مضامین کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی جامعاتی درجہ بندی اضافی عالمی مسابقت کو ظاہر کرتی ہے

لندن، 29 جون 2012ء/پی آرنیوزوائر–

براہ راست: http://www.topuniversities.com

اپنی طرز کی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی درجہ بندی 2012ء کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بمطابق مضامین نے مستحکم عالمی نظام مراتب میں متعدد نئے چیلنجرز کو ظاہر کیا ہے۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120528/533559)

محیط 29 شالہ جات میں سے 11 میں ایم آئی ٹی اور ہارورڈ، آکسفرڈ (3)، اسٹین فرڈ (3) اور کیمبرج (1) سے آگے،  سرفہرست رہے۔ لیکن یہ روایتی امریکہ-برطانیہ اشرافیہ سے باہر جامعات کی کارکردگی ہے جو درجہ بندی کا مرکزی نقطہ فراہم کرتی ہے۔

پانچ براعظموں پر پھیلے 17 مختلف ممالک کی جامعات نے کم از کم ایک شعبے میں سرفہرست 20 میں جگہ پائی ہے: امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، اطالیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، آئرلینڈ، سویڈن، چین، سنگاپور، ہانگ کانگ، کوریا، جاپان اور برازیل۔

ایشیا انجینئرنگ، ریاضی، کیمیا اور میٹریل سائنسز کے شعبے میں تقریباً ایک چوتھائی معروف اداروں کا حامل ہے۔  یونیورسٹی آف ٹوکیو سول انجینئرنگ میں دوسرے درجے پر ہے، جبکہ نیشنل یونیورسٹی سنگاپور، پیکنگ یونیورسٹی، ہانگ کانگ یونیورسٹی اور کیوٹو یونیورسٹی نے کم از کم ایک شعبے میں سرفہرست دس میں جگہ پائی ہے۔

کیو ایس کے سربراہ تحقیق بین سوٹر کہتے ہیں کہ “تحقیقی گنجائش کو بنانے اور بین الاقوامی باصلاحیت افراد کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے عالمی مسابقین موجودہ نظام کو ازسرنو منظم کرنا چاہ رہے ہیں۔ مالیاتی بحران نے امریکہ اور برطانیہ میں معروف جامعات کی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے کہ وہ عالمی معیار کے محققین اور طلبہ پر اجارہ داری رکھیں۔”

براعظم یورپ کا معروف ادارہ ای ٹی ایچ زیورخ، کیمیائی انجینئرنگ میں چوتھے درجے پر ہے۔ جرمنی کی ایکسی لینس انیشی ایٹو کے ذریعے بڑھتی ہوئی تحقیقی فنڈنگ کا عکس سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مستحکم کارکردگی کے ذریعے ظاہر ہوا ہے، جس میں لڈوگ-میکسی ملینز- یونیورسٹیٹ میونخن طبیعات میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

جان او لیئری نے کہا کہ “ایشیا، آسٹریلیشیا اور مغربی یورپ کے ممالک میں جدت طرازی کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، بی آر آئی سی اقوام نے اقتصادی ترقی کے اپنے منصوبوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کو خصوصاً مرکزی حیثیت دی ہے۔”

انجینئرنگ کے لیے سرفہرست 30 میں پہلی بار دو بھارتی اداروں نے جگہ پائی ہے، جبکہ چین نے 17 شعبہ جات میں سرفہرست 30 درجے پا کر اپنی قوت کا اظہار کیا ہے۔ برازیل کا ظہور یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے چھ شعبہ جات میں سرفہرست 50 درجے حاصل کرنے سے ظاہرہوا۔

آسٹریلیا کی جامعات نے 11 مضامین میں سرفہرست دس میں جگہ پائی ہے، جبکہ ٹورنٹو یونیورسٹی کینیڈا کا سرفہرست ادارہ قرار پایا، جس نے سرفہرست دس میں پانچ درجے پائے۔ 12 برطانوی اداروں نے 29 مضامین میں کم از کم ایک میں سرفہرست 20 میں جگہ پائی، گو کہ ان میں نے صرف تین جامعات نے سائنس یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔

کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بمطابق مضامین تحقیقی حوالہ جات کے ساتھ ساتھ تقریباً 50 ہزار ماہرین تعلیم اور گریجویٹ ملازمین کے عالمی سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120528/533559

ذریعہ: کیو ایس کویک کویریلی سائمنڈز

Leave a Reply