Daily Archives: December 13, 2017

‫ایئر چائنا بیجنگ – برسبین روٹ کا باضابطہ اجراء

بیجنگ، 13 دسمبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/–

10 دسمبر 2017ء کو ایئر چائنا نے بیجنگ اور برسبین کے درمیان اپنے نئے روٹ کی افتتاحی پرواز کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں متعدد معزز مہمانوں نے شرکت کی، بشمول اینڈریو ہوگ، ٹور ازم آسٹریلیا میں ریجنل جنرل مینیجر برائے شمالی ایشیا ؛ نک ایلیٹ، ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ میں ایگزیکٹو برائے محکمہ امور سرکار؛ چارلی شین، ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ میں گریٹر چائنا ریجن کے لیے ڈائریکٹر؛ اور سولن ہو، ایئرچائنا کے نائب صدر۔

https://photos.prnasia.com/prnvar/20170522/1857452-1LOGO

افتتاحی تقریب میں ایئر چائنا کے نائب صدر سولن ہو نے کہا: “بیجنگ اور برسبین کے درمیان یہ نیا روٹ  ایئر چائنا کا چین و آسٹریلیا کے مابین چھٹا نان-اسٹاپ روٹ ہے۔ برسبین سڈنی اور میلبرن کے بعد ایئر چائنا کا تیسرا آسٹریلوی مقام ہے۔ اس نئے روٹ کا قیام ایئر چائنا کی اپنے روٹ نیٹ ورک کی عالمی توسیع اور چین و آسٹریلیا کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ روٹ کا آغاز ایک باسہولت نقل و حمل رابطہ فراہم کرے گا جو بیجنگ اور کوئنزلینڈ کے درمیان تجارت، کاروباری تعاون اور سیاحت کو فروغ دے گا۔”

لین کوڈنگٹن، سی ای او ٹورازم اینڈ ایونٹس کوئنزلینڈ نے کہا: “چین کے دارالحکومت، بیجنگ، اور ریاست کوئنزلینڈ کے دارالحکومت، برسبین، کے درمیان یہ پہلا فضائی راستہ ہے۔ یہ ریاست کوئنزلینڈ کے لیے ایک اہم سنگ میل کی نمائںدگی کرتا ہے۔ توقع ہے کہ نیا روٹ اگلے چار سالوں میں تقریباً 170,000 نئے مہمانوں کو کوئنزلینڈ لائے گا۔ روٹ چینی سیاحوں کے لیے برسبین پہنچنا آسان بناتا ہے، جو گولڈ کوسٹ، وٹسنڈے جزائر اور دیگر معروف سیاحتی مقام کا داخلی دروازہ ہے۔ چینی مہمان کوئنزلینڈ کے معتدل موسم، قدیم ساحلوں اور حیران کن گریٹ بیریئر ریف سے صرف نصف دن کے فاصلے پر ہیں۔”

مزید برآں، آزاد تجارت کے حالیہ معاہدے کی تکمیل اور چین و آسٹریلیا کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری باہمی تعاون اور روابط کو بڑھا رہی ہے۔ حالیہ چند سالوں میں آسٹریلیا آنے والے چینی سیاحوں کی تعداد میں دوہرے ہندسے کا اضافہ ہوا ہے؛ دونوں ملکون گے درمیان دو طرفہ سیاحوں کی تعداد بھی 2016ء میں متاثر کن دو ملین دوروں تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ سال چین اور آسٹریلیا کے درمیان سفارتی تعالقات کے قیام کے 45 سال مکمل ہونے کی علامت ہے اور ساتھ ہی “چینی-آسٹریلوی سیاحتی سال” بھی ہے۔ توقع ہے کہ نیا بیجنگ – برسبین روٹ دوطرفہ تجارتی تعلقات، کاروباری تعاون اور سیاحت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔ یہ کاروباری افراد، غیر ملکی طلبہ اور سیاحوں کو دونوں نصف کّرہ ارض میں سفر میں آسانی بھی فراہم کرے گا۔”

حالیہ چند سالوں میں ایئر چائنا اپنے عالمی روٹ جال کو پھیلا رہا ہے، اور اب چار بڑے مراکز بیجنگ، چینگڈو، شنگھائی اور شین چین سے پروازیں چلاتا ہے۔ یہ چین اور آسٹریلیا کے درمیان اپنی روٹ پیشکش کو بھی بڑھا چکا ہے۔ اس وقت ایئر چائنا بیجنگ، شنگھائی اور چینگڈو سے سڈنی اور میلبرن کے لیے نان-اسٹاپ روٹ چلاتا ہے، جو چین اور آسٹریلیا کے درمیان ہفتہ وار 40 سے زیادہ مسافر پروازیں سنبھال رہے ہیں۔ ایک اسٹار الائنس کیریئر کی حیثیت سے ایئر چائنا 190 ممالک میں 1,330 مقامات کے لیے روٹس بھی پیش کر سکتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ایئر چائنا مسافروں کے لیے بھروسہ مند، آرام دہ اور پرلطف فلائٹ سروسز فراہم کرنے سے وابستہ ہے، جس میں کچھ خاص بھی ہوتا ہے۔

فلائٹ انفارمیشن:

بیجنگ اور برسبین کے درمیان نیا روٹ فلائٹ نمبر CA795/796 کے طور پر ہفتے میں چار دن (پیر، بدھ، جمعہ اور اتوار) آپریٹ کرے گا ۔ جانے والی پروازیں بیجنگ سے 02:30 پر اڑیں گی اور برسبین میں 15:10 پر پہنچیں گی۔ آنے والی پروازیں برسبین سے 19:30 پر اڑیں گی اور اگلے دن 04:45 پر پہنچیں گی۔ یہ تمام اوقات مقامی وقت کے مطابق ہیں۔ تمام پروازیں ایئر بس 330-200 ہوائی جہاز کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں۔

تصویر – https://photos.prnasia.com/

Official Launch of the Air China Beijing – Brisbane Route

BEIJING, Dec. 13, 2017 /PRNewswire/ — On 10 December 2017, Air China held a launch ceremony for the inaugural flight on its new route between Beijing and Brisbane. The ceremony was attended by a number of distinguished guests, including Andrew Hogg, Regional General Manger at North Asia at Tourism Australia; Nick Elliott, executive of Government Affairs Department at Tourism and Events Queensland; Charley Shen, director for Greater China Region at Tourism and Events Queensland; and Xulun Hou, vice president of Air China.

logo

At the launch ceremony, Air China’s vice president Xulun Hou remarked: “This new route between Beijing and Brisbane is Air China’s sixth non-stop route between China and Australia. Brisbane is also Air China’s third Australian destination, after Sydney and Melbourne. The establishment of this new route is part of Air China’s global expansion of its route network and improvement of links between China and Australia. The launch of the route will provide a convenient transport link that should spur trade, business cooperation and tourism between Beijing and Queensland.”

Leanne Coddington, CEO of Tourism and Events Queensland, stated: “This is the first ever air corridor between China’s capital, Beijing, and Brisbane, the capital of Queensland state. This represents a major milestone for the state of Queensland. It is expected that the new route will carry almost 170,000 new visitors to Queensland over the next four years. The route makes it easier for Chinese tourists to reach Brisbane, which is a gateway to the Gold Coast, the Whitsunday Islands and other well-known travel destinations. Chinese visitors are now only half a day away from Queensland’s mild climate, pristine beaches and jaw-dropping Great Barrier Reef.”

Moreover, the recent conclusion of a Free Trade Agreement and the comprehensive strategic partnership between China and Australia point to growing bilateral cooperation and exchanges. In recent years, the number of Chinese tourists visiting Australia has seen double-digit growth; two-way tourist flows between the two countries recorded an impressive two million trips in 2016. This year marks the 45th anniversary of the establishment of diplomatic ties between China and Australia as well as “Chinese-Australian Tourism Year”. It is expected that the launch of the new Beijing – Brisbane route will help to promote bilateral trade relations, business cooperation and tourism. It will also provide a convenient travel link for business people, overseas students and tourists travelling between both hemispheres.

In recent years, Air China has been expanding its global route network, and now operates flights out of four major hubs in Beijing, Chengdu, Shanghai, and Shenzhen. It has also increased its route offering between China and Australia. At present, Air China operates non-stop routes from Beijing, Shanghai and Chengdu to Sydney and Melbourne, handling over 40 weekly passenger flights between China and Australia. As a Star Alliance carrier, Air China can also offer routes to 1,330 destinations in 190 countries. As always, Air China remains committed to delivering reliable, comfortable, and enjoyable flight services to passengers, while offering a personal touch.

Flight information:

The new route between Beijing and Brisbane will be operated under flight numbers CA795/796 four times a week (Monday, Wednesday, Friday and Sunday).Outbound flights will depart from Beijing at 02:30 and arrive in Brisbane at 15:10. Inbound flights will depart from Brisbane at 19:30 and arrive in Beijing at 04:45 the next day. All times are given in local time. All flights are operated by Airbus 330-200 aircraft.

Photo – https://photos.prnasia.com/prnh/20170522/1857452-1LOGO

سب سے بڑی لسٹڈ سعودی ریئل اسٹیٹ ڈولپر کمپنی نے دبئی سے انٹرنیشنل بزنس لاونچ کیا

دبئی ،یواے ای اورفلورینس, اٹلی, 13 دسمبر 2017/ پی آر نیوز وائر/– دبئی کنال پردار الارکن(Dar Al Arkan) کے 800 ملین فلک بوس عمارت کا تعمیری کام 2018 کے آغاز میں شروع میں ہوگا، جس میں انٹیریئرڈئزائن کا اصل کام رابرٹو کیوالی(Roberto Cavalli) کا ہوگا۔سعودی عربیہ کے دارالحکومت میں سب سے بڑی لسٹڈ ریئل اسٹیٹ کمپنی دار الارکنن نےاپنےعالمی بازار میں خود کو وسعت دینےکے منصوبےکا اعلان کیا، اپنے عالمی کاروبارکے لئے دبئی کو لاونچ پیڈ کے طور پرمنتخب کرتے ہوئے بزنس بے دبئی واٹر کینال پر 800 ملین ریال کےترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/0_ehx3mxnr/def_height/400/def_width/400/version/100012/type/1

(Photo: http://mma.prnewswire.com/media/618113/Dar_Al_Arkan.jpg )
(Photo: http://mma.prnewswire.com/media/618114/Roberto_Cavalli.jpg )

دنیا کےسب سےبڑے شہری تناسخ میں سے ایک میں واقع حقیقی اطالوی فیشن میں لیوش 34 منزلہ واٹر فرنٹ فلک بوس عمارت کے لئے کمپنی نے انٹیرئر ڈیزائن کے لئے لکژری برانڈ روبرٹو کیوالی کو اپنا پارڑنر بنایا ہے۔ اس کا بالکل صحیح نام رکھا گیا ہے مجھے فلورینس پسند ہ”( “I love Florence”)، نیا لکژری ٹاور اپنےمکینوں کو زندگی جینے کا عمیق احساس کرائےگا جس میں دبئی کی مشہور شاندار آسائش کے ساتھ دلچسپ فلورینس کی نفاست شامل ہوگی۔

دارالارکن (DAAR’s) کی عالمی توسیع اوراٹلی کے سب بڑے لکژری فیشن برانڈ کے ساتھ اپنی ہائی پروفائل پارٹنرشپ کےلاونچ کے لئے دبئی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس تقریب میں دارالارکان کے چیئرمین یوسف بن عبداللہ الشلاش (Yusuf Bin Abdullah Al Shelash)، روبرٹو کیوالی گروپ کے سی ای او جیان جیاکومو فرارس                                     (Gian Giacomo Ferraris) خاص طور پر اس پروگروگرام میں شرکت کےلئے تشریف لائے تھے، اس کےعلاوہ بڑی تعداد میں سرکاری افسران،سفیر، باوقارممہان اور سرمایہ کار موجود تھے۔

یوسف بن عبداللہ الشلاش نےتقریب میں اعلان کیا:  “دار الارکن، 1994 سے اپنےقیام کے وقت سےسعودی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے منفرد مواقع فراہم کرارہی ہے جو ان کی دولت میں اضافہ کرتی ہے اوراسے آنے والی نسل کےلئےمحفوظ کرتی ہے۔ سعودی عرب میں 15000 رہائشی یونٹس اور 500،000 میٹر تجارتی جگہ فراہم کرانے میں ہمارا ٹھوس ریکارڈ عالمی توسیع میں معاون ثابت ہوگی، جس کا مقصد ہمارے موجودہ سرمایہ کاروں کومزید تنوع فراہم کرنا، ساتھ ہی عالمی سرمایہ کاروں کو ہمارے سرمایہ کاری پورٹ فولیوکی طرف راغب کرنا ہے۔”

3.2 کیلو میٹرسے زائد میں پھیلا انسانی ساخت دریا، ساتھ میں اس کی فلک بوس اونچائی نہرکی متحرک بیرونی اوررات کےمناظرکے شاندار نظارہ، اورفلوریسن کا ارنو ندی کے کنارا کو یکجا کیا گیا ہے، جس کا عکس انٹیرئرمیں ظاہر کیا گیا ہےجس کا اسکیچ اٹلی کے سب سےمشہور ڈیزائن ہاوس نے تیار کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب نامچین “روبرٹو کیوالی” فیشن برانڈ نے پوری دنیا میں ریئل اسٹیٹ ڈولپمینٹ میں اپنےنام کا استعمال کیا ہے، شاندار انٹیرئر پیش کرنے کےلئے یہ پروجیکٹ فرمائشی لیونگ اورمادہ کی تمام طاقت اورگلیمرکا احساس کراتا ہے، “روبرٹو کیوالی” طرز زندگی، توانائی کی ترسیل، وقار، جذبات، کامیابی اورخواہش کا تجربہ کراتا ہے۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/0_90ggxkfq/def_height/400/def_width/400/version/100012/type/1

جیان جیاکومو فرارس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:  ہم روبرٹو کیوالی برانڈ کے پہلی دفعہ بطور ایک گروپ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں داخل ہوتے ہوئے انتہائی جوش میں ہیں، اور ہم یقین کرتے ہیں کہ ڈولپر مشرق وسطی میں اس پروجیکٹ کے لئے اس سے مناسب جگہ کا انتخاب نہیں کرسکتا تھا، جہاں روبرٹو کیوالی کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ دبئی نےاس خطے میں فیشن اور ڈیزائن کے گھرکی حیثیت سے خود کو فروغ دیا ہے۔  میں فلورینس اور دبئی کے بیچ ایک طاقتور رشتہ دیکھتا ہوں، جہاں دونوں شہرچیز میں خوبصورتی، آرٹ اور ڈیزائن ایک ہی طرح سے پیش کرتے ہیں۔ نیا ٹاور روبرٹو کیوالی کا خوبصورتی، ڈیزائن اوراطالوی دستکاری کےجشن کے جنون کا مجسم ہوگا۔ یہاں لکژری فیشن ہاوس کا اعلی معیار قائم کیا جائے گا جس کے لئےہم جانے جاتے ہیں۔”

“مجھے فلورینس” ٹاورپسند ہے، جس میں دبئی کنال کا منفرد نظارہ ہوگا،  جس میں دبئی میں پہلی بار نیویارک اسٹائل کے گھرکی خصوصیات ہوں گی، جس کے الیویٹرس کا راستہ براہ راست اپارٹمنٹ میں کھلے گا جو انتہائی رازداری فراہم کرے گا۔ یونٹ میں ایک، دو، تین اور چار کمرے والا پینٹ ہاوس دستیاب ہوگا۔

عبداللہ الشلاش نےآخر میں کہا : جب ہم نے گلوبل ریئل اسٹیٹ ڈولپمینٹ میں لیڈر بننے کا تصور قائم کیا، ہم نے بہترین نمونہ قائم کرنےکا فیصلہ کیا، اس لئے دبئی کنال کو بطورجائے وقوع منتخب کیا، اور اطالوی عیش و عشرت کی عکاسی کے لئے روبرٹو کیوالی کے انتخاب کا فیصلہ تصوراتی اورصحیح معنی میں شاندار رہائش کا مقام نہ صرف رہائش یونٹ بلکہ پورے ٹاور میں سہولیات، بشمول لابی، جیم، سوئمنگ پُل، یوگا کی جگہ، آوٹ ڈور ٹریننگ ایریا اوربرآمدوں میں بھی ان چیزوں کا خیال رکھا۔”

ٹاور کی طرز تعمیر کا ڈیزائن وی ایکس ایکسپرٹس(VX Experts) کر رہا ہے۔ DAAR نے لا کاسا انجینئرنگ کنسلٹنٹ(La Casa Engineering Consultants) کوبھی مقرر کیا ہے۔ تعمیر کا کام جنوری 2018 میں شروع ہوگا۔

دار الارکن کے کے بارے میں

ریاض (کے ایس اے) میں واقع DAAR عوامی شیئرہولڈنگ کمپنی ہے جس سعودی اسٹاک ایکسچنج (تداول) (Tadawul) میں لسٹڈ ہے۔ اس کا سرمایہ 10.8 بلین سعودی ریال اور 25 بلین سعودی ریال اثاثہ جات میں ہے جو  36.4 ملین اسکوائر میٹر میں پھیلا ہوا ہے، ہم مشرق وسطی کی سب سب بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی ہیں۔ جب کہ DAAR مختلف آپریشن میں منہمک ہے، لیکن ہم جو کرتے ہیں وہ اہم کام ریئل اسٹیٹ ہی ہے۔ہم تجارتی، رہائش اور مخلوط استعمال کےاسپیس کے امکانات کو ری ڈیفائن کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ جس چیز کی بھی ہم نے تعمیر کی ہے اور برقرار رکھا ہے وہ عالمی معیار کے اعلی پیمانہ کا ہے- جدید طرز زندگی کے حساب سے ڈیزائن کیا ہے اور وقت پر تعمیری کام پورا کرکے دکھایا ہے۔ ہماری شہری کمیونٹی، شاپنگ سنٹر اور آئکونک پراپرٹی اثاثہ جات سعودی عربیہ کی کامیابی کی میراث تشکیل دیتے ہے، ملک کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی اور بڑی معیشت کی نئی عبارت لکھتے ہیں۔

daralarkan.com

روبرٹو کیوالی کے بارے میں

روبرٹو کیوالی فلورینس میں واقع ہے اور اس کواطالوی سرمایہ کاری فنڈ کلیسڈرا ایس جی آر کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے، جو فیشن، آسائش والے سامان اور طرز زندگی کے سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ عالمی طور پر قائم شدہ لیبل کا وسیع پورٹ فولیو ہے- روبرٹو کیوالی ،  جسٹ کیوالی، کیوالی کلاس، روبرٹو کیوالی ہوم، روبرٹو کیوالی جونئر،  آئی ویئر، خوشبو اور گھڑی- مختلف سیگمینٹ میں اعلی معیار کی پیش کش کی جاتی ہے (Roberto Cavalli, Just Cavalli, Cavalli Class, Roberto Cavalli Home, Roberto Cavalli Junior)۔

متحرک اور معاصر جمالیاتی کے لئے مختص، روبرٹو کیوالی کی بنیاد اطالوی بحیرہ روم کے جذبہ پرمبنی ہے، فنکارانہ کاریگری اور برانڈ کے فلورنٹ ورثہ میں ملا ہے۔اس کا خواتین اور مردوں کا کلیکشن ایک جدید اور ورسٹائل گلیمر پر توجہ مرکوز ہوتا ہے، ایک شاندار، خوشی مند طرز زندگی کو پیش کرتا ہے.

فی الحال گروپ ملان، روم، لندن، پیرس، نیو یارک، میامی، ڈلاس، لاس اینجلس، ماسکو، ساو پولو، دبئی، کویت سٹی، بیجنگ اور ہانگ جیسے دیگر شہروں میں 49 براہ راست چلائے جانے والے اسٹور اور 25 فرینچائزی اسٹور چلا رہا ہے۔
robertocavalli.com

سورس: دار الارکان

ٹی بی سی

CM Punjab, Istanbul Mayor discuss to boost cooperation in diverse sectors

Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif had a meeting with Mayor of Istanbul Mevlut Uysal in Istanbul on Wednesday.

They discussed ways to boost cooperation in several sectors especially improvement in civic facilities.

Both the leaders strongly condemned the US announcement to accept Occupied Jerusalem as the capital of Israel.

Source: Radio Pakistan

India, Sri Lanka 2nd ODI on Wednesday

The second ODI between India and Sri Lanka will be played at Chandigarh on Wednesday, December 13.

Sri Lanka lead the series 1-0.

Source: Radio Pakistan

Tillerson: Terror Group Ties Could Cost Pakistan Territorial Control

ISLAMABAD The United States has warned Pakistan it could lose control of its territory unless Islamabad abandons ties with terrorist groups operating in the country that are growing in “size and influence.”

U.S. Secretary of State Rex Tillerson issued the warning as Washington and Islamabad renew efforts to improve bilateral relations and find “common ground” to promote peace in neighboring Afghanistan.

“We want to work with Pakistan to stamp out terrorism within their boundaries as well, but Pakistan has to begin the process of changing its relationship with the Haqqani Network and with others,” Tillerson said at a public talk in Washington on Tuesday.

A U.S.-led military coalition is helping the Afghan National Defense and Security Forces (ANDSF) to contain a resurgent Taliban insurgency.

Insurgents and leaders of a group allied with the Haqqani Network are allegedly orchestrating attacks from sanctuaries in Pakistan, with the help of the neighboring country’s spy agency.

“Pakistan has allowed so many terrorist organizations to find safe haven within its territories, and these organizations are growing in size and influence,” Tillerson said.

The secretary said he had warned Pakistani leaders that the terrorist groups might turn their attention from Kabul and decide they like Islamabad better as a target. He cautioned, “If they’re not careful, Pakistan is going to lose control of their own country.”

While there has been no formal response to Tillerson’s remarks, a senior Pakistani government official has rejected the U.S. assertions as unfounded.

“In the last three years, our counterterrorism operations have effectively dismantled all terrorist groups on Pakistani soil while more than 200,000 of our troops are still deployed to areas bordering Afghanistan to consolidate the gains,” the official told VOA, requesting anonymity.

The Pakistani government has also vowed to take action against any terrorists on its soil linked to the Afghan violence if U.S. officials share “actionable” intelligence with Islamabad.

Tillerson on Tuesday indicated Washington might start sharing such information because it is really concerned about Pakistan’s stability.

“We want to work with them in a positive way. We’re willing to share information with them and we want them to be successful. But we cannot continue with the status quo, where terrorist organizations are allowed to find safe haven inside of Pakistan,” he said.

Earlier this month, U.S. Defense Secretary Jim Mattis visited Islamabad, where he also called on Pakistani leaders to redouble efforts against terrorist groups operating out of their country. He also called for Pakistan to play its vital role in promoting a process in Afghanistan to end the conflict there.

At a public talk in Islamabad following the Mattis visit, Foreign Minister Khawaja Asif reiterated that his country had made unmatched sacrifices in the fight against terrorism and was making all possible efforts to promote peace talks between the Afghan government and the Taliban.

“Peace in Afghanistan is of extreme importance to us. We are almost on all the platforms or forums from where peace in Afghanistan is being pursued. Our participation is with total sincerity with total commitment,” Asif said.

He added that continued Afghan hostilities were hampering Pakistan’s efforts to improve its economy and expand its trade to central Asian states.

“I think after Afghanistan the biggest stakeholder in peace in this region or in Afghanistan, is Pakistan,” the foreign minister asserted.

Source: Voice of America