Tag Archives: China Foreign Trade Centre

111 واں کینٹن میلہ “ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت”

گوانگ چو، چین، 13 اگست 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیا –

اس وقت جب دنیا کے بہترین کھلاڑی گرما کے کھیلوں کے موسم میں اپنی بھرپور قوتیں صرف کر رہے ہیں، انہی ایام میں انفرادی شخصیات اور حکومتیں عالمی معیشت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ویسی ہی سخت کوششیں کر رہی ہیں۔ یورپ میں ماہرین جاری یورو بحران کے حل کے لیے کام کررہے ہیں، جبکہ امریکہ میں چھوٹے کاروباری ادارے اپنی فروخت میں اضافے کے لیے آن لائن کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ کساد بازاری کو شکست دینا اپنی نہاد میں خود تمغے بخشنے کے قابل سرگرمی ہو گئی ہے۔

چین میں، روس اور برازیل جیسی ترقی پذیر معیشتوں کے ساتھ تجارت میں بڑھاوے کی اضافی کوششیں کی گئی ہیں۔ چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے حال ہی میں چین اور جنوبی امریکی تجارتی بلاک مرکوسر کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کی تجویز پیش کی ہے، اس بلاک میں برازیل اور ارجنٹائن شامل ہیں۔ چین اگلے پانچ سالوں میں لاطینی امریکہ کے ساتھ اپنی سالانہ تجارت کو دوگنا کرتے ہوئے 400 ارب امریکی ڈالرز تک لے جانا چاہتا ہے۔

روس، ایک اور نئی مارکیٹ، چین کا اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بدستور خوشگوار ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2011ء میں تقریباً 80 ارب ڈالرز تک پہنچی – ہدف 2020ء تک 200 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچانا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ مئی میں مکمل  ہونے والے چین کے سب سے بڑے تجارتی شو 111 ویں کینٹن میلے کے امید افزا رحجانات میں سے ایک تھا۔ بی آر آئی سی ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ساتھ کاروبار میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

چین کی پارچہ بافی وملبوسات کی صنعت نئے تجارتی تعلقات کا فائدہ اٹھا رہی ہے، جس کی لاطینی امریکہ کے ممالک کے لیے برآمدات میں گزشتہ سال 38 فیصد اضافہ ہوا۔ 111 ویں کینٹن میلے کے تیسرے مرحلے میں حصہ لینے والے 4 ہزار سے زائد پارچہ بافی و ملبوسات بنانے والےادارے ابھرتی ہوئی مارکیٹ صلاحیتوں کو تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔

روایتی چینی ادویات اور صحت کی مصنوعات کی مارکیٹ بھی حوصلہ افزا ہے۔ میلے کے منتظمین کے مطابق گزشتہ سالوں کےمقابلے میں روسی خریداروں میں کافی اضافہ ہوا۔ میکانیکی اور برقی مصنوعات کی تجارت نے بھی جامع رحجان پایا – اور لاطینی امریکہ کے اداروں کے ساتھ معاہدوں کی قدر میں سال بہ سال 18.5 فیصد اضافہ ہوا۔ آنہوئی لائٹ انڈسٹری انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کے سیلزمین وانگ بیاؤ نے کہا کہ ان کا ادارہ جنوبی امریکہ اور روس سے کہیں زیادہ خریداروں سے معاہدے کر چکا ہے۔

ابھرتی ہوئی معیشتیں دنیا کی نئی تجارت کی بیشتر توجہ کا مرکز ہیں۔ چین نئے کاروباری مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے بہترین مقام پر موجود ہے، اور کینٹن میلہ اعلیٰ معیارکی چینی مصنوعات خریدنے کے لیے بہترین و واحد مقام ہے۔

خریداروں اور فروخت کاروں کی نظریں 112 ویں سیشن پر مرکوز ہیں، جو 15 اکتوبر 2012ء سے شروع ہو رہا ہے۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

رابطہ: جناب وو سیاؤینگ، +86-20-8913-8628، xiaoying.wu@cantonfair.org.cn

The 111th Canton Fair “The Growing Importance of Emerging Markets”

GUANGZHOU, China, Aug. 13, 2012 /PRNewswire-Asia/AsiaNet Pakistan — As the world’s best athletes give everything during this summer’s sporting season, individuals and governments are trying equally hard to overcome the challenges of the global economy. In Europe, experts are working to solve the ongoing Euro crisis, while in the US small businesses are heading online to boost sales. Beating the recession has become a medal-worthy activity in itself.

In China, increased efforts have been made to expand trade with developing economies such as Russia and Brazil. Chinese Premier Wen Jiabao recently proposed a free trade pact between China and South American trade bloc Mercosur, which includes Brazil and Argentina. China wants to double its annual trade with Latin America to US$400 billion over the next five years.

Russia, another new market area, is China’s most important strategic partner and trade relations between the two countries remain buoyant. Trade between the two countries reached nearly US$80 billion in 2011 – the goal is to increase this to US$200 billion by 2020.

Increasing trade with developing economies was one of the most encouraging trends of the 111th Canton Fair, China’s biggest trade show, which closed in May. Business with BRIC countries and other emerging markets rose over 4%.

China’s textile and apparel industry is capitalizing on new trade relationships, with exports to Latin American countries rising 38% last year. Over 4,000 textile and apparel companies participated in the 3rd phase of the 111th Canton Fair, eager to explore emerging market potential.

The market for traditional Chinese medicine and healthcare products is also encouraging. According Fair exhibitors, the number of Russian purchasers increased significantly over previous sessions. Trade in mechanical and electrical products followed the overarching trend too – the value of contracts with Latin American companies rose 18.5% year-on-year. Wang Biao, a salesman from the Anhui Light Industry International Co. Ltd., said his company had engaged far more buyers from South America and Russia.

Emerging economies are the focus of much of the world’s new trade. China remains one of the best places to take advantage of new business opportunities, and the Canton Fair is the perfect one-stop shop for purchasing quality Chinese products.

Buyers and sellers look forward to the 112th session, opening on October 15, 2012.

For further information please visit: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

111th Canton Fair Opens in April

China’s largest trade show prepares to help businesses compete on world stage

GUANGZHOU, China, Feb. 16, 2012 /PRNewswire-Asia/ — The Canton Fair will once again welcome the world’s top retailers and influential business and political leaders when it opens its 111th session on April 15.

(Photo: http://www.prnasia.com/sa/2012/02/15/201202151945196456.jpg )

Over the past 56 years, the Canton Fair has grown to become one of the most important events for small- and medium-sized businesses looking to tap into the lucrative China market and boost their competitiveness in the rest of the world.

This may not be truer than in the present day. While the U.S. struggles to emerge from a recession and Europe grapples with a worsening economic crisis, China’s economy continues to grow and become more open. As part of China’s 12th five-year plan, the government has committed to increasing imports to establish more balanced trade with its partners. And the Canton Fair is helping to pave the way by boosting the numbers of participating foreign businesses to stimulate the flow of products and services into China.

The 110th Canton Fair, held from October 15 to November 4, 2011, was the most international version of the trade fair to date. The event, which coincided with the 10th anniversary of China’s accession to the World Trade Organization, attracted nearly 210,000 buyers from 210 countries and regions and generated $38 billion in business, a 3% increase over the 109th session in the spring.

The changes were evident to longtime participants. “My first time to the Canton Fair was in 1978,” said Ali Saleh, General Manager of Gemstones & Jewellers Centre. “I have witnessed a lot of improvement and development. In the past years, especially after the adoption of the opening up policy, the number of the foreign visitors is larger and larger.”

Illustrating the importance of the fair to China’s trade with emerging markets, more contracts were signed by buyers from Russia, Brazil and India than ever before. “It is my first time to be here in the Canton Fair and I have found what I want already. The fair is so big and fantastic,” said Sergio Rebollo, a buyer representing the Brazilian company Fat Monkey.

The 111th session of the Canton Fair will be held from April 15 to May 5, at the Canton Fair Complex in Guangzhou, China. For more information, please visit http://www.cantonfair.org.cn.

SOURCE China Foreign Trade Centre (CFTC)

110 واں کینٹن میلہ: ایک مستحکم تقریب دو طرفہ تجارت کے لیے نیک شگون

AsiaNet 47430

گوانگ چو، چین، 22 نومبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیا-ایشیانیٹ/

حال ہی میں اختتام کو پہنچنے والے 110 ویں کینٹن میلے نے چین اور دنیا کے درمیان دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے نئے ریکارڈ مرتب کر دیے ہیں۔ 4 نومبر کو ختم ہونے والی چین کی سرفہرست نمائش نے تقریباً 38 ارب ڈالرز کا کاروبار پیدا کیا، جو بہار میں منعقدہ 109 ویں سیشن سے 3 فیصد زیادہ ہے۔

تاریخی موقع کے لیے اعداد و شمار جامع طور پر اوپر تھے۔ 210 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار خریداروں نے شرکت کی جن میں دنیا کے سرفہرست 250 خوردہ فروشوں میں سے 100 سے زائد بھی شامل تھے۔ ایک تہائی خریدار چین کے سرفہرست 10 تجارتی شراکت داروں  میں سے تھے – پہلے سے کہیں زیادہ معاہدے جاپانی، روسی، برازیلی اور بھارتی خریداروں نے کیے۔ مجموعی طور پر افریقی، ایشیائی اور لاطینی امریکہ کے خریداروں کی جانب سے کیے گئے معاہدے تقریباً 40 فیصد بڑھے۔

چینی اور بین الاقوامی سیاسی و کاروباری رہنماؤں کی غیر معمولی تعداد نے میلے میں شرکت کی، جو ابھرتی ہوئی معاشی قوت کی حیثیت سے چین کی پوزیشن کو ظاہر کر رہی ہے۔ عالمی معیشت کے سستی سے بحال ہونے کے اس دور میں اس تقریب نے عالمی کاروبار کو تقویت بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر اعظم وین جیا باؤ نے چین پر درآمدات و برآمدات میں توازن کی ضرورت پر زور دیا جبکہ صدر ہو جن تاؤ نے بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے پر کینٹن میلے کے 55 سال تک نبھائے گئے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے جاری 12 ویں پنج سالہ منصوبے کے دوران مزید اجرا کے ذریعے آگے بڑھے گا۔

یہ سال کینٹن میلے کا 55 واں اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں چین کی شمولیت کا 10 واں سال ہے۔ تقریب کے موقع پر انتہائی اہم شخصیات کو ڈبلیو ٹی او میں چین کے تبدیل ہوتے ہوئے کردار پر بلائے گئے فورمز میں مدعو کیا، جن میں چین-جاپان اقتصادی تعاون، چین میں لاطینی امریکی برآمدات، اور چینی صوبوں اور امریکی ریاستوں کے درمیان تبادلے جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غیر معمولی بین الاقوامی ترویج کے بعد 110 ویں کینٹن میلے نے 58 ہزار سے زائد تجارتی بوتھ قائم کیے۔ تقریباً 50 ممالک اور خطوں کے 500 سے زائد نمائش کنندگان میلے کے خصوصی درآمدی علاقے میں موجود تھے۔ مہمانوں اور اعلیٰ شخصیات اور کاروباروں نے شرکت کو آسان بنانے اور تجارت کو سہولیات بخشنے کے لیے انتہائی اعلیٰ معیار کی خدمات کا لطف اٹھایا۔

چین کے وزیر تجارت چین ڈیمنگ نے ایونٹ میں شرکت کے دوران کہا کہ “کینٹن میلہ کا پھیلتا ہوا درآمدات کا حصہ مجموعی طور پر چین کے درآمدی شعبے پر بڑا اثر ڈالے گا۔ اس حصے میں جاری کامیابی چین کی دو طرفہ تجارت کے توازن میں جزوِ لازم ہے۔”

ذرائع ابلاغ کے سوالات

110 ویں کینٹن امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ (کینٹن) فیئر:

15 اکتوبر تا 4 نومبر 2011ء

ویب: www.cantonfair.org.cn/en/

ذریعہ: چائنا فارن ٹریڈ سینٹر (CFTC)

110th Canton Fair: A Booming Event Bodes Well for Bilateral Trade

AsiaNet 47430

GUANGZHOU, China, Nov. 22, 2011 /PRNewswire-Asia-AsiaNet/ –

The recently concluded 110th Canton Fair has set new records for boosting bilateral trade between China and the world. Finishing on November 4, China’s top exhibition generated nearly $38 billion worth of business, up 3% from the 109th session held in the spring.

Figures were up across the board for the landmark event. Nearly 210,000 buyers from 210 countries and regions participated, including over 100 from the world’s top 250 retailers. A third of buyers were from China’s top 10 trading partners — more contracts were signed by Japanese, Russian, Brazilian and Indian buyers than ever before. Overall the number of contracts signed by African, Asian and Latin American buyers grew by nearly 40%.

An unprecedented number of high-level Chinese and international politicians and business leaders attended the Fair, underlining China’s position as a rising economic powerhouse. With the world economy currently in sluggish recovery mode, the event has a vital role in stimulating global business. In his opening speech, Premier Wen Jiabao stressed the need for China to balance imports and exports, while President Hu Jintao praised the Canton Fair for its 55-year role in strengthening international trade ties. He said that China would forge ahead with opening up during its ongoing 12th Five Year Plan.

This year is the 55th anniversary of the Canton Fair and 10-year anniversary of China’s accession to the World Trade Organization (WTO). To mark the occasion, VIPs attending the Fair were invited to forums on China’s evolving role within the WTO, Subjects such as developing Sino-Japanese economic cooperation, Latin American exports to China, and exchange between Chinese provinces and American states were also discussed.

After unprecedented international promotion, the 110th Canton Fair boasted over 58,000 trade booths. Over 500 exhibitors from nearly 50 countries and regions were present in the Fair’s dedicated import area. Visitors, VIPs and businesses enjoyed a very high level of service designed to ease participation and facilitate trade.

“The Canton Fair’s expanding imports section will have a major impact on China’s imports sector overall,” commented China’s Commerce Minister Chen Deming, as he inspected the event. “Ongoing success in this area is integral to balancing China’s bilateral trade.”

Media Enquiries

110th China Import and Export (Canton) Fair:
October 15 — November 4, 2011

Web: www.cantonfair.org.cn/en/

SOURCE: China Foreign Trade Centre (CFTC)