Tag Archives: China Foreign Trade Centre (CFTC)

112 واں کینٹن میلہ “مشکل حالات میں عالمی تجارت کوسہارا

گوانگ چو، چین، 15 نومبر 2012ء/پی آرنیوزوائر–

یورپ اور امریکہ میں جاری معاشی مسائل کے باوجود 4 نومبر کو ختم ہونے والے کینٹن میلے کے 112 ویں سیشن نے غیر معمولی سرگرمی دکھائی ۔ گو کہ شرکا کی تعداد اور حجم گزشتہ بہار سیشن کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کم ہوا، لیکن دوبارہ آنے والے مہمانوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ضرور ہوا، جو اس ایونٹ کی زبردست تجارتی قدر و اہمیت اور سنبھلتی ہوئی عالمی معیشت کے لیے اس میلے کو سہارے کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے۔

میلے میں غیر ملکی خریداروں کی تعداد –جسے چین کی برآمدی صورتحال کے لیے ایک قابل بھروسہ اشاریے کے طور پر لیا جانا چاہیے – کمزور عالمی طلب کو ظاہر کر رہی ہے ، کیونکہ سست روی سےہونے والی بحالی کی راہ میں یوروزون بحران مزاحم ہو گیا ہے۔ بہر کیف، کینٹن میلہ بدستور چینی مارکیٹ میں داخلے کا بہترین راستہ ہے، اور شرکا کاروباری آگہی اور پیش کردہ مصنوعات کے معیار دونوں کی حیثیت سے، پیش کردہ مواقع کی اہمیت کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

میلے میں شریک باغیچوں کے لیے مشینیں فراہم کرنے والے ایک جرمن فراہم کنندہ نے کہا کہ گو کہ انہوں نے فروخت میں مقامی سطح پر کمی کا سامنا نہیں کیا، لیکن وہ قیمتیں کم کرنے کے لیے ضرور دباؤ میں تھے۔ “میں چین میں فراہم کنندگان کی جانب سے اچھی قیمتوں کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ میرے صارفین اب قیمتوں کے حوالے سے کہیں زیادہ فکر مند ہوچکے ہیں۔”

کاروں کے لیے لوازمات بنانے والے سویڈش ادارے کے ایگزیکٹو اولرِک فریڈکسن نے کہا کہ ان کا ادارہ بھی اس مشکل کو سہہ رہا ہے، کیونکہ سال بہ سال فروخت میں 25 فیصد کمی آ چکی ہے۔ “ایک درمیانی فرد سے کام کروائے بغیر، جو قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کرے گا، میں یہاں میلے میں مینوفیکچررز سے خود مال خریدوں گا۔”

ترقی پذیر ممالک کے ادارے، خصوصاً BRICS اقوام، نے میلے میں اقتصادی تعاون کے لیے زبردست طلب کا مظاہرہ کیا۔ کئی ممالک پرامید تھے کہ BRICS اقوام کے درمیان تجارت میں اضافہ زیادہ روایتی مارکیٹوں میں فروخت میں آنے والی حالیہ کمی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

جلد ہی عالمی کپ اور اولمپکس کی میزبانی کے لیے برازیل کی تیاریوں کے ساتھ چینی اداروں کے لیے برازیل کی مارکیٹ میں بھرپور مواقع ہیں۔ کینٹن میلے میں چینی اداروں کو برازیل کے کاروباری ماحول سے آشنائی میں مدد دینے کے لیے ایک فورم منعقد ہوا جس میں 400 مہمانوں نے شرکت کی۔

برازیل کی ایک سرمایہ کاری و مشاورتی فرم چائنا انوسٹ نے میلے میں جنوبی امریکی تعمیراتی ٹھیکیداروں کے لیے تعمیراتی سازوسامان کی بڑی مقدار خریدی۔ ادارے کے صدر تھامس مچاڈو نے کہا کہ وہ مجموعی قیمتوں میں 15 فیصد اضافے کے ساتھ رواں سال چین سے 30 فیصد مزید مواد خریدنے کی توقع رکھتے ہیں۔ مچاڈو نے کہا کہ “بہتر معیار نے مجھے چینی مصنوعات خریدنے پر قائل کیا،باوجود اس کے کہ چین میں خام مال اور مزدوری کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

ذریعہ: چائنا فارن ٹریڈ سینٹر (CFTC)

جناب وو سیاؤینگ، +86-20-8913 8628، یا xiaoying.wu@cantonfair.org، برائے سی ایف ٹی سی

The 112th Canton Fair “Sustaining Global Trade in Difficult Times”

GUANGZHOU, China, Nov. 15, 2012 /PRNewswire — Despite ongoing economic problems in Europe and America, the 112th session of the Canton Fair, which closed on November 4, has displayed a remarkable resilience. While the number of participants and turnover fell around 10 percent compared to the spring session, the percentage of repeat visitors rose over 8 percent, underlining the great commercial value of the event and its importance as a buttress for sustaining global trade.

The number of overseas buyers at the fair – taken to be a reliable indicator of China’s export situation – highlights weak global demand, as a lacklustre recovery is hampered by the eurozone debt crisis. However, the Canton Fair remains the best gateway into the Chinese market, and attendees continue to value the opportunities it presents, both in terms of business intelligence and the quality products on offer.

A German garden machinery supplier attending the fair said that although he hadn’t experienced a domestic decrease in sales, he was under pressure to cut prices. “I’m looking for good prices from suppliers in China because my customers have become far more price-conscious,” he explained.

Ulrik Fredikson, an executive from a Swedish car-accessory company, said his company had also been feeling the pinch, with sales down 25 per cent year-on-year. “Instead of going through a middleman, who will hike prices by 20 per cent, I’d rather buy directly from manufacturers here at the fair,” said Fredrikson.

Companies from developing countries, especially BRICS nations, demonstrated a strong desire for economic cooperation at the fair. Many were optimistic that increasing trade between BRICS nations could counter the recent decline of sales in more traditional markets.

With Brazil set to host the World Cup and Olympics soon, opportunities now abound for Chinese companies in the Brazilian market. A forum at the Canton Fair to help Chinese companies familiarize themselves with Brazil’s business environment was attended by 400 visitors.

ChinaInvest, a Brazilian investment and consulting firm, purchased large quantities of building materials for South American construction contractors at the fair. The firm’s president, Thomas Machado, said he expected to buy 30% more materials from China this year, with a 15% rise in overall prices. “Better quality convinced me to buy Chinese goods, despite China’s rising raw material and labor costs,” said Machado.

For further information please visit: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

SOURCE  China Foreign Trade Centre (CFTC)

Mr. Wu Xiaoying, +86-20-8913 8628, or xiaoying.wu@cantonfair.org, for CFTC

112 واں کینٹن میلہ “غیر ملکی شرکا کی مدد سے اہم تجارت کو فروغ دے رہا ہے”

گوانگ چو، چین، یکم اکتوبر/پی آرنیوزوائر۔۔

رواں سال کے وسط-خزاں میلے کا جشن منانے کے لیے 19 ستمبر کو گوانگ ڈونگ کے دارالحکومت میں عمدہ عشائیے و تفریح پر مشتمل اک شام منائی گئی جس میں گوانگ چو میں قائم 25 غیر ملکی قونصل خانوں کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ یہ چاند میلہ (مون فیسٹیول) کے نام سے بھی معروف ہے، یہ مشہور میلہ دو ہزار سے زائد سالوں سے چینی تقویم کا حصہ رہا ہے۔

چائنا فارن ٹریڈ سینٹر اور گوانگ ڈونگ صوبے کے دفتر امور خارجہ کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد کینٹن میلے کے طویل المیعاد  ساتھ پر شرکا کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ شیتو ریور اسٹار ہوٹل کی ایک بادبانی کشتی میں منعقدہ اس انتہائی پرلطف شام میں چائناز فارن ٹریڈ سینٹر کے ڈائریکٹر وانگ چی پنگ، سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیو جیانجن، اور صوبہ گوانگ ڈونگ کے دفتر امور خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر لی جیان نے بھی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لی جیان نے تمام قونصل خانوں، اور ان کے متعلقہ ممالک کے کاروباری اداروں کا شکریہ ادا کیا، جن کی مدد سے گزشتہ سالوں میں کینٹن میلے نے خوب ترقی پائی ہے۔ وانگ چی پنگ نے بتایا کہ 111 ویں کینٹن میلے میں ایک لاکھ 20 ہزار خریدار (کل کا 60 فیصد) ان ممالک سے تعلق رکھتے تھے جن کے قونصل خانے گوانگ چو میں موجود ہیں۔ انہوں نے 112 ویں کینٹن میلے کے لیے تمام مہمانوں کا پرجوش خیرمقدم کیا، اور توقع ظاہر کی کہ کہیں زیادہ غیر ملکی خریدار اور نمائش کنندگان شرکت کریں گے۔

عالمی معیشت میں عمومی زوال کے باوجود کینٹن میلہ، اپنی 55 سالہ تاریخ کے ساتھ، ایک انتہائی منافع بخش اور مشہور میلہ ہے۔ کاروباری سودوں کے بے مثال حجم کی تخلیق اور ایک ملین مربع میٹر سے زائد کے نمائشی علاقے کے ساتھ یہ میلہ بڑے پیمانے پر چینی مارکیٹ میں داخلے کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ مئی میں ختم ہونے والے 111 ویں میلے نے دنیا بھر سے دو لاکھ 10 ہزار سے زائد خریداروں کی توجہ مبذول کرائی، اور بین الاقوامی تجارت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

کینٹن میلہ باقی دنیا کے ساتھ چین کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کر چکا ہے اور گوانگ چو کے قونصل خانوں نے اس عمل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ قونصل خانے کے عملے نے اہم تقریبات میں شرکت کی اور میلے کا دورہ کرنے والے تجارتی گروہوں کا ساتھ دیا۔ چائنا فارن ٹریڈ سینٹر کے ساتھ مل کر کام کر کے قونصل خانوں نے  میلے کے فروغ اور غیر ملکی اداروں کی شرکت میں بڑے پیمانے پر اضافے میں بھی مدد دی۔

112 واں کینٹن میلہ 15 اکتوبر سے 4 نومبر 2012ء تک منعقد ہوگا۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

ذریعہ: چائنا فارن ٹریڈ سینٹر (CFTC)

 

The 112th Canton Fair “Stimulating vital trade with help from foreign participants”

GUANGZHOU, China, Oct. 1, 2012 /PRNewswire — Attended by dignitaries from 25 Guangzhou-based foreign consulates, an evening of fine dining and entertainment was successfully held on Sept. 19 in the Guangdong capital to celebrate this year’s mid-Autumn Festival. Also known as the Moon Festival, this popular festival has been part of the Chinese calendar for more than 2,000 years.

Co-organized by the China Foreign Trade Centre and the Foreign Affairs Office of Guangdong Province, the event was intended to thank participants for their long-term support of the Canton Fair. Taking place aboard a yacht of the Chateau Star River Hotel, the highly enjoyable evening was also attended by Wang Zhiping, Director of China’s Foreign Trade Center, Liu Jianjun, Deputy Director of the Center, and Li Jian, Deputy Director of the Foreign Affairs Office of Guangdong Province.

Addressing the event, Li Jian thanked each of the consulates, and businesses from their respective countries, for helping the Canton Fair thrive over the years. In his speech, Wang Zhiping noted that 120,000 buyers (60% of the total) at the 111thinstallment of the Canton Fair came from countries with consulates in Guangzhou. He extended a warm invitation to all guests to attend the 112th Canton Fair, and sincerely hoped that even more overseas buyers and exhibitors would be attending.

Despite the general downturn in the global economy, the Canton Fair, with its 55-year history, remains a highly profitable and prestigious event. Generating an unrivalled volume of business transactions and boasting a vast exhibition area of more than 1 million square meters, it is widely regarded as the best gateway into the Chinese market. Ending in May, the 111th session of the Fair attracted over 210,000 buyers from all over the world, playing an important role in sustaining international trade.

The Canton Fair has strengthened China’s economic ties with the rest of the world, and Guangzhou’s consulates have played their part in this process. Consulate staff regularly attend important ceremonies and accompany commercial groups as they visit the Fair. By working closely with the China Foreign Trade Center, consulates also help promote the Fair and significantly boost the participation of overseas companies.

The 112th installment of the Canton Fair will run from Oct. 15 – Nov. 4, 2012.

For further information please visit: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

SOURCE:  China Foreign Trade Centre (CFTC)

دنیا کا سب سے بڑا تجارتی میلہ

“سخت حالات میں ترقی کی ترغیب”

گوانگ چو، چین، 28 مئی 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیا/–

یورپ اور امریکہ میں مشکل مالی حالات و ملازمت مارکیٹ کی صورتحال نے مئی کے اوائل میں چین میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے تجارتی میلے، 111 ویں کینٹن میلے میں تجارت پر اثر ڈالا، لیکن یہ سست روی توقعات سے کہیں کم تھی۔

 اس کے باوجود ایونٹ نے چند ریکارڈ توڑ اعداد و شمار پیش کیے: 4 مئی کے مطابق 213 ممالک اور خطوں کو دو لاکھ 10 ہزار خریداروں نے شرکت کی، جو 2011ء میں 110 ویں اور 109 ویں سیشنز کے مقابلے میں بالترتیب 0.23 فیصد اور 1.23 تک اضافہ ہے۔

یورپ اور امریکہ میں مشکل حالات میلے میں ہونے والے برآمدی معاہدوں کی کل قدر سے ظاہر تھے۔ یہ سال-بہ-سال 2.3 فیصد کمی کے ساتھ 36.03 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں ، جو گزشتہ سال کے سیشن برائے خزاں سے 4.8 فیصد کم ہے۔ امریکہ اور یورپ کا تجارتی حجم بالترتیب 8.1 فیصد اور 5.6 فیصد کم ہوا۔

دوسری جانب مثبت پہلو یہ رہا کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں – جیسا کہ بھارت، برازیل اور روس – میں قائم اداروں کے ساتھ ہونے والے برآمدی معاہدوں کی تعداد میں 4.1 فیصد کا حوصلہ افزا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ افریقی ممالک کے ساتھ تجارت کے حجم میں بھی 13.5 کا تیزی سے اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی دنیا کے نئے ستاروں کی حیثیت سے ابھرنے کو  نمایاں کرتے ہیں، اور کینٹن میلہ کو عالمی درآمدات و برآمدات میں موثر ترین تجارتی مواقع میں سے ایک کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہیں جو ایک مشکل وقت میں بھی ترقی کے لیے کاروباری مواقع پیش کرتا ہے۔

میلے کا دورہ کرنے والے کا تجربہ بھی وسیع پیمانے پر مثبت رہا۔

فن لینڈ کے ایک تجارتی ادارے کے خریدار   کرستریان ہومکوست نے کہا کہ “کینٹن میلے میں شرکت کا یہ میرا پہلا موقع ہے، اس نے نئے فراہم کنندگان کی تلاش کے لیے کئی مقامات پر جانے سے میرا وقت بچا لیا ہے۔ دنیا بھر میں مالیاتی بحران کے اس دور میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے میرے کاروبار پر تیر بہدف اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن کینٹن میلہ تجارتی کاروباری کرنے کے لیے بہتر خیالات فراہم کرتا ہے اور ہمیں زیادہ مسابقت خیز بناتاہے۔”

برازیل سے تعلق رکھنے والے حسن البزری نے کہا کہ “میرے خیال میں عالمی معیشت کساد بازاری کا سامنا کر رہی ہے، لیکن ہمارے لیے یہ ترقی کا ایک اچھا موقع ہے۔”

اکتوبر میں کینٹن میلے کے اگلے مرحلہ کے آغاز کے ساتھ ایونٹ منتظمین کی نظریں تمام بین الاقوامی خریداروں کا پرتپاک خیرمقدم کرنے پر مرکوز ہیں۔ تجارتی میلے کے عملے کے ایک رکن نےکہا کہ “جہاں بھی لوگ ہیں، وہاں کاروباری مواقع ہیں، اور امید کی ایک کرن موجود ہے۔”

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

ذریعہ: چائنا فارن ٹریڈ سینٹر (CFTC)

رابطہ: جناب و سیاؤینگ، +86-20-8913 8628، xiaoying.wu@cantonfair.org.cn

World’s Largest Trade Show

“Encouraging Growth at a Difficult Time”

GUANGZHOU, China, May 28, 2012 /PRNewswire-Asia/ — Difficult financial and job market conditions in Europe and the United States have impacted on trade at the 111th Canton Fair, the world’s largest trade show held in China concluded early this May, although the slowdown was far less than many had expected.

The event still managed to post some record-breaking figures: as of May 4th, 210,000 buyers from 213 countries and regions had attended, up 0.23% and 1.23% from the 110th and 109th sessions in 2011 respectively.

Troubling times in the US and Europe were reflected in the total value of export deals concluded at the Fair. These fell 2.3% year-on-year to US$36.03 billion, down 4.8% from last year’s autumn session. The trade volume of the US and Europe was down 8.1% and 5.6% respectively.

On a positive note the number of export deals concluded with companies based in emerging markets – such as India, Brazil and Russia – displayed an encouraging 4.1% increase. The volume of trade with African countries also rose sharply to 13.5%. These figures illustrate the rising of emerging market as new stars of the world, and Canton Fair, being one of the most influential trade events in global import and export, offers business opportunities for growth even at a difficult time.

The experience of those who visited the Fair was also overwhelmingly positive.

“This is my first time to be in the Canton Fair,” said Kristrian Holmqvist, a buyer from a trading company in Finland. “It saved me a lot of time from going to many places to search for new suppliers. For the financial crisis around the world, it’s hard to say that it has specific effect on my business. But the Canton Fair does provide better ideas on doing trade business and make us to be more competitive.”

“I think the world economy is experiencing a recession, but it is a good time for us to develop,” said Hassan El Bizri from Brazil.

With the next installment of the Canton Fair set to kick off in October, event organizers look forward to extending a warm welcome to all international buyers. “Where there are people, there are business opportunities, and there is hope,” said one staff from the trade show.

For further information please visit: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

SOURCE: China Foreign Trade Centre (CFTC)