Category Archives: Other Language

چین کی اعلی  ترین جامعہ کی جدت طرازی بین الاقوامی کیمپس کاآغاز

ہانگچو، چین، 20 نومبر 2017ء/سنہوا-ایشیانیٹ

21 اکتوبر 2017ء کو زی جیانگ یونیورسٹی انٹرنیشنل کیمپس کا باضابطہ آغاز ہوا۔ تقریباً ایک سال قبل امریکن اکیڈمی آف انجینیئرنگ کے فیلو پروفیسر فلپ ٹی کرین چین میں زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو) آئے تھے۔ “مشرقی کیمبرج” کی شہرت رکھنے والی اس جامعہ میں انہوں نے زی جیانگ یونیورسٹی/یونیورسٹی آف الینوائے اربانا-شیمپین انسٹیٹیوٹ (زیڈ جے یو-یو آئی یو سی انسٹیٹیوٹ) کے کل وقتی ڈین کا نیا خطاب حاصل کیا۔

مشترکہ ادارہ زیڈ جے یو کے ہائننگ انٹرنیشنل کیمپس میں قائم کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تعلیم کے نئے نمونے کی حیثیت سے انسٹیٹیوٹ یو آئی یو سی ، اور زیڈ جے یو کے اتنے  اعلی نصاب تعلیم اور وسائل کے ذریعے عالمی معیار کی انجینئرنگ تعلیم فراہم کر ےگا۔ دریائے یانگزے کے ڈیلٹائی خطے کے مرکزی علاقے میں خلیج ہانگچو میں واقع انٹرنیشنل کیمپس تقریباً80 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، زیڈ جے یو-امپیریئل جوائنٹ لیب فار اپلائیڈ ڈیٹا سائنس اور زیڈ جے یو-یو او ای (یونیورسٹی آف ایڈنبرا) انسٹیٹیوٹ قائم ہے۔ خلیج ہانگچو کے علاقے کو اقتصادی جدّت طرازی کا محرّک بنانے کے چینی حکومت کی پرعزم منصوبہ بندی کے ساتھ، یا سان فرانسسکو خلیج کے علاقے کے چینی ورژن کی تیاری کے لیے، اس نئے زیڈ جے یو کیمپس کی طرف کافی توجہ دی گئی ہے۔

“انٹرنیشنل کیمپس کی تعمیر زی جیانگ یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور کامیابی ہے۔ پروفیسر سونگ یونگ ہوا، ایگزیکٹو نائب صدر زیڈ جے یو اور بانی ڈین انٹرنیشنل کیمپس نے کہا۔ بین الاقوامی حیثیت کے کرنے والے اسکول چلانے کی مشق کے کئی سالوں کے بعد زیڈ جے یو نے 2013ء میں ایک 4ایس گلوبل اسٹریٹجی”  بنائي جو ممتاز اور موثر ہے، جنہیں “تزویراتی”، “جوہری”، “تحفظ پذیر” اور “خدمت رخی” کے نام دیے گئے۔ چین میں نئے قاعدے کی بنیاد پر، ‘4جی گلوبل اسٹریٹجی’ زیڈ جے یو کی بین الاقوامیت کے لیے نظری و عملی ڈھانچہ قائم کرتی ہے، جبکہ عالمی معیار کی موجودہ جامعات کی اچھی مشقوں کو بھی ترتیب دے رہی ہے۔” سونگ نے کہا۔

زیڈ جے یو بین الاقوامیت کی سمت اختیار کرنے والی چین کی سرفہرست جامعات میں شامل ہے۔ حالیہ چند سالوں میں “سائنس اور تعلیم کے ذریعے ملک کی تجدید” اور “باصلاحیت افراد کے ساتھ ملک کو مضبوط کرنے” کی قومی حکمت عملیوں کے نفاذ کے ساتھ، چین کی اعلیٰ تعلیم نےآزادی اور ترقی کے نئے نمونے کو ظاہر کیا اور “ڈبل فرسٹ کلاس انیشی ایٹو” کے ذریعے تازہ ترین حکومتی مدد کے ساتھ عالمی اعلیٰ تعلیم میں مر کز  کی  جانب گامزن ہے۔

چین بیرون ملکی تعلیم کے لیے طلبہ کی بڑی تعداد برآمد کررہا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی طالب علم چینی اداروں میں درجہ سوم کی تعلیم کے خواہشمند ہیں، جو انسانی وسائل کی ترقی میں بین الاقوامیت کی زیادہ بلند سطح کی جانب رہنمائی کررہی ہے۔ 2016ء بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کی تعداد 545,000 تک پہنچی، جو 180 ممالک اور خطوں کا احاطہ کر رہے ہیں اور چین غیر ملکی طلبہ کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اسی سال 443,000 غیر ملکی تعلیم چین میں علم حاصل کر رہے تھے، جو اسے ایشیا میں نمبر ایک مقام بنا رہے ہیں۔ مزید برآں، چین غیر ملکی باصلاحیت افراد کے لیے ایک مضبوط “مقناطیسی اثر”  ظاہر کر رہا ہے، جو 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد بیرون ملک تعلیم حاصل کرکے وطن لوٹنے والے چینی طالب علموں کی سب سے بڑی لہر کو ظاہرکررہا ہے۔ 2016ء کے اختتام تک چین واپس لوٹنے والے طالب علموں کی کل تعداد 2.65 ملین سے بڑھ چکی تھی۔

1897ء میں قائم ہونے والا زیڈ جے یو چینیوں کی جانب  سے قائم کردہ اعلیٰ تعلیم کے اوّلین جدید اداروں میں سے ایک ہے۔ 120 سال کی ترقی سے یہ چین میں سرفہرست جامعات میں سے ایک بن چکا ہے۔ اسینشل سائنس انڈیکیٹر (ای ایس آئی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، نومبر 2017ء میں، زیڈ جے یو 18 شعبوں میں سرفہرست 1 فیصد میں شمار ہوتی ہے اور 5 شعبوں میں عالمی تعلیمی اداروں میں سرفہرست 50 میں شامل تھی، جو اسے چین کے دیگر اداروں  جن کی کارکر دگی ي بہترین ہے۔

چینی و بین الاقوامی جامعات کے ساتھ مزید تعاون کے ذریعے چین اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اکٹھا کر رہا ہے۔ 2016ءکے اختتام تک چین 188 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلے کے تعلقات قائم کرچکا ہے، جس نے 46 بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلہ  کیا، اور 47 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی اسناد کی باہمی تسلیم شدگی کے معاہدے کیے۔ 2,480 چین-بین الاقوامی تعاون- سے چلنے والے ادارے اور منصوبے موجود ہیں جن کی منظوری وزارت تعلیم، چین دے چکی ہے۔

ستمبر 2017ء کے تک زیڈ جے یو پانچ براعظموں کے 34 ممالک کی 170 جامعات یا تعلیمی اداروں کے ساتھ مختلف سطح کے تعاون کرچکی ہے۔ 2016ء میں 4,800 سے زیادہ طلبہ نے بین الاقوامی تبادلے میں حصہ لیا اور 3,400 سے زیادہ ڈگری طلبہ اس کی کیمپس کی جانب متوجہ ہوئے۔

چینی جامعات کی بین الاقوامیت پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر کرین نے کہا کہ عالمگیریت کے پس منظر میں انسانیت کو زیادہ سے زیادہ یکساں چیلنجز کا سامنا ہے؛ دریں اثناء، عالمگیریت اعلیٰ تعلیم میں ہمیں غیر معمولی مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ بین الثقافتی اور بین العلاقائی تعاون کے ذریعے طلبہ تحقیق و جدت طرازی کی صلاحیت کو بڑھانے کے زیادہ مواقع پائیں گے، اور مستقبل میں رہنمائی کرنے والے تخلیقی باصلاحیت افراد بنیں گے اور اقتصادی نمو اور سماجی ترقی کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے۔

ذریعہ: زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو)

تصویری منسلکات کے روابط:

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=301208

 

 

 

‫Gemalto تصدر أول نموذج “متكامل” لإنترنت الأشياء في العالم قادر على إنشاء اتصال LTE

يقدم النموذج الجديد تغطية LTE ذات 12 نطاق بالإضافة إلى إمكانية الانتقال إلى تقنية الجيل الثالث أو تقنية الجيل الثاني في جهاز واحد.

أمستردام، 09 أكتوبر 2017 – شركة Gemalto، الرائدة على مستوى العالم في مجال الأمن الرقمي، تقوم بتوسيع نطاق اتصالات إنترنت الأشياء الصناعية من خلال إنجاز مرموق في مجال الهندسة اللاسلكية، عن طريق أول وحدة لإنترنت الأشياء في هذا القطاع تقدم اتصالًا عالميًا على 12 نطاقًا من نطاقات اتصالات LTE، بالإضافة إلى تغطية خلوية بشبكات الجيلين الثاني والثالث من خلال جهاز واحد فقط. وهذا من شأنه أن يعمل على تبسيط شديد للوجستيات وأعمال التوزيع إلى جانب خفض تكاليف استخدامات إنترنت الأشياء على مستوى العالم.Picture.jpg
هذا ومن المتوقع أن تتجاوز القيمة السوقية لقطاع إنترنت الأشياء خلال العقد المقبل 195 مليار دولار أمريكي مما سيؤدي بدوره إلى إحداث نقلة نوعية في قطاعات الصناعات التحويلية والطاقة والنقل وغيرها من القطاعات الأخرى الكثيرة¹. تجدر الإشارة إلى أن إنترنت الأشياء للقطاعات الصناعية، الذي شكل الثورة الصناعية الرابعة، يعتمد على حلول اتصالات عالمية فعالة يمكن توزيعها بسهولة في أي مكان في العالم.

نموذج إنترنت الأشياء “المتكامل”

سيعمل منتج Gemalto الجديد وحدة إنترنت الأشياء Cinterion® PLS62-Wعلى توفير اتصال LTE Cat. 1 عالي الفعالية من خلال نطاقات LTE البالغ عددها 12 نطاقاً مع توفير اتصال لاسلكي بشبكات الجيلين الثاني والثالث متعددة النطاقات في حالة عدم توفر شبكة الجيل الرابع. وهذا من شأنه أن يسمح لشركات تصنيع الأجهزة وجهات التكامل إعداد تطبيق واحد يمكن من خلاله الاتصال من أي مكان في العالم حتى في حالة انتقال الحلول بين مناطق مختلفة ومعايير شبكات خلوية مختلفة.

الأنظمة المدمجة تبسط وتعجل من إعداد المنتجات الجديدة

يعمل نظام Java® القوي المدمج في وحدة إنترنت الأشياء على إضافة طاقة معالجة إلى حلول الإنترنت الأشياء. وهذا يجعل من تصميم التطبيقات أكثر سهولة وسرعة من خلال مشاركة الذاكرة ومكتبة ضخمة من أكواد المصدر المفتوحة الحالية وركائز البرمجيات المعترف بها. وبالإضافة إلى ذلك، فهو يبسط من إدارة دورة الحياة مع تبسيط التكامل مع نظم تقنية المعلومات المتكاملة.

 الإدارة المُحسّنة لحلول الطاقة
نظام إدارة متقدم وقوي يضمن الموثوقية ويوفر وضع خمول مُحسَّن لحفظ الطاقة وإطالة عمر البطارية. وهذا يمثل أهمية جوهرية للتطبيقات الصناعية عن بعد، وهو قطاع من المتوقع أن تصل قيمته إلى 5.2 مليار بحلول عام 2025 ².

 وفي هذا الصدد قال Andreas Haegele، نائب الرئيس الأول لمنتجات إنترنت الأشياء لدى شركة Gemalto “إن وحدة LTE Cat.1 متعددة النطاقات المزودة بتقنية Cinterion مع إمكانية الانتقال إلى شبكات الجيلين الثاني والثالث مثالية لحلول التتبع والتعقب وخدمات الاتصال عن بعد وإدارة الأساطيل وهي بذلك تعد بمثابة محطة متكاملة لاتصالات إنترنت الأشياء، بغض النظر عن مكان نشر حلول إنترنت الأشياء أو عن مكان نقلها”. وأضاف “إن تقنية Cinterion PLS62-W عالية الكفاءة تتواءم مع التطبيقات التي تحتاج إلى العمل عبر مختلف بيئات الاتصالات الشبكية اللاسلكية لسنوات عديدة.

 [1] شركة Markets and Markets

² شركة Grand View Research

المراجع ذات الصلة:

وحدة إنترنت الأشياء Cinterion® PLS62-W

نشرة معلومات منتجات  وحدة إنترنت الأشياء

نبذة عن جيمالتو

شركة جيمالتو (المدرجة في بورصة يورونيكست تحت الرمز NL0000400653 GTO) هي الشركة الرائدة عالمياً في مجال الأمن الرقمي، بعائدات سنوية بلغت 3.1 مليار يورو في عام 2016 وعملاء في أكثر من 180 بلداً. نحن نحقق الثقة في عالم متزايد الترابط.

من البرمجيات الآمنة إلى القياسات البيومترية وعمليات التشفير، تمكّن تقنياتنا وخدماتنا الشركات والحكومات من التحقق من الهويات وحماية البيانات كي تبقى آمنة كما أنها تمكّن الخدمات في الأجهزة الشخصية، والكيانات المرتبطة والسحابة الحاسوبية وما بينها.

تقع حلول جيمالتو في القلب من الحياة العصرية، من عمليات الدفع إلى أمن المؤسسات وإنترنت الأشياء. فنحن نتحقق من هوية الأشخاص، والمعاملات والكيانات، والبيانات المشفرة ونخلق قيمة للبرمجيات – بحيث نمكّن عملاءنا من تقديم خدمات رقمية آمنة لمليارات الأفراد والأشياء.

لدينا أكثر من 15,000 موظف يعملون انطلاقاً من 112 مكتباً، و43 مركزاً للتخصيص والبيانات، و30 مركز أبحاث وبرمجيات في 48 دولة.

للمزيد من المعلومات، قم بزيارة www.gemalto.com، أو تابعنا على تويتر عبر @gemalto.

 مسؤولو الاتصالات الإعلامية في جيمالتو:

شينتارو سوزوكي
آسيا باسيفيك
8266 6317 65+
shintaro.suzuki@gemalto.com
كريستيل تيراس
الشرق الأوسط وأفريقيا
89 57 01 55 1 33+
kristel.teyras@gemalto.com
فيليب بينيتيز
أمريكا الشمالية
3869 257 512+
philippe.benitez@gemalto.com

لا يُعتبر نص هذا الإصدار الصحفي المُترجم صيغة رسمية بأي حال من الأحوال. النسخة الموثوقة الوحيدة هي الصادرة بلغتها الأصلية وهي الإنجليزية، وهي التي يُحتكم إليها في حال وجود اختلاف مع الترجمة.

‫”فيستا جيت” توسع نشاطها في الشرق الأوسط وتحقق نموا في عدد عملائها بنسبة 50%

الشركة العالمية الرائدة في مجال الطيران تزيد من عروضها لمواصلة الأداء الإيجابي في المنطقة

  • زيادة الاشتراك في عدد ساعات الطيران بمقدار الضعف
  • زيادة عدد المشتركين في البرنامج الجديد بنسبة 50٪
  • توفر خدمة الطيران المتكاملة الآن داخل وخارج المملكة العربية السعودية كجزء من خطة التوسع
  • النتائج الإيجابية تتبع عملية الاستثمار التي قامت بها “رون كابيتال” بمبلغ 150 مليون دولار

9 نوفمبر 2017، دبي- أعلنت “فيستا جيت” شركة الطيران العالمية الرائدة، اليوم، عن النتائج الإيجابية التي تم تحقيقها في منطقة الشرق الأوسط في ظل توجه الأفراد والشركات بعيدا عن امتلاك الطائرات الخاصة بشكل كامل أو جزئي.

وعلى الصعيد الإقليمي، شهد برنامج الشركة الرئيسي زيادة مضاعفة في عدد ساعات الطيران هذا العام نتيجة لزيادة عدد المشتركين بنسبة 50% في البرنامج. وعليه ، تمكّنت شركة “فيستا جيت” من التفوّق على إجمالي نتائج النشاط التجاري لمجال الطيران في الشرق الأوسط، والذي من المتوقع أن يحقق نموا بمقدار 9% هذا العام.

ولتعزيز مستوى الخدمات التي يتم تقديمها للعملاء في الشرق الأوسط، تم الإعلان أيضا عن إطلاق رحلات من وإلى المملكة العربية السعودية وذلك لما تتمتع به من إمكانات كبيرة لممارسة نشاط الطيران التجاري عبر أجوائها لدول المنطقة، وتمثل المملكة الحصة الأكبر من قاعدة عملاء الشركة في الشرق الأوسط بنسبة 39%، تليها الإمارات العربية المتحدة بنسبة 30%، يتبعها قطر والكويت ومصر على التوالي بنسبة 7%.  وقد كانت “فيستا جيت” شركة الطيران الأولى التي قامت بإلغاء التكاليف المترتبة على إيصال الطائرة إلى البلد الذي يتواجد فيه العميل، ليتمتع العملاء بحريّة كاملة عند السفر من وإلى أي مكان وفي أي وقت.

وقد زارت طائرات “فيستا جيت” أكثر من 1600 مطارا على مستوى العالم و68 مطارا في الشرق الأوسط، وقد أثبتت دبي أنها لاتزال الوجهة المفضلة لعملاء الشركة القادمون من موسكو، ولندن، ونيس، ومومباي؛ الذين يمثلون قاعدة العملاء الأكبر للشركة. ومع الأهمية المتزايدة لقطاع الطيران في الشرق الأوسط تأتي الزيادة في عدد الشركات المعنية بهذا المجال، وبالتالي فإن شركة “فيستا جيت” مهيئة تماما لتلبية متطلبات السوق وتحقيق المزيد من النجاح والنتائج الإيجابية على مدى السنوات المقبلة من خلال  أسطولها حول العالم وإمكانية الوصول إلى أكثر من 70 طائرة، تمتلك كل منها مقصورة واسعة تلبي كافة احتياجات العملاء.

ولقد شهد الشرق الأوسط في السنوات الخمسة الماضية تحولا كبيرا في مجال الأعمال، حيث أن 70٪ حاليا من إجمالي رحلات الطيران الخاصة داخل المنطقة تتم لأغراض تجارية، إلا أن تقديم مستوى عال من الخدمات لا يزال أمرا أساسيا للمسافرين. لذا تقوم “فيستا جيت” بالإعداد لكل رحلة بما يلائم احتياجات عملائها، إن كان ذلك لأغراض العمل أو الترفيه، كما أنه تم تدريب المضيفين من قبل معهد “بتلر” البريطاني لتقديم خدمات استثنائية، إضافة إلى تقديم أشهى المأكولات المعدة من قبل أشهر طهاة العالم.

وقد أصبحت “فيستا جيت”  واحدة من الشركات الأكثر تكاملا من الناحية التكنولوجية في مجال الطيران وذلك نتيجة لجهودها في الاستثمار والتنمية على مدى 13عاما. وقد قدمت الشركة هذا العام (فيستا جيت دايركت)، وهو تطبيق عضوية جديد يتيح للعملاء الوصول إلى رحلات الذهاب والرحلات الشاغرة عبر تطبيق الشركة وموقعها الإلكتروني. ويعتبر (فيستا جيت دايركت) أول تطبيق عضوية في مجال الطيران القادر على توفير خدمات متكاملة للعملاء.

وقال توماس فلوهر، مؤسس ورئيس شركة “فيستا جيت”: ” يسرنا للغاية أن نعلن عن نتائج اليوم وذلك مع استمرار “فيستا جيت” في إثبات مكانتها في عالم الأعمال وملكية الطائرات. ونسعى بلا كلل في “فيستا جيت” لتقديم خدمات عالمية لا مثيل لها ونحن واثقون من توسيع قاعدة عملائنا في الشرق الأوسط مع زيادة الطلب على خدمات السفر في المنطقة. ومع تعزيز نشاطنا في المملكة العربية السعودية سنمكّن رجال الأعمال من السفر بسلاسة ورفاهية عبر منطقة الشرق الأوسط.”

تقدّر الآن “فيستا جيت” بما يزيد عن 2.5 مليار دولار، وذلك بعد الاستثمار الذي قامت به “رون كابيتال” بمقدار 150 مليون دولار في الشركة.  وتعتبر “فيستا جيت” في وضع مثالي للاستحواذ على حصة أكبر من السوق من خلال تقديم تغطية عالمية، وأقصى قدر من الإنتاجية، ونوعية لا مثيل لها من الخدمات.

عن “فيستا جيت”:

تأسست الشركة  في عام 2004 من قبل توماس فلوهر، وتعدُ “فيستا جيت” شركة الطيران العالمية الأولى والوحيدة التي تطلق رحلاتها عبر جميع أنحاء العالم. وقد قامت شركة الطيران بنقل عملائها من رجال الأعمال والمسؤولين على أسطولها المجهّز من الفضة والمفروش بأفخر أنواع الجلود عبر 187 دولة حول العالم. وقد وضعت الشركة نموذجا مبتكرا؛ حيث يدفع العملاء مقابل ساعات الطيران فقط دون تحمل أعباء ومخاطر الأصول المرتبطة بملكية الطائرات. ويقدم البرنامج الذي تقدمه “فيستا جيت” معلومات مفصلة عن خدمة الاشتراك وفق ساعات الطيران على أسطولها من الطائرات التي يمكن استئجارها على المدى المتوسط والبعيد، لتحلق بالمسافرين في أي مكان وأي وقت.

لمزيد من المعلومات حول “فيستا جيت”، يرجى زيارة الموقع vistajet.com

أو يمكنكم التواصل مع:
جينيفر تايلور
شركة “فيستا جيت” العالمية
هاتف: 3077 617 203 (0) 44+
الهاتف المتحرك: 335505 7834 (0) 44+
jennifer.tyler@vistajet.com
VistaJet@finsbury.com
جيمس ليفيتون
فينزبري
هاتف: 3851 251 207 44+

شركة جيمالتو تُدشن منصتها الأمنية الأولى من نوعها لحماية البيانات في أي زمان ومكان

حل حماية البيانات عند الطلب SafeNet هو حل لتقديم الخدمات الأمنية كحل للشركات ومقدمي الخدمات المُدارة لحماية البيانات في أي مكان

دبي، الإمارات العربية المتحدة – 7 نوفمبر 2017:  أعلنت اليوم شركة جيمالتو، الرائدة على مستوى العالم في مجال الأمن الرقمي، عن تدشين منصتها لحماية البيانات عند الطلب SafeNet، وهي عبارة عن منصة مركزية لخدمات السحابة الحاسوبية مخصصة للشركات من أجل حماية البيانات والوفاء بمتطلبات الامتثال وإدارة أمن جميع معلوماتهم الحساسة في أي مكان بقدر لا مثيل له من البساطة.

فاليوم تواجه الشركات تحديات متزايدة بسبب التكاليف والتعقيدات اللازمة لحماية البيانات عبر البنى التحتية المتباينة لتقنية المعلومات والبيئات السحابية المختلطة. وتساعد منصة حماية البيانات عند الطلب SafeNet على حل هذه المشكلات من خلال توفير منصة واحدة توفر خدمات أمنية لحماية البيانات تتكامل بسهولة مع أنظمة تقنية المعلومات وأدوات “DevOps” والخدمات السحابية القائمة والمستخدمة بغرض حماية البيانات التي يتم إنشاؤها أو الوصول إليها أو تخزينها.

منصة أمنية قوية قابلة للتطوير ومصممة خصيصًا لتتواءم مع دراسات الجدوى والمزايا التشغيلية رفيعة المستوى

تُتيح منصة حماية البيانات عند الطلب SafeNet خدمة حماية البيانات على مستوى المؤسسات للشركات بمختلف أحجامها، بدءًا من الأصغر وحتى الأكبر حجمًا. ويمكن للشركات أن تنشر وسائل حماية البيانات لتأمين المعلومات الحساسة في أي بيئة عند الطلب على نحو أكثر فعالية وسرعة من حيث التكلفة، دون الحاجة إلى شراء أجهزة أو برمجيات لتهيئتها أو إدارتها، فما عليها سوى الدفع مقابل الاستخدام. ويُتيح لها ذلك دمج الأمن بكل سهولة عبر جميع أنظمة تقنية المعلومات في الشركة وإزالة الحواجز بين الأعمال وأدوات “DevOps”،  مما يُعجل من وقت الوصول إلى الأسواق. لقد أصبح بإمكان الشركات توسيع نطاق عملياتها الأمنية لحماية البيانات الهامة في المبادرات التجارية القائمة وأسواق النمو الجديدة، إلى جانب معالجة الأولويات مثل البيانات الضخمة ومحفظة بلوكشين والحوسبة السحابية وإنترنت الأشياء والمدفوعات الرقمية.

ويعمل سوق منصة حماية البيانات عند الطلب SafeNet على توسيع محفظته الخاصة بالخدمات الأمنية لتشمل:

  • وحدة تأمين الأجهزة عند الطلب: تُقدم حماية للمعاملات والهويات والتطبيقات من خلال تأمين مفاتيح التشفير، وإتاحة خدمات التشفير/ وفك التشفير فضلًا عن خدمات المصادقة والتوقيع الرقمي؛
  • وسيط مفاتيح عند الطلب:  يُمَّكنك من التحكم في المفاتيح ليوفر لك آلية تحكم بسيطة وآمنة بين الأمن الذي تُسيطر عليه مؤسستك وخدمة “SaaS” وموردي الخدمات السحابية مثل “Salesforce”؛
  • خدمات إدارة المفاتيح عند الطلب: توفر آلية مركزية لإدارة مفاتيح التشفير طوال دورة حياتها الكاملة، وتدعم خدمات بروتوكول التشغيل البيني لإدارة المفاتيح، وتعمل كوسيط رئيسي للمنظمات التي توسع سياساتها الأمنية لتشمل بيئاتها السحابية المتعددة من خلال ميزة “استخدام المفتاح الخاص بك في العمل BYOK”؛
  • التشفير عند الطلب: يحمي البيانات الحساسة أينما كانت موجودة بما في ذلك الملفات والمجلدات وقواعد البيانات وبيئات التخزين والأجهزة الافتراضية.

كما تستفيد الشركات من منظومة شركاء جيمالتو  الهائلة التي تُساعد على تسريع دمج أمن البيانات عبر تطبيقاتها السحابية المتعددة. وصُممت المنصة خصيصًا للعمل مع العديد من منتجات تقنية المعلومات الأكثر استخدامًا على نطاق واسع وشركات التقنية مثل Amazon Web Services وDell EMC وGoogle وIBM وMicrosoft وNetApp وHuawei و Oracle وSalesforce. وبالإضافة إلى ذلك، يتمكن العملاء من إعداد وبناء حالات استخدام آمنة وجيدة التنظيم من خلال الملكية و/أو واجهة برمجة التطبيقات الخاصة بالأطراف الثالثة.

وفي معرض التعليق على هذه المناسبة، أوضح أحمد عبدالله، المدير العام للسعودية وبلاد المشرق العربي، ومدير الهوية وحماية البيانات فيجيمالتو قائلًا: “تُبسط منصة حماية البيانات عند الطلب SafeNet عمليات أمن البيانات من خلال خفض تكلفة الملكية، والحد من فترات النشر، والتخلص من الحاجة إلى إدارة حلول متعددة. كما يوفر نموذج المنصة المحايد للسحابة الحاسوبية السرعة والخفة والمرونة للمستخدمين حتى يتمكنوا من نشر خدمات أمن البيانات التي يحتاجونها في غضون دقائق مع خيار الأسعار المرن القائم على الدفع حسب الاستخدام.”

وقال غاريت بيكر، محلل رئيسي لدى شركة 451 Research “عادةً ما يؤرق التعقيد الكثير من المنظمات عندما يتعلق الأمر بنشر التشفير وإدارة المفاتيح، وسوف يتضاعف هذا التحدي بتطور الحوسبة السحابية وإنترنت الأشياء”. وأضاف عن طريق تزويد المؤسسات بمنصة واحدة مدمجة يمكن الوصول إليها من خلال سوق على الإنترنت يُبسط الطريقة التي تستخدم بها الشركات الخدمات الأمنية. يمكن لمنصة حماية البيانات عند الطلب SafeNet من جيمالتو للمؤسسات أن تتيح للشركات بمختلف أحجامها نشر حلول التشفير وإدارة المفاتيح وأمن الأجهزة بمجرد نقرة ماوس، مع الحد من أعباء عمليات النشر المادية وكذا مساعدة المؤسسات ذات الموارد المحدودة على مواجهة العجز المتنامي في أعداد موظفي الأمن المهرة.”

وفي السياق ذاته، صرَّح فرانك بالو، المدير الأول بشركة NTT Security في ألمانيا، وهي شركة أمنية متخصصة تابعة لمجموعة NTT  “عادةً ما يطلب عملاء مجموعة NTT  بشكلٍ متزايد خدمات حماية بيانات قائمة على الاستخدام عند الطلب مثل التشفير وإدارة المفاتيح، وقد استجابت جيمالتو بشكلٍ فريد وأنجزت مجموعة كاملة من الحلول السحابية الأصلية التي تُتيح لنا تلبية هذه الاحتياجات بسرعة”. وأردف “نرى أن هذه الآلية الجديدة لإدارة الأمن تعتبر من العوامل المغيرة لقواعد الصناعة بغرض الاستفادة من إستراتيجيتها القائمة على الخدمات السحابية وذلك بإدراج تطبيقات أمنية سحابية أصلية”. وتابع “ونتيجةً لذلك، يمكننا تلبية احتياجات عملاء مجموعة NTT بشكل أسرع والحد من مشكلاتهم المتعلقة بتقنية المعلومات، وكل ذلك بتكلفة معقولة تمكنهم من توسيع نطاق نموهم.”

كما قال جیروم ديسبونيت، الرئيس التقني التنفيذي في شركة Capgemini Cybersecurity، في سبيل الانصياع للوائح القائمة والجديدة بشأن الخصوصية وأمن البيانات، مثل  اللائحة التنظيمية المتعلقة بحماية البيانات العامة وقانون إخضاع التأمين الصحي لقابلية النقل والمساءلة وقانون حماية البيانات HDS. يوَّد عملاؤنا الحفاظ على مستوىً عالٍ من الأمن عندما ينتقلون إلى عالم الخدمات السحابية، كما يُبسط استهلاك الخدمات الأمنية عند الطلب انتقال عملائنا إلى خدمات السحابة الحاسوبية المختلطة أو المتعددة”.

للحصول على مزيد من المعلومات

سوف تستضيف جيمالتو ندوة عبر الإنترنت في 16 نوفمبر في تمام الساعة 11 صباحًا بتوقيت شرق آسيا تحت عنوان “الابتكار الأمني:  ما أوصلنا إلى هذه المكانة لن يوصلنا إلى ما نصبو إليه” فيما يتعلق بالطبيعة المتغيرة لأمن البيانات. انقر هنا للتسجيل.

ستعرض أيضًا جيمالتو وكابجيميني Capgemini الحل أثناء فعالية “Dreamforce” في الفترة من 6 إلى 9 نوفمبر في سان فرانسيسكو – جناح #1018.

المصادر ذات الصلة:

نبذة عن جيمالتو

شركة جيمالتو (المدرجة في بورصة يورونيكست تحت الرمز NL0000400653 GTO) هي الشركة الرائدة عالمياً في مجال الأمن الرقمي، بعائدات سنوية بلغت 3.1 مليار يورو في عام 2016 وعملاء في أكثر من 180 بلداً. نحن نحقق الثقة في عالم متزايد الترابط.

من البرمجيات الآمنة إلى القياسات البيومترية وعمليات التشفير، تمكّن تقنياتنا وخدماتنا الشركات والحكومات من التحقق من الهويات وحماية البيانات كي تبقى آمنة كما أنها تمكّن الخدمات في الأجهزة الشخصية، والكيانات المرتبطة والسحابة الحاسوبية وما بينها.

تقع حلول جيمالتو في القلب من الحياة العصرية، من عمليات الدفع إلى أمن المؤسسات وإنترنت الأشياء. فنحن نتحقق من هوية الأشخاص، والمعاملات والكيانات، والبيانات المشفرة ونخلق قيمة للبرمجيات – بحيث نمكّن عملاءنا من تقديم خدمات رقمية آمنة لمليارات الأفراد والأشياء.

لدينا أكثر من 15,000 موظف يعملون انطلاقاً من 112 مكتباً، و43 مركزاً للتخصيص والبيانات، و30 مركز أبحاث وبرمجيات في 48 دولة.

للمزيد من المعلومات، قم بزيارة www.gemalto.com، أو تابعنا على تويتر عبر @gemalto.

مسؤولو الاتصالات الإعلامية في جيمالتو:

شينتارو سوزوكي
آسيا باسيفيك
8266 6317 65+
shintaro.suzuki@gemalto.com
كريستيل تيراس
الشرق الأوسط وأفريقيا
89 57 01 55 1 33+
kristel.teyras@gemalto.com
فيليب بينيتيز
أمريكا الشمالية
3869 257 512 1+
philippe.benitez@gemalto.com

لا يُعتبر نص هذا الإصدار الصحفي المُترجم صيغة رسمية بأي حال من الأحوال. النسخة الموثوقة الوحيدة هي الصادرة بلغتها الأصلية وهي الإنجليزية، وهي التي يُحتكم إليها في حال وجود اختلاف مع الترجمة.

نتيجة استبيان جيمالتو تؤكد انعدام ثقة مستهلكي الشرق الأوسط في أمن أجهزة إنترنت الأشياء

الشركات والمستهلكون يدعمون اللوائح التي تقرها الحكومات بشأن أمن إنترنت الأشياء

  • جميع المنظمات (100%) والمستهلكين (93%) يرون ضرورة وضع لوائح لأمن إنترنت الأشياء – ويرغبون في المشاركة الحكومية في هذا الصدد
  • تسريب البيانات و سرقتها هو أكثر المخاوف شيوعًا بين المستهلكين (67%)، بينما أعرب 64% عن قلقهم من اختراق القراصنة لأجهزة إنترنت الأشياء والتحكم فيها
  • أكثر من نصف شركات الشرق الأوسط (55%) تقوم بتشفير كافة المعلومات التي يتم الحصول عليها أو تخزينها عبر أجهزة إنترنت الأشياء

دبي، الإمارات العربية المتحدة – 31 أكتوبر 2017: كشفت اليوم شركة جيمالتو، الرائدة على مستوى العالم في مجال الأمن الرقمي، النقاب عن 81% من مستهلكي الشرق الأوسط يرون أن أمن أجهزة إنترنت الأشياء عامل رئيسي. و يأتي هذا بينما يدعم 89% من المستهلكين وما يقرب من 90% من المنظمات مشاركة الحكومات وإسهامها في ضبط أمن إنترنت الأشياء.

وفي هذا الصدد، صرح أحمد عبدالله، المدير العام للسعودية وبلاد المشرق العربي، ومدير الهوية وحماية البيانات في جيمالتو قائلًا “من الواضح أن هناك مخاوف جدية لدى كل من الشركات والمستهلكين بشأن أمن إنترنت الأشياء فضلًا عن انخفاض مستوى الثقة لديهم في قدرة مقدمي خدمات إنترنت الأشياء وشركات تصنيع الأجهزة على حماية أجهزة إنترنت الأشياء، بل والأهم من ذلك، حماية سلامة البيانات التي يجري إنشاؤها أو تخزينها أو نقلها باستخدام هذه الأجهزة”. وأضاف السيد أحمد “إن وجود تشريعات من الهيئة الوطنية للأمن الإلكتروني يشير إلى بدء إدراك الحكومات للمخاطر والأضرار طويلة الأمد التي يمكن أن تتسبب بها الهجمات السيبرانية على الحياة اليومية للأفراد، ومن ثم فإنه يلزم على الحكومات الآن المبادرة باتخاذ خطوات جادة على صعيد أمن إنترنت الأشياء. ومن هنا تجدر الإشارة إلى أنه بدون النجاح في كسب ثقة الشركات والمستهلكين في تقنية إنترنت الأشياء فإنه لن يتسنى تعميم استخدام هذه التقنية.”

الوضع الحالي للمساهمة في أمن إنترنت الأشياء

يتمثل الهاجس الأكبر للمستهلكين (وفقًا لما أعرب عنه 67% من المشاركين في الاستبيان) هو تسريب البيانات و سرقتها، تصدر هذا الهاجس قائمة المخاوف متجاوزاً المخاوف من اختراق القراصنة لأجهزة إنترنت الأشياء والتحكم فيها (64%) ووصول المتسللين إلى بياناتهم الشخصية (49%). وعلى الرغم من امتلاك أكثر من ثلث المستهلكين (78%) لأجهزة إنترنت الأشياء، فإن 21% فقط يرون أنهم من أصحاب الخبرة الواسعة فيما يتعلق بأمن هذه الأجهزة، وهو ما يشير إلى ضرورة نشر المعرفة بين كل من المستهلكين والشركات.

وعلى صعيد مستوى الاستثمار في الأمن، كشف الاستبيان عن أي شركات تصنيع أجهزة إنترنت الأشياء ومقدمي الخدمات ينفقون 12% فقط من إجمالي الميزانية المخصصة لإنترنت الأشياء على أمن هذه الأجهزة. كما كشفت الدراسة عن أن هذه الشركات تدرك أهمية حماية الأجهزة والبيانات التي تنشئها أو تنقلها حيث يتبني أكثر من 48% من شركات الشرق الأوسط نهجاً يقوم على توفير الأمان استناداً إلى التصميم. وقد قالت نصف منظمات الشرق الأوسط (55%) أن التشفير هو الوسيلة الرئيسية لحماية أصول إنترنت الأشياء حيث تشفر 47% من الشركات البيانات بمجرد وصولها إلى أجهزة إنترنت الأشياء الخاصة بها بينما تشفر 44% من الشركات البيانات عند نقلها من على الأجهزة. وتلمست جميع شركات الشرق الأوسط زيادة في المبيعات أو استخدام المنتجات عقب تنفيذ إجراءات الأمن المعنية بأجهزة إنترنت الأشياء.

تأييد وضع لوائح لأمن إنترنت الأشياء يكتسب زخمًا واسعًا

استنادًا لما ورد في الاستبيان، تؤيد الشركات وضع لوائح محددة لتوضيح الجهة المسؤولة عن أمن أجهزة إنترنت الأشياء والبيانات في جميع مراحلها (74%) وتبعات عدم الامتثال لهذه اللوائح (52%). وفي الحقيقة، جميع المنظمات (100%) والمستهلكين (93%) يرون ضرورة وضع لوائح لأمن إنترنت الأشياء – ويرغبون في المشاركة الحكومية في هذا الصدد.

انعدام القدرة على التكامل يؤدي إلى إبرام الشراكات

تدرك الشركات، بشكل مشجع، أنها بحاجة إلى الدعم في فهم تقنية إنترنت الأشياء ومن ثم تستعين بالشركاء للحصول على المساعدة، ويمثل مقدمو خدمات إنترنت الأشياء الخيار الأول لتلك الشركات بنسبة تصل إلى (66%) فيما يأتي مقدمو الخدمات السحابية في المرتبة الثانية بنسبة (44%). وبالسؤال عن الداعي إلى هذا، تبين أن السبب هو الرغبة في الحصول على مساعدة في تيسير وتعجيل نشرهم لتقنية إنترنت الأشياء (48%) ثم يليه انعدام الخبرة والمهارات (44%).

وعلى الرغم من أن مثل هذه الشراكات قد تكون مفيدة للشركات في عملية تبني تقنية إنترنت الأشياء، إلا أن المنظمات قد أعلنت أنها لا تملك سيطرة كاملة على البيانات التي تجمعها منتجات أو خدمات إنترنت الأشياء عند انتقالها من شريك لآخر وأن هناك احتمالية لتركها بدون حماية.

وأضاف أحمد “إن انعدام المعرفة بين صفوف الشركات والمستهلكين على حد السواء يثير القلق كما أنه يؤدي إلى فجوات في منظومة الاتصالات لإنترنت الأشياء يستغلها المتسللون”. وأردف قائلاً “تشتمل منظومة الاتصالات هذه على أربع مجموعات – المستهلكين والمصنعين ومقدمي الخدمات السحابية والأطراف الثالثة – ويتحمل كل منهم قدرًا من المسؤولية في حماية البيانات. ومن هنا يجدر التنويه إلى أن ’حماية الأمن عن طريق التصميم’ يعد أكثر المنهجيات فعالية في التخفيف من مخاطر الاختراق. علاوة على هذا، فإن أجهزة إنترنت الأشياء تعد بوابة الدخول إلى الشبكة الأوسع نطاقًا ومن ثم فإن الإخفاق في حماية هذه الأجهزة يكون بمثابة ترك الباب مفتوحًا أمام المتسللين للدخول. وبناءً عليه، فإنه لحين زيادة مستوى المعرفة لدى كلا الجانبين، الشركات والمستهلكين، بشأن حماية أنفسهم وتبني منهجيات قياسية في القطاع، فإن إنترنت الأشياء سيظل فرصة مثالية للمتسللين.”

المراجع ذات الصلة:

نبذة عن جيمالتو

شركة جيمالتو (المدرجة في بورصة يورونيكست تحت الرمز NL0000400653 GTO) هي الشركة الرائدة عالمياً في مجال الأمن الرقمي، بعائدات سنوية بلغت 3.1 مليار يورو في عام 2016 وعملاء في أكثر من 180 بلداً. نحن نحقق الثقة في عالم متزايد الترابط.

من البرمجيات الآمنة إلى القياسات البيومترية وعمليات التشفير، تمكّن تقنياتنا وخدماتنا الشركات والحكومات من التحقق من الهويات وحماية البيانات كي تبقى آمنة كما أنها تمكّن الخدمات في الأجهزة الشخصية، والكيانات المرتبطة والسحابة الحاسوبية وما بينها.

تقع حلول جيمالتو في القلب من الحياة العصرية، من عمليات الدفع إلى أمن المؤسسات وإنترنت الأشياء. فنحن نتحقق من هوية الأشخاص، والمعاملات والكيانات، والبيانات المشفرة ونخلق قيمة للبرمجيات – بحيث نمكّن عملاءنا من تقديم خدمات رقمية آمنة لمليارات الأفراد والأشياء.

لدينا أكثر من 15,000 موظف يعملون انطلاقاً من 112 مكتباً، و43 مركزاً للتخصيص والبيانات، و30 مركز أبحاث وبرمجيات في 48 دولة.

للمزيد من المعلومات، قم بزيارة www.gemalto.com، أو تابعنا على تويتر عبر @gemalto.

 مسؤولو الاتصالات الإعلامية في جيمالتو:

شينتارو سوزوكي
آسيا باسيفيك
8266 6317 65+
shintaro.suzuki@gemalto.com
كريستيل تيراس
الشرق الأوسط وأفريقيا
89 57 01 55 1 33+
kristel.teyras@gemalto.com
فيليب بينيتيز
أمريكا الشمالية
3869 257 512 1+
philippe.benitez@gemalto.com

لا يُعتبر نص هذا الإصدار الصحفي المُترجم صيغة رسمية بأي حال من الأحوال. النسخة الموثوقة الوحيدة هي الصادرة بلغتها الأصلية وهي الإنجليزية، وهي التي يُحتكم إليها في حال وجود اختلاف مع الترجمة.

ابقاء مطار بغداد الدولي في وضع تشغيلي

احتفظت جي فور اس بعقد توفير امن على مدار الساعة الى الموظفين والركاب في مطار بغداد الدولي.

احتفظت جي فور اس بعقد ادارة امن مطار بغداد الدولي (بايب), عقب عملية مناقصة تنافسية. يعني هذا ان جي فور اس تحصلت على العقد بشكل متواصل لمدة سبع سنوات من بداية حصولها عليه في عام 2010. طبقا للقواعد العراقية للشراء, جميع عقود القطاع الحكومي عليها ان تعيد التقديم كل سنة.

ضمن العقد المجدد, ستوفر جي فور اس امن على مدار الساعة للمطار, للموظفين والركاب. يختلف هذا من الامن الجسدي في نقاط التفتيش عند المداخل, الى فحص الركاب, الموظفين, الامتعة وامتعة الشحن مستعملين كلاب بوليسية واجهزة الاشعة السينية من خلال مرورهم داخل المطار,بالاضافة الى الامن على جانب المطار للخطوط الجوية وطائراتها.

قوى عاملة متزايدة

تدير جي فور اس ايضا مجمعين سكنيين في المطار الذي تتواجد فيها مكاتب الشركة, والتي توفر السكن ومنشأت ترفيهية للموظفين الاجانب والمحليين. تحتوي المجمعات على كل ما يحتاجه الموظف, بالاضافة الى انها مؤمنة على مدار الساعة, طعام متكامل, خدمات الانترنت السريع, نوادي رياضية, منشأت اجتماعات وتدريب, وعيادة طبية ذات مستوى عالمي.

توظف الشركة حوالي اثني عشر جنسية مختلفة في المطار, ولكن الاغلبية العظمى هي للموظفيين العراقيين يعملون في نظام مناوبات من اربعة ايام عمل, واربعة ايام استراحة.

” سيكون من غير المعقول لهم ان يسافروا من بغداد او من الاماكن المحيطة بها في كل يوم”, قال ريموند داغليش, مدير مشروع جي فور اس في مطار بغداد الدولي.” لذا نحن نوفر سكني ليلي بالاضافة الى الطعام, غرف مزودة باجهزة التلفاز, خدمات غسل الملابس و المجموعة الكاملة.”

يضم طاقم العمل العالي التدريب من قوة الاستجابة السريعة وفرق الكشف عن المتفجرات, بمساعدة قائمة من 47 كلب تفتيش. كان لا بد لعدد الموظفين ان يزداد خلال السنوات ليتعامل مع نطاق العقد المتزايد والمستويات المتزايدة لزحمة الركاب القادمين عبر المطار.

” في عام 2010, عندما استلمت جي فور اس العقد, كانت هناك محطة واحدة تعمل وكان لدينا فقط 600 موظف يعملون معنا, ” قال داغليش. ”  لدينا في الوقت الحالي في المنطقة 900 موظف يعملون لصالحنا. نشغل محطتين, وخلال فترة الحج نقوم بتشغيل محطة ثالثة للحجاج. في عام 2010, كان تدفق الركاب بحدود 600000 راكب في السنة وقد ارتفع هذا العدد في العام الماضي الى 1.8 مليون. في هذه السنة لقد وصلنا الى 1.1 مليون مسبقا,  لذلك يبدوا وكأنه سوف نتخطى العدد المسجل في عام 2016.”

المسؤولية الكبيرة

نحن نعمل بشكل مقرب مع المنشأة العامة للطيران المدني العراقي (أ سي أي أي), السلطة المسؤولة عن جميع المطارات في العراق. لقد تطورت العلاقة وزادت خلال السنوات, مع قيام جي فور اس بأخذ عمل اضافي تماشيا مع توسع المطار. من ضمن امور اخرى, لقد اخذنا على عاتقنا مسؤولية صيانة واصلاح الاجهزة المستعملة ضمن مطار بغداد الدولي, من ضمنها اجهزة رابسكان للاشعة السينية.

مع قرب افتتاح محطة كربلاء الجديدة في المستقبل, ستزداد مسؤولياتنا بشكل كبير. ” تعتبر بغداد تحدي لنا. في تطور مستمر, في تغير مستمر ونحن من جانبنا علينا ان نتماشى مع رغبات الزبون, “قال داغليش.

هناك ايضا وبالطبع نظرة اهتمام يجب ترسيخها على افضل طريقة يمكن من خلالها صيانة وتطوير الامن. تم اكمال اعادة تطوير واسعة لنقطة تفتيش الدخول في عام 2013, والتي تعتبر واحدة من سبعة طبقات امنية على الركاب والموظفين المرور عبرها داخل المطار, من لحظة دخولهم المطار حتى لحظة صعودهم على متن الطائرة.

هناك العديد من طبقات الامن داخل المطار, ” صرح ماركوس فريز, مسؤول مدير التشغيل لجي فور اس للحلول الامنية (العراق). ”  معنى هذا ان الناس يشعرون بالامان بشكل عام بالقدوم الى هنا والعبور داخل المطار. انه مطار داخل مدينة ذات درجة عالية من الخطر الامني, والذي كنا ناجحين في التخفيف من حدة هذا الخطر.”

مع ذلك, يبقى فريق جي فور اس داخل المطار متيقظ لاي تهديدات قد تحصل, نعمل بشكل مقرب مع جميع وكالات الامن العراقية ذات الصلة لضمان ان اهتمامات السلامة تقع في اعلى جدول اعمالنا. ” لدينا اجتماعات امنية مع جميع الوكالات في العراق, من ضمنها الجيش, جهاز الاستخبارات الوطني العراقي و المنشأة العامة للطيران المدني العراقي, بالاضافة الى الخطوط الجوية. نلتقي معهم بشكل مستمر لمناقشة اي مسائل ممكن حصولها مستقبلا, ” اضاف داغليش.

اجتذاب اعمال جديدة

ارقام حركة النقل المتزايدة في المطار دليل على العمل الذي كنا نؤديه في عام 2010, كانت هناك 11 خط جوي يقومون بالطيران الى خارج وداخل مطار بغداد الدولي, رقم قد ارتفع الى 28 خط جوي في العام الماضي, من ضمنها اغلبية شركات نقل الشرق الاوسط. عدد الرحلات الجوية قد ارتفع من 7000 رحلة جوية في العام الى 16000 رحلة جوية في العام في نفس الفترة. حجم الشحنات الجوية ازدادت بشكل اسرع من اعداد الركاب.

” لدينا علاقات ممتازة مع الخطوط الجوية, ” صرح داغليش. ” عندما يأتي فريقهم الامني للقيام بجولة داخل المطار,  نقوم بالتجول معهم ومع المنشأة العامة للطيران المدني العراقي, نقوم بالاجابة عن اي اسئلة او اهتمامات قد تكون لديهم بخصوص طريقة تنفيذنا لمهماتنا والاجراءات والعمليات التي نستعملها.

” تظهر الاحصائيات كيف ان المنشأة العامة للطيران المدني العراقي, بالعمل مع جي فور اس, قد تمكنت من جذب عدد كبير من الرحلات الجوية. كان مطار بغداد الدولي في السابق يستعمل فقط للمقاوليين والحجاج الماريين من خلاله. في الوقت الحالي تستخدم الناس هذا المطار للذهاب في اجازات وتقوم المنشأة العامة للطيران المدني العراقي بتوسيع أفاقها على الصعيد العالمي.