات-سین کے اعزاز اور چونگشان کی روح کی نمائندگی کرتے ہیں – کشادگی، جوش و خروش، اجتماعیت اور ہم آہنگی، چونگشان کی تصاویر کے سلسلے کے ذریعے حاضرین کو تاریخی نوعیت کے  اور قابل رہائش چونگشان کو لا رہی ہے، جیسا کہ سن یات-سین کی سابق رہائش گاہ، چی جیانگ دریا، لانسی دریا (کوئی ہینگ بین الاقوامی سیاحتی قصبہ) اور چان گارڈن، سن یات-سین پیدل راہ گزر، چونگشان اناتو، چونگشان لیمپس وغیرہ۔ وڈیو کے اختتام پر “گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا میں اہم ٹریفک مرکز” – شین چین اور چونگشان اور معروف جدت طراز ضلع کے درمیان راستہ – کوئی ہینگ ضلع چونگشان کی مستقبل کی ترقی کے لامحدود تخیل کو لاتی ہے۔

چونگشان سن یات-سین کے آبائی شہر ہے، جو چین کے جمہوری انقلاب کے عظیم بانی تھے۔ برسہا برس بعد سرخیل کی روح کے مطابق چونگشان دریائے پرل کے مغربی کنارے پر چین کے اہم جدید مینوفیکچرنگ شہر کے بطور تیزی سے ترقی پا چکا ہے۔ لیمپ، جو اس کی اہم برآمدات میں سے ایک ہے، 190 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں برآمد کیے جاتے ہیں۔ آج جدت طرازی سے تحریک پاتا ہوا چونگشان صنعتی ترقی اور جدت طرازی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چونگشان میونسپل پارٹی کمیٹی پبلسٹی بیورو کے مطابق 2016ء چونگشان میں 882 ہائی-ٹیک ادارے تھے، اور 2017ء میں ہائی-ٹیک اداروں کی اسناد کے لیے تقریباً 1,400 اداروں نے درخواستیں دیں۔

چونگشان معیشت کو ترقی دیتے ہوئے شہری ماحول کو بہتر بنانے اور معیار کو مستقل ترویج دیتا ہے۔ بڑے پیمانے پر شجر کاری کے منصوبوں کے ذریعے، جنگلات کے احاطے کی شرح 95 فیصد تک پہنچانے کے لیے، “خوبصورت دیہی علاقے” کی خصوصیات رکھنے والے 247 ماحولیاتی عملی دیہات بنائے گئے ہیں، جو خوبصورت چین کا شاندارنمائندہ بن رہا ہے۔

چونگشان، نیو یارک میں ٹائمز اسکوائر پر نئی نکور تشہیری وڈیو کے ساتھ،  اس کی  جغرافیائی، ثقافتی اور ماحولیاتی برتریوں کو مکمل طور پر سامنے لاتے ہوئے دنیا کے سامنے کھلنے کو مزید مستحکم کرنے کی امید کرتا ہے۔ بصارت کے وسیع تناظر اور گوانگڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا کے ہندسی مرکز کی حیثیت سے چونگشان اپنی ترقی کے پھلتے پھولتے دور سے مل رہا ہے۔

تصویری منسلکات کے روابط :
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=303780

 

Promo Video of China’s Zhongshan City Debuts at Times Square in the New Year

ZHONGSHAN, China, Jan. 2, 2018 /Xinhua-AsiaNet/– China’s Zhongshan City, a city with renowned history and culture, made its debut with a brand-new promo video at the Times Square in New York at 0:00 a.m. local time on Jan 1, 2018, sending its invitation to the world on the first day of the new year. The display is to be continued till Jan 31, 2018.

It is said that knowing a city is because of a man. With the theme of “Zhongshan of China, the Great Man’s Hometown”, the film tells the story of Sun Yat-sen (Sun Zhongshan in Chinese Pinyin). People are able to gain a new understanding, through the visual scrolls of Zhongshan’s past, current and future images, of China’s only city named after a great man.

In this video, China’s lasting appeal and cultural characteristics are demonstrated. The video begins with the city flower of Zhongshan — flame trees which represent the honor of Sun Yat-sen and the spirit of Zhongshan — openess, enthusiasm, inclusiveness and harmony, bringing to the audience a very historical and livable Zhongshan through a series of pictures of Zhongshan, such as the former residence of Sun Yat-sen, Qijiang River, Lanxi River (Cuiheng International Tourism Town) and Zhan Garden, Sun Yat-sen Pedestrian Street, Zhongshan Annatto, Zhongshan Lamps, etc.. At the end of the video, “an important traffic hub in the Guangdong-Hong Kong-Macao Greater Bay Area” — the passage between Shenzhen and Zhongshan, and the leading innovative district — Cuiheng District brings to the audience infinite imagination of the future development of Zhongshan.

Zhongshan is the hometown of Sun Yat-sen, the great pioneer of China’s democratic revolution. Over the years, led by the spirit of the pioneer, Zhongshan rapidly develops to become China’s important modern manufacturing city on the west bank of the Pearl River. The lamp, which is one of the main export commodities, is exported to more than 190 countries and regions. Today, the innovation-driven Zhongshan is increasing investment in industrial upgrading and innovation. According to the Zhongshan Municipal Party Committee Publicity Bureau, in 2016, there were 882 high-tech enterprises in Zhongshan, and in 2017, nearly 1,400 enterprises applied for certificates of high-tech enterprises.

Zhongshan constantly promotes to upgrade the urban environment and quality while developing economy. Through large-scale afforestation projects, coverage rate of woodland forest has reached 95%, 247 ecological demonstrative villages characterized by “beautiful countryside” are built, becoming an outstanding representative of Beautiful China.

Zhongshan, with its brand-new promo video at Times Square in New York, hopes to further strengthen the opening to the world, bringing into full play its geographical, cultural and environmental advantages. With a wider field of vision and as a geometric center in the Guangdong-Hong Kong-Macao Greater Bay Area, Zhongshan is now meeting the blooming period of its development.

SOURCE: Zhongshan Municipal Party Committee Publicity Bureau

Image Attachments Links:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=303780

‫ایئر چائنا بیجنگ – برسبین روٹ کا باضابطہ اجراء

بیجنگ، 13 دسمبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/–

10 دسمبر 2017ء کو ایئر چائنا نے بیجنگ اور برسبین کے درمیان اپنے نئے روٹ کی افتتاحی پرواز کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں متعدد معزز مہمانوں نے شرکت کی، بشمول اینڈریو ہوگ، ٹور ازم آسٹریلیا میں ریجنل جنرل مینیجر برائے شمالی ایشیا ؛ نک ایلیٹ، ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ میں ایگزیکٹو برائے محکمہ امور سرکار؛ چارلی شین، ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ میں گریٹر چائنا ریجن کے لیے ڈائریکٹر؛ اور سولن ہو، ایئرچائنا کے نائب صدر۔

https://photos.prnasia.com/prnvar/20170522/1857452-1LOGO

افتتاحی تقریب میں ایئر چائنا کے نائب صدر سولن ہو نے کہا: “بیجنگ اور برسبین کے درمیان یہ نیا روٹ  ایئر چائنا کا چین و آسٹریلیا کے مابین چھٹا نان-اسٹاپ روٹ ہے۔ برسبین سڈنی اور میلبرن کے بعد ایئر چائنا کا تیسرا آسٹریلوی مقام ہے۔ اس نئے روٹ کا قیام ایئر چائنا کی اپنے روٹ نیٹ ورک کی عالمی توسیع اور چین و آسٹریلیا کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ روٹ کا آغاز ایک باسہولت نقل و حمل رابطہ فراہم کرے گا جو بیجنگ اور کوئنزلینڈ کے درمیان تجارت، کاروباری تعاون اور سیاحت کو فروغ دے گا۔”

لین کوڈنگٹن، سی ای او ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ نے کہا: “چین کے دارالحکومت، بیجنگ، اور ریاست کوئنزلینڈ کے دارالحکومت، برسبین، کے درمیان یہ پہلا فضائی راستہ ہے۔ یہ ریاست کوئنزلینڈ کے لیے ایک اہم سنگ میل کی نمائںدگی کرتا ہے۔ توقع ہے کہ نیا روٹ اگلے چار سالوں میں تقریباً 170,000 نئے مہمانوں کو کوئنزلینڈ لائے گا۔ روٹ چینی سیاحوں کے لیے برسبین پہنچنا آسان بناتا ہے، جو گولڈ کوسٹ، وٹسنڈے جزائر اور دیگر معروف سیاحتی مقام کا داخلی دروازہ ہے۔ چینی مہمان کوئنزلینڈ کے معتدل موسم، قدیم ساحلوں اور حیران کن گریٹ بیریئر ریف سے صرف نصف دن کے فاصلے پر ہیں۔”

مزید برآں، آزاد تجارت کے حالیہ معاہدے کی تکمیل اور چین و آسٹریلیا کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری باہمی تعاون اور روابط کو بڑھا رہی ہے۔ حالیہ چند سالوں میں آسٹریلیا آنے والے چینی سیاحوں کی تعداد میں دوہرے ہندسے کا اضافہ ہوا ہے؛ دونوں ملکون گے درمیان دو طرفہ سیاحوں کی تعداد بھی 2016ء میں متاثر کن دو ملین دوروں تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ سال چین اور آسٹریلیا کے درمیان سفارتی تعالقات کے قیام کے 45 سال مکمل ہونے کی علامت ہے اور ساتھ ہی “چینی-آسٹریلوی سیاحتی سال” بھی ہے۔ توقع ہے کہ نیا بیجنگ – برسبین روٹ دوطرفہ تجارتی تعلقات، کاروباری تعاون اور سیاحت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔ یہ کاروباری افراد، غیر ملکی طلبہ اور سیاحوں کو دونوں نصف کّرہ ارض میں سفر میں آسانی بھی فراہم کرے گا۔”

حالیہ چند سالوں میں ایئر چائنا اپنے عالمی روٹ جال کو پھیلا رہا ہے، اور اب چار بڑے مراکز بیجنگ، چینگڈو، شنگھائی اور شین چین سے پروازیں چلاتا ہے۔ یہ چین اور آسٹریلیا کے درمیان اپنی روٹ پیشکش کو بھی بڑھا چکا ہے۔ اس وقت ایئر چائنا بیجنگ، شنگھائی اور چینگڈو سے سڈنی اور میلبرن کے لیے نان-اسٹاپ روٹ چلاتا ہے، جو چین اور آسٹریلیا کے درمیان ہفتہ وار 40 سے زیادہ مسافر پروازیں سنبھال رہے ہیں۔ ایک اسٹار الائنس کیریئر کی حیثیت سے ایئر چائنا 190 ممالک میں 1,330 مقامات کے لیے روٹس بھی پیش کر سکتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ایئر چائنا مسافروں کے لیے بھروسہ مند، آرام دہ اور پرلطف فلائٹ سروسز فراہم کرنے سے وابستہ ہے، جس میں کچھ خاص بھی ہوتا ہے۔

فلائٹ انفارمیشن:

بیجنگ اور برسبین کے درمیان نیا روٹ فلائٹ نمبر CA795/796 کے طور پر ہفتے میں چار دن (پیر، بدھ، جمعہ اور اتوار) آپریٹ کرے گا ۔ جانے والی پروازیں بیجنگ سے 02:30 پر اڑیں گی اور برسبین میں 15:10 پر پہنچیں گی۔ آنے والی پروازیں برسبین سے 19:30 پر اڑیں گی اور اگلے دن 04:45 پر پہنچیں گی۔ یہ تمام اوقات مقامی وقت کے مطابق ہیں۔ تمام پروازیں ایئر بس 330-200 ہوائی جہاز کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں۔

تصویر – https://photos.prnasia.com/

Official Launch of the Air China Beijing – Brisbane Route

BEIJING, Dec. 13, 2017 /PRNewswire/ — On 10 December 2017, Air China held a launch ceremony for the inaugural flight on its new route between Beijing and Brisbane. The ceremony was attended by a number of distinguished guests, including Andrew Hogg, Regional General Manger at North Asia at Tourism Australia; Nick Elliott, executive of Government Affairs Department at Tourism and Events Queensland; Charley Shen, director for Greater China Region at Tourism and Events Queensland; and Xulun Hou, vice president of Air China.

logo

At the launch ceremony, Air China’s vice president Xulun Hou remarked: “This new route between Beijing and Brisbane is Air China’s sixth non-stop route between China and Australia. Brisbane is also Air China’s third Australian destination, after Sydney and Melbourne. The establishment of this new route is part of Air China’s global expansion of its route network and improvement of links between China and Australia. The launch of the route will provide a convenient transport link that should spur trade, business cooperation and tourism between Beijing and Queensland.”

Leanne Coddington, CEO of Tourism and Events Queensland, stated: “This is the first ever air corridor between China’s capital, Beijing, and Brisbane, the capital of Queensland state. This represents a major milestone for the state of Queensland. It is expected that the new route will carry almost 170,000 new visitors to Queensland over the next four years. The route makes it easier for Chinese tourists to reach Brisbane, which is a gateway to the Gold Coast, the Whitsunday Islands and other well-known travel destinations. Chinese visitors are now only half a day away from Queensland’s mild climate, pristine beaches and jaw-dropping Great Barrier Reef.”

Moreover, the recent conclusion of a Free Trade Agreement and the comprehensive strategic partnership between China and Australia point to growing bilateral cooperation and exchanges. In recent years, the number of Chinese tourists visiting Australia has seen double-digit growth; two-way tourist flows between the two countries recorded an impressive two million trips in 2016. This year marks the 45th anniversary of the establishment of diplomatic ties between China and Australia as well as “Chinese-Australian Tourism Year”. It is expected that the launch of the new Beijing – Brisbane route will help to promote bilateral trade relations, business cooperation and tourism. It will also provide a convenient travel link for business people, overseas students and tourists travelling between both hemispheres.

In recent years, Air China has been expanding its global route network, and now operates flights out of four major hubs in Beijing, Chengdu, Shanghai, and Shenzhen. It has also increased its route offering between China and Australia. At present, Air China operates non-stop routes from Beijing, Shanghai and Chengdu to Sydney and Melbourne, handling over 40 weekly passenger flights between China and Australia. As a Star Alliance carrier, Air China can also offer routes to 1,330 destinations in 190 countries. As always, Air China remains committed to delivering reliable, comfortable, and enjoyable flight services to passengers, while offering a personal touch.

Flight information:

The new route between Beijing and Brisbane will be operated under flight numbers CA795/796 four times a week (Monday, Wednesday, Friday and Sunday).Outbound flights will depart from Beijing at 02:30 and arrive in Brisbane at 15:10. Inbound flights will depart from Brisbane at 19:30 and arrive in Beijing at 04:45 the next day. All times are given in local time. All flights are operated by Airbus 330-200 aircraft.

Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20170522/1857452-1LOGO

عالمی معیار کی خدمات کی فراہم کرنے کے ارادے سے میراز نے چار نئے ہوٹل برانڈز کا اعلان کیا

دبئی، متحدہ عرب امارات، 18 اپریل، /2017 پی آر نیوز وائر/–  میراز (Meraas) نے ہوٹل کے چار نئے دلچسب برانڈز , ری ویرا,  (RE VERA) اودو(EVADO) ,ویوس  (VIVUS) اور مق(MQ) لانچ کرنے کا اعلان کمپنی کو عالمی معیار کے ہوٹل آپریٹر کے طور پر قائم کرنے کے مقصد کے ایک حصے کے طور پر کیا ہے۔ ہوٹل دبئی میں ہاسپٹلٹی کی فراہمی میں توسیع کرنا چاہتا ہے اور امارات میں کاروبار یا تفریح کے لیے آنے والے مہمانوں کو خوشگوار تجربات کا احساس کرانا چاہتا ہے۔

http://mma.prnewswire.com/media/491082/Meraas.jpghttp://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_wmwkbos2/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

من پسند عالمی منزل کے بننے کے دبئی کے اسٹریٹجک روڈ میپ کی تکمیل کیلئے میراز نے دسمبر 2015 میں ہوٹل آپریٹنگ کی شاخ قائم کی۔ حال ہی میں لانچ کیے گئے نئے ہوٹل برانڈزکوشہر میں آنے والے مسافروں اور مہمانوں ضروریات پورا کرنے کے لیے اور اپنی کلاس میں بہترین ڈیزان اور جدید ترین ٹکنالوجو کی فراہمی کے لیے  احتیاط سے منظم کیا گیا ہے۔ یہ برانڈز اہم جگہوں پر ہوٹلوں کے ذریعہ بوٹیک لکزری، لکزری، اپر اپ اسکیل، اور اپر مڈ اسکیل کے مہمانوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

میراز کے گروپ چئر مین عبداللہ الحبئی , نے کہا: ” میراز نے اپنے پورٹ فولیو اور لینڈ مارک منازل کے ساتھ مضبوطی سے خود کو متحدہ عرب امارات میں ایک اہم جدت طراز کے طور پر  قائم کیا ہے۔ دبئی سیاحتی وژن 2020 میں تعاون کے عزم کے تحت، جسے عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے منظوری دی ہے جو  نائب صدر اور متحدہ عرب امارات اور دبئی کے حکمران اور وزیر اعظم ہیں، ہم نے مختلف طبقات میں، نئے، گھریلو طور پر تیار ہوٹل برانڈز کو متعارف کرانے کے نئے مواقع کی شناخت کی۔‘‘

’’دبئی عالمی ہوٹل آپریٹروں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ شہر  بین الاقوامی ہاسپٹلٹی برانڈز کے برابر مقامی ہاسپٹلٹی تجربات پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ نئے برانڈز جو ہم متعارف کر رہے ہیں اس شعبہ میں بہتری لائے گا، ماڈرن انتخاب فراہم کرے گا، اور دبئی کی پوزیشن کو سرکردہ سیاحتی جگہ کے طور پر قائم کرے گا۔‘‘

پہلے نئے ہوٹل جو میراز کے ذریعہ آپریٹ کیے جائیں گے وہ ری ویرا اور ویوس ہے یہ برانڈڈ ریزورٹس بلیو واٹرز پر واقع ہیں۔ یہ ہوٹل 2018 میں کھلیں گے، اور عین دبئی جو دنیا کی سب سے اونچی اور سب سے بڑی آبزرویشن وھیل ہے، اور ایک جزیرہ بن رہا ہے اس سے تھوڑی دوری پر ہوں گے۔

ریویرا بلیو واٹرز ریزورٹ 178 پر تعیش کمروں اور 96 سروسڈ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے، جس کی رینچ ایک سے چار بیڈ رومز ہوگی۔ ویوس بلیو واٹرز ریزورٹ 301 پر تعیش کمروں اور 119 سروسڈ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے، جس کی رینچ  بھی ایک سے چار بیڈ رومز ہوگی۔ مہمانوں کی براہ راست رسائی سہولیات کے ایک مجموعے اور خدمات کے ساتھ 450 میٹر کے نجی بیچ تک ہوگی۔

ماخذ: میراز (Meraas)

Meraas Announces Four New Hotel Brands in a Move Intended to Create World-Class Hospitality Experiences

DUBAI, UAE, April 18, 2017/PRNewswire/ — Meraas has announced the launch of four exciting new hotel brands called EVADO, RE VERA, VIVUS, and MQ as part of its objective to establish the company as a world-class hotel operator. The hotels also aim to widen the hospitality offering in Dubai and present guests visiting the emirate, for business or leisure, a plethora of novel experiences.http://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_wmwkbos2/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

(Photo: http://mma.prnewswire.com/media/491082/Meraas.jpg )

Meraas established its hotel operating arm in December 2015 to complement Dubai’s strategic roadmap of becoming a global destination of choice. The newly launched hotel brands are carefully curated to cater to the specific needs of travellers and visitors to the city and offer best-in-class design and the latest technology. The brands will target travellers in the boutique luxury, luxury, upper upscale, and upper midscale segments, with hotels set to be situated in prime locations.

Abdulla Al Habbai, Group Chairman at Meraas, said: “Meraas has firmly established itself as a key innovator in the UAE through its portfolio of landmark destinations. In line with our commitment towards contributing to Dubai Tourism Vision 2020, approved by His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, Vice President and Prime Minister of UAE and Ruler of Dubai, we have identified a unique opportunity to introduce new, home-grown hotel brands, across different segments.”

“Dubai has been successful in attracting global hotel operators. The city has also succeeded in creating local hospitality experiences on par with international hospitality brands. We are confident that the new brands that we’re introducing will enrich the sector, offer modern choices, and reinforce Dubai’s position as a leading tourism destination.”

The first of the new hotels to be operated by Meraas are Re Vera and Vivus branded resorts located at Bluewaters. The hotels are on schedule to open their doors in 2018, and will be a short walk from Ain Dubai, the world’s tallest and largest observation wheel, being built the island.

Re Vera Bluewaters Resort boasts 178 luxurious rooms and 96 serviced apartments, ranging from one to four bedrooms. Vivus Bluewaters Resort comprises 301 rooms and 119 serviced apartments also ranging from one to four bedrooms. Guests will have direct access to an array of amenities and services, as well as a 450-metre private beach.

Photo: http://mma.prnewswire.com/media/491082/Meraas.jpg

Source: Meraas