ہیلیاٹیک نے اپنے نامیاتی دہرے شمسی خلیے کے لیے 10.7 فیصد کی نئی عالمی ریکارڈ موثریت حاصل کر لی

ڈریسڈن، جرمنی، 8 مئی 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

نامیاتی شمسی فلموں کے شعبے میں ٹیکنالوجی رہنما ہیلیاٹیک جی ایم بی ایچ نامیاتی شمسی خلیات کے لیے نئے عالمی ریکارڈز قائم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادارے نے ایک مستند و آزاد ٹیسٹنگ تنصیب ایس جی ایس کو اپنے جدید ترین نامیاتی فوٹوولٹک (OPV) خلیات کو ناپنے کی مہم پر لگایا۔ اس مہم کے نتائج 1.1 سینٹی میٹر 2 پر 10.7 فیصد خلیے موثریت کے ساتھ او پی وی کے لیے ایک نئے عالمی ریکارڈ ہے۔ اس نے روایتی شمسی ٹیکنالوجیوں کے مقابلے میں او پی وی کی بہتر کم روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کارکردگی بھی پیش کی ہے۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120508/530988)

ہیلیاٹیک کی کامیابی کی کلید چھوٹے نامیاتی سالمے –اولیگومرز- کا خاندان ہے، جو اولم، جرمنی میں اس کی اپنی تجربہ گاہ میں تیار اور ترکیب دیے گئے ہیں۔ ہیلیاٹیک کے شریک بانی اور سی ٹی او ڈاکٹر مارٹن فیفر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ہیلیاٹیک دنیا کی واحد شمسی کمپنی ہے جو کم درجہ حرارت میں گھماؤ-در-گھماؤ ویکیوم عمل میں چھوٹے نامیاتی سالموں کی ڈی پوزیشن کو استعمال کرتا ہے۔ ہمارے شمسی دہرے خلیے  خالصیت اور یکسانیت کی نینومیٹر پتلی سطحوں سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں موثریت اور عرصہ حیات کو بہتر بنانے کے لیے خلیہ  ڈھانچے کی معماری کا موقع دیتاہے۔

ایس جی ایس کی ناپنے کی مہم میں روایتی تجرباتی صورتحال (STC) میں شمسی توانائی کی موثریت ماپنے کے ساتھ ساتھ کم روشنی اور 80 درجہ (درجے) سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں کارکردگی کو جانچنا بھی شامل تھا۔ تجربے کے نتائج نے نہ صرف 10.7 فیصد خلیہ  موثریت کے ساتھ او پی وی کے لیے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، بلکہ حقیقی زندگی کی صورتحال میں ہیلیاٹیک کے او پی وی خلیوں کی بہتر کارکردگی کو بھی نمایاں کیا۔

کم روشنی میں ناپنے کے نتائج نے ظاہر کیا کہ موثریت نہ صرف مستقل رہی، بلکہ اس میں بتدریج اضافہ بھی ہوا۔ 100 ڈبلیو/ایم اسکوائرڈ کی شعاع ریزی پر موثریت 1,000 ڈبلیو/ایم اسکوائرڈ پر ماپی گئی معیاری موثریت سے 15 فیصد زیادہ تھی۔ مزید برآں، انتہائی درجہ حرارت پر ماپنے نے بھی ظاہر کیا کہ موثریت مستقل رہتی ہے۔ روایتی شمسی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں یہ رویہ او پی وی ٹیکنالوجی کے لیے انوکھا ہے ، جس کی موثریت بڑھے ہوئے درجہ حرارت میں 15 سے 20 فیصد گر جاتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی فوائد حقیقی زندگی کے حالات میں زیادہ بہتر  پیداوار حاصل کرنے کو ممکن بناتی ہے۔ پہلے آؤٹ ڈور تجربات نے ظاہر کیا کہ ہیلیاٹیک کے نامیاتی شمسی خلیات کی پیداوار کرسٹلائن اور تھن فلم سولر سے 15 سے 25 فیصد زیادہ ہے۔

ہیلیا ٹیک کے سی ای او تھیباڈ لی سیگولون کہتے ہیں کہ “جب 2006ء میں ہیلیاٹیک کی بنیاد رکھی گئی تھی، تو موثریت کے لیے بلند حوصلہ سنگ میل کا ایک ٹیکنالوجی نقشہ راہ مرتب کیا گیا۔ کیمیا اور طبیعات میں ہماری تحقیقی ٹیموں کے درمیان قریبی تعاون کی بدولت اب ہم اگلے چند سالوں میں 15 فیصد موثریت حاصل کرنے کے راستے پر ہیں۔”

ہیلیاٹیک اب ڈریسڈن، جرمنی میں اپنی پہلی گھماؤ-در-گھماؤ ساخت گری لائن پر کام کر رہا  ہے جو 2012ء کی تیسری سہ ماہی میں پیداوار کا آغاز کرے گا۔ یہ نئی گھماؤ-در-گھماؤ 75 ایم ڈبلیو پی پروڈکٹ لائن کے لیے موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں سے 60 ملین یورو‍ز جمع کرنے کے لیے تیسرا سرمایہ کاری مرحلہ شروع کر چکا ہے۔

ہیلیاٹیک کے بارے میں: http://www.heliatek.com

ہیلیاٹیک ٹینیکل یونیورسٹی آف ڈریسڈن (IAPP) اور یونیورسٹی آف اولم کی جانب سے 2006ء میں شروع کیا گیا۔ ادارہ چھوٹے سالموں پر مبنی لچکدار نامیاتی فوٹووولٹکس (OPV) کے شعبے میں عالمی ٹیکنالوجی رہنما ہے۔ ہیلیاٹیک ڈریسڈن اور اولم میں تقریباً 75 ماہرین کے کل عملے کا حامل ہے۔ ہیلیاٹیک کے سرمایہ کاروں میں معروف صنعت کار اور مالیاتی ادارے جیسا کہ بی اے ایس ایف، بوش، آر ڈبلیو ای اور ویلنگٹن پارٹنرز شامل ہیں۔ تحقیق و پیشرفت اور ساتھ ساتھ پیداواری ٹیکنالوجی کو فری اسٹیٹ آف سیکسونی، بی ایم بی ایف (وفاقی وزارت تعلیم و تحقیق)، بی ایم ڈبلیو آئی (وفاقی وزارت اقتصادیات و ٹیکنالوجی) اور یورپی یونین کی سرمایہ کاری حاصل ہے۔

سوالات کے لیے رابطہ کیجیے:

نائیجل رابسن

ورٹیکس پی آر

ٹیلی فون +44-(0)1481-233080

nigel@vortexpr.com

تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120508/530988

ذریعہ: ہیلیاٹیک

Leave a Reply