Daily Archives: December 11, 2017

‫2017ء سانیا انرجی انٹرنیشنل فورم کی توجہ چین میں توانائی انقلاب پر

سانیا، چین، 10 دسمبر 2017ء/ سن ہوا- ایشیانیٹ/– “ماحول دوست توانائی اور کم کاربن معیشت” کے موضوع پر 2017ء سانیا انرجی انٹرنیشنل فورم (ایس ای آئی ایف) 7 سے 8 دسمبر تک سانیا، ہائنان میں منعقد ہوا۔ فورم میں موجود ماہرین نے توقع ظاہر کی کہ چین کی توانائی صنعت مختلف توانائی وسائل کی نامیاتی تکمیل کے ساتھ ساتھ مکمل اور جامع توانائی وسائل کی تقسیم کو حاصل کرے گی۔

توانائی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے تقریباً 300 مقامی و غیر ملکی معروف ماہرین اور دانشور توانائی تبدیلی پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پیش بینی کی ہے کہ 2020ء تک چین کی توانائی طلب 5 ارب ٹن روایتی کوئلے تک پہنچ جائے گی اور 2035ء تک چین امریکا کوپیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا توانائي صارف بن جائے گا۔

لی شوشینگ، صدر چائنا پٹرولیم اینڈ کیمیکل انڈسٹری فیڈریشن، نے کہا کہ آج چین خام تیل، ریفائن تیل اور قدرتی گیس کا دنیا سب سے زیادہ تیزی سے پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ 2016ء میں چین کی خام تیل پیداوار 200 ملین ٹن تھی، اور مقامی خام تیل پیداوار 2010ء سے مسلسل 6 سالوں تک 200 ملین ٹن سے زیادہ پر جمی رہی ہے۔ اس وقت چین کی خام تیل پیداوار دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے، جو دنیا کی کل خام تیل پیداوار کا لگ بھگ 4.7 فیصد ہے۔

ماہرین نے اشارہ کیا کہ چین کی توانائی تبدیلی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ توانائی ڈھانچے اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں ہماری توجہ توانائی ڈھانچے کی تکمیل اور قابل تجدید توانائی کے حصے کو بڑھانے پر رہنی چاہیے۔

چینگ سنلی، ایگزیکٹو صدر چائنا ایسوسی ایشن آف پالیسی سائنس، کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے اور قدرتی گیس کی درآمد کے لیے بحری جہازوں کی تعمیر کو تیز کرنا، مقامی قدرتی گیس کی تلاش اور ترقی کو مستحکم کرنا، خاص طور پر شیل گیس، بشمول آتش پذیر بحری برف کی تلاش اور ترقی، کوئلے سے قدرتی گیس اور کوئلے کے صاف اور موثر استعمال کو تیز کرنا اور بایوماس اور قابل تجدید توانائی کی ترقی اور استعمال کو تیز تر کرنا بہت ضروری تھا۔

چینگ سنلی نے کہا کہ “اورڈوس طاس میں کوئلے کی سالانہ پیداوار 900 ملین ٹن ہے۔ اگر ہم نسبتاً مستحکم کم درجہ حرارت کے پائرولسس طریقے کو استعمال کرکے کوئلے میں سے قدرتی گیس اور تیل کے ننھے مالیکیولز نکال سکیں، تو ہم ہر سال 100 ملین ٹن تیل اور قدرتی گیس فراہم کر سکتے ہیں، جو درآمد شدہ قدرتی گیس اور تیل کے قابل ذکر حصے کی جگہ لے سکتی ہے۔”

لین ہواجن، صدر اور سی ای او چانگ فینگ انرجی انکارپوریٹڈ نے اشارہ کیا کہ صنعتی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اقتصادی نمو کے طریقے کو تبدیل کرنے کی کلید بنیادی توانائی کو استعمال کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

لن ہواجن نے کہا کہ “نئی توانائی کی متحرک ترقی، توانائی محفوظ کرنے کی ٹیکنالوجی کی مسلسل بہتری، توانائی استعمال کی موثریت کو بہتر بنانا، توانائی استعمال ٹیکنالوجی اور رسد کی خدمات کا کاروباری  نمونہ، ساتھ ساتھ توانائی حفاظت اور اخراج میں کمی، یہ سب مل کر چین کی تیزی سے ہونے والی اقتصادی ترقی اور صنعتی جدت اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے طویل المیعاد تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔”

Alphanote, Japan-born Support Platform of Indie Music, Being Deployed in India

TOKYO, Dec. 11, 2017 /Kyodo JBN-AsiaNet/ — Alphanote, a unit of Senko Group Holdings Co., Ltd., launched in India on December 11 its innovative free music streaming platform to support independent musicians and to serve the growing demand for music in the region. The service
will be deployed in other countries in Asia, in Latin America and other parts of the world in the near future.

Website: https://alpha-connection.net/?lang=en

Alphanote is aiming to rejuvenate the music industry with its new free music stream platform, connecting music creators, listeners and fans with the best music experience. The unique combination of the latest technology and influencer-based marketing strategy is alphanote’s key advantage, effectively platforming the influencer model for the music industry for the first time.

The alphanote app available both on iOS and Android comes with many useful features such as features that bring monetary benefits to musicians like merchandise stores, event management and social tipping, or enrich their musical experience in any way. Also data collecting such GPS location tracking is an important feature which guarantees the quality of data and analytics.

“This Indian launch is part of alphanote’s strategy to develop new Indie music streaming services internationally,” said alphanote founder Kengo Senuma. “Alphanote will hold a Battle of the Bands at NMIMS in India. We will collaborate with NMIMS University and support young people who dream of succeeding as musicians. During this period, musicians who have registered their songs with alphanote and made their songs available on the platform will
be selected as finalists to compete in the final game on stage. The winner will be supported by alphanote in his/her future as a musician. In addition, alphanote is supporting India’s largest two-day multi-genre concert ‘Comio EVC Mumbai 2017’ introduced by Enchanted Valley Carnival. This effort will lead us to collaborations with India’s most wonderful Indie musicians and excite the Indie music scene.”

About alphanote
Alphanote connects musicians, music creators and fans globally with a free music distribution app like no other streaming business has succeeded, and creates an enough alternative revenue stream on top of this for musicians other than selling their music or their licenses including social tipping, selling concert tickets, selling merchandise and crowdfunding for various projects.

SOURCE: Senko Group Holdings Co., Ltd.

‫2017ء سانیا انرجی انٹرنیشنل فورم کی توجہ چین میں توانائی انقلاب پر

سانیا، چین، 9 دسمبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/– “ماحول دوست توانائی اور کم کاربن معیشت” کے موضوع پر 2017ء سانیا انرجی انٹرنیشنل فورم (ایس ای آئی ایف) 7 سے 8 دسمبر تک سانیا، ہائنان میں منعقد ہوا۔ فورم میں موجود ماہرین نے توقع ظاہر کی کہ چین کی توانائی صنعت مختلف توانائی وسائل کی نامیاتی تکمیل کے ساتھ ساتھ مکمل اور جامع توانائی وسائل کی تقسیم کو حاصل کرے گی۔

توانائی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے تقریباً 300 مقامی و غیر ملکی معروف ماہرین اور دانشور توانائی تبدیلی پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پیش بینی کی ہے کہ 2020ء تک چین کی توانائی طلب 5 ارب ٹن روایتی کوئلے تک پہنچ جائے گی اور 2035ء تک چین امریکا کوپیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا توانائي صارف بن جائے گا۔

لی شوشینگ، صدر چائنا پٹرولیم اینڈ کیمیکل انڈسٹری فیڈریشن، نے کہا کہ آج چین خام تیل، ریفائن تیل اور قدرتی گیس کا دنیا سب سے زیادہ تیزی سے پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ 2016ء میں چین کی خام تیل پیداوار 200 ملین ٹن تھی، اور مقامی خام تیل پیداوار 2010ء سے مسلسل 6 سالوں تک 200 ملین ٹن سے زیادہ پر جمی رہی ہے۔ اس وقت چین کی خام تیل پیداوار دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے، جو دنیا کی کل خام تیل پیداوار کا لگ بھگ 4.7 فیصد ہے۔

ماہرین نے اشارہ کیا کہ چین کی توانائی تبدیلی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ توانائی ڈھانچے اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں ہماری توجہ توانائی ڈھانچے کی تکمیل اور قابل تجدید توانائی کے حصے کو بڑھانے پر رہنی چاہیے۔

چینگ سنلی، ایگزیکٹو صدر چائنا ایسوسی ایشن آف پالیسی سائنس، کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے اور قدرتی گیس کی درآمد کے لیے بحری جہازوں کی تعمیر کو تیز کرنا، مقامی قدرتی گیس کی تلاش اور ترقی کو مستحکم کرنا، خاص طور پر شیل گیس، بشمول آتش پذیر بحری برف کی تلاش اور ترقی، کوئلے سے قدرتی گیس اور کوئلے کے صاف اور موثر استعمال کو تیز کرنا اور بایوماس اور قابل تجدید توانائی کی ترقی اور استعمال کو تیز تر کرنا بہت ضروری تھا۔

چینگ سنلی نے کہا کہ “اورڈوس طاس میں کوئلے کی سالانہ پیداوار 900 ملین ٹن ہے۔ اگر ہم نسبتاً مستحکم کم درجہ حرارت کے پائرولسس طریقے کو استعمال کرکے کوئلے میں سے قدرتی گیس اور تیل کے ننھے مالیکیولز نکال سکیں، تو ہم ہر سال 100 ملین ٹن تیل اور قدرتی گیس فراہم کر سکتے ہیں، جو درآمد شدہ قدرتی گیس اور تیل کے قابل ذکر حصے کی جگہ لے سکتی ہے۔”

لین ہواجن، صدر اور سی ای او چانگ فینگ انرجی انکارپوریٹڈ نے اشارہ کیا کہ صنعتی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اقتصادی نمو کے طریقے کو تبدیل کرنے کی کلید بنیادی توانائی کو استعمال کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

لن ہواجن نے کہا کہ “نئی توانائی کی متحرک ترقی، توانائی محفوظ کرنے کی ٹیکنالوجی کی مسلسل بہتری، توانائی استعمال کی موثریت کو بہتر بنانا، توانائی استعمال ٹیکنالوجی اور رسد کی خدمات کا کاروباری  نمونہ، ساتھ ساتھ توانائی حفاظت اور اخراج میں کمی، یہ سب مل کر چین کی تیزی سے ہونے والی اقتصادی ترقی اور صنعتی جدت اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے طویل المیعاد تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔”

China Touts Anti-Corruption Drive to Promote ‘Clean Corridor’ With Pakistan

ISLAMABAD China has stressed the need for Pakistan to guard against external interferences and prevent domestic disturbances for promoting the construction of massive infrastructure and energy projects under a multi-billion dollar bilateral economic corridor.

Visiting Chinese Assistant Minister of International Department Wang Yajun made the remarks Monday while briefing a large audience in Islamabad.

Under the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC), more than $62 billion in Chinese investment during the next 15 years will lead to building of a network of roads, rails, communications, special economic zones, and power plants in Pakistan.

The corridor aims to provide landlocked western China access to international markets through the southwestern Pakistani Arabian Sea port of Gwadar, while addressing Islamabad’s energy needs and economic development. Beijing considers CPEC as the flagship project of its global Belt and Road Initiative (BRI).

I want to express our strong conviction and determination to press ahead the CPEC to deliver more benefits to the people of Pakistan, vowed Yaun. He noted that completion of several power plants under the project has already effectively addressed Pakistan’s energy crisis.

Questions of transparency

Critics in Pakistan, however, complain about an unfair implementation of CPEC projects and a lack of transparency, saying the most populous province of Punjab is taking away a majority of power plants being installed along the corridor.

There are also concerns Chinese nationals and products will flood Pakistani markets, and undermine local industry and opportunities for laborers.

We want to build a CPEC that is a clean corridor, a corridor of integrity, emphasized Yaun, while responding to the criticism.

We should also guard against the interference from external forces and also prevent the domestic disturbances … to promote the CPEC construction, so that we can make CPEC a pathway of common development, a pathway of shared fruits and the shared future, noted the Chinese minister.

He touted China’s national anti-corruption campaign for making political life in the country more clean and transparent. Yaun noted that during the past five years, more than 75,000 Chinese officials have been punished for corruption, including 440 high-ranking officers at or above the vice minister levels.

Security threats

Pakistani officials allege recent rise in deadly militant attacks, particularly in sparsely populated largest province of Baluchistan, where Gwadar is situated, is being sponsored by rival India to subvert CPEC.

India denies the allegations, though it has openly raised objections to the corridor, saying it passes through the disputed Kashmir territory. Both Pakistan and China dismiss those objections.

Last week, China warned its citizens and organizations in Pakistan to keep a low profile, saying it has received intelligence reports of plans for imminent terror attacks targeting them.

Pakistan has also lately been under renewed pressure from the United States for allegedly harboring terrorist groups involved in attacks against neighboring countries.

Chinese Minister Yaun tried to ally fears security concerns might force Beijing to pull out from CPEC commitments. He insisted the collaboration has instead further cemented traditionally “all weather” strong and deep bilateral ties.

In China, we have a saying that we would rather give up the gold than giving up the friendship between China and Pakistan.

Pakistani Senator Mushahid Hussain, who heads a parliamentary committee on CPEC, told the seminar that all the infrastructure projects are being closely monitored and so far no evidence of corruption has been brought up.

There are 9,581 Chinese engineers, technicians and experts working on CPEC projects, and another 10,000 working on non-CPEC projects. There is no Chinese labor involved in these projects, Hussain said, noting labor prices in China are more than double those in Pakistan.

Since launching CPEC in 2013, China has invested $19 billion and 19 early harvest infrastructure projects plus the energy projects have either been completed or are in the process of completion.

They include expansion of Gwadar port that officials anticipate will become South Asia’s largest transit and transshipment facility within next five years, with an annual capacity of handling 13 million tons of cargo. It will be among the world’s top deep-water sea ports by by 2030 and will be capable of yearly handling up to 400-million tons of cargo.

Source: Voice of America

Moroccan King’s actions to defend Islam set modern model: Nigerian scholar

Fes City, Morocco (OIC-UNA) – The actions of Moroccan King Mohammed VI in defense of Islam have set a modern, realistic and effective model, according to Sheikh Sharif Ibrahim Saleh Al-Hosseini, head of Nigeria’s Supreme Council for Fatwa and Islamic Affairs.

Speaking on behalf of the African Ulema here at the opening of the regular session of Supreme Council of the Mohammed VI Foundation for African Ulema, Al-Hosseini applauded King Mohammed’s commendable services in defense of the Islamic Ummah.

These noble deeds can help leaders of different countries to fulfill their peoples’ aspirations for security, peace, stability, progress, and prosperity, he said. The Sovereign has not ceased to protect the foundations and pillars of Islam, to preserve its symbols and institutions and to create a positive environment for the Ulema, in order to help them carry out the missions assigned to them, he added.

Commenting the missions of the Mohammed VI Foundation for African Ulema, Sheikh Saleh mentioned the formation of ad-hoc committees and the opening of branches in some countries, in addition to a theoretical framework with a view to implementing the Foundation’s programs, Morocco World News reported.

According to him, the Foundation brings together African Ulema for better knowledge, communication, and cooperation. This will have a positive impact on the Islamic Ummah in all areas and in particular regarding security, peace, stability and sustainable development across the continent, he said.

For his part, Secretary General of the Supreme Council of Ulema, Mohammed Youssef, underlined in an address on behalf of the Moroccan Ulema, the King’s action in Africa as well as his commitment to building fruitful relations between different countries.

Highlighting Morocco’s attachment to its African origins, Youssef affirmed that the Moroccan Ulema are committed to sharing their experiences and working methods with African brothers. The regular session of the Supreme Council of the Mohammed VI Foundation for African Ulema is attended by 300 members of the Council representing 32 African countries.

Source: International Islamic News Agency

France Orders International Recall of Lactalis Baby Formula

PARIS France has ordered banned the sale and ordered a recall of several baby formula milk and baby food products made by French dairy giant Lactalis after the discovery of salmonella bacteria, consumer protection agency DGCCRF said in a statement.

The recall includes products for export, including to China, Taiwan, Pakistan, Afghanistan, Iraq, Morocco, Lebanon, Sudan, Romania, Serbia, Georgia, Greece, Haiti, Colombia and Peru.

Some were also destined for regional markets, including Africa and Asia.

The agency said that Lactalis, the world’s largest dairy company, had not managed contamination risk and has been ordered to conduct a product recall and halt the sale and export of several baby food products made at its Craon plant in western France since Feb. 15.

The recall follows 20 cases of salmonella infection of infants in France during early December, which had already prompted a limited recall of 12 Lactalis products.

This week five new cases were reported of infection with the “salmonella agona” bacteria. One of the infants had consumed a Lactalis product that had not been on the first recall list. The infants have now recovered, the agency said.

Lactalis spokesman Michel Nalet said on BFM Television that the products can be exchanged in pharmacies or supermarkets. He said that any salmonella bacteria would be killed by boiling the milk for two minutes.

A full list of the products concerned is available on the agency’s

Source: Voice of America