Daily Archives: September 15, 2018

‫18 ویں ورلڈ ونٹر سٹیز ایسوسی ایشن فار میئرز کانفرنس میں ماحول دوست ترقی پر گفتگو کے لیے 41 شہر شینیانگ میں جمع

شینیانگ، چین، 14 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 18 ویں ورلڈ ونٹر سٹیز ایسوسی ایشن فار میئرز کانفرنس (WWCAM کانفرنس) 12 ستمبر 2018ء کو شینیانگ میں منعقد ہوئی تھی۔ شینیانگ میونسپل گورنمنٹ کے مطابق کانفرنس نے 30 ممالک کے 41 سٹی گروپس اور 52 چیمبر آف کامرس گروپوں کو مدعو کیا تھا۔ موضوع “سرمائی شہر، بہتر زندگی” کے ساتھ WWCAM نے سرمائی شہروں کی منصوبہ بندی اور تعمیر پر، اور اسمارٹ سٹی کی تعمیر و ماحول دوست ترقی پر تحقیق کی۔ WWCAM دنیا بھر میں ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدت طرازی اور سرمائی شہروں کے درمیان تبادلوں اور تعاون کو بھی فروغ دے گا۔

1982ء میں سپورو،جاپان میں پہلی WWCAM کانفرنس کے انعقاد سے اب تک کہ 36 سالوں میں یہ ہر دو سال میں منعقد ہوتی ہے۔ اپنی گزشتہ کامیابی کی بنیاد پر یہ کانفرنس رکن شہروں کی محدودیت کو توڑتی ہے اور ان ممالک کے سرمائی شہروں کے نمائندوں کو مدعو کرتی ہے جو براعظموں میں پھیلے ہیں لیکن یکساں چیلنجز رکھتے ہیں، اور دنیا بھر کے شہروں کے درمیان نئی تحریک پیدا کرتے ہیں۔

“طول بلد میں اوپر اور سطح سمندر سے بلندی پر واقع شہروں کو شدید گرمی، ٹریفک اور ماحولیاتی مسائل کاسامنا ہے” کانفرنس کے دوران لارا فرٹس، ڈائریکٹر سالٹ لیک سٹی کی اکانمک ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ، نے کہا: “سالٹ لیک سٹی 2040ء تک شہری بجلی کے لیے 100 فیصد قابل تجدید توانائی کا منصوبہ اور گرین ہاؤس گیسوں کو 80 فیصد تک کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو ہر شہری کو سرد موسم میں تازہ ہوا کا  لطف اٹھانے کا موقع دے گی۔ ہمارے ریسورسز پلان سے متاثر ہوکر شینیانگ حکومت ہمارے ساتھ گہرے اور قریبی تعاون میں شامل ہے تاکہ ہم کوئلے سے بجلی بنانے کی جگہ قابل تجدید توانائی ذرائع پر منتقل ہوں۔”

کانفرنس میں سپورو، جاپان؛ سیول، جنوبی کوریا؛ وینکوور، کینیڈا اور کلیرموں-فیراں، فرانس کے 15 میئرز یا نمائندگان نے شہری تجربات اور کامیابیوں کا تعارف کروایا، اور زیادہ معیار اور مؤثریت کے ساتھ نئے اسمارٹ شہروں کے قیام سے متعلق اور زیادہ ماحول دوست ترقی کے ساتھ سبز شہروں کے قیام پر تجاویز دیں۔

18 ممالک سے 48 کاروباری انجمنوں اور لیاؤننگ سے 60 متعلقہ اداروں، بشمول امریکا کے امبو گروپ، جاپان کے سپورو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، فن لینڈ کے اورن گروپ، یورپین یونین چیمبر آف کامرس، شینیانگ براڈ گروپاور شینیانگ ٹورازم گروپ نے ونٹر سٹیز بزنس کانفرنس میں تقریبا 150 افراد کی شمولیت کے ساتھ شرکت کی۔ اجلاس کے دوران 20 سے زیادہ غیر ملکی اداروں اور 50 سے زائد چینی اداروں نے سیاحت، آئی ٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر شعبہ جات میں بالمشافہ منصوبے کیے۔

“بنائیں بہتر زندگی” نہ صرف اچھی خواہش کا اظہار اور دنیا بھر میں افراد کو بہتر زندگی کے سنجیدہ تعاقب کو ہی پیش نہیں کرتی، بلکہ شہری تنظیم کی ناگزیر تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ جیانگ یووی، میئر شینیانگ، نے کہا کہ شینیانگ رابطہ کاری کو مضبوط کرنے اور دیگر شہروں کے ساتھ تبادلے کو مستحکم بنانے، عملی تعاون کو وسیع کرنے اور ماحول دوست اور شہر کی صحت مندانہ ترقی کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔ دریں اثناء، کئی شہروں کے میئرز اور چیمبر آف کامرس نمائندگان نے بھی شینیانگ کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے کی اپنی خواہش، بین الاقوامی ثقافتی سیاحت کی صنعت کے منصوبوں کو زبردست انداز میں بنانے، اور بہتر شہری منصوبہ بندی میں اپنے تجربات اور کامیابیوں، نفیس ترقی اور مسلسل بہتری کا بھی اظہار کیا۔

ذریعہ: شینیانگ شہری حکومت

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=319339

‫”کلیدی جست” کے نو سال: ووسی آئی او ٹی کی ترقی زبردست کامیابی کی حامل

نانجنگ، چین، 14 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– چین کی انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کی تازہ ترین کامیابیوں کو پیش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت سے 2018ء ورلڈ انٹرنیٹ آف تھنگز ایکسپو 15 سے 18 ستمبر تک منعقد ہوگی۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اینڈ انجینیئرنگ کے 30 اکیڈمیشنز، متعدد غیر ملکی علمی شخصیات اور ٹاپ 500 میں سے 35 کمپنیاں ووسی میں جمع ہوں گی۔ سالوں کی پرورش کے بعد 2017ء میں آئی او ٹی ووسی کا “موتی” بن چکی ہے، صنعتی آپریٹنگ آمدنی 243.7 ارب یوآن تھی، صوبہ جیانگسو کی 1/2 کے قریب۔

آئی او ٹی کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ کے بعد “تیسری لہر” کے طور پر دیکھی گئی ہے۔ سینسر تحقیق اور انٹیگریٹڈ سرکٹ انڈسٹری کی تکنیکی ترقی کی بدولت ووسی 2009ء میں “ایکسپیریئنس چائنا” کی تعمیر کے لیے منتخب ہوا۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق ووسی کی آئی او ٹی ترقی میں 2015ء میں زبردست تیزی آئی۔ گزشتہ تین سالوں میں آئی او ٹی اور نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی صنعتوں جیسا کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بگ ڈیٹا کی تکمیل کے ساتھ، ووسی نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجیوں کے سلسلے کے ساتھ ابھرا۔

نیرو بینڈ آئی او ٹی نے عوامی مفاد عامہ اور انٹیلی جینٹ شہروں کے لیے ووسی کا احاطہ کیا۔ زیر زمین کار پارکس میں مالکان اپنی گاڑیوں کو باآسانی پا سکتے ہیں یا خالی پارکنگ مقامات تلاش کر سکتے ہیں۔ آجکل 2,000 سے زیادہ ادارے اور 180,000 ملازمین ووسی میں آئی او ٹی سے وابستہ ہیں۔

اس سال ووسی نے آئی او ٹی اور مینوفیکچرنگ صنعت کے ملاپ کو مزید گہرا کرنا جاری رکھا اور انٹیلی جینٹ مینوفیکچرنگ تشخیص کے لیے 100 اداروں کی تنظیم پر توجہ دی۔ کئی اداروں نے “انٹیلی جینٹ پروڈکشن” کا ذائقہ چھکا۔ ووسی ڈائیکا وہیل مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ کی پروڈکشن لائن میں ملازمین کی تعداد 800 سے گھٹ کر 300 تک ہو گئی اور سالانہ فی کس پیداوار 4,300 سے 10,000 تک جا پہنچی۔ آئی او ٹی شہری ترقی سے بھی قریبی تکمیل رکھتی ہے۔ جب کچرا قریب آتا ہے تو ڈسٹ بن کا دروازہ کھل جائے گا اور وہ خودکار طور پر بدبو مٹانے کا عمل شروع کردے گا۔ ووسی نے 300 سے زیادہ آئی او ٹی ایپلی کیشن عملی منصوبے نافذ کیے، جن میں 21 قومی سطح کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

چو وینڈونگ، ڈائریکٹرووسی کمیشن آف اکانمی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا کہ آئی او ٹی ووسی کی اقتصادی ترقی میں نئی جین اور ستون بن چکی ہے۔ مستقبل میں یہ کلیدی ٹیکنالوجیوں اور کاروباری ماڈلز میں رہنما کے طور پر کام جاری رکھے گا۔

ذریعہ: آرگنائزیشن کمیٹی 2018 ورلڈ انٹرنیٹ آف تھنگز ایکسپو

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=319374

یلی کی جدت طرازی اور عالمی وزڈم چین دوبارہ اپگریڈ کرکے چین کی ڈیری انڈسٹری میں مرکزی طاقت تخلیق کرتی ہوئی

ویگیننگن، 13 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– چین اور نیدرلینڈز کے درمیان دانشورانہ قیادت کا ملاپ نیدرلینڈز کے شہر ویگیننگن میں دیکھا گیا، کہ جو “حیاتی سائنس کا شہر” کہلاتا ہے۔ 12 ستمبر کو یلی یورپین انوویشن سینٹر کی اپگریڈنگ سرگرمی “جدت طرازی کے ذریعے عالمی سطح پر رابطہ ممکن بنانا” کے عنوان سے یلی ویگیننگن یونیورسٹی  کوآپریٹو لیبارٹری کی افتتاحی تقریب بڑے پیمانے پر یہاں ہوئی۔

فریسکو، سی ای او ویگیننگن یونیورسٹی، چینگ جیانچیو، سی ای او یلی گروپ، اور مملکت نیدرلینڈز میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے، مملکت نیدرلینڈز میں چائنا انڈسٹریل اینڈ کمرشل کونسل اور چائنا چیمبر آف انٹرنیشنل کامرس کے متعلقہ نمائندے، اقتصادیات اور سائنیٹیفک اور ٹیکنالوجیکل شعبہ جات میں چین اور نیدرلینڈز کے متعدد ماہرین، اور یلی گروپ کے بین الاقوامی شراکت دار اور 200 سے زیادہ دیگر مہمانوں نے تقریب میں شرکت کی۔

2014ء میں یلی نے نیدرلینڈز میں ویگیننگن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر “یورپین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر” قائم کیا، جو چین میں سب سے بلند پایہ سمندر پار ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر ہے۔ اپگریڈنگ تقریب میں چینگ جیانچیو نے اعلان کیا کہ یلی یورپین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر باضابطہ طور پر یورپین انوویشن سینٹر میں اپگریڈ کیا گیا، جو جدت طرازی میں یلی کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے لیے چینگ یی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل چائنا چیمبر آف انٹرنیشنل کامرس نے تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ یلی یورپین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے قیام سے لے کر اپگریڈنگ تک اس نے مختلف شعبہ جات کا احاطہ کیا، اور ممالک اور براعظموں کے درمیان پل تیار کیے، اور مختلف ثقافتوں کو یکجا کیا، جنہیں نہ صرف اداروں کی ٹیکنالوجیکل طلب کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ تحقیقی مرکز کی جدت طرازی کو براہ راست منتقل بھی کر سکتاہے۔ اسے چین اور بیرون ممالک کے درمیان غیر سرکاری تعاون کی بہترین مثال تسلیم کیا جاسکتا ہے، جو مستقبل میں عالمی اقتصادی تکمیل کی صورت حال میں اداروں کی ترقی کے لیے نئے معیار مرتب کر رہی ہے۔

فریسکو نے اپنی تقریر میں خیالات کا اظہار کیا: “ویگیننگن یونیورسٹی دنیا میں بہترین زرعی جامعات میں سے ایک ہے اور یلی ایشیا میں سب سے بڑی ڈیری کمپنی ہے۔ ویگیننگن یونیورسٹی اور یلی کے درمیان تعاون صرف چینی مارکیٹ کے لیے ہی نہیں، بلکہ زیادہ اہم یہ کہ، عالمی مارکیٹ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اب بھی کئی ملین افراد غربت اور غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

یہ ہمیں ماحولی نظام، مٹی، پروٹین کے اچھے ذریعے اور کئی دیگر شعبوں پر غور کرنے پر زور دیتی ہے۔ ہماری کہاوت ہے کہ روزانہ ایک سیب کا استعمال آپ کو ڈاکٹر سے بچاتاہے،لیکن میرے خیال میں روزانہ دودھ کا ایک گلاس بھی ڈاکٹر کو دور رکھ سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یلی اور ویگیننگن یونیورسٹی کچھ صحت بخش مصنوعات فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرکے پورے معاشرے پر مثبت اثرات فراہم کرنے کر سکتے ہیں۔”

اپنے قیام سے یلی یورپین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر نے “فوڈ سیفٹی کے لیے قبل از وقت انتباہ کا نظام” اور “بریسٹ ملک ڈیٹابیس” اور دیگر شعبوں میں زبردست کوششیں کی ہیں، جیسا کہ فوڈ سیفٹی کے لیے قبل از انتباہ کے نظام پر تحقیق اور قیام، چین میں پہلے بریسٹ ملک ریسرچ ڈیابیس کو اپگریڈ کرنا اور چین میں یلی اور ڈیری صنعت کی ترقی کو مسلسل بڑھانا شامل ہیں۔

حالیہ چند سالوں میں جدت طرازی یلی کی جانب سے ادارے کی ترقی کی “مرکزی” طاقت سمجھا گیا؛ جدت طرازی کے مختلف طریقے صنعتزنجیر میں بنیادی، ثانوی اور ثالثی سطح کے لیے قائم ہو چکے ہیں؛ مختلف ادارے انتظامی ڈھانچے کے لیے ملک اور بیرون ملک قائم ہو چکے ہیں تاکہ عالمی ادراک کو منظم اور مستقبل کے لیے منصوبہ  بندی کی جائے۔ رابوبینک کی جاری کردہ “عالمی ڈیری انڈسٹری میں عالمی ٹاپ-20 انٹرپرائزز کی فہرست” کے مطابق یلی عالمی ڈیرنی صنعت میں سرفہرست دس میں شامل ہے اور کئی سالوں سے ایشیا میں نمبر ایک ہے۔

چانگ جیانچیو نے کہا کہ حالیہ سالوں میں، صارفی طلب کے تنوع میں مسلسل اضافے اور عالمی ڈیری انڈسٹری کی تکمیل کے ساتھ، جدت طرازی کسی ادارے کے مستقبل کا تعیّن کرنے میں “فاتحانہ ہاتھ” بن چکی ہے۔ اس ضمن میں یلی نے “جدت طرازی کے ذریعے مستقبل کو فروغ دینے اور ادراک کے ذریعے دنیا کو منسلک کرنے” کے ترقیاتی تصور کو آگے بڑھایا اور “اختیار” اور “تکمیل” کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے ڈیری انڈسٹری میں جدت طرازی اور ترقی کو مسلسل فروغ دیا۔ مستقبل میں یلی گروپ مسلسل جدت طرازی کو فروغ دے گا اور یلی بلکہ چین میں ڈیری صنعت کی ترقی کے لیے بھی ایک “محرک” بنے گا۔

اسی روز “چین-نیدرلینڈز بزنس کونسل کا پہلا اجلاس” چائنا چیمبر آف انٹرنیشنل کامرس اور یلی گروپ کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد ہوا کہ جس میں شرکاء نے مشترکہ طور پر انتہائی گہرائی میں موجودہ صورت حال میں چین اور نیدرلینڈز کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کو دریافت کیا۔

ذریعہ: یلی گروپ

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=319260
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=319287

Perseverance in Green Development Bears Fruit in Suining, China

SUINING, China, Sept. 15, 2018 /PRNewswire/ — On September 5, a “green” brainstorming session took place in Suining, a city in the western Chinese province of Sichuan. This meeting, called the “2018 Green Economy Suining Conference,” attracted nearly 300 renowned Chinese experts, scholars and entrepreneurs. They gathered under one roof and engaged in multifaceted and in-depth exchanges regarding green development, with Suining as the focal point.

In 2007, Suining was still an area that has not yet freed itself from its deeply rooted traditional agricultural model. But that year, Suining also swore to blaze a new trail in development, to change ingrained traditions and to dart forward into the future.

In the past decade, greenness has put a new sheen on the city. Through industrial structure modifications, traditional industries have been replaced by electronic information, machinery and equipment, intelligent manufacturing, new materials, modern logistics and other emerging industries. After a decade of green urbanization and construction, the urban area now boasts a per capita park and green space of 12.86 square meters, a completed greenery coverage rate of 41.35% in and an incomplete grassland coverage rate of 37.47% . Guanyin Lake, a body of water in the middle of the city, has a surface area of 14.8 square kilometers, and Suining is also among the pioneers in China to commence “sponge city” construction. In the 2018 edition of the “State of China Cities” report, jointly published by UN Habitat and the Urban Planning Society of China, a photo of the city Suining adorned the front page with the theme “Green Urbanization in China”. This landscaped city has also garnered a variety of coveted accolades and sought-after titles such as “Green World City” and “International Park City”.

Between September 26 and 27, the Green Development Science and Technology Conference will be held in Suining under the central theme of “Clean Energy: New Drive for Green Growth”. Top experts, scholars and renowned enterprises from both home and abroad will once again convene and trade views on hot topics such as clean energy and energy storage, new energy vehicles, green finance, cooperation of green cities on the “One Belt One Road,” rural village revitalization and innovative development. They will engender the point blank integration between science, technology, green development and all aspects pertinent to the people.

Scourge of genocide remains ‘threat, a reality’ today: UN

The United Nations while expressing serious concern over violations of international law has appealed all states to act on warning signs.

UN Human Rights Chief Michelle Bachelet speaking at an event in Geneva said genocide remains a ‘threat and a reality’ in the 21st century.

She highlighted the findings of a UN probe into ‘the military-led campaign of murder, rape and assault’ against Myanmar’s Rohingya people.

She insisted that it is time to ‘take stock’ of recent violations in Myanmar and Iraq.

Source: Radio Pakistan

Israeli forces martyr three more Palestinians

At least three Palestinians have been martyred and hundreds injured during clashes with Israeli soldiers on the border between eastern Gaza Strip and Israel.

Source: Radio Pakistan