جے اے سولر ملٹی-سی شمسی سیلوں نے 20 فیصد تبدیلی موثریت حاصل کرلی

شنگھائی، 26 ستمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر — شمسی توانائی سے چلنے والی اعلیٰ کارکردگی کی حامل مصنوعات تیار کرنے والے دنیا کے بڑے اداروں میں سے ایک جےاے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) (“جے اے سولر” یا “ادارہ”) نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے ملٹی-کرسٹلائن سلیکیون (“ملٹی-سی”) شمسی سیل میں 20 فیصد شمسی توانائی تبدیلی موثریت حاصل کرلی ہے۔ روشنی پھانسنے اور سطح کو محفوظ بنانے کی اپنی جدید ملکیتی ٹیکنالوجیوں کے ذریعے جے اے سولر کی تحقیقی ٹیم نے اپنے ملٹی-سی سیلوں میں 19 فیصد موثریت کے ادراک کے اعلان کے صرف نو ماہ تبدیلی موثریت میں یہ مکمل 1 فیصد اضافہ پایا ہے۔

جناب یونگ لیو، چیف آپریٹنگ آفیسر جے اے سولر، نے کہا کہ “جے اے سولر نے ملٹی-سی سیلوں کی موثریت کے لیے 20 فیصد کی رکاوٹ عبور کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی جے اے سولر کی پی وی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانےکی بے مثال صلاحیت کو ایک مرتبہ پھر ظاہر کرتی ہے، اور بجلی کی پیداوار میں اضافے اور تنصیب کے اخراجات کو کم کرکے ہمارے صارفین کے لیے قدر میں اضافہ کرتی ہے۔”

چیف سائنسدان اور جنرل آر اینڈ ڈی مینیجر ڈاکٹر وی شان نے کہا کہ “ہمارے ملٹی-سی شمسی سیلوں کی جانب سے مسلسل ریکارڈ توڑ نتائج ہماری آر اینڈ ڈی ٹیم کے لیے عظیم کامیابی ہیں۔ لیکن ابھی ہم نے صرف شروعات کی ہے۔ 20 فیصد موثریت کو عبور کرنے میں رواں سال ہمارا اعتماد اب یقین میں تبدیل ہورہا ہے اور ہم آئندہ سہ ماہی میں مزید موثریت کو یقینی بنانے کی امید رکھتے ہیں۔ مزید برآں، ان اعلیٰ  کارکردگی دکھانے والوں سیلوں کی بطور بنیاد موجودگی کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں ماڈیول سطح پر کارکردگی کے نئے ریکارڈز بنائیں گے۔”

جے اے سولر اپنی نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئےملٹی-سی سیلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور اور اپنے نئےانتہائیموثرملٹی-سی سیلوں کو 2015ء میں کمرشل ماڈیول تیاریوں میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ
86-21-60955888+ / 60955999
sales@jasolar.com؛ market@jasolar.com

The post جے اے سولر ملٹی-سی شمسی سیلوں نے 20 فیصد تبدیلی موثریت حاصل کرلی appeared first on Business News Pakistan.

The post جے اے سولر ملٹی-سی شمسی سیلوں نے 20 فیصد تبدیلی موثریت حاصل کرلی appeared first on AsiaNet-Pakistan.

Leave a Reply