فلپ مورس ایشیا نے سادہ پیکیجنگ کے معاملے پر حکومت آسٹریلیا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

AsiaNet 47399

ہانگ کانگ، 21 نومبر/میڈیا نیٹ انٹرنیشنل-ایشیانیٹ/

فلپ مورس ایشیا لمیٹڈ (پی ایم اے)، ہانگ کانگ، جو آسٹریلیا کے ملحقہ ادارے فلپ مورس لمیٹڈ کا مالک ہے، نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے ہانگ کانگ کے ساتھ آسٹریلیا کے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے تحت ثالثی کا نوٹس پیش کر کے آسٹریلوی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ ثالثی کا یہ نوٹس آسٹریلیا کی پارلیمان کی جانب سے تمباکو کی مصنوعات کی سادہ پیکنگ کی قانون سازی کو قبول کیے جانے فوراً بعد حکومت کے خلاف جاری کیا گیا۔

آج کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ایم اے ترجمان اینے ایڈورڈز نے کہا کہ “ہمارے پاس کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔ حکومت نے اس قانون کو منظور کیا، اس بات کا عملی مظاہرہ کیے بغیر کہ یہ تمباکو نوشی کی کمی میں موثر ہوگا اور سادہ پیکیجنگ ک حوالے سے آسٹریلیا اور بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے سنجیدہ قانونی مسائل کو بھی نظر انداز کیا۔”

پی ایم اے اس قانون سازی کو معطل کرنے اور سادہ پیکیجنگ کے نتیجے میں ادارے کے کارآمد ٹریڈ مارکس اور آسٹریلیا میں سرمایہ کاری کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کا خواہاں ہے ۔ ادارہ کئی بلین ڈالرز کے نقصانات کی تلافی کی توقع رکھتا ہے اور یہ کہ قانونی کارروائی میں 2 سے 3 سال لگیں گے۔

اینے ایڈورڈز نے کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ ہمارے قانونی دلائل بہت مضبوط ہیں اور ہم بالآخر یہ مقدمہ جیت لیں گے۔”

پی ایم ایل آسٹریلیا کی عدالت عالیہ کے سامنے مقامی قانون کے تحت بھی اپنے دعووں کی پیروی کا ارادہ رکھتا ہے۔

پس منظر

سادہ پیکیجنگ کی بین الاقوامی مخالفت

تقریباً 60 بین الاقوامی کاروباری ادارے، ملکیت دانش کے گروپ اور غیر ملکی حکومتوں نے آسٹریلوی حکومت کی جانب سے سادہ پیکیجنگ کو قانونی حیثیت دینے، آسٹریلیا کی تجارت اورملکیت دانش کے معاہدوں کی ذمہ داریوں سے ناموافقت اور اس امر کی  شہادتوں کی کمی یہ پالیسی تمباکو نوشی کو کم کرے گی، پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسے ہی مسائل کا حوالہ دیگر ممالک نے دیا ہے جنہوں نے سادہ پیکیجنگ پر غور اور اسے مسترد کیا ہے۔

سادہ پیکیجنگ کے ساتھ مقامی مسائل

سادہ پیکیجنگ کی پہلی بار تجویز دیے جانے کے بعد سے آسٹریلیا بھر میں قانونی و ملکیت دانش کے گروپوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری مالکان اور آپریٹرز نے سادہ پیکیجنگ کی مخالفت میں آواز بلند کی اور استدلال کیا کہ یہ متعدد منفی نتائج کا سبب بنے گی۔ اس میں سادہ پیکیجنگ کی ناجوازی، بڑھتی ہوئی جعل سازی اور کمتر صارفی سروس، اسٹاک مینجمنٹ اور غیر قانونی آپریٹرز کے ہاتھوں فروخت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سادہ پیکیجنگ کے چھوٹے کاروباروں پر پڑنے والا بوجھ شامل ہیں۔

سادہ پیکیجنگ آسٹریلیا میں پی ایم اے کے کاروبار پر کیوں اثر ڈالے گی

پی ایم اے 1954ء سے آسٹریلیا میں سگریٹیں بنانے اور فروخت کرنے والے پی ایم ایل کا مالک ہے۔ اس عرصے کے دوران پی ایم ایل نے ایک معروف، حتیٰ کہ مثالی، برانڈو تشکیل دیے جیسا کہ مارلبورو، الپائن، لانگ بیچ، پیٹر جیکسن، چوائس اور جی ٹی۔ سادہ پیکیجنگ تمباکو کی مصنوعات کو کموڈٹی میں تبدیل کر دے گی، اور پی ایم ایل سے اپنی مصنوعات کو حریف اداروں کے برانڈز سے مختلف کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دے گی اور یوں آسٹریلیا میں پی ایم اے کی سرمایہ کاری کی قدر کو گھٹا دے گی۔

آسٹریلیا –ہانگ دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ (BIT)

یہ معاہدہ 1993ء میں ہانگ کانگ اور آسٹریلیا کی حکومتوں کے درمیان طے پایا تھا اور اس کا مقصد ایک دوسرے کے ملکوں میں سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاریوں کو باہمی تحفظ دے کر بہتر سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے موزوں ماحول تخلیق کرنا تھا۔

آسٹریلیا سادہ پیکیجنگ کے ذریعے بی آئی ٹی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے:

* زر تلافی کے بغیر پی ایم اے کی آسٹریلیا میں سرمایہ کاری کو غیر قانونی طور  کو غصب کرنے کے برابر ہے  (شق 6(1))

* آسٹریلیا میں پی ایم اے کی سرمایہ کاری سے مناسب اور غیر جانبدارانہ برتاؤ میں ناکامی (شق 2(2))

* آسٹریلیا میں پی ایم اے کی سرمایہ کاری کو نامناسب انداز میں گھٹاتا ہے (شق 2(2))

* آسٹریلیا میں پی ایم اے کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ و حفاظت دینے میں ناکامی (شق 2(2))

* پی ایم اے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے حقوق ملکیت دانش کے تجارت متعلقہ پہلوؤں پو معاہدوں (TRIPS)، پیرس کنونش برائے تحفظِ صنعتی ملکیب اور تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں پر ڈبلیو ٹی او معاہدے (TBT) کی آسٹریلیا کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی (شق 2(2))

اب تک اٹھائے گئے اقدامات

27 جون کو پی ایم اے نے حکومت کو مطلع کیا کہ اگر آسٹریلیا نے سادہ پیکیجنگ کی قانونی سازی منظور کی تو وہ آسٹریلیا کے ہانگ کانگ کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری کے معاہدے کے تحت قانونی کارروائی کرے گا۔ اس حوالے سے بی آئی ٹی  کے شرائط و ضوابط کے مطابق یہ نوٹس پی ایم اے اور حکومت آسٹریلیا کے درمیان سہ ماہی لازمی مذاکراتی دور کے آغاز کا سبب بنا۔ قانون کی منظوری کے ساتھ یہ واضح ہے کہ پی ایم اے اس دوران حکومت کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے قابل نہیں تھا۔ آج حکومت آسٹریلیا کے سامنے پیش کردہ نوٹس نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی تجارتی قوانین 2010ء کے ثالثی قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ پی ایم اے ثالثی کے لیے سنگاپور کے بطور مقام اور ساتھ ہی دی ہیگ میں واقع مستقل عدالت برائے ثالثی کے سیکرٹری جنرل کو مقررہ مجاز بنانے کی تجویز پیش کرتا ہے۔

فلپ مورس انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ (پی ایم آئی) کے بارے میں

فلپ مورس انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ (پی ایم آئی) ایک  معروف بین الاقوامی تمباکو کمپنی ہے، جس کے پاس دنیا کے سرفہرست 15 میں سے سات برانڈز ہیں جن میں دنیا کی نمبر ایک سگریٹ برانڈ مارلبورو بھی شامل ہے۔ پی ایم آئی کی مصنوعات تقریباً 180 ممالک میں فروخت کی جاتی ہیں۔ 2010ء میں ادارے نے امریکہ سے باہر بین الاقوامی سطح پر سگریٹ کی کل مارکیٹ کا تقریباً 16.0 فیصد حاصل کیے رکھا، یا عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے نکال دیں تو 27.6 فیصد۔ مزید معلومات کے لیے دیکھئے www.pmi.com۔

فلپ مورس ایشیا لمیٹڈ (پی ایم اے) کے بارے میں

فلپ مورس ایشیا لمیٹڈ (پی ایم اے) ایشیا کے خطے میں پی ایم آئی کا کاروبار چلاتا ہے۔ پی ایم اے ہانگ کانگ میں واقع ہے جہاں ادارہ ہانگ کانگ کمپنیز آرڈیننس 1994ء کے تحت ادارے کی حیثیت سے تشکیل یافتہ ہے۔ پی ایم اے آسٹریلیا کے ملحقہ ادارے فلپ مورس لمیٹڈ (پی ایم ایل) کا مالک ہے۔

فلپ مورس لمیٹڈ (پی ایم ایل) کے بارے میں

فلپ مورس لمیٹڈ (پی ایم ایل) نے آسٹریلیا میں اپنے کاروبار کا آغاز 1954ء میں کیا اور 800 سے زائد ملازمین کا حامل ہے۔ ملبورن میں واقع ادارہ معروف برانڈز تیار اور فروخت کرتا ہے جن میں مارلبورو، الپائن، لانگ بیچ، پیٹر جیکسن، چوائس اور جی ٹی شامل ہیں۔ پی ایم ایل آسٹریلیا کی سگریٹ مارکیٹ کے اندازاً 37.5 فیصد حصے پر قابض ہے۔

رابطہ:

آسٹریلیا میں سوالات کے لیے

کرس ارجنٹ

فلپ مورس لمیٹڈ

ٹیلی فون نمبر: +61 3 8531 1054

caa@pmi.com

بین الاقوامی سوالات کے لیے

اینے ایڈورڈز

فلپ مورس انٹرنیشنل

لوزان، سوئٹزرلینڈ (مشرقی یورپ وقت (جی ایم ٹی +1))

ٹیلی فون نمبر: +41 (0)58 242 45 00

media@pmi.com

ذریعہ: فلپ مورس ایشیا لمیٹڈ

Leave a Reply