Category Archives: Business & Finance

CM Punjab visits MQM Headquarter, Karachi

Punjab Chief Minister and PML (N) President Shahbaz Sharif visited MQM Headquarter in Karachi on Sunday and held talks with the party leadership.

On arrival, Shahbaz Sharif was given a warm welcome by MQM Pakistan Bahadurabad Group leadership including Mayor Karachi Waseem Akhtar, Khalid Maqbool Siddiqui and Kunwar Naveed Jameel.

Talking to media after the meeting, Shahbaz Sharif said his meeting with MQM Bahadurabad leadership was successful. He said former Prime Minister Nawaz Sharif took the decision to start operation across the board to restore peace in Karachi.

He said PML-N will continue to support MQM Pakistan in its agenda to make Karachi city again city of lights.

Responding to a question about electricity, Shahbaz Sharif said K-Electric is responsible for the crisis.

Speaking on the occasion, MQM leader Khalid Maqbool Siddiqui said that we are being ruled by a party that has fake majority in the province.

He said we have conveyed our concerns to Shahbaz Sharif especially regarding the census in which Karachi’s population has been shown far less than its real numbers.

Source: Radio Pakistan

Chairman Senate lauds performance of Pakistan Railways

Chairman Senate Muhammad Sadiq Sanjrani has lauded changes and improving travelling standard in Pakistan Railways in a short span of time.

He made these remarks during an informal chat after his travel from Rawalpindi to Lahore through Pakistan Railways.

In a statement, Pakistan Railways thanked the chairman for choosing railways and appreciating performance of the organization.

Source: Radio Pakistan

People of Kurram Agency laud sacrifices of security forces

People of Kurram Agency have once again reaffirmed their support to the security forces in maintaining peace and stability in tribal areas.

A rally to this effect was taken out in Parachinar, the headquarters of Kurram Agency.

The rally was organized by Pakistan Zindabad Movement and people from all parts of the agency participated in it.

Addressing the rally, the speakers said the tribal people stand by Pakistan Army to foil the nefarious designs of enemy fanning ethnicity and sectarianism in the society. They lauded sacrifices of the security forces to eliminate of terrorism from the country.

Source: Radio Pakistan

یو این سی ٹی اے ڈی اور علی بابا بزنس اسکول کے ای فاؤنڈرز فیلوشپ پروگرام کے ایشیائی کاروباری منتظمین گریجویٹس کی پہلی کلاس

یہ سنگ میل باہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے یو ین سی ٹی اے ڈی کے اہداف کی جانب علی بابا کے مستقل عزم کا مظہر ہے

جنیوا اور ہانگچو، چین، 5 اپریل 2018 / پی آر نیوزوائر /–

علی بابا گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما ای فاؤنڈرز شرکاء سے کاروباری انتظام و دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

ای فاؤنڈرز فیلوشپ کے تحت ایشیائی کاروباری منتظمین کی پہلی کلاس ہانگچو، چین میں ایک تقریب کے دوران گریجویٹ ہوگئی۔ یہ پروگرام تجارت و ترقی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) اور علی بابا بزنس اسکول کا مشترکہ منصوبہ ہے جس کا مقصد نوجوان کاروباری منتظمین کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار اور ڈیجیٹل تقسیم کے درمیان رابطے کے لیے تیار کرنا ہے۔

دوسرے ای فاؤنڈرز پروگرام کی تکمیل کے ساتھ علی بابا اس عہد کو پورا کرنے کے مزید قریب ہوگیا ہے جو علی بابا گروپ کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما نے نوجوان کاروباری منتظمین اور چھوٹے کاروبار کے لیے یو این سی ٹی اے ڈی کے خصوصی مشیر کے طور پر کیا تھا۔اگلے پانچ سالوں کے دوران علی بابا اور یو این سی ٹی اے ڈی ترقی پذیر ممالک میں 1000 کاروباری منتظمین کو باہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈیجیٹل انقلاب کو مزید استعمال کرنے کے قابل بنائیں گے۔

عالمی ای فاؤنڈرز فیلوشپ کی پہلی کلاس کے 37 ایشیائی شرکاء کا علی بابا گروپ ایگزیکٹیو چیئرمین جیک ما کے ساتھ گروپ فوٹو

یو این سی ٹی اے ڈی کوآرڈینیٹر برائے ای فاؤنڈرز انیشی ایٹیو آرلیت ورپلوئف نے کہا کہ “ان نوجوان کاروباری منتظمین کی پرجوش روح و تخلیقی صلاحیت اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے ضمن میں ان کی جانب سے جس بے لوث نقطہ نظر کا اظہار کیا گیا، وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔”

“ان کی کہانیاں واقعی متاثر کن ہیں اور حقیقی زندگی کی مثال پیش کرتی ہیں کہ نوجوان نسل اپنی برادری کے فائدے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اقتصادی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔” محترمہ ورپلوئف نے مزید کہا۔

نئی ڈیجیٹل اقتصادیات کے لیے چیمپیئنز کی تشکیل

پورے 11-روزہ پروگرام میں ایشیائی کاروباری منتظمین نے براہ راست بصیرت حاصل کی، دوروں میں حصہ لیا اور لیکچرز میں شرکت کی تاکہ گزشتہ 20 سالوں میں چین میں آنے والے ڈیجیٹل انقلاب کو سمجھ سکیں۔

علی بابا کو بطور اسٹڈی ماڈل سمجھنے کے ساتھ مقامی انکیوبیٹرز اور ای-کامرس کاروباری اسکولوں کے دورے اور ملاقاتیں بھی کی گئیں جن سے شرکاء نے علی بابا کے پلیٹ فارم کے ایکوسسٹم اور حلوں سمیت تاؤباؤ مارکیٹ پلیس، ٹی مال، علی بابا ڈاٹ کام، کینیاؤ نیٹ ورک، ہیما اور فلیجی کے علاوہ صنعت کے حالیہ رجحانات اور ترقی جیسا کہ نیو ریٹیل، دیہی ای کامرس اور انٹرنیٹ کی مشہور ہستیوں کے ظہور کا بھی جائزہ لیا۔

یو این سی ٹی اے ڈی لوگو

ان پُر اثر اور دلکش سیشنز کے ذریعے شرکاء نے چین میں ڈیجیٹل اقتصادیات کی ترقی اور تعاون کے لیے علی بابا گروپ کے طے کردہ خیالات کو سمجھا اور پرکھا کہ حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی مقامی مارکیٹ میں کس طرح لاگو کیا جاسکتا ہے۔

علی بابا گروپ کے نائب صدر برائن وونگ، جو عالمی منصوبہ جاتی پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں، نے کہا کہ “ہم علی بابا اور اپنے شراکت داروں کے نیٹ ورک میں موجود بہترین اور معروف قابلیت رکھنے والے افراد کی جانب سے عملی و نظریاتی سیشنز کے ذریعے نوآموز کاروباری منتظمین کو نئی سوچ سے آراستہ کرنا اور کامیابی کے لیے وسائل فراہم کرنا چاہتے ہیں۔”

“علم کے حصول کے لیے ان کا جذبہ بہت حوصلہ افزاء ہے۔” انہوں نے کہا۔ “چین میں ڈیجیٹل رجحان سے متعلق ان کے مسلسل سوالات اور مسائل پر زبردست بحث نے انہیں نئے خیالات کھوجنے اور خود اپنے کاروباروں کے لیے زیادہ جامع اور باہمی ترقی کے نمونے کے حصول کے قابل بنایا جس سے وہ اپنے آبائی علاقوں کی برادریوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔”

علی بابا کے اعلیٰ عہدیداران اور کامیاب ای-کامرس اداروں جیسا کہ بھارت کے نمایاں ای-والٹ فراہم کنندہ پے ٹی ایم اور جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑے ای-کامرس پلیٹ فارم لزاڈا تک رسائی پروگرام کا منفرد پہلو تھا۔

علی بابا بزنس اسکول لوگو

اس کے علاوہ شرکاء نے علی بابا کی متعدد جدید سہولیات جیسا کہ ہیما فریش کا بھی دورہ کیا تاکہ نیو ریٹیل کے مستقبل کی فطری نمائندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔ کینیاؤ جیاسنگ لاجسٹکس مرکز کے دورے کے ساتھ اسمارٹ لاجسٹکس کو سمجھنے اور بینیو ولیج، جسے زندگی کے ہر شعبے میں ای-کامرس کے ہموار انضمام کی بدولت آن لائن شاپنگ ویب سائٹ بن جانے کے بعد چین کا تاؤباؤ ولیج بھی کہا جاتا ہے، میں دیہی ای-کامرس ترقی کے اعلیٰ صلاحیتوں کے تعارف کا بھی موقع حاصل ہوا۔

مستقبل کی چینی سلیکان ویلی چیجیانگ میں ڈریم ٹاؤن انکیوبٹر اور عوام کے لیے تھوک تجارت کے کلیدی مرکز اور دنیا کی سب سے بڑی آف لائن بی2بی مارکیٹ ییوو سٹی کا دورہ کر کے اینٹری پرینیورز نے چینی سوسائٹی پر ٹیکنالوجی کے تغیراتی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔

دنیا بھر کی برادریوں کے لیے عالمی فیلوشپ

11-روزہ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے ساتھی کاروباری منتظمین اور آبائی علاقے میں اپنی برادریوں کے ساتھ شیئر کریں کہ وہ ای-کامرس، ای-فنانس اور ادائیگیوں، اسمارٹ لاجسٹکس، ضخیم ڈیٹا، سیاحت میں کس طرح نئی بصریت کو نافذ کرنے کا منصوبہ بنائیں گے اور ان کے کاروباری خیالات میں بہتری لائیں گے۔

ملائیشیا سے شریک سو یین یی، جو سوشل کامرس پلیٹ فارم اوانا کی چیف مارکیٹنگ آفیسر اور شریک بانی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی اینٹری پرینیورز کے ساتھ وہ سب کچھ شیئر کرنے کے لیے بے تاب ہیں جو انہوں نے سیکھا اور ای-کامرس کے فوائد اور ملائیشیا میں اس سے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے مستفید ہونے کے لیے بھی۔ “جب میں ملائیشیا واپس جاؤں گی تو میری توجہ شیئرنگ پر ہوگی ان لوگوں کے ساتھ جو کاروبار میں مصروف ہیں جیسا کہ ٹیکنالوجی کا فائدہ کیسے اٹھایا جائے اور اپنے کاروباری نمونہ کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اسے کیسے استعمال کیا جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پروگرام نے ایشیا بھر میں ہم-خیال اینٹری پیونرز کے لیے اپنے خیالات شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری نیٹ ورکنگ اور ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے راستہ فراہم کیا ہے۔

فلپائن میں لباس و انداز کی سبسکرپشن باکس سروس اسٹائل جینی کی ابیگیل جوئس مینڈوزا، جنہوں نے پروگرام میں شرکت کی، نے کہا کہ “اب جبکہ ہم پروگرام سے فارغ ہو رہے ہیں، ہم علی بابا گروپ اور یو این سی ٹی اے ڈی سے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کے لیے تبدیلی کا سفیر بننے کا عہد کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد اب صرف اپنے صارفین کے مسائل حل کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے متعلقہ شعبے میں ہمارے جدید پلیٹ فارمز کے ساتھ نئی اقتصادیات کا چیمپیئن بننا ہے۔”

37 ایشیائی ممالک کے امیدواران، جوکمبوڈیا، انڈونیشیا، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام سے تعلق رکھتے ہیں، کے گریجویشن کرنے کا مطلب ہے کہ وہ باضابطہ طور پر عالمی ای فاؤنڈرز فیلوشپ نیٹ ورک کے فیلوز بن کر، 2017ء میں گریجویٹ ہونے والے 24 افریقی کاروباری منتظمین کے اولین دستے کے اراکین کے ساتھی بن گئے ہیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی اور علی بابا کے عزم کا حصہ ہونے کے ناطے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام فیلوز حاصل کردہ تعلیم کو اپنی برادریوں میں مؤثر انداز سے نافذ کر رہے ہیں، دونوں ادارے ہر تین ماہ میں علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے فیلوز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور دنیا بھر میں بھرپور اور پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل ایکوسسٹمز کی تیاری میں تعاون کریں گے۔

ای فاؤنڈرز فیلوشپ کے بارے میں مزید معلومات کے لیے https://agi.alibaba.com/efounders-fellowship اور http://unctad.org/en/pages/newsdetails.aspx?OriginalVersionID=1615 ملاحظہ فرمائیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی کے بارے میں

ای فاؤنڈرز منصوبہ جات اسمارٹ شراکت داریوں کا حصہ ہیں جو سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز کی رسائی میں ممالک کی مدد کرنے کے لیے یو این سی ٹی اے ڈی تخلیق کر رہا ہے۔

علی بابا گروپ

علی بابا گروپ کا مقصد ہر جگہ کاروبار آسان بنانا ہے۔ ادارے کا عزم تجارت کا جدید بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ اس کا خواب ہے کہ صارفین علی بابا ہی پر ملاقات، کام اور قیام کریں اور یہ ایک ایسا ادارہ ہوگا جو کم از کم 102 برسوں تک قائم رہے گا۔

ذرائع ابلاغ کے لیے روابط
یو این سی ٹی اے ڈی
11 43 502 79 41+/ 5828 917 22 41+
unctadpress@unctad.org

کیٹی لی
علی بابا گروپ
0979 9728 852+
k.lee@alibaba-inc.com

فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-a
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-b
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-c
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-d

First Class of Asian Entrepreneurs Graduates from UNCTAD and Alibaba Business School’s eFounders Fellowship Program

Milestone marks Alibaba’s commitment towards UNCTAD’s goals for inclusive and sustainable economic development

GENEVA and HANGZHOU, China, April 5, 2018  /PRNewswire/ — The first class of Asian entrepreneurs have graduated from the eFounders Fellowship at a ceremony in Hangzhou, China. The program, a joint initiative by the United Nations Conference on Trade and Development (UNCTAD) and Alibaba Business School, aims to enable young entrepreneurs to unlock their full potential and to bridge the digital divide.

Alibaba Group Executive Chairman Jack Ma in dialogue with eFounders participants on entrepreneurship and more

Alibaba Group Executive Chairman Jack Ma in dialogue with eFounders participants on entrepreneurship and more

With the conclusion of the second eFounders program, Alibaba is now another step closer to fulfilling the commitment made by Jack Ma, founder and Executive Chairman of Alibaba Group, in his capacity as the UNCTAD Special Adviser for Young Entrepreneurs and Small Business. Over the next five years, Alibaba and UNCTAD will help empower 1,000 entrepreneurs in developing countries to use digital transformation for more inclusive and sustainable economic development.

“The energetic spirit and creativity of these young entrepreneurs and the altruistic approach they demonstrate in supporting the Sustainable Development Goals is encouraging,” Arlette Verploegh, UNCTAD’s coordinator for the eFounders Initiative, said.

“Their stories are truly inspirational and provide real-life examples that the young generation can use new technologies to generate economic opportunities for the benefit of their communities,” Ms. Verploegh added.

Shaping Champions for the New Digital Economy

Throughout the 11-day program, Asian entrepreneurs gained first-hand insights, participated in field visits and attended lectures to understand the digital transformation that has swept China during the last 20 years.

First class of 37 Asian inductees into the global eFounders Fellowship posing with Alibaba Group Executive Chairman Jack Ma

First class of 37 Asian inductees into the global eFounders Fellowship posing with Alibaba Group Executive Chairman Jack Ma

Using Alibaba as the study model, as well as attending meetings with and tours of local incubators and e-commerce business schools, the participants analyzed Alibaba’s ecosystem of platforms and solutions including Taobao Marketplace, Tmall, Alibaba.com, Cainiao Network, Hema and Fliggy, as well as recent industry trends and developments such as New Retail, rural e-commerce and the emergence of Internet celebrities.

Through these interactive and engaging sessions, the participants gained an understanding of the considerations made by Alibaba Group to support and grow the digital economy in China and looked into how they can apply the lessons learned in their home markets.

“We want to empower these budding entrepreneurs with fresh perspectives and provide the tools for success, through practical and theory-based sessions from our best and brightest talent within Alibaba and our network of partners,” said Brian Wong, Vice President of Alibaba Group, who heads the Global Initiatives program.

UNCTAD logo

UNCTAD logo

“It is inspiring to witness the passion in their pursuit for learning,” he said. “Their rigorous discussion of the issues and constant questions about the digital phenomenon in China have enabled them to discover new ideas and approaches for a more inclusive and sustainable development model for their own businesses and for the benefit of their communities back home.”

A unique aspect of the program was access to top Alibaba executives and successful e-commerce players like PayTM, India’s leading eWallet provider, and Lazada, the largest e-commerce platform in Southeast Asia.

In addition, the participants visited various cutting-edge Alibaba facilities like Hema Fresh to experience a physical representation of the future of New Retail. They also had the opportunity to understand smart logistics with a visit to the Cainiao Jiaxing logistics center and appreciate the immense potential of rural e-commerce development at Bainiu Village, also known as China’s Taobao Village after the online shopping website due to the seamless integration of e-commerce with every facet of life there.

The entrepreneurs also experienced the transformative impact of technology on society in China, with visits to the Dream Town incubator in Zhejiang, set to be China’s Silicon Valley, and to Yiwu City, a critical node for wholesale trade for the nation, and the world’s largest offline B2B market.

A Global Fellowship for Communities around the World

At the conclusion of the intensive 11-day program, participants were challenged to share how they plan to impart their new-found insights in e-commerce, e-finance and payments, smart logistics, big data and tourism to fellow entrepreneurs and their communities at home, and formulate improvements to their business ideas.

Alibaba Business School logo

Alibaba Business School logo

Malaysian participant Soh Yien Yee, co-founder and Chief Marketing Officer of AVANA, a social commerce platform, said she is eager to share all she has learned with fellow entrepreneurs and to utilize the advantages of e-commerce and the new avenues it is creating in Malaysia. “When I go back to Malaysia, my focus will be sharing with all those involved in the business how to leverage technology and harness it to further our business model.” She also noted that the program provided an avenue for like-minded entrepreneurs across Asia to share ideas as well as opened up opportunities for business networking and growth.

“As we graduate from the program, we signed a commitment with Alibaba Group and UNCTAD to become ambassadors of change not just in our country, but around the world. Our mission now is not just to solve our customers’ problems, but to become champions of the new economy with our innovative platforms in our respective industries,” said Abigail Joyce Mendoza of StyleGenie, a styling and clothing subscription box service in the Philippines, who took part in the program.

The graduation of the 37 Asian candidates, who hail from from Cambodia, Indonesia, Malaysia, Pakistan, the Philippines, Thailand and Vietnam, means they have been officially inducted as Fellows of the global eFounders Fellowship network, joining an inaugural cohort of 24 African entrepreneurs who graduated in 2017.

As part of the commitment by UNCTAD and Alibaba to ensure all Fellows actively apply what they have learned within their communities, both organizations will continue to follow up with the Fellows with the support of local stakeholders every three months, and support the creation of digital ecosystems designed for inclusive and sustainable growth around the world.

For more information on the eFounders Fellowship, please visit https://agi.alibaba.com/efounders-fellowship and http://unctad.org/en/pages/newsdetails.aspx?OriginalVersionID=1615

About UNCTAD
The eFounders Initiative is part of a set of smart partnerships UNCTAD is creating to help countries reach the Sustainable Development Goals.

About Alibaba Group
Alibaba Group’s mission is to make it easy to do business anywhere. The company aims to build the future infrastructure of commerce. It envisions that its customers will meet, work and live at Alibaba, and that it will be a company that lasts at least 102 years.

Media Contacts
UNCTAD
+41 22 917 5828 / +41 79 502 43 11
unctadpress@unctad.org

Katie Lee
Alibaba Group
+852 9728 0979
k.lee@alibaba-inc.com

Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-a
Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-b
Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-c
Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-d

YPO Global Pulse Survey: Which Disruptive Technologies Command Attention and Investment of CEOs Globally, Now?

Survey of 10 disruptive technologies highlights those most likely to impact businesses and investments in the next 12 months

DALLAS, April 03, 2018 (GLOBE NEWSWIRE) — YPO, the premier chief executive leadership organization in the world, announced today the results of the March 2018 YPO Global Pulse Survey, revealing that chief executives across the world are focused on core business technologies, such as cloud computing, business intelligence (BI) and cybersecurity, whilst adoption and investment of emerging technologies such as blockchain, artificial intelligence (AI) and cryptocurrency are likely to be sector-driven.

Disruptive Technologies Attracting CEO Attention and Likely Investment Globally:

  • Cloud computing is a key priority for chief executives globally – more than two-thirds (68%) of chief executives report that cloud computing is likely to impact their business in the next 12 months, and 62% state that they are likely to invest in cloud-based technologies.
  • Business Intelligence (BI) has the attention of CEOs – 65% of chief executives surveyed expect BI to impact their organizations and more than half (56%) are likely to invest in business intelligence in the coming 12 months.
  • Cybersecurity is a disruptive technology that chief executives have prioritized given the scale and severity of recent high-profile consumer data breaches, 53% of chief executives are expecting cybersecurity to impact their business and 47% state that they are likely to invest in cybersecurity technology in the coming year.

“What I’m hearing from YPO global business leaders right now is that digital transformation remains at the very top of their priorities in 2018. Several disruptive technologies are expected to garner widespread attention and investment this year, such as cloud computing, cybersecurity, business intelligence and mobile payment applications,” said Scott Mordell, CEO of YPO. “YPO members are embracing technology to address regulatory requirements, harness business data for improved efficiency and increased financial performance, and to match consumer demand for new and innovative ways to interact with their businesses.”

Despite Expected Disruption, CEOs Less Likely to Invest in These Technologies in the Next Year:

  • Although virtual reality (VR)/Augmented Reality (AR) are widely noted as technologies likely to impact most industries, most CEOs surveyed are not actively investing in those technologies yet. However, within architecture and engineering sectors, 83% of business leaders expect VR to impact their business and 64% plan to invest in it over the next 12 months, as compared to only 23% of all chief executives surveyed willing to invest in these technologies now.
  • Similarly, artificial intelligence (AI) is perceived as likely to impact businesses, but CEOs are less likely to invest in AI this year as cloud computing, business intelligence, cybersecurity and digital/mobile payment applications, which are commanding more immediate attention and likely candidates for investment in the next 12 months.
  • CEOs are least familiar with chatbot technology, followed by blockchain and cryptocurrency among the 10 disruptive technologies surveyed. As a result, they tend to discount the likelihood of disruption to their businesses from these new emerging technologies and show much lower interest in investing in these technologies this year.

Disruptive Technology Investment Driven by Specific Industry Sectors

The levels of familiarity and interest in many disruptive technologies are determined by industry.  For instance, although there has been much media attention and discussion around blockchain and cryptocurrency, most CEOs do not see either of those technologies as particularly likely to impact their businesses, and are not likely to invest in those technologies. However, blockchain has gained the attention and investment of CEOs in the financial services sector.

  • More than half (58%) of chief executives in financial services expect blockchain technology to impact their organization over the next 12 months, and as many as 40% expect to make investments in the technology.
  • The Internet of Things (IoT) is cited as a key technology area by business leaders within the telecom, architecture, engineering and technology sectors. More than three quarters (78%) of chief executives in telecoms expect IoT to impact their business and almost all of them (96%) expect to make investments in IoT over the next 12 months.

“The findings of the YPO Global Pulse reveal that the short-term business impact and investment strategy associated with a particular technology is largely dependent on the specific industry in which you operate,” noted Scott Mordell, CEO of YPO. “It will be fascinating to see how priorities and focus change over the next year as disruptive technologies such as AI and virtual reality become more mainstream.”

YPO Global Pulse® Survey

The YPO Global Pulse provides insight into the perspectives of chief executives around the world on topics that influence businesses, leadership and impact. The March 2018 Global Pulse survey results provide key insight into the understanding, attitudes and investment plans of chief executives around the world, regarding the 10 disruptive technologies that are attracting attention right now. The March 2018 YPO Global Pulse survey provides perspectives from 842 YPO members, from 15 different regions of the world and across 28 industry sectors. Visit www.ypo.org/globalpulse for more information about the survey methodology and results.

About YPO

The premier leadership organization of chief executives in the world.

YPO is the global platform for chief executives to engage, learn and grow. YPO members harness the knowledge, influence and trust of the world’s most influential and innovative business leaders to inspire business, personal, family and community impact.

Today, YPO empowers more than 25,000 members in more than 130 countries, diversified among industries and types of businesses. Altogether, YPO member-run companies employ more than 16 million people and generate USD6 trillion in annual revenues.

Leadership. Learning. Lifelong. For more information, visit‪ YPO.org.

Contact:
YPO
Linda Fisk
Office: +1 972 629 7305 (United States)
Mobile: +1 972 207 4298
press@ypo.org