پیباڈی انرجی:آسٹریلیا کی جانب سے کاربن ٹیکس کو منسوخ کرنا اس پالیسی کو مسترد کرتا ہے جو توانائی کو نایاب اور مہنگا بناتی ہے

سینٹ لوئس، 17 جولائی 2014ء/پی آرنیوزوائر — پیباڈی انرجی (این وائی ایس ای: BTU) نے آج آسٹریلیا کی پارلیمان اور وزیراعظم کے کاربن ٹیکس کو منسوخ کرنے کے اقدامات کو سراہا ہے، جو بجلی پر آنے والے مہنگے اخراجات اور معیشت کو نقصان کے ذریعے صارفین کو متاثر کررہا تھا۔

پیباڈی انرجی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گریگری ایچ بوائس نے کہا کہ “آسٹریلیا کی حکومت کاکاربن ٹیکس کو منسوخ کرنا جدید دنیا کی قیادت کے لیے ایک سبق ہے۔ ہم امریکی پالیسی سازوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ اسی نقش قدم پر چلے اور بجلی گھروں پر انتظامیہ کے مہنگے مجوزہ قواعد کو مسترد کر ے۔  پابندیاں اور محصولات نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کاربن اخراج میں طویل المیعاد بہتری کی کلید ہے۔”

کاربن ٹیکس کو واپس لیتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ “آج وہ ٹیکس جس کے خاتمے کے لیے آپ نے ووٹ دیا تھا بالآخر ختم ہوا۔ ایک غیر ضروری و تباہ کن ٹیکس جس نے روزگار کو نقصان پہنچایا، جس نے خاندانوں کے مصارف زندگی کو ٹھیس پہنچائی اور جس نے ماحولیات کو درحقیقت کوئی مدد نہ دی بالآخر ختم کردیا گیا۔” حکومت نے اندازہ لگایا کہ یہ منسوخی خاندانوں کو سالانہ 550 آسٹریلین ڈالرز کی بچت دے گی۔

آسٹریلیا نے کاربن ٹیکس کی منسوخی کے اختیار کے ساتھ گزشتہ سال ایک نئی حکومت کو منتخب کیا، جس نے حکومتی اندازوں کے مطابق نفاذ کے ابتدائی دو سالوں میں معیشت پر اندازاً 15 بلین ڈالرز کے اثرات ڈالے۔

اقوام کاربن کی سخت قانون سازی اور قابل تجدید احکامات سے دست کش ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہیہیں جو توانائی عدم برابری میں اضافہ ، بجلی کے اخراجات کو بڑھاوا اور اقتصادی ترقی کو گھٹا رہی ہیں۔ یورپ کی قابل تجدید منصوبہ بندی کو کم کردیا گیا ہے، براعظم روس کے توانائی سیکورٹی چیلنج کے خطرے میں ہے، جاپان جیسی اقوام زیادہ کوئلہ استعمال کررہی ہیں اور اقتصادی ترقی میں دنیا کی قیادت کرنے والے متعدد ممالک کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی استعمال کررہے ہیں۔

پیباڈی یقین رکھتا ہےکہ امریکی رہنما حقیقی کاربن محصولات اور سخت قابل تجدید معیارات کو مسترد کرنے میں کارآمد اسباق سے سیکھ سکتا ہے۔ امریکی ایوان صنعت اندازہ لگاتا ہے کہ انتظامیہ کے مجوزہ کاربن قواعد معیشت پر سالانہ 50 بلین ڈالرز لاگت آئے گی۔

مجوزہ قواعد بجلی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کریں گے، جو وقت کے ساتھ ساتھ امریکی گھرانوں پر ہزاروں ڈالرز کا بوجھ ڈالیں گے۔ ہیریٹج فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ چار افراد کے اوسط خاندان کے لیے اخراجات کم آمدنی اور قوت خرچ کے 1,200 ڈالرز سالانہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں کم خرچ بجلی ضروری ہے جب ریکارڈ 115 ملین امریکی توانائی مدد کے اہل قرار پائے ہیں اور 48 ملین توانائی غربت میں رہ رہے ہیں۔

کوئلہ امریکہ میں سب سے کم خرچ بجلی کو ایندھن  فراہم کرتا ہے۔ کوئلہ استعمال نہ کرنے والی ریاستیں بجلی کے اخراجات سے جدوجہد کررہے ہیں جو زیادہ تر کوئلہ استعمال کرنے والی ریاستوں سے تقریباً دوگنے ہیں۔ کوئلہ دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا اہم ایندھن ہے اور آنے والے سالوں میں دنیا کے سب سے بڑے توانائی وسیلے کی حیثیت سے تیل کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔

پیباڈی انرجی نجی شعبے کا کوئلے کا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور ماحول دوست کان کنی، توانائی رسائی اور صاف کوئلہ حلوں میں عالمی رہنما  ہے۔ مزید معلومات کے لیے PeabodyEnergy.com اور AdvancedEnergyForLife.com ملاحظہ کیجیے۔

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120724/CG44353LOGO

رابطہ:
بیتھ سٹن
1-928-699-8243+

The post پیباڈی انرجی:آسٹریلیا کی جانب سے کاربن ٹیکس کو منسوخ کرنا اس پالیسی کو مسترد کرتا ہے جو توانائی کو نایاب اور مہنگا بناتی ہے appeared first on Business News Pakistan.

The post پیباڈی انرجی:آسٹریلیا کی جانب سے کاربن ٹیکس کو منسوخ کرنا اس پالیسی کو مسترد کرتا ہے جو توانائی کو نایاب اور مہنگا بناتی ہے appeared first on AsiaNet-Pakistan.

Leave a Reply