Tag Archives: Biovision – Foundation for ecological Development

گیم چینج ریو: دنیا کو برباد کریں یا اپنے سیارے کو بچائیں؟

واشنگٹن، ڈی سی، زیورخ اور فرینکفرٹ، جرمنی، 15 مئی 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

فرق پیدا کرنے والا ایک گیم اس ہفتے جاری کیا جا رہا ہے: کھلاڑی اب تک عوامی سطح پر ظاہر نہ کیے گئے حقیقی دنیا کے ڈیٹا میں سے انتخاب کے ذریعے دنیا کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں یا سیارے کو بچا سکتے ہیں ۔ فیس بک گیم کا مقصد جون میں ریو+20 اجلاس سے لوگوں کو گفتگو کے بجائے عمل پر راغب کرنا ہے۔

گیم چینج ریو ہماری زمین کو درپیش حالیہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کا ایک زبردست طریقہ ہے۔ 1995ء میں ورلڈ فوڈ پرائز جیتنے والے اور گیم کے ابتدائی آغاز کنندگان میں سے ایک ہانس ہیرس نے کہا کہ “ایک مرتبہ جب ہم میں سے بیشتر افراد اس حوالے سے مسائل کو سمجھنا شروع کر دیں گے، تو ہم صورتحال کو تبدیل کرنے کے زیادہ امکانات کے حامل ہوں گے۔”

تقریباً 20 سال قبل، اقوم متحدہ کی ریو دے جنیرو میں ہونے والی کانفرنس ارتھ سمٹ نے، ہمارے سیارے کے مستقبل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔ اس کے بعد بہت کم پیشرفت ہوئی ہے اور ریو+20 عالمی سطح پر اس جمود ہی کو توڑنے کے لیے بلائی گئی ہے اور آخر کار تبدیلی کو بروئے کار لانا ہے۔ لیکن یہ پیشروانہ اجلاس کئی مستقل فوائد کے خلاف اور صرف عوامی سطح پر زبردست دباؤ کے لیے ہے، جو منظرنامے کی تبدیلی کی امید ہے۔

ہیرن نے کہا کہ “ہم نے ‘گیم چینج ریو’ کو لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے کے لیے بنایا ہے کہ غالباً ہم دیگر ذرائع سے اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکتے۔” حقیقتاً عالمی بنانے کے لیے، گیم انگریزی، عربی، چینی، فرانسیسی، جرمنی، پرتگیزی اور ہسپانوی زبانوں میں دستیاب ہے۔ سب سےزیادہ اسکور بنانے والے افراد کے لیے ریو سمٹ کا دورہ انتظار کر رہا ہے اور ہفتہ وار چیمپئن کھلاڑیوں کے لیے اضافی انعامات بھی ہیں۔

گیم چینج ریو حقیقی دنیا کے ڈیٹا تک رسائی دیتا ہے جو اب تک صرف ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے دستیاب تھا۔ ملینیم انسٹیٹیوٹ کے گرین اکنامی ماڈل پر مبنی، جو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی کمیشن یافتہ تھا، یہ گیم عالمی معیشت کے تمام متعلقہ شعبوں اور دستیاب قدرتی وسائل کا حامل ہے۔ یہ تمام عناصر منسلک ہیں اور پالیسیوں کے اثرات اپنی مکمل پیچیدگیوں کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ ماڈل 5 ہزار سے زائد اشاریے رکھتا ہے اور 125 پالیسی کارڈز تیار کیے گئے ہیں، یوں گیم 100 ملین سے زائد ممکنہ نتائج کا حامل ہے۔

گیم چینج ریو ماحولیاتی ڈیولپمنٹ کی فاؤنڈیشن بایووژن، کوڈ سسٹین ایبل اور ملینیم انسٹیٹیوٹ، کی ذہنی اختراع ہے ، جس کا مقصد ایسے مسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے جنہیں آنے والی نسلوں کےزمین پر اپنی زندگیوں کا لطف اٹھانے کے لیے حل کرنا ضروری ہے اور ساتھ ساتھ ہمیں درپیش مسائل کے لیے حل تجویز کرنا بھی۔

گیم کھیلنے، مزید معلومات، انٹرویو کے مواقع اور تصاویر کے لیے http://www.gamechangerio.org/media پر جائیے۔

ذریعہ: بایو وژن – فاؤنڈیشن فار ایکولوجیکل ڈیولپمنٹ، کوڈ سسٹین ایبل، ملینیم انسٹیٹیوٹ

Game Change Rio: Ruin the World or Save our Planet?

WASHINGTON D.C., ZURICH, and FRANKFURT, Germany, May 15, 2012/PRNewswire/ –

A game with a difference is being launched this week: Players can ruin the world or save our planet by opting for choices based on real-world data that has not been publicly available so far. The Facebook game aims to mobilise people to demand action rather than just talk from the Rio+20 summit in June.

Game Change Rio offers a great way to engage with the complexities facing our planet today. “Once more of us begin to understand the issues involved, we have a better chance of changing the game,” said Hans Herren, winner of the World Food Prize in 1995, and one of the initiators of the game.

Some 20 years ago, the Earth Summit, the United Nations Conference held in Rio de Janeiro, sounded the alarm on the future of our planet. Very little has happened since and Rio+20 was called to address global inertia and make change happen after all. But this follow-up summit is up against many vested interests and only with strong public pressure, is there hope for a game change.

“We developed ‘Game Change Rio’ to get the message to people we might not reach through other channels,” Herren said. To make it truly global, the game is available in English, Arabic, Chinese, French, German, Portuguese, and Spanish. A trip to the Rio summit awaits the player with the highest score and additional prizes will go to weekly champions.

Game Change Rio gives access to real-world data that so far has only been available to experts and policy makers. Based on the Millennium Institute’s Green Economy Model, which was commissioned by the United Nations Environment Programme (UNEP), the game includes all relevant sectors of the world’s economy and the natural resources available. All of these elements are linked and effects of policies are seen in their full complexity. The model has over 5,000 indicators, and with the 125 policy cards developed, the game has over 100 million possible outcomes.

Game Change Rio, the idea of Biovision – Foundation for ecological Development, CodeSustainable and the Millennium Institute, aims to raise awareness for the issues that need to be addressed if future generations are to enjoy life on this planet and goes on to propose solutions to the problems we are facing.

To play the game, for further information, interview opportunities and pictures, please go to http://www.gamechangerio.org/media.

Source: Biovision – Foundation for ecological Development, CodeSustainable, Millennium Institute