Tag Archives: Better Than Cash Alliance

‫2 ملین ملازمین کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے ایچ اینڈ ایم گروپ اپنے فراہم کنندگان کو ملازمین کی تنخواہیں ڈیجیٹل طریقے سے ادا کرنے کی ترغیب دے گا

ایچ اینڈ ایم گروپ اقوام متحدہ کے بیٹر دین کیش الائنس میں شامل ہونے والا پہلا عالمی فیشن برانڈ بن گیا

نیویارک، 8 مارچ 2017 / پی آر نیوزوائر / — سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی فیشن کمپنی ایچ اینڈ ایم (H&M) نے آج اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے فراہم کنندگان کو اپنے ملازمین کی تنخواہیں موبائل یا دیگر جدید طریقوں سے ادا کرنے کی ترغیب دے گا تاکہ ملازمین کی طرز زندگی میں بہتری، ادائیگیوں میں شفافیت اور ادارے کے اخراجات میں کمی ممکن ہوسکے۔http://photos.prnewswire.com/prnvar/20120919/CG77018LOGO

http://photos.prnewswire.com/prnvar/20120919/CG77018LOGO

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب ادارے نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی بنیاد پر حکومتوں، کاروباری اداروں اور بین الاقوامی انجمنوں کی نقد سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقلی کو تیز تر کرنے کی مشترکہ کوشش بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت اختیار کی ہے۔

ایچ اینڈ ایم گروپ کے سوشل سسٹین ایبلٹی منیجر گستاف لوون نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں ہمارے فراہم کنندگان کے ملازمین کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ایک موثر اور توسیع پذیر طریقہ ہے۔ یہ تنخواہیں وصول کرنے، مالیاتی شمولیت میں اضافے اور خواتین کی معاشی آزادی کو مدد فراہم کرنے کا تیز تر، محفوظ اور بہت شفاف انداز فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے فراہم کنندگان کے لیے ڈیجیٹل طرز پر اجرت کی ادائیگیاں بچت کرنے، حفاظت میں اضافے اور اجرت سے متعلق درست معلومات فراہم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

ایچ اینڈ ایم گروپ کے فراہم کنندگان میں کام کرنے والے 1.6 ملین ملازمین میں سے پینسٹھ فیصد خواتین ہیں، جن میں سے اکثریت کو اپنے اور اپنے خاندان کی بہتر زندگی کے لیے درکار معاشی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہے۔ دنیا بھر میں کارخانوں میں کام کرنے والے بیشتر افراد کو نقد ادائیگی کی جاتی ہے جو کارخانوں اور ان کے ملازمین دونوں کے لیے بھاری، مہنگا اور خطرناک طریقہ کار ہے۔ ڈیجیٹل طرز، مثلاً بینک اکاؤنٹ، کارڈ یا موبائل، کے ذریعے اجرت ادا کرنے کی ترغیب کے ذریعے ایچ اینڈ ایم گروپ اس عزم کا اظہار کر رہا ہے جس کے ذریعے وہ کام کرنے کا ماحول بہتر بنانے، منصفانہ اجرت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

چونکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ خواتین ملازمین کو حاصل ہوگا، اس لیے یہ عمل ان کاروباری اداروں کے لیے بہترین مثال ہے جو تحفظ پذیر ترقیاتی اہداف برائے صنفی برابری (ایس ڈی جی 5) اور مناسب کام و اقتصادی نمو (ایس ڈی جی 8) حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

بیٹر دین کیش الائنس کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روتھ گڈوین-گروئن نے کہا کہ ایچ اینڈ ایم گروپ نے یہ محسوس کرتے ہوئے ایک دلیرانہ قدم اٹھایا ہے کہ نقد-لین دین فراہم کنندگان کے ملازمین کو بااختیار کرنے اور اداروں میں شفافیت بڑھانے سے کس طرح روکتی ہیں۔ اور یہ غیر موثر  ہے۔ ایچ اینڈ ایم گروپ کی قیادت ڈیجیٹل ادائیگی پر منتقلی اور مجموعی ترقی میں حصہ لینے کے لیے اپنے شعبے کے علاوہ بھی دیگر اداروں کو تحریک دینے کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں تحفظ پذیر ترقیاتی اہداف میں بھی مدد کرے گی۔

مزید برآں ایچ اینڈ ایم گروپ دنیا میں سب سے زیادہ نامیاتی سوت اور بیٹر کاٹن استعمال کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے اور یہ سماجی اور ماحول دوست معیارات اور اقدامات کے لیے ثابت قدم ہے۔ کاٹن فراہم کرنے والی دنیا تک ڈیجیٹل طرز ادائیگی کو وسعت دینے سے 250 ملین افراد تک ممکنہ رسائی حاصل ہوگی جن میں وہ چھوٹے کاشتکار بھی شامل ہیں جو ڈیجیٹل طرز ادائیگی اور عام معاشی سہولیات تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔ صارف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری اور جوابدہی کے مطابق تیار کیا گیا ڈیجیٹل ادائیگی پر منتقلی کا طریقہ ایچ اینڈ ایم  گروپ کو اپنے فراہم کنندگان کی فہرست میں اضافہ کرنے کے قابل بنائے گا اور ایک پائیدار، پیداواری زرعی شعبہ تخلیق کرنے میں مدد فراہم کرے گا جو دراصل سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ ایجنڈے کی بنیاد کو فروغ دیتا ہے۔

بیٹر دین کیش الائنس نے نئی تحقیق شائع کی ہے جس میں بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے والے ان منتخب کارخانوں کا جائزہ لیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملازمین کو اجرت کی ادائیگی کے طریقے کو نقد سے ڈیجیٹل پر منتقل کر دیا ہے۔ کارخانے کے نقطہ نظر سے یہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی پر منتقلی سے کارخانوں کو ایک ماہ میں تقریباً 750 گھنٹے کی بچت ہوئی، جس کی بنیادی وجہ ملازمین کی کام کے دوران دیگر مصروفیات میں کمی ہے، نیز دو سالوں کے دوران ملازمین کو ہائبرڈ موبائل منی / بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی کرنے سے اخراجات میں 85 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت کی طرف پیش قدمی سے ماضی میں بینک سے متعلق نہ جاننے والے ملازمین کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل ہونے اور مالی امور میں مہارت کے حصول سے مالیاتی شمولیت میں بھی مدد ملتی ہے۔

ایچ اینڈ ایم گروپ بیٹر دین کیش الائنس کے دیگر 55 اراکین کے ساتھ شامل ہوگیا ہے اور اب اسے ڈیجیٹل طرز ادائیگی کی طرف جلد منتقلی کے لیے الائنس اور اس کے اراکین کی پیش کردہ تکنیکی مہارت اور معلومات تک رسائی حاصل ہوگی جس سے اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے اور مالیاتی شمولیت میں اضافے میں مدد ملے گی۔

بیٹر دین کیش الائنس کے بارے میں

بیٹر دین کیش الائنس غربت میں کمی اور اجتماعی نمو کو تحریک دینے کے لیے نقد سے ڈیجیٹل ادائیگی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے والی حکومتوں، اداروں اور بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ شراکت داریاں کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کیپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ اس کے دفتر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے www.betterthancash.org ملاحظہ کیجیے، @BetterThan_Cash فالو کیجیے اور خبروں کے لیے سبسکرائب کیجیے۔

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

To improve the lives of nearly 2 million workers, H&M group will encourage suppliers to pay workers digitally

H&M group becomes the first global fashion brand to join the United Nations’ Better Than Cash Alliance

NEW YORK, March 8, 2017 /PRNewswire/ — The Swedish fashion company H&M group announced today that it will encourage its suppliers to pay their workers through mobile money or other digital forms to improve the livelihoods of its workforce, enhance transparency and cut factory costs.

CG77018LOGO

This effort comes as the company officially joins the Better Than Cash Alliance, a United Nations-based partnership of governments, companies and international organizations accelerating the transition from cash to digital payments.

Digital payments are an efficient and scalable way to improve the lives of the employees of our suppliers. They offer a faster, safer and more transparent way to receive their salary, increase financial inclusion and support women’s economic independence,” said Gustav Loven, Social Sustainability Manager at H&M group. “Also, for our suppliers, paying wages digitally can generate savings, increase security and provide more accurate data on wages.”

Sixty-five percent of the 1.6 million people employed along H&M group’s supply chain are women, many of them with limited access to the financial services they need to create a better life for themselves and their families. Many factory workers worldwide are paid entirely in cash, which entails cumbersome, expensive and dangerous processes for both factories and workers. Encouraging suppliers to pay wages through digital channels, such as bank accounts, cards or mobile money, will build on H&M group’s sustainability commitment to work with its business partners to promote good working conditions, fair living wages and sustainable economic growth.

As the majority of the benefits will be realized by female workers, this move is a prime example of a corporation working to achieve the Sustainable Development Goals on Gender Equality (SDG 5) and Decent Work and Economic Growth (SDG 8).

H&M group is taking a bold step in recognizing how cash-heavy supply chains limit efforts to empower workers and prevent companies from increasing transparency. And, it’s inefficient,” said Dr. Ruth Goodwin-Groen, Managing Director of the Better Than Cash Alliance. “H&M group’s leadership will help inspire other companies in the industry, and beyond, to make the shift to digital payments and contribute to inclusive growth, as well as to the Sustainable Development Goals, in emerging markets.”

In addition, H&M group is one of the leading users of organic cotton and Better Cotton in the world, and it adheres to socially and environmentally sustainable standards and actions. Expanding digital payments to the world’s cotton supply chain could potentially reach 250 million people, including smallholder farmers who currently have limited access to digital payment systems and financial services in general. Digitizing payments, when designed responsibly and responsively to consumer needs, can enable H&M group to grow its supplier base and help create a sustainable, productive agricultural sector, the promotion of which is a cornerstone of the Sustainable Development Agenda.

The Better Than Cash Alliance has published new research examining a selection of garment manufacturing factories in Bangladesh that have transitioned workers’ wage payments from cash to digital in the past five years. From a factory perspective, the analysis shows that transitioning to digital payments can save factories approximately 750 hours of production a month, due to workers spending less time away from the production line and reduce costs by more than 85 percent within two years of paying workers via a hybrid mobile money/bank account model. At the same time, moving toward a digital economy supports financial inclusion by drawing previously unbanked workers into the formal financial system and building financial skills.

H&M group joins 55 other Better Than Cash Alliance members, and will have access to the knowledge and technical expertise offered by the Alliance and its members to accelerate the shift to digital payments, helping to advance economic growth and expand financial inclusion.

About Better Than Cash Alliance
The Better Than Cash Alliance is a global partnership of governments, companies, and international organizations that accelerate the transition from cash to digital payments in order to reduce poverty and drive inclusive growth. The United Nations Capital Development Fund serves as the secretariat. To learn more, visit www.betterthancash.org, follow @BetterThan_Cash and subscribe for news.

Logo – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

نئی اقوام متحدہ تحقیق 10 سرفہرست طریقوں کا خاکہ کھینچتی ہے جس سے حکومتیں اور ادارے ڈجیٹل معیشت تخلیق کر سکتے ہیں

پہلی بار 25 ممالک سے نئے شواہد ظاہر کرتے ہیںکہ حکومتیں اور ادارے کس طرح نقد سے منتقل ہو سکتے ہیں، کیونکہ میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ ممکنہ 3.7 ٹریلین ڈالرز جی ڈی پی اضافے کو ظاہر کرتا ہے

نیو یارک، 21 ستمبر 2016ء/پی آرنیوزوائر/– اقوام متحدہ میں قائم بیٹر دین کیش الائنس کی نئی رپورٹ دس معقول اقدامات ظاہر کرتی ہے جو حکومتیں اور ادارے نقدی کا غلبہ رکھنے والی معیشت کو پیچھے چھوڑ اور ادائیگیوں کی ڈجیٹائزیشن کو قبول کر سکتی ہیں۔

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

یہ رپورٹ عین اس وقت سامنے آئی ہے جب میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ نے خاکہ پیش کیا ہے کہ ڈجیٹل مالیات 2025ء تک 3.7 ٹریلین ڈالرز کا جی ڈی پی اضافہ، تمام شعبوں میں 95 ملین نئی ملازمتیں تخلیق اور ابھرتے ہوئے ممالک میں رساؤ میں سالانہ 110 بلین ڈالرز بچا سکتی ہیں۔

نقد سے ڈیجیٹل ادائیگی میں منتقلی کے فوائد کو سہارا دینے والے بڑے شواہد موجود ہیں لیکن اپنے بل بوتے پر نفاذ حکومتوں کے لیے مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی معیشت کامیابی سے تخلیق کرنے کو، جہاں ڈجیٹل ادائیگی بڑے پیمانے پر دستیاب ہو، سرکاری و نجی شعبے کے کئی اداروں کے درمیان ایک باہمی طریقے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیٹر دین کیش الائنس نے تحقیق 25 ممالک کا جائزہ لیا، جن میں بھارت، نائیجیریا، تنزانیا، گھانا، برازیل اور میکسیکو سمیت دیگر شامل ہیں۔ جو سامنے آیا وہ دس ‘سرعت پذیر’ یا اقدامات تھے جو معیشتوں کو تخلیق دینے میں آگے بڑھانے پر مضبوط اثر رکھنے والے ثابت ہوئے جہاں ڈجیٹل ادائیگی بڑے پیمانے پر دستیاب ہے۔

بیٹر دین کیش الائنس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روتھ گڈون-گروئن نے کہا کہ “ڈجیٹل مالیات پر سب کے لیے نئی میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ تحقیق کو ابھرتے ہوئے ممالک کی قیادت کو متاثر کرنا چاہیے کہ وہ ایسی معیشتیں تخلیق کرنے کی طرف تیزی سے قدم بڑھائیں جہاں ڈجیٹل ادائیگیاں وسیع پیمانے پر دستیاب ہوں۔ ہم آج بھی ایک تحقیق جاری کر چکے ہیں جو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح حکومتیں اور ادارے نقد سے دور منتقل ہو سکتے ہیں۔ ایک ڈجیٹل معیشت کا قیام کافی محنت طلب ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ نئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر قابل رسائی ہے اور یہ مجموعی نو کو تحریک اور لوگوں کو غربت سے باہر نکلنے میں مدد دے گا۔”

یہ رپورٹ ڈجیٹل ادائیگی میں منتقلی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ رپورٹ میں جمع کیا گیا ڈیٹا ڈجیٹل ادائیگی کے ساتھ آنے والے فوائد کے ثبوت فراہم کرتا ہے، جس میں شامل ہیں:

  • بھارت ایندھن پر سبسڈیز کو ڈجیٹائز کرکے ہر سال 2 بلین امریکی ڈالرز بچاتا ہے ساتھ ہی ادائیگی رساؤ کو بھی کم کر رہا ہے۔
  • تنزانیا میں کاروبار-سے-حکومت ادائیگی فراہمی کو ڈجیٹائز کرنے سے سالانہ آمدنی رساؤ میں 175 ملین امریکی ڈالرز کی درستگی آئی ہے اور اس میں 1.8 ارب امریکی ڈالرز تک جی ڈی پی کو بہتر بنانے کا امکان ہے۔
  • برازیل حکومت کی جانب سے عوام پر خرچ کی گئی رقوم کے معاملے پر آنے والے اخراجات میں 30 فیصد سے زیادہ بچائے گئے۔
  • 20,000 پوائنٹ-آف-سیل ڈیوائسز کی تنصیب کے نتیجے میں میکسیکو نے 2014ء اور 2015ء کے درمیان اس قسم کے معاملے میں 17 فیصد شرح نمو کا تجربہ کیا۔

شواہد کے تجزیے نے 10 اقدامات کی شناخت کی جانب رہنمائی کی کہ دوسرے ممالک کس طرح پیسے بچانے، محصول کے ذریعے آمدنی میں اضافے اور بہتر زندگیوں کی طرف رہنمائی کے لیے اپنے شہریوں کو مواقع بڑھانے کو تیز کر سکتے ہیں۔

10 سرعت پذیر یہ ہیں:

  1. مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں میں تاجر قبولیت بنیادی ڈھانچے کو ترویج دیں تاکہ صارفین اور بڑی ادائیگی کرنے والوں کے رمیان بھی استعمال کو بڑھایا جا سکے۔
  2. ڈجیٹل ادائیگی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی کے لیے موجودہ نیٹ ورکس یا پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھانا تاکہ ڈجیٹل ادائیگی خدمات کو زیادہ تیزی سے بڑھایا جا سکے اور ایسے طریقے سے جو لاگت کو کم کرے۔
  3. اداروں کے لیے ایک مشترکہ ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تاکہ سرکاری و نجی اداروں دونوں میں داخلے اور جدت طرازی کے فروغ میں رکاوٹوں کو کم کیا جائے۔
  4. انٹرآپریبلٹی کا قیام تاکہ ڈجیٹل معاملے کو ایک واحد ادائیگی پلیٹ فارم تک محدود کرنے والی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور تسلیم شدگی اور ادائیگی قبولیت کو بڑھایا جائے۔
  5. ایک انوکھے شناختی پروگرام کی تعمیر جس تک سرکاری و نجی دونوں شعبوں کے ادارے رسائی حاصل کر سکے تاکہ ڈجیٹل ادائیگی اور مالیاتی شمولیت کو چلانے والی شناختوں کی تصدیق کریں۔ صارفی حفاظت کے ڈھانچے مناسب پرائیویسی، سکیورٹی اور ڈیٹا کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
  6. انفرادی طور پر لوگوں کی جانب مالی لین دین کے لیے بارہا استعمال ہونے والے عام طور پر زیر استعمال معاملات کو ڈجیٹائز کرنا ڈجیٹل ادائیگی سے مانوسیت میں اضافہ اور ڈجیٹل معاملات کےحجم کو بڑھا سکتا ہے۔
  7. حکومتی ادائیگیوں کو ڈجیٹائز کرنا تاکہ معاملے پر آنے والی لاگت کو کم اور ادائیگیوں تک شہریوں رسائی کو بڑھا کر ڈجیٹل ادائیگی کے ماحول کو جدید بنایا جائے۔
  8. حکومتی رسیدوں کو ڈجیٹائز کرنا تاکہ افراد اور اداروں میں ڈجیٹل ادائیگی کے ساتھ تسلی کو فروغ دیا جائے اور یوں بالآخر رساؤ کو کم اور آمدنی کو بڑھایا جائے۔ نجی شعبے کےساتھ تعاون کلید ہے۔
  9. ایسے احکامات کرنا جو جدت طرازی اور ذمہ دار مشقوں کو فروغ دیتے ہیں، موجود قوانین کی رکاوٹوں اور کمی بیشی کو سمب کر اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے۔
  10. پالیسیوں کو نافذ کرنا جو ڈجیٹل ادائیگی کی سہولت کو فائدہ پہنچائیں اور بہتر بنائیں تاکہ ڈجیٹل ادائیگی تک بڑے پیمانے پر رسائي اور قبولیت کو تیز تر کیا جا سکے۔

ان سرعت پذیروں کی سوجھ بوجھ حکومتوں کو اس معلومات کو مناسب مارکیٹوں میں بہتر انداز میں لاگو کرنے کے لیے خاص طریقے بنانے میں مدد دے گی۔ رپورٹ کے ساتھ ایک ٹول کٹ منسلک ہے جو پالیسی سازوں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایسے پروگرام بنانے میں مدد دے گی۔

بیٹر دین کیش الائنس حکومتوں، اداروں اور بین الاقوامی انجمنوں کی ایک عالمی شراکت داری ہے جو نقد سے ڈجیٹل ادائیگی کی جانب منتقلی کو تیز کرتی ہے تاکہ غربت کا خاتمہ اور مجموعی نمو کو تحریک دی جا سکے۔ اقوام متحدہ کا کیپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ اس کے سیکریٹیریٹ کی خدمات انجام دیتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے www.betterthancash.org، فالو کیجیے @BetterThan_Cash۔

پاکستان د پیسو جمع کولو ډیجی ټلایزنګ سره میلینو اولسوالو اقصاد ته راوستلو منصوبه کوی

د پاکستان حکومت د موثر مارکیټ ډھانچے لپاره اور غوره اقتصادی ترقی لپاره د متحده قامونو ‘د نغد نه غوره الائنس” کی ګډون کړی دی

نیو یارک/۲۲ ستمبر ۲۰۱۵/پی آرنیوزوایر /. د پاکستان حکومت اعلان کړی دی چه هغه به د یو این او یا ګډ قامو د “کیس نه غور الائنس” کی ګډون لپاره ډیجیټل فنانشل اکانومی یا اقتصاد پر لور ځی. د دی سره په مییلینونو خلق لوی اقتصاد په لور راشی او اقتصاد په لویه وده اوکړی.

Government of Pakistan۔

Photo – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150922/269306

د پاکستان لخوا دا اعلان په داسے وخت کی رامخ ته شوی دی راتلونکه ونیزه کی به د یونایټډ نیشنز نړی وال رهنما نوی سسټین ایبل ډولپمنټ ګول یا د مسلسل ترقی مقاصد وړاندی کوی په کوم کی د شخصی اقصادی خپلواکی او لوی اقتصادی ودی ترلاسه کولو لپاره د ډیجیټل فنانشل خدماتو کردار هم شامل دی.

پاکستان د ډیجیټل فنانشل خدماتو نه ډیر ښه خبر دی کوم چه د راتلونکی د تحفظ لپاره د غریبانو مرسته کوی چه دا غریبان د خپلو کوروالو د صحت او د ماشومانو د تعلیم ورکړی یا په یو کاروبار کی دسرمایه کاری وکړی. په کال ۲۰۱۵ کی رسمی قتصادی رسای په پاکستان کی ۲۳ فیصدی وه او د بانکونه سره تړون لرو بالغو خلقو آبادی کی ۱۶ فیصدی زیاتوالی په نظر راغلی دی.پاکستان “د نغد نه غوره الائنس” په ګډون سره د قصادی ګډون د پرمختګ لپاره نوی ټیکنالوجی وړاندی کوی.

“ډیجیټل پیمنټ یو اهم د عملی ګام دی کوم چه زمونږ د خلقو د ګډون د مقصد سره اولسوالو د ګډون کی مدد کوی” دا خبره د پاکستان وزیر خزانه اسحاق ډار کړی ده او هاغلی زیاته کړه چه”زمونږ د مسلسل اقصادی ترقی د وژن ترلاندی خپل اولس ته د یو پاک او ډجیټیل اقتصادی خدماتو ته رسائی ورکو.” روان کال په د مئی په میاشت کی وزیر اسحاق ډار د پاکستان اولنی قامی اقصادی شمولیتی اسټریټجی ) این ایف آئی ایس ) د اسټیټ بینک آف پاکستان او سیکورټی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان په مرسته سره جاری کړی وو کوم چی په پاکستان د نړی وال اقصاد شمولیت یا قامی وژن وړاندی کوی. ښه ډیجیټل پیمنټ نظام په حکومت له په دی کی مدد ورکړی چه هغه د پیسو په جمع وکولو کی خنډان لری کړی او د نقدو غالب اقتصاد کی د سوشل فایدے تقسیم اوکړی.په نقدو جمع کولو ،باندی ډیر لوی خرڅ راځی په کوم کی چه د ټرانسپورټ او سیکورټی خرڅ شامل دی.د نړی په نورو برخو کی ډیجیټل پیمنټ په خرڅ باندی لوی کنړول موندلی دی. دمثال په توګه د میسکیو حکومت د تنخواګانو، پنشن او سوشل ویلفیر تقسیمه ولو لپاره خپل د پیسو جمع کولو نظام ډیجیټلایز کړی نه په دی خرڅ کی ۱.۲۷ بیلین ډالر پوری کم شوی.

Better Than Cash Alliance www.betterthancash.org.

پاکستان ډیر خواهش لری چه خپل موجوده سوشل ویلفیر ګامونه د یو ډیجیټل پیمنټ نظام لاندی راولی . پاکستان به په راتلونکی کی د خپل سوشل سیکټر پروګرامونو لپاره یو ډیجیټل نظام راولی. د نغدو نه غوره الائنس په ذریعه په حکومت پاکستان د نورو هیوادونه نه د پیچیده تکنیکی، لاجسټکل او ریګولیټری چیلنجونو لپاره مرسته حاصله کړی چه خپل نظام مضبوط او د عام خلقو لپاره د ډیجیټل پیمنټ نظام آرزان کړی.

“پاکستان د ډیجیټل اقتصاد په لور ی یو غوره ګام اوچتوی کوم سره چه په خلک ډیره فایده ومومی” دا خبره د نغدو نه غوره الائنس میجنګ ډاریکټر ډاکټر راته ګوډون ګرون اوکړه او زیاته ی کړه چه پاکستان کی د صحت، تعلیم ، زراعت او د زنانو د خپلواکی په لوری په اهم ګام د ډیجیټل پیمنټ نظام کیدی شی او د دی نظام په ذریعه به پاکستان د نړی وال مسلسل ترقی مقاصدو ترلاسه کولو جوګه جوړ شی. مونږ د پاکستان په لوری ډیر په خوشالی ګورو چه زمونږ په شراکت سره په دا هیواد د خپل کامیابی تعمیر اوکړو”
په هقله د نغد نه غوره الائنس( بټردین نغد الائنس(

د نغد نه غوره الایسن د حکومتونو، کمپنیانو او نړی وال تنظیمونو یا الائنس دی کوم چه د نغد نه ډیجیټل پیسو جمع کولو اړخ ته دا قتصاد بوتلو لپاره کارکوی چه غریبوالی کمه کړی او اقتصاد له وده ورکړی. د یونایټډ نیشنز کپټل ډولپمنټ فنډ دی سیکریټریټ دی. د نورو

مالوماتو لپاره وزټ کړیwww.betterthancash.org
مونږ په ټویټر فالو کړی@BetterThan_Cash
یا زمونږ خبرونه دلته سبسکرائب کړی.

لوګو:http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

پاکستان کا ادائیگی کو ڈیجیٹائز کرکے معیشت میں لاکھوں افراد کو شامل کرنے کا منصوبہ

حکومت پاکستان نے اجتماعی اقتصادی نمو اور زیادہ موثر مارکیٹ ڈھانچہ تخلیق کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت اختیار کرلی

نیو یارک، 22 ستمبر 2015 — حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں قائم بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت اختیار کرکے زیادہ ڈيجیٹل معیشت کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھے گا۔ یہ پاکستان کے لاکھوں شہریوں کی بہتر مالیاتی شمولیت اور اس کی معیشت کی اجتماعی نمو کے لیے راستہ ہموار کررہی ہے۔

Government of Pakistan۔

تصویر: – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150922/269306

پاکستان کا اعلان عین اس وقت آیا ہے جب اگلے ہفتے عالمی رہنما اقوام متحدہ میں نئے تحفظ پذیر ترقیاتی اہداف کرنے والے ہیں، جو وسیع اقتصادی نمو اور انفرادی مالیاتی اختیار کے حصول میں ڈيجیٹل مالیاتی خدمات کے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
پاکستان ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے ڈيجیٹل مالیاتی خدمات سے مکمل طور پر آشنا ہے، جو غریب افراد کو مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد ، ان کے اہل خانہ کو صحت اور بچوں کو تعلیم ، یا کاروبار میں سرمایہ کاری فراہم کرسکتی ہے۔ 2015ء میں پاکستان میں باضابطہ مالیاتی رسائی 23 فیصد ہے اور بینک کی سہولیات رکھنے والی بالغ آبادی بڑھتے ہوئے 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت کے ساتھ حکومت پاکستان مالیاتی شمولیت کو بڑھانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واضح مثبت اقدام اٹھا رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ “ڈیجیٹل ادائیگی ایک اہم اور عملی قدم ہے جو شہریوں کے لیے ہمارے مالیاتی شمولیت اہداف کو آگے بڑھانے اور حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ تحفظ پذیر اقتصادی نمو کے لیے ہمارا وژن تمام شہریوں کو شفاف اور باعزت مالیاتی خدمات تک رسائی دینا ہے۔ یہ پاکستان میں ہر شخص کے لیے کاروبار کرنے اور اقتصادی طور پر خودمختار بننے کے مواقع تخلیق کرے گی۔” مئی 2015ء میں اسحاق ڈار نے پاکستان نے بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی شراکت داری سے پہلی قومی مالیاتی شمولیت حکمت عملی (این ایف آئی ایس) جاری کی جو پاکستان میں آفاقی مالیاتی شمولیت کے لیے قومی وژن فراہم کررہی ہے۔

Better Than Cash Alliance www.betterthancash.org.

بہتر ڈیجیٹل ادائیگی نظام حکومت کو نقد کی جانب میلان رکھنے والے ملک میں ادائیگی اور تقسیم کاری کےسماجی فوائد میں اپنی رکاوٹوں پر قابو پانے میں بھی مدد دے گا۔ نقد ادائیگی دستی ریکارڈ ترتیب، حفاظت اور نقل و حمل سے منسلک اہم اخراجات رکھتی ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں حکومتی ادائیگی کا ڈیجیٹائز ہونا کئی فوائد اور اخراجات میں کمی لایا ہے۔ مثال کے طور پر حکومت میکسیکو نے ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل اور مرکزی حیثیت دے دی ہے، جس سے تنخواہوں، پنشن اور سوشل ویلفیئر کی تقسیم پر اخراجات میں تقریباً 1.27 ارب امریکی ڈالرز کی کمی آئی ہے۔

پاکستان اپنے موجودہ سوشل ویلفیئر منصوبوں کو ڈیجیٹائزڈ ادائیگی نظام کے تحت لانا چاہ رہا ہے اور آنے والے اہم سماجی شعبے کے پروگراموں کے لیے ڈیجیٹل نظام کے استعمال کو جاری رکھے گا۔ بیٹر دین کیش الائسب کے ذریعے حکومت دیگر حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ای-گورننس ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں درپیش پیچیدہ تکنیکی، انتظامی اور انضباطی چیلنجز سے نمٹنے اور قابل مقدور قیمت میں زیادہ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ادائیگی کو ممکن بنانے کے قابل ہوگی۔

بیٹر دین کیش الائنس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روتھ گڈوِن-گروئن نے کہا کہ “پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم اٹھا رہا ہے جو اس کے تمام افراد کو خدمات دے سکتا ہے۔ ادائیگی کو ڈیجیٹائز کرنا پاکستان میں صحت، تعلیم، زراعت اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے سرکاری حکمت عملیوں کو آگے بڑھانے اور مجوزہ عالمی تحفظ پذیر ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں ایک کلیدی قدم ہے۔ ہماری نظریں حکومت پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر مرکوز ہیں جو اپنی کامیابی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔”

بیٹر دین کیش الائنس کے بارے میں
بیٹر دین کیش الائنس غربت میں کمی اور اجتماعی نمو کو ترحیک دینے کے لیے نقد سے ڈیجیٹل ادائیگی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے والی حکومتوں، اداروں اور بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ شراکت داریاں کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کیپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ اس کے دفتر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے www.betterthancash.orgملاحظہ کیجیے، @BetterThan_Cashفالو کیجیے اور خبروں کے لیے سبسکرائب کیجیے۔

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

Pakistan Plans to Bring Millions More Citizens into the Economy by Digitizing Payments

Government of Pakistan joins the United Nations’ Better Than Cash Alliance to create inclusive economic growth and a more efficient market structure
NEW YORK, Sept. 22, 2015 /PRNewswire/ — The Government of Pakistan announced it will continue to move toward a more digital financial economy by joining the United Nations-based Better Than Cash Alliance. This is paving the way to greater financial inclusion for millions of its citizens and inclusive growth for its economy.

Government of Pakistan.

Photo – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150922/269306

Pakistan’s announcement comes just as new Sustainable Development Goals will be launched by world leaders at the United Nations in next week, drawing a spotlight on the role of digital financial services in achieving broad economic growth and individual financial empowerment.

Pakistan is fully aware that digital financial services, driven by digital payments, can help poor people save for the future, provide for their family’s health and children’s education, or invest in a business. In 2015, formal financial access in Pakistan is 23% and adult banked population has increased to 16%. By joining the Better Than Cash Alliance, the government of Pakistan is taking clear positive action to further leverage new technologies to expand financial inclusion.

“Digital payments are a critical and practical step that help advance and achieve our financial inclusion goals for our citizens,” said Federal Finance Minister Senator Ishaq Dar, “Our vision for sustainable economic growth is to ensure all citizens have access to fair and dignified financial services. This will create more opportunities of doing business and economically empower everyone in Pakistan.” In May 2015, Minister Dar launched Pakistan’s first ever national financial inclusion strategy (NFIS) in partnership with the State Bank of Pakistan (SBP) and the Securities and Exchange Commission of Pakistan (SECP) offering a national vision for universal financial inclusion in Pakistan.

Better digital payments systems will also help the government overcome some of its hurdles of making payments and distributing social benefits in a cash-dominant economy. Cash payments incur significant costs associated with manual record keeping, security, and transportation. In other parts of the world, digitizing government payments has brought many benefits and cost savings. For example, when the Government of Mexico digitized and centralized payments, the cost to distribute wages, pensions, and social welfare dropped by nearly US$1.27 billion.

Better Than Cash Alliance www.betterthancash.org.

Pakistan is eagerly bringing its current social welfare initiatives under the digitized payment systems and would continue to use digital systems for forthcoming flagship social sector programs. Through the Better Than Cash Alliance, the government will be able to collaborate with other governments and gain the support in overcoming the complex technical, logistical, and regulatory challenges in strengthening its e-governance framework and making digital payments more widely at affordable cost.

“Pakistan is taking an important step forward in building a digital economy that can serve all of its people,” said Dr. Ruth Goodwin-Groen, Managing Director of the Better Than Cash Alliance. “Digitizing payments is a key step to advancing government strategies related to health, education, agriculture and women’s empowerment in Pakistan and to achieving the proposed global Sustainable Development Goals. We look forward to our partnership with the government of Pakistan as they build on their success.”

About Better Than Cash Alliance
The Better Than Cash Alliance is a partnership of governments, companies, and international organizations that accelerate the transition from cash to digital payments in order to reduce poverty and drive inclusive growth. The United Nations Capital Development Fund serves as the secretariat.To learn more, visit www.betterthancash.org, follow @BetterThan_Cash and subscribe for news.

Logo – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO