ڈاکٹر رونگ سیانگ سو: بنی نوع انسان عملی اعضاء بحالی سائنس کے نئے عہد میں داخل ہو رہے ہیں

– ڈاکٹرسو کی جانب سے بین الاقوامی گولڈن بیاٹیک 2013ء ایوارڈ وصول کرنے کی تقریب میں اعضاء کی بحالی کی سائنس پر تاریخی تقریر میں اعلان

لاس اینجلس، 29 اکتوبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/   –

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نے انفارمل اکنامک فورم (آئی ای ایف) اکنامک کلب کی جانب سے 24 اکتوبر 2013ء کو ہونے والی خصوصی تقریب میں گولڈن بیاٹیک 2013ء انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیا جہاں انہوں نے انسانی جسم کی پی آر سی تجدیدی زندگی کو کس طرح شروع کیا جائے اور عملی اعضا بحالی کی سائنس کے دور کے آغاز پر عمیق پریزنٹیشن پیش کی۔ ڈاکٹر سو نے مزید نشاندہی کی کہ اعضا بحالی کی سائنس صحت کی ضمانت پیش کرتی ہے اور انسانی زندگی کی سائنس میں بنیادی و عملی مطالبے کے لیے بہترین معیار ہے۔ ڈاکٹر سو اس سال کے انٹرنیشنل گولڈن بیاٹیک ایوارڈ کے واحد بین الاقوامی فاتح تھے اور انہیں “انسانی اعضاء کی بحالی اور زندگی بڑھانے کے سائنسی طریقے اور حل” کی ایجاد پرنوازا گیا تھا۔

انٹرنیشنل گولڈن بیاٹیک ایوارڈ معروف یورپی انعام ہے جو ان بین الاقوامی شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی معاشرے کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیا ہو۔ ماضی میں یہ اعزاز روسی صدرولادیمیر پیوتن، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، سابق صدر فرانس ژاک شیراک ، 1996ءکے نوبل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس اور دیگر بین الاقوامی رہنماؤں کو دیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر سو کو اعزاز ملنا ظاہر کرتا ہے کہ “عملی اعضاء بحالی سائنس” بنی نوع انسان کی صحت اور زندگی بڑھانے کی کوششوں میں سرفہرست ترجیح بن چکی ہے۔ اپنی پریزنٹیشن کے دوران، جس کا عنوان “اپنے جسم کی پی آر سی تجدیدی زندگی کا آغاز کریں” تھا، ڈاکٹر سو نے انسانی اعضاء کی بحالی کی سائنس کے اطلاق کے آنے والے عہد کا تفصیلاً جائزہ پیش کیا۔

تقریب اعزازات کے دوران ڈاکٹر سو نے چار سابق اور موجودہ امریکی صدور کی جانب سے اعلان کردہ سائنسی مقاصد کا جائزہ فراہم کرکے اپنی گفتگو کا آغاز کیا، ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نے انسانی اعضاء بحالی سائنس کے اطلاقی عہد میں داخلے کی اہمیت پر بات کی۔ انہوں نے آغاز کیا: سابق امریکی صدر نکسن نے 1971ء میں جینز کے استعمال سے سرطان پر فتح پانے کے عہد کا اظہار کیا تھا۔ یہ جستجو 21 مارچ 2013ء تک، درجنوں سالوں کی تحقیق و توثیق کے باوجود مکمل نہیں ہوئی۔ پروفیسر واٹسن، “بابائے جینیات”، نے اعلان کیا کہ جین تھراپی تحقیق کی کوئی اہمیت نہیں جس نے کئی لوگوں کی نظر میں جین اطلاق کے عہد کا خاتمہ کردیا۔ 1988ء تک چینی حکومت نے ڈاکٹر سو کی تجدیدی ٹیکنالوجی اور جلنے کے علاج (ایم ای بی ٹی/ایم ای بی او) کو منظور کرکے اسے عظیم قومی سائنسی و ٹیکنالوجی کامیابی کی فہرست میں نئی قومی دوا کی حیثیت سے شامل کرکے ان کی جلدی اعضاء کی بحالی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا شروع کیا۔

1990ء میں اس وقت کے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کی جلنے والی جلد کی بحالی کی ٹیکنالوجی کو تسلیم کیا اور امریکہ میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کے لیے ان سے درخواست کی۔ 2008ء میں صدر جارج ڈبلیو بش نے تحقیقی راستے “جسمانی خلیات کو جنینی اسٹیم خلیات میں تبدیل کرنے” کو امریکی پالیسی میں شامل کیا تاکہ ایک جنین میں سے اسٹیم خلیات کی پیداوار کے اخلاقی پہلوؤں سے بچا جا سکے۔ یہ طریقہ ڈاکٹر سو کے پیٹنٹ شدہ سائنسی طریقے “جسمانی خلیات کی اسٹیم خلیات میں تبدیلی اور عضویات بافتوں اور اعضاء کی ازسرنو تخلیق” کا طریقہ ہے۔

ڈاکٹر سو کے مطابق چند سائنسدان جو اصلی اسٹیم خلیات بنانے میں ناکام رہے، نے  جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات پر اصلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کا ٹھپہ لگایا، یوں فریب کارانہ طرز عمل اور گمراہ کن معلومات پھیلائیں جس نے جنینی اسٹیم خلیات کے تحقیقی عہد کو تباہ کرکے رکھ کردیا جو نام نہاد اسٹیم سیل تحقیق میں غلط چيز کے تجربے سے بش انتظامیہ کے دور میں پہلی بار شروع ہوئی۔ رواں سال امریکی صدر براک اوبامہ نے “زخمی اعضاء کی بحالی” کی ادویات پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کی ہے، یہ بھی ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کا پیٹنٹ شدہ اعضاء کی بحالی کا سائنسی طریقہ ہے۔ صدر اوبامہ نے امریکی حیاتی سائنسی ترقی کی توجہ انسانی بحالی کی سائنس کے اطلاق کے عہد کی جانب مبذول کرائی۔ دو سال قبل یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا (یو ایس سی)، امریکہ میں انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنس فار ہیومن ری جنریشن اور ری جووینیشن (آئی اے ایس ایچ آر آر) کی بنیاد ڈالی گئی تھی تاکہ انسانی اعضاء کی بحالی کی سائنس پر اعلیٰ تعلیم کو آگے بڑھانا شروع کیا جا سکے۔ سو کی اعضاء بحالی ٹیکنالوجیوں میں جلدی اعضاء کی بحالی کی عملی ٹیکنالوجی پہلے ہی 25 سالوں سے 73 ملکوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

تقریر میں ڈاکٹر سو نے اپنی سائنسی ایجادات اور انسانوں میں تجدیدی زندگی کی پیدائشی موجودگی – پی آر سی سیل اور اس کی کارگزاری پر روشنی ڈالی۔ اس میں 1984ء سے قبل جلدی اعضاء کی بحالی کے نتائج حاصل کرنے سے لے کر برمحل جلدی اعضاء کی بحالی کو سمجھنے، اور بالآخر انسانی جسم کے تمام اعضاء کی برمحل تجدیدی بحالی اور تجدید میں کامیابی کے موضوعات شامل رہے۔ انہوں نے حیاتیاتی کیمیائی اور نسیج میں دونوں طرح کر تجربات سے انسانی جسم کی پی آر سی تجدیدی زندگی کی کارگزاری کا مکمل مظاہرہ کیا اسٹیم خلیات میں پی آر سی کی منتقلی اور پھر بافتوں اور اعضاء میں تشکیل کی توثیق کی۔ انسانی جسم میں اعضاء اپنی احیائی بحالی اور تجدید پیدائشی پی آر سی تجدیدی کارگزاری کے ذریعے کرتے ہیں۔ جب تک پی تجدیدی کارگزاری کو متحرک کرنے کے لیے آر سی کو جگانے اور پروان چڑھانے کے لیے قدرتی غذائی ترکیب استعمال کی جاتی رہے ، انسانی جسم اعضاء کی احیائی بحالی اور تجدید کو ازخود حاصل کرسکتا ہے۔

پریزنٹیشن میں ڈاکٹر سو نے اعضاء کی احیائی بحالی اور تجدید کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پی آر سی کے استعمال سے انسانی جسم پر ظاہر ہونے والے کئی نتائج ظاہر کیے۔ انسان کے جلدی زخموں کو ازسرنو بافتہ سازی کے ذریعے بھرا جا سکتا ہے اور اسی طرح اعضاء کو بھی۔ انسانی جسم کے اندر موجود اعضاء بھی اپنی پی آر سی تجدیدی زندگی کو شروع کرکے احیائی بحالی و تجدید کو حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 4 سال تک بحالی کے بعد ایک شخص جس کی عمر 40 سے 50 سال ہو، وہ 5 سال کم عمر نظر آئے گا؛ 5 سال کی بحالی کے بعد 50 سے 60 سال کی عمر کا شخص حقیقی عمر سے 5 سال کم عمر لگے گا؛ 6 سال کی بحالی کے بعد 60 سے 70 سال کا فرد اپنی اصلی عمر میں سے 7 سال کم عمر لگے گا؛ 70 سے 80 سال کا شخص 6 سال کی بحالی کے بعد اپنی حقیقی عمر سے 12 سال کم عمر لگے گا؛ 80 سے 100 سال کی عمر کا شخص 7 سال کی بحالی کے بعد اپنی عمر سے 14 سال کم عمر لگے گا۔ انہوں نے تجدیدی انسداد-سرطان طریقے اور سرطان سے تحفظ کی ترکیب و ترتیب بھی ظاہر کی (2003ء میں سو کو امریکی پارٹی رہنما جناب انتھونی بوکو کی جانب سے مشرقی ساحلی علاقے کے انسداد سرطان کے ماہرین کے لیے “تجدیدی انسداد-سرطان” کے عنوان پر لیکچر کے لیے بلایا گیا تھا، 2004ء میں سو نے اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں انسداد سرطان کے طریقے کی تشریح کی۔ دونوں لیکچرز نے ماہرین میں کافی شہرت حاصل کی)۔ ڈاکٹر سو سرطان کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی دنیا کی تمام قوتوں سے متحد ہونے اور اس طریقے کی جلد از توثیق کرکے مریضوں کو چھٹکارہ دلانے کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر سو کے مطابق اگر انسانی جسم کی اپنی پی آر سی کی زندگی کو شروع کیا جائے تو لاعلاج امراض میں بڑے پیمانے پر کمی کی جا سکتی ہے، اور بنی نوع انسان کو زیادہ خوش اور صحت مند زندگی ملے گی۔ انسانی جسم کی توانائی غیر معمولی طور پر بڑھے گی اور انسانی زندگی کے دورانیہ میں بھی واضح اضافہ ہوگا۔ یوں بنی نوع انسان کی تقدیر پر پڑنے والے اثرات تو لامحدود ہوں گے۔ انسانی تجدیدی زندگی کی دنیا حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

دنیا بھر میں لوگوں کو اس ایجاد اور تخلیق سے فائدہ پہنچانے کے لیے ڈاکٹر سو عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنی اقوام کی فلاح کے لیے جلد از جلد ان کی زندگی بچانے والی ٹیکنالوجی کی توثیق کریں اور اسے استعمال میں لائیں۔ ڈاکٹر سو نے متعلقہ سائنسدانوں اور اعضاء کی بحالی میں دلچسپی رکھنے والے گروپوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اعضاء بحالی سائنس کے فروغ کے رحجان میں شامل ہوں، اگر ان کے پاس اعضاء تجدیدی سائنس سے بہتر کوئی ٹیکنالوجی نہیں تو انہیں صحت مند رہنے اور عمر کو بڑھانے کے لیے اعضاء بحالی سائنس کو لاگو کرنا چاہیے۔ “زندگی بچاؤ ٹیکنالوجیوں” کے نفاذ کے بین الاقوامی قانون کے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے ڈاکٹر سو نے اقوام متحدہ کو ان کی ایجاد اور تخلیق دینے کی پیشکش کی کہ وہ تمام قومی حکومتوں میں تقسیم کرے تاکہ وہ اپنے عوام کو فائدہ پہنچا سکیں۔ ڈاکٹر سو کا ہدف دنیا بھر کے افراد کے لیے تجدیدی زندگی سے لطف اٹھانا ممکن بنانے کے لیے قومی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے بارے میں:

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو “انسانی جسم کی تجدیدی بحالی کی سائنس” (ایچ بی آر آر ایس) کے موجد اور صدر اوباما کے 2013ء اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں سرفہرست ترجیح  یعنی خراب اعضاء کی تجدید کے سائنسی طریقے کے بانی اور پیٹنٹ یافتہ ہیں –ایسی ے پیٹنٹ ٹیکنالوجیکل طریقے کے بانی جو انسانی جسمانی خلیات کو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات میں تبدیل کرتے ہیں اور عضویاتی بافتوں اور اعضاء کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں، ساتھ ساتھ پوٹینشل ری جنریٹو سیل (پی آر سی) پیٹنٹ کے بانی ہیں۔

رابطہ:
جین ویسٹ گیٹ: 336-209-9276، Jane@westgatecom.com
چیرل ریلے: 703-683-1798، cherylrileypr@comcast.net

The post ڈاکٹر رونگ سیانگ سو: بنی نوع انسان عملی اعضاء بحالی سائنس کے نئے عہد میں داخل ہو رہے ہیں appeared first on AsiaNet-Pakistan.

Leave a Reply