باہمی تعاون سے تیز تر پلاسٹک برقیات کی راہ ہموار

جدہ، سعودی عرب، 30 اپریل 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

جب آپ اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین پر سوائپ کرتے ہیں تو وہ جس رفتار سے آپ کی حرکت پر ردعمل دکھاتا ہے وہ مختلف ڈسپلے پرزوں سے گزرنے والے برقی چارج کی شرح کا سبب ہے۔ امپیریل کالج لندن (ICL) کے سائنسدانوں نے کنگ عبد اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے ساتھیوں کے ساتھ نامیاتی باریک-فلم ٹرانزسٹرز (OTFTs) کی تیاری کے لیے تعاون کیا ہے جس نے دو نامیاتی سیمی کنڈکٹرز کے ملاپ سے بہ احتیاط حل-عمل کے ذریعے مستقل ریکارڈ توڑ کیریئر مستعدی حاصل کی ہے۔ ان او ٹی ایف ٹیز اور ان کے عمل کے طریقوں نے مستقبل کی متعدد برقی ایپلی کیشنز پیش کی ہیں۔

کے اے یو ایس ٹی میں پروفیسر ایرام اماسیان کے گروپ نے اک ایسے مرکب مادہ تیار و مخصوص کرنے کے لیے شعبہ طبیعات، آئی سی ایل کے پروفیسر تھامس انتھوپولس اور ساتھیوں این میک کلوچ اور ڈاکٹر مارٹن ہینی، شعبہ کیمیا، کا ساتھ دیا جو چارج کے انتقال کو بہتر بناتا اور تیز تر نامیاتی ٹرانزسٹر کی ساخت کو ممکن بناتا ہو۔ انہوں نے اپنے نئے سیمی کنڈکٹر ملاپ کے بارے میں تفصیلات ایڈوانسڈ میٹریلز کے نئے شمارے میں پیش کی ہیں http://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1002/adma.201200088/abstract

مہنگے ویکیوم ڈی پوزیشن کے چیلنج کے جواب میں مصنوعی نامیاتی کیمیا دان مواصل، حل پذیر چھوٹے سالموں انہیں جوڑنے میں تیزی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ امپیریل کے محقق ڈاکٹر انتھوپولس نے کہا کہ “گو کہ وہ بڑے کرسٹلز تیار کرنے کی جانب رحجان رکھتے ہیں، لیکن اعلیٰ معیار کی مستقبل و یکساں فلموں کو دوبارہ پیداوار کے قابل بنانا بدستور ایک مسئلہ ہے۔” اس کے مقابلے میں پولیمر سیمی کنڈکٹرز اکثر و بیشتر قابل تحلیل ہیں اور اعلیٰ معیار کی مستقل فلمیں تیار کرتے ہیں، لیکن حال تک، ایک سی ایم2/ویز سے زیادہ کی چارج کیریئر حرکتوں کو حاصل نہیں کرپائے تھے۔

اس اجتماعی کوشش میں امپیریل کے کیمیادانوں نے کالج کے سینٹر فار پلاسٹک الیکٹرانکس (http://www3.imperial.ac.uk/plasticelectronics) کے آلات طبیعات دانوں اور کے اے یو ایس ٹی کے میٹریل سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ پولیمر اور چھوٹے سالموں کی خصوصیات کو ایک مرکب مواد میں یکجا کیا جا سکے جو جداگانہ حیثیت میں ان دونوں اجزا کی عمومی کارکردگی سے زیادہ بہتر کارکردگی پیش کرے، اور ساتھ ساتھ ڈیوائس-سے-ڈیوائس نوافزودگی اور استحکام کو بہتر بنائے۔

بہتر کارکردگی کا سبب مرکب کے چھوٹے سالماتی جز کی کرسٹلائن ساخت اور پولی کرسٹلائن فلم کی اوپری سطح کی ہمواری اور ملائمت ہے۔ آخر الذکر ٹاپ-گیٹ، باٹم-کانٹیکٹ کنفیگوریشن آلات کے لیے ضروری ہے جہاں پولیمر ڈائی الیکٹرک کی سلوشن-کوٹنگ کرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر مرکب کی اوپری سطح سیمی کنڈکٹر-ڈائی الیکٹرک انٹرفیس کو تشکیل دیتی ہے۔

سطح کی ملائمت اور تسلسل اور کناروں پر ظاہری ذرات کی عدم موجودگی نایاب ہے یا بصورت دیگر انتہائی پروکرسٹلائن چھوٹے سالموں خالص شکل میں موجود ہے، جو بتاتی ہے کہ پولیمر بائنڈر نینو اسکیل باریک سطح کے ساتھ سیمی کنڈکٹر کرسٹلز کو ہموار حتیٰ کہ اس پر تہہ لگا دیتی ہے۔ کے اےیو ایس ٹی کے شریک-مصنف پروفیسر اماسیان نے کہا کہ  ”پولیمر-سالموں کے مرکب کی کارکردگی 5 سی ایم2/ویز کو عبور کر گئی، جو سنگل-کرسٹل موبلٹی کے بہت قریب ہے جسے قبل ازیں خود سالمے کے لیے رپورٹ کیا گیا تھا۔”

کے اے یو ایس ٹی میں میٹریل سائنسدان  کورنیل ہائی انرجی سنکروٹرون سورس (CHESS)، کراس-سیکشنل انرجی-فلٹرڈ ٹرانس میشن الیکٹروانک مائیکرواسکوپی (EF-TEM) اور ٹوپوگرافک اور فیز موڈز میں اٹامک فورس مائیکرواسکوپی کی ڈی1 بیم لائن پر سنکروٹرون-بیسڈ ایکس-رے کو منتشر کرنے کے ملاپ سے فیز سیپریشن، کرسٹلنٹی، اور نامیاتی سیمی کنڈکٹر مرکب کی ساخت سے گزرے۔

اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور پولیمر سیمی کنڈکٹرز کی ساخت کی پیچیدہ ساخت گری پر ماہر البرتو سالیو نے کہا کہ “یہ کام خاص طور پر دلچسپ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس پیچیدہ نامیاتی مرکبات پر مکمل طاقتور ساخت کے اطلاق سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے۔ یہ اسٹرکچر-پراپرٹی تعلق کی معیاری مثال ہے جو ایسی شراکتوں کی کارآمدی کو نمایاں کر رہا ہے، 5 سی ایم2/ویز کی تحریک پہلے ہی ایک زبردست عدد ہے۔ یہ طریقے محققین کو زیادہ بہتر تحریک حاصل کرنے کے طریقے وضع کرتی ہیں۔”

ڈاکٹرانتھوپولس نے مزید کہا کہ “اصولاً، یہ سادہ مرکب طریقہ موجودہ جدید خصوصیات سے کہیں بہتر نامیاتی ٹرانزسٹرز کی تیاری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔”

مزید معلومات کے لیے:

کرسٹوفر سینڈز، سربراہ یونیورسٹی کمیونی کیشنز

christopher.sands@kaust.edu.sa

+966-54-470-1201

(ڈاکٹر ایرام اماسیان انٹرویو کے لیے دستیاب ہیں)

ذریعہ: کنگ عبد اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

Leave a Reply