مائیکل ورنر کا پیرس کے لیے اہم تحفہ

پیرس، 4 جون 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

عظیم آرٹ ڈيلر اور کلکٹر مائیکل ورنر نے موسے دے آرٹ مادرن دے لا ویلے دے پیرس کو اپنی کلیکشن میں سے 130 فن پاروں کا عظیم تحفہ دیا ہے۔ اس غیر معمولی تحفے کے جشن کے لیے 5 اکتوبر 2012ء سے 3 مارچ 2013ء تک عجائب گھر میں ان کی کلیکشن کے فن پاروں کی نمائش کی جائےگی۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120604/537276)

مائیکل ورنر کےعطیات میں مارسیل برڈتھائیرز، جیمز لی بائیرز، گاسٹن چیزک، آندرے ڈیرین، اوٹو فرونڈلک، ایتینے-مارٹن، رابرٹ فلو، انتونیس ہوکل مان، یورگ ایمن دورف، پیر کرکبی، ول ہیم لیم بروک، مارکوس لوپرتز، اے آر پینک، برنارڈ ریکوئشوٹ، نیلے تورونی اور ڈان وان ولیت شامل ہیں۔

تحفہ ان فن کاروں کے متعدد کامو ں پر مشتمل ہے جنہیں مائیکل ورنر نے سالوں میں پیش کیا، اور ساتھ ساتھ لیم بروک، فریودلک، ڈیرین اور دیگر جیسے فن کاروں کے جدید کام کا بھی۔ عطیہ کا بیشتر حصہ عجائب گھر کے ڈائریکٹر فیبریس ہرگوٹ کی جانب سے منتخب کیا گیا جنہوں نے ان مصوروں اور فن پاروں کی فہرست مرتب کی جن کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ وہ عجائب گھر کے بارے میں اہم ہوں گے۔

موسم خزاں میں برلن، کولون، نیو یارک اور لندن میں بھی گیلریوں کی جانب سے پیش کردہ مائیکل ورنر دنیا کے موثر ترین گیلرسٹس میں سے ایک ہیں اور 20 ویں صدی کے چند معروف مصوروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ جورگ بیس لٹز، مارکوس لیوپرتز، یورگ ایمن دورف  اور سگمار پولکے جیسے مصوروں کی مدد سے انہوں نے بعد-از-جنگ کی جرمن مصوری کے لیے بین الاقوامی سطح پر داد و تحسین سمیٹنے میں مدد فراہم کی۔ 60ء کی دہائی سےترقی پاتی ہوئی ان کی کلیکشن 50 سے زائد سالوں سے ان کی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دیتی ہے۔

خود کو “قدامت پسند نراجی” کہنے والے مائیکل ورنر نے اپنی پہلی گیلری، ورنر اینڈ کاتز، 1963ء میں برلن میں کھولی جہاں پہلی نمائش جارج بیس لتز کی تصاویر کی ہوئی۔ انہوں نے 1967ء میں کولون اور 1990ء میں نیو یارک میں گیلری کھولی۔ ورنر نے بعد-از-جنگ کے چند اہم ترین مصوروں کی پورے کیریئر کے دوران تربیت کی جن میں جارج بیس لتز، مارسیل برڈتھائیرز، جیمز لی بیارز، یورگ ایمن دورف، مارکوس لیوپرتز، پیر کرک بی، اے آر پینک اور سگمار پولکے شامل ہیں۔

پچاس سے زائد سالوں میں یکساں مصوروں کی مستقل حمایت کا واحدبلند نظر وژن انہیں اپنے دیگر ہم عصروں سے مختلف کرتا ہے اور آرٹ کی دنیا میں ایک بے مثال شخصیت بناتا ہے۔ ورنر کے انوکھے پن کو ان کے مصوری کی تاریخی دلچسپیوں کی وسعت سے مزید تقویت ملتی  ہے جن میں صرف وہی مصور ہی شامل نہیں جن کا کیریئر انہوں نے شروع کیا جیسا کہ جین آرپ، جین فاتریئر، ارنسٹ لڈوِگ کرچنر، یویس کلائن، پیرو منزونی، فرانسس پیکابیا، کرت شویٹرز، جن تمام کے کام گیلری میں پیش کیے گئے۔ بطور گیلرسٹ اپنی مختلف دلچسپیوں کے ساتھ ایک کلکٹر کی حیثیت سے ورنر کی کلیکشن میں افریقی قبائل کا آرٹ، اٹھارہویں صدی کا جرمن اور فرانسیسی فرنیچر، خمر آرٹ، اور اولڈ ماسٹر ڈرائنگز شامل ہیں۔

اپنے عطیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مائیکل ورنر نے کہا کہ “بنیادی طور پر یہ ایک جذباتی فیصلہ ہے۔ میں نے اپنے کیریئر کے بالکل ابتدائی مرحلے میں اس عجائب گھر کا دورہ کیا تھا جس نے آرٹ سے میرے تعلق اور سمجھ کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ 1962ء میں جورگ بیس لٹز اور میں نے عجائب گھر میں جین فاتریئر کی ایک نمائش دیکھنے کے لیے پیرس کا دورہ کیا ہے اور اس نے مجھ پر سنجیدہ جذباتی اثر مرتب کیا۔ یہ نمائش عجیب و غریب اور غیر معمولی مصوری کے فن پاروں سے بھری پڑی تھی اور اس کا ماحول گھیر لینے والا تھا اور میں بہت زیادہ متحرک ہو گیا۔ گو کہ میں اس وقت چند سالوں سے گیلری میں کام کر رہا تھا، لیکن اس وقت تک مصوری نے میرے اندرونی احساس کو نہیں چھوا تھا۔ اس نمائش کا اثر آرٹ کی دنیا میں میری حقیقت آمد کا سبب بنا ہے اور اس نے میری راہ کا تعین کیا۔ میں ایک مذہبی آدمی نہیں ہوں لیکن یہ معاملہ مذہب کی تبدیلی جیسا تھا۔”

موسے دے آرٹ مادرن دے لا ویلے کے ڈائریکٹر فیبریس ہرگوٹ نے کہا کہ “مائیکل ورنر کا تحفہ 1953ء میں مورس جیرارڈن کی جانب سے چھوڑے گئے ورثے، جس نے ادارے کی تخلیق کی راہ ہموار کی،  کے بعد سے عجائب گھر کی کلیکشن میں سب سے اہم اضافہ ہے۔”

مائیکل ورنر اکتوبر 2012ء میں پیٹر ڈوئیگ کے نئے کام کے ساتھ لندن میں نئی گیلری کھولیں گے۔

ذرائع ابلاغ سوالات کے لیے:

ایریکا بولٹن

بولٹن اینڈ کوئین لمیٹڈ

موبائل: +44(0)7711-698-186

ای میل: erica@boltonquinn.com

مواد اوہانا

موسے دے آرٹ مادرن دے لا ویلے دے پیرس

ٹیلی فون: +33-1-53-67-40-51

ای میل: maud.ohana@paris.fr

رویا ناصر

رویا ناصر کمیونی کیشن

موبائل: +33(0)6-24-97-72-29

ای میل: rn@royanasser.com

تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120604/537276

ذریعہ: موسے دے لا ویلے دے پیرس

Leave a Reply