برازیل کے صدر نے پرتشدد جرائم کے حل اور ان سے تحفظ کے لیے بنائے گئے تاریخی ڈی این اے ڈیٹابیس قانون پر دستخط کر دیے

نیا قانون برازیل کو محفوظ تر بنائے گا اور زندگیاں بچائے گا

کارلسباڈ، نیو میکسیکو، 29 مئی 2012ء/پی آرنیوزوائر-یو ایس نیوزوائر/–

ڈی این اے سیوز (www.dnasaves.org) کی بانی اور مقتول کیٹی سیپچ کی والدہ جایان سیپچ نے برازیل کے قومی ڈی این اے ڈیٹابیس میں مجرموں کے ڈی این اے کے حصول کے لیے قانون سازی کی منظوری پر صدر ڈلما روزیف اور برازیل کی کانگریس کو سراہا ہے۔ محترمہ سیپچ نے اس طرح کی قانون سازی کرنے والے ممالک میں برازیل کی شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ڈی این اے ڈیٹابیس غیر حل شدہ پرتشدد جرائم کے لیے شواہد کے طور پر ان پروفائلز کا معائنہ کرے گا۔ اس جیسے منصوبوں کے حامل ممالک نے حل شدہ اور محفوظ شدہ جرائم کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے۔ صدر ڈلما روزیف نے 28 مئی 2012ء کو اس تاریخی قانون پر دستخط کیے۔

محترمہ سیپچ نے کہا کہ “برازیل کے شہری قانون کے نفاذ کے لیے دستیاب شناخت کے درست ترین ٹول کے استعمال کے ذریعے تحفظ کے مستحق ہیں۔ برازیل جرائم کے معاملات کو تیزی سے حل کرے گا، اور مستقبل کے جرائم سے نمٹے گا اور زندگیاں بچائے گا۔”

قانونی کفیل سینیٹر کیرو نوگوئیرا ہیں، جو برازیل بھر میں پرتشدد جرائم سے تحفظ کے لیے اس کی قوت کو سمجھنے کے پاس منظوری کے لیے کوشاں تھے۔ اگست 2011ء میں سینیٹر نوگوئیرا عادی قاتل مارکو تریگوئیرو کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کے اہل خانہ کو برازیلیا میں کانگریسی قیادت سے ملاقات اور قانون کو آگے بڑھانے میں مدد کے لیے لائے۔ تریگوئیرو نے 2009ء میں پانچ خواتین کو بہیمانہ انداز میں قتل کرتے ہوئے بیلو ہوریزونتے میں دہشت پھیلائی۔ سینیٹر نوگوئیرا نے کہا کہ “بیلو ہوریزونتے کے بیشتر مقتولین بچائے جا سکتے تھے اگر یہ قانون موجود ہوتا۔ مجھے ان خاندانوں کی بہادری پر فخر ہے جو اپنی داستاں بیان کرنے کے لیے برازیلیا آئے، اور میں اپنے کانگریس کے ساتھیوں پر بھی فخر کرتا ہوں جنہوں نے اس قانون کی منظوری کے لیے ووٹ دیے اور برازیل کو ایک محفوظ تر مقام بنایا۔”

برازیل ڈی این اے ڈیٹابیس قانون سازی کرنے والا 56 واں، اور جنوبی امریکہ میں (چلی 2007ء؛ یوروگوئے 2010ء کے بعد) تیسرا ملک ہے۔ ڈی این اے قانون اور پالیسی پر مشاورت فراہم کرنے والے ادارے گورڈن تھامس ہنی ویل گورنمنٹل افیئرز کے صدر ٹم شیل برگ نے کہا کہ “تقریباً 200 ملین کی آبادی اور ایک مستحکم ڈی این اے جرائم تجربہ گاہ کے قیام سے برازیل لاطینی امریکہ میں سب سے بڑا اور دنیا کے عظیم ترین ڈی این اے ڈیٹا بیسز میں سے ایک بننے کے لیے تیار ہے۔” شیل برگ توقع کرتے ہیں کہ برازیل کا نیا قانون لاطینی امریکہ میں ایسی ہی قانون سازی کی راہ ہموار کرے گا۔ “برازیل لاطینی امریکہ پر بہت گہرے اثرات رکھتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک انتظار کر رہے ہیں کہ برازیل کیا کرے گا۔”

Leave a Reply