ہائیر سلوگن مقابلہ

بیجنگ، 6 جون 2013ء/پی آرنیوزوائر–

رواں سال دنیا کے سب سے بڑے گھریلو مصنوعات فراہم کرنے والے ادارے ہائیر نے اپنی نیٹ ورک حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

یکم جون 2013ء کو ہائیر گروپ نے باضابطہ طور پر “لفظوں کی طاقت” (Power of Words) عالمی سلوگن مقابلے کا اجراء کیا۔ ہائیر عالمی صارفین سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہائیر برانڈ کے لیے ایک نعرہ یعنی سلوگن بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مقابلے کا پہلا مرحلہ چار کلیدی خطوں اور 20 سے زائد ممالک میں ایک ماہ کے لیے جاری رہے گا۔

ہائیر سمجھتا ہے کہ تجارتی نعرہ بیرونی رابطے کا مغز ہے۔ یہ کارپوریٹ کے برانڈ تاثر کا اظہار ہے اور اسے تجارتی اقدار کی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ سلوگن مقابلے کے لیے ایک عالمی سطح پر پھیلا ہوا 24 گھنٹے کا پلیٹ فارم مرتب کرتے ہوئے ہائیر انٹرنیٹ کے استعمال کو ایک لاسرحد اور لافاصلہ ماحول مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اپنے صارفین کے ساتھ شمولیت اختیار کر سکے اور انہیں بہتر طور پر سمجھ سکے۔

ہائیر چین کے صدر دفاتر کے مطابق ہر خطہ (چین، ایشیا بحر الکاہل، یورپ/مشرق وسطیٰ/افریقہ اور امریکین) اپنے سلوگن پر ملنے والے “لائیکس” کی تعداد کے حساب سے ایک علاقائی سلوگن سفیر منتخب کریں گے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے چار فاتحین کو رواں موسم گرما میں چنگ ڈاؤ، چین کی سیاحت کا موقع بھی دیا جائے گا، جس کی ادائیگی مکمل طور ہائیر کرے گا جبکہ وہ ہائیر انٹرنیشنل فورم میں شرکت کریں گے۔ چنگ ڈاؤ میں قیام کے دوران چاروں سفیر اپنے تجربات آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کریں گے تاکہ دنیا بھر میں پھیلے نیٹ شہریوں کی جانب سے “لائیکس” حاصل کر سکیں۔ گرینڈ انعام جیتنے والے کو ہائیر سلوگن عالمی سفیر کا تاج پہنایا جائے گا اور ہائیر کی گھریلو مصنوعات کا ایک سیٹ ملے گا۔

تقریباً 30 سال ہائیر گروپ کے قیام سے لے کر اب تک ہائیر نے خود کو صارف مرکزی کی حیثیت سے آراستہ کیا ہے۔ یہ صارف کی جانب سے تسلیم کرنا ہے کہ جس نے ہائیر کو دنیا کا سب سے بڑا عالمی اپلائنس برانڈ بنایا ہے، جو یورومانیٹر کے سروے کے مطابق چار مسلسل سالوں سے نمبر 1 ہے اور عالمی سطح پر 8.6 فیصد مارکیٹ حصہ رکھتا ہے۔

فی الوقت 100 سے زائد ممالک اور خطوں میں اپنی مصنوعات کی فروخت کے ساتھ ہائیر نے چینی کمپنیوں کے لیے عالمی مارکیٹ میں مواقع پیدا کیے۔

شرکت کے لیے:

پی سی: http://slogan.haier.com/en

وڈیو: http://www.youtube.com/watch?v=KCTcjd_aexA&feature=youtu.be

 ذریعہ: ہائیر

Leave a Reply