Category Archives: Urdu

‫” خوبصورت بیجنگ نمائش میں دمکتا ہوا” –ایکسپو 2017ء استانہ میں 16 جون سے ہفتہ بیجنگ کا آغاز

استانہ، قازقستان، 16 جون 2017 / سنہوا-ایشیانیٹ / — ایکسپو 2017ء استانہ کے چینی پویلین میں 16 جون سے ” خوبصورت بیجنگ نمائش میں دمکتا ہوا” کے موضوع پر ہفتہ بیجنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایکسپو 2005ء ایچی، ایکسپو 2010ء شنگھائی اور ایکسپو 2015ء میلان کے بعد بیجنگ کے لیے اپنی قدیم روایات دنیا کو دکھانے کا ایک اور موقع ہے۔ یہ “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی تعمیر میں حصہ لینے کے لیے بیجنگ کی حوصلہ افزائی کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔

بیجنگ، ایکسپو 2017ء استانہ میں نظر آنے والا پہلا چینی شہر ہے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر “رسٹک بیجنگ اسپلینڈڈ چین”، “باؤنسی بال ایکروبیٹکس” اور “تائی چی” جیسے پروگرامات کے ذریعے بیجنگ اوپیرا، مختلف کرتب، مارشل آرٹس اور دیگر بیجنگ عناصر نمائش میں شامل رہے۔ استقبالیہ کے دوران بیجنگ سیاحتی تصویری نمائش، لوک موسیقی، بیجنگ کے لوازمات وغیرہ سے مہمانوں کو بیجنگ کی ثقافت و روایات کو سمجھنے میں مدد ملی نیز “بیجنگ کے مناظر دیکھنے، بیجنگ کے کھانوں کو چکھنے اور بیجنگ کی موسیقی کو سننے” کا موقع ملا۔

ایکسپو 2017ء “فیوچر انرجی” کے موضوع سے ہم آہنگ ہفتہ بیجنگ میں جدید توانائی کا بھی مظاہرہ کیا گیا جس سے 2022 اولمپکس سرمائی کھیلوں کے انعقاد کے لیے بیجنگ کو دو اولمپکس کے شہر کے طور پر فروغ دے گا اور برفیلے کھیلوں  میں 300 ملین افراد کی شرکت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

چین کونسل برائے بین الاقوامی تجارت بیجنگ ذیلی-انجمن (سی سی پی آئی ٹی بیجنگ) کے نائب چیئرمین لی لوکشیا نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ 2008 بیجنگ اولمپکس کھیلوں کی میراث مکمل طور پر مقامات میں تبدیل اور استعمال کیے جائیں گے جنہیں سرمائی کھیلوں اور گرمائی کھیلوں دونوں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر واٹر کیوب کو آئس کیوب میں تبدیل کردیا جائے گا، جو کہ تبدیلی کے منصوبے کی مثال ہے اور لوگ وی آر عینکوں کے ذریعے آئس کیوب کا عمیق تجربہ کر سکیں گے۔

ذریعہ: بیجنگ بلدیہ حکومت

منسلک تصویر کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=291386

‫”دی بیلٹ اینڈ روڈ” کے ساتھ باغبانی کی کہانی کا بیان

استانہ، قزاقستان ، 16 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ /– 16 جون کو ایکسپو 2017ءاستانہ میں ہونے والے ہفتہ بیجنگ میں 2019ء بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو سامنے آچکی ہے۔ چینی پویلین میں بیجنگ ایکسپو 2019ء کوآرڈینیشن بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل یے داہوا نے ایکسپو 2017ءاستانہ میں شریک ممالک کے لیے 2019ء بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو کو پیش کیا۔

ہفتہ بیجنگ کی افتتاحی تقریب میں نو نمائشی بورڈز نے بین الاقوامی ہارٹیکلچرل ایکسپو 2019ء  کا ماحولیاتی نقشہ پیش کیا۔ اس دوران بیجنگ ایکسپو 2019ء کے لیے بنائے گئے پرومو کا مفصل تیار کردہ کارٹون ورژن کی قزاقستان  کے اہم ذرائع ابلاغ پر نقاب کشائی کی گئی، جس میں معصومانہ اداؤں والے میسکوٹس – لٹل بڈ اور لٹل فلاور – کی جوڑی 2019ء بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو کی کہانی بیان کر رہی ہے اور بیجنگ ایکسپو 2019ء کے غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے نغمہ سرا ہے تاکہ وہ بیجنگ کی خوبصورتی اور سبز زندگی کا لطف اٹھائیں۔

بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو 2017ء تمام زاویوں سے تعمیر کے مراحل میں ہے۔ اب بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو میں مقامی شرکت کی تیاریاں قابل ذکر مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ بیجنگ ایکسپو 2019 کا چینی نمائشی علاقے کے حدود میں اندرونی تعمیرات سال کی دوسری سہہ ماہی میں شروع ہوگی۔ بیجنگ کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی نمائش کی 80 فیصد بھرتیوں کو مکمل کرلیا جائے جو کہ دراصل ان ممالک کی شمولیت کی تکمیل ہوگی جو بیرونی باغات بنائیں گی۔ 2019ء بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو ایک اعلی سطحی بین الاقوامی باغبانی نمائش ہے جس کی میزبانی چینی حکومت اور بیجنگ شہر کر رہے ہیں۔ نمائش 162 یوم دورانیے کے ساتھ 29 اپریل سے 7 اکتوبر 2019ء تک منعقد ہوگی۔

2019ء بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچرل ایکسپو کے ساتھ ابتدائی معاہدں پر دستخط کرنے والے عالمی شراکت داروں میں سے ایک ائیر چائنا یکم جون 2017ء سے استانہ اور بیجنگ کے درمیان دو-طرفہ پروازیں شروع کرے گا۔

ذریعہ: بیجنگ بلدیہ حکومت

عسکری بینک لمیٹڈ اور یونین پے انٹرنیشنل کے درمیان این ایف سی اور ای ایم وی ڈیبٹ کارڈ کے اجراء کے معاہدے پر دستخط

/شنگھائی، 13 جون 2017ء / پی آر نیوزوائر/– پاکستان کے اہم بینکاری ادارے عسکری بینک لمیٹڈ (اے کے بی ایل) اور دنیا کی سب سے بڑی ادائیگی اسکیموں میں سے ایک یونین پے انٹرنیشنل کے درمیان پاکستان میں یونین پے کوئیک پاس (این ایف سی) اور ای ایم وی چپ کارڈز جاری کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ اقدام اے کے بی ایل صارفین کے لیے ادائیگیوں کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے “ٹیپ اینڈ گو” کونٹیکٹ لیس ادائیگیوں کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں، یہ معاہدہ اے کے بی ایل صارفین کو 41 ملین تاجرین اور دنیا بھر میں 2 ملین سے زائد اے ٹی ایم مشینیں استعمال کرنے کے ساتھ 10 ملین آن لائن مرچنٹ سائٹس پر ادائیگی کے قابل بنائے گا۔

عسکری بینک لمیٹڈ پاکستان کے گروپ ہیڈ آپریشنز جناب فرخ اقبال خان اور یونین پے انٹرنیشنل مشرق وسطیٰ کے جنرل مینیجر جناب ہانگ وانگ نے شنگھائی، چین میں شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پر یونین پے انٹرنیشنل کے چیف بزنس ڈیویلپمنٹ آفیسر جناب لیری وانگ اور اے کے بی ایل کے کنٹری ہیڈ برانچ لیس بینکنگ و اے ڈی سی سیز جناب عاصم بشیر بھی موجود تھے۔

عسکری بینک لمیٹڈ کے گروپ ہیڈ آپریشنز جناب فرخ اقبال خان نے  کہا کہ “عسکری بینک مالیاتی خدمات کے شعبے میں تشکیل نو اور تعریف نو میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور کوئیک پاس (این ایف سی) اور ای ایم وی چپ کارڈ کے اجراء کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کے ساتھ معاہدے پر دستخط اسی سمت میں ایک اور قدم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عسکری بینک، مالیاتی شمولیت کے لیے اے کے بی ایل کے اسٹریٹجک منصوبے کی تعریف نو کرتے ہوئے چین میں مالیاتی شمولیت کے لیے یونین پے کے بہترین کامیاب طریقوں سے فائدہ اٹھائے گا۔

عسکری بینک لمیٹڈ کے کنٹری ہیڈ برانچ لیس بینکنگ و اے ڈی سیز جناب عاصم بشیر نے کہا کہ “ہم پاکستان میں یونین پے کے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ عسکری بینک نئی اور جدید مصنوعات کی پیشکش کے ذریعے صارفین کے تجربے اور انہیں بہترین سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ ‘ٹیپ اینڈ گو’ کونٹیکٹ لیس ادائیگیوں کی سہولت اے کے بی ایل صارفین کے لیے ادائیگیوں کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے انہیں مزید آسانیاں فراہم کرے گی۔”

یونین پے انٹرنیشنل کے چیف بزنس ڈیویلپمنٹ آفیسر جناب لیری وانگ نے کہا کہ “ہم اے کے بی ایل کے ساتھ پاکستانیوں کے لیے ادائیگی کا نیا طریقہ فراہم کرنے پر بہت مسرور ہیں۔ ان سالوں میں یونین پے نے پاکستان میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ فی الوقت پاکستان میں 70 فیصد اے ٹی ایمز اور 95 فیصد پی او ایس ٹرمنلز یونین پے کارڈز قبول کر رہے ہیں اور ملک میں 3.4 ملین یونین پے کارڈز جاری کیے جاچکے ہیں۔ یونین پے کی جدید سہولیات جیسا کہ کوئیک پاس اور ای ایم وی چپ کارڈز کی پیشکش یہاں مقامی شہریوں کے لیے ہماری خدمات کی قابلیت کو مزید بہتر بنائے گی۔”

مائیڈیا: گھریلو مصنوعات تیار کرنے والا نامور چینی ادارہ دنیا بھر میں اپنی جدید شاخیں قائم کررہا ہے

شنگھائی، چین، 13 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– رواں سال اپریل میں مائیڈیا نے آسٹریا میں اپنے یورپی تحقیق و ترقی اور جدید مرکز کا آغاز کیا تھا۔ اسی اثنا میں سلیکون ویلی، امریکا میں اس کے ایمرجنگ ٹیکنالوجی سینٹر کا افتتاح ہوا اور کام کی شروعات کی گئی۔

مائیڈیا گروپ اب تک آٹھ ممالک میں 17 تحقیق و ترقی مراکز، بیرون ملک 60 شاخیں، 10 ہزارمحققین  اور 300 غیر ملکی ماہرین کا حامل ہوچکا ہے۔ عالمی معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) حل فراہم کرنے والے  معروف چینی ادارے ہواوے، جو پوری دنیا میں 36 مشترکہ جدید مراکز قائم کرچکا ہے، کی طرح مائیڈیا بھی چینی برانڈ کا نمائندہ بن چکا ہے جس نے اپنے شعبے کے اندر جدت طرازی میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔

اپنی عالمگیر حکمت عملی سے ہم آہنگ رہتے ہوئے مائیڈیا گروپ دنیا بھر کی سرفہرستسائنسی اور تکنیکی شخصیات کو متوجہ کرنے کے سلسلے میں تیزی لارہا ہے۔ سال 2016ء میں شروع کیے گئے “مائیڈیا اسٹار” نامی پروگرام کے تحت دنیا کی 100 بہترین جامعات سے بہترین قابلیت، خاص کر مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھنے والوں کو، دس لاکھ چینی یوآن سے زائد سالانہ تنخواہ کی پرکشش پیشکش اور تین سال کے اندر تیزی سے ترقی دینے کی حوصلہ افزا حکمت عملی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔

فوشان، گوانگ ڈونگ میں واقع مائیڈیا کا گلوبل انوویشن سینٹر اپنے عالمی فکری وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے صنعتی اداروں کے درمیان سائنسی اور ٹیکنالوجی جدت کا  نیا کوہستان بن گیا ہے۔ 30 ارب یوآن کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ یہ وسیع تحقیق و ترقی مرکز آزادانہ تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ جدت طرازی کے لیے  260,000 مربع میٹر پر محیط علاقہ  اور 10 ہزار افراد کو رہائش فراہم کر رہا ہے۔ یہاں بڑی منڈی، جیسا کہ مصنوعی ذہانت، مواد اور ملمع کاری، پانی کی صفائی، سروس روبوٹس، جدید رہائش گاہیں، غذائیت اور صحت سے متعلق خدمات، کے نقطہ نظر کے ساتھ جدید ترین شعبوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی جاچکی ہیں۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مائیڈیا نے تحقیق اور ترقی میں 20 ارب یوآن سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے تھامسن رائٹرز کی رپورٹ میں گھریلو مصنوعات کی جدت طرازی کے شعبے میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ سال 2016ء میں مائیڈیا کی بیرون ملک آمدنی 64.01 ارب یوآن سے زائد ہوگئی جو اس کی مجموعی آمدنی کا 43.5 فیصد حصہ اور سال بہ سال 29.53 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

مائیڈیا گروپ کے نائب صدر و چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور مائیڈیا کارپوریٹ ریسرچ سینٹر کے صدر ڈاکٹر ہو زیکیانگ نے کہا کہ “مائیڈیا اپنی بہترین تحقیق و ترقی ٹیم کے ساتھ پانچ سالوں میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی بنانے والا ادارہ بنانے اور جامع انداز سے جدید مصنوعات تیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔”

ذریعہ: مائیڈیا گروپ

منسلک تصاویر کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=291029

گوانگژو کی صنعتی ترقی سے جدت طرازی کے امکانات ظاہر ہوگئے

گوانگژو، چین، 12 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– 2000 برسوں سے بھی زائد عرصے سے گوانگژو جنوبی چین کا تجارتی مرکز رہا ہے۔ تجارت میں اس کی ممتاز حیثیت نے اسے “ملینیا بزنس سٹی” کے طور پر شہرت دلوائی ہے۔ جب سے چین نے اصلاحات کی پالیسی نافذ کرنے اور 1978ء میں اس کا آغاز کیا ہے، گوانگژو صف اول میں شامل  رہا ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ متحرک اقتصادی علاقوں میں سے ایک گوانگژو گزشتہ 30 سالوں سے زائد عرصے سے چین کو دنیا بھر کے لیے کھولنے میں پیش پیش رہا ہے۔ سال 2016ء میں شہر کی جی ڈی پی تقریباً دو ٹریلین یوآن (294.4 ارب ڈالر) تک جاپہنچی جو سنگاپور اور ہمسائے ہانگ کانگ کے مساوی ہے۔

جدت طرازی سے حاصل ہونے والی اس عظیم شہرت کے ساتھ گوانگژو میں متعدد کاروباری ادارے شہر کی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ جدید دور میں مسابقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پیانو بنانے والا عالمی شہرت یافتہ ادارہ پرل ریور پیانو گروپ ان روایتی اداروں میں سے ایک ہے جنہوں نے گوانگژو میں شدید مسابقت کا سامنا کیا ہے۔ ان کے ترجمان یانگ ویہوا نے کہا کہ شدید مسابقت کے باوجود ادارہ 1956ء میں اپنے قیام کے بعد سے مسلسل جدت طرازی کے ذریعے ثابت قدم رہا ہے۔

اب یہ ادارہ تقریباً 100 ممالک اور خطوں میں فروخت ہونے والے  پیانو کے عالمی مارکیٹ شیئر میں 25 فیصد سے زائد کا حصہ دار ہے۔ اسی کامیابی کے باعث ادارے کو مسلسل 16 سالوں تک دنیا کا سب سے بڑے پیانو ساز کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں ادارے نے انتہائی معیاری پیانو کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے لیے جرمنی کے سب سے بڑے پیانو بنانے والے ادارے شیمل میں 90 فیصد حصص خریدے تھے۔

حالیہ برسوں میں گوانگژو جدید ساخت گری اور روبوٹکس پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی بہتری میں سرمایہ کاری کے لیے روایتی شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ گاڑیاں بنانے والے شعبے میں کار ساز اداروں، جیسا کہ ڈونگ فینگ نسان، گوانگکی ٹویوٹا اور گوانگکی ہونڈا،میں ویلڈنگ اور اسپرے کے لیے زیر استعمال روبوٹس کی تعداد 400 سے زائد ہوچکی ہے۔

گوانگژو میونسپلٹی کے انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے والوں کے علاوہ 10 شعبوں مثلاً پیٹروکیمیکل، برقیات اور فرنیچر بنانے والے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر روبوٹس اور جدید ڈیوائسز استعمال کی جارہی ہیں۔ گذشتہ سال کے آخر تک گوانگژو میں  تقریباً 600 کاروباری ادارے خودکار طریقے سے پیداوار کے طریقے استعمال کر رہے تھے۔

ٹیکنالوجی میں ترقی کے علاوہ شہر ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں کو فروغ دینے پر سنجیدگی سے توجہ مرکوز رکھتے ہوئے نئی رفتار حاصل کر رہا ہے۔ گوانگژو کی بلدیاتی حکومت کے تازہ منصوبے کے مطابق، شہر کی جانب سے اپنائی جانے والی آئی اے بی اسکیم کا مقصد ایسی ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بائیوفارماسیوٹیکل کو مستحکم کرنا ہے، کروڑوں مالیت کے کی پیداواری قدر رکھنے والے صنعتی حلقوں کے قیام سے اس کی کشش، تخلیقی صلاحیتوں اور مسابقت میں اضافے متوقع ہے۔

برقی معلومات تیار کرنے والی صنعت میں کروڑوں مالیت کی پیداواری قدر فراہم کرنے والا واحد نیا ڈسپلے کلسٹر تخلیق کیا جاچکا ہے۔ 139.3 ارب یوآن (20.5 ارب ڈالر) کی مجموعی قدر کے ساتھ دس نئے ڈسپلے تیار کرنے والے، بشمول ایل جی ڈسپلے اور اسکائی ورتھ، گوانگژو میں 20 بہترین برقی معلومات بنانے والے اداروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ 10.5-جنریشن ڈسپلے کے لیے فوکسکون ایکو-صنعتی پارک کے ساتھ زینگ چینگ ضلع، گوانگژو میں قدم جما چکا ہے، جو کہ چین کی اصلاحات اور کھلی پالیسی کے بعد سے جدید ساخت گری کے شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے، اس سے گوانگژو کی نئے ڈسپلے تیار کرنے والے شعبے ایک نئی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے، جس کی مالیت 61 ارب یوآن (8.97 ارب ڈالر) ہے، کا آغاز مارچ 2017ء میں کیا چکا ہے، اس قدم سے کثیرالقومی تائیوانی اداروں سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 70 اداروں کی ایک لہر کی گوانگژو کی طرف متوجہ ہونے کی توقع ہے۔ جون 2019ء میں تکمیل کے بعد اس منصوبے سے 92 ارب یوآن (13.5 ارب ڈالر) کی پیداواری قدر حاصل کرنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے جس سے گوانگژو کو ڈسپلے ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بنانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

ذریعہ: گوانگژو بلدیہ حکومت

جيمالتو تقوم بتبسيط وتأمين الوصول إلى التطبيقات السحابية عن طريق خدمة جديدة لإدارة الوصول للبيانات

مساعدة الشركات على الحد من المخاطر من خلال المصادقة متعددة العوامل التي تتيح تسجيل الدخول بكلمة المرور لمرة واحدة إلى جانب تحليلات المخاطر

  • تحسين تجربة المستخدم عن طريق توفير خاصية التسجيل السحابي الذكي بكلمة المرور مرة واحدة Smart Cloud Single Sign-On (SSO) للمصادقة عند تحديدها في سياسة الوصول
  • تبسيط إدارة الوصول إلى التطبيقات السحابية مثل Office 365 وServiceNow وSalesforce.com
  • الاستفادة من محرك سياسات قوي يقوم على البيانات للشركات من أجل تعزيز أمن الأعمال وراحة المستخدم من خلال شروط دخول قائمة على سيناريوهات مختلفة

دبي، الإمارات العربية المتحدة – 13 يونيو 2017أعلنت اليوم شركة جيمالتو، الرائدة على مستوى العالم في مجال الأمن الرقمي، عن تدشين خدمة SafeNet Trusted Access لإدارة الوصول وحماية الهوية من أجل تأمين التطبيقات السحابية والاستخدام داخل المواقع. يُدار حل شركة جيمالتو من خلال محرك قوي لتحليل المخاطر يتيح إمكانيات تسجيل الدخول لمرة واحدة عن طريق البرامج السحابية Cloud Single-Sign-On (SSO) إلى جانب المصادقة متعددة العوامل Multi-factor Authentication (MFA) بحيث تستطيع الشركات بكل سهولة تنفيذ مستويات مصادقة إضافية لعمليات الوصول الآمن والمشروط عند تحديد ذلك في محرك السياسات.

وبحسب بحث أجري مؤخراً, من المتوقع أن تستفيد الشركات في عام 2017 من 17 تطبيقاً سحابياً في المتوسط لدعم تقنية المعلومات والعمليات التشغيلية واستراتيجيات الأعمال. يستطيع المستخدم، بفضل تقنية SafeNet Trusted Access، تسجيل الدخول مرة واحدة إلى جميع التطبيقات المعتمدة، بحسب ما هو محدد في السياسة الخاصة بتلك التطبيقات.

(سوف تستضيف جيمالتو ندوة ويب في يوم 28 يونيو في تمام الساعة 11:00 بتوقيت شرق أوروبا تحت عنوان “التخلص من الأعمال عالية الخطورة: كيف تعمل المعلومات السياقية على تأمين الوصول إلى التطبيقات السحابية”. انقر هنا للتسجيل.)

وفي معرض تعليقه على هذه المناسبة، قال سيباستيان بافي، المدير الإقليمي لشركة جيمالتو في الشرق الأوسط وأفريقيا، للهوية وحماية البيانات، “إن تبني التطبيقات السحابية في طريقه السريع ليصبح نموذج الاتصال السائد. ومع ذلك تفتقر فرق تقنية المعلومات إلى القدرة على إدارة وتقييد الوصول إلى تلك التطبيقات بفاعلية كما تعجز عن توفير الراحة التي يتوقعها الموظفون. يستطيع مدراء تقنية المعلومات، بفضل تقنية SafeNet Trusted Access، وضع سياسات قائمة على سيناريوهات مختلفة مرتبطة بعوامل المخاطرة ذات الصلة وتنفيذ عملية مصادقة تدريجية لتطبيق محدد أو مجموعة محددة من المستخدمين، وفقاً لمستوى الحساسية والدور المنوط بكل فرد”. وأضاف “صممنا هذه الإضافة الأحدث استناداً إلى خبرة ونجاح خدمة المصادقة SafeNet الحائزة على الجوائز من أجل دعم عملائنا أثناء نقلهم لمراحل العمل في مؤسساتهم إلى التطبيقات السحابية. ولقد طورنا منصة المصادقة متعددة المراحل وخاصية تسجيل الدخول بكلمة المرور لمرة واحدة الحالية بهدف تيسير تحقيق المواءمة بين الأمن والعمليات التجارية بالنسبة لأقسام تقنية المعلومات”.

وفي هذا الصدد أيضاً، قال جاريت بيكر، المحلل الأول لدى شركة 451 Research، “إننا نشهد تعاظم الطلب في السوق على حلول أمنية تقوم على الاستباق وليس رد الفعل. إن التلاقي بين تحليلات سلوك المستخدم وإدارة الهويات والوصول (IAM) يعمل على تمكين الشركات من تقييم المخاطر استناداً إلى سيناريوهات وسياقات وأنماط مختلفة، بالإضافة إلى تحديد أوجه الشذوذ والاختلاف التي تلزم معها المصادقة المتدرجة”. وأضاف “صممت جيمالتو SafeNet Trusted Access وهي تضع هذا النهج نصب عينيها مما أثمر حلاً متكاملاً لإدارة الوصول مع محرك فريد لسياسات البيانات بهدف تعزيز أداء أمن تقنية المعلومات”. Policies - Get started - 1st scenario.png

تشمل المزايا الرئيسية لخدمة SafeNet Trusted Access من جيمالتو:

  • إمكانية التطويريتضمن هذا الحل قوالب دمج مضمّنة تيسر على الشركات إضافة تطبيقات سحابية حالية وجديدة حسب الاقتضاء
  • دعم-استراتيجية إدارة الوصول والهويات طويلة الأجل – تستفيد الشركات من مجموعة عريضة من أساليب وعوامل المصادقة الأقوى لدى شركة جيمالتو مثل كلمات المرور التي تُستخدم لمرة واحدة والبيانات البيومترية.
  • التحليلات القائمة على المخاطر وسياسات الوصول التفصيلية– تعمل السياسات القائمة على السيناريوهات على تحديد ضوابط الوصول وتقييم أمان محاولات تسجيل الدخول وتطبيق المستوى المناسب من المصادقة والمطالبة بتدابير أمنية إضافية حسب الاقتضاء
  • الرؤية– توفر المستوى المناسب من الرؤية حول هوية الموظفين وأنشطة وفعاليات الوصول
  • الإدارة المركزية للوصول– لوحة زجاجية واحدة تتيح لك الاطلاع على جميع فعاليات الوصول وتبسط لك التدقيقات الأمنية وتمكنك من تتبع طلبات الدعم الفني والمساعدة، مثل طلبات إعادة تعيين كلمات المرور
  • الامتثال للوائح- تستطيع أقسام تقنية المعلومات ضمان الالتزام بالتشريعات والمعايير ذات الصلة باستخدام الرؤى المستندة إلى البيانات في هذا الحل حول سلوكيات المستخدم وفعاليات الوصول وتنفيذ السياسات.

مصادر إضافية:

تقرير فوريستر: بناء استراتيجية إدارة الهويات والوصول

4 خطوات لإدارة الوصول إلى التطبيقات السحابية

ملخص حول منتجات SafeNet Trusted Access

أسئلة شائعة حول SafeNet Trusted Access

فيديو: كيف تعمل المصادقة المستمرة على تعزيز إدارة الوصول إلى التطبيقات السحابية

فيديو: طريقة عمل إدارة الهويات والوصول (IAM) في التطبيقات السحابية

إنفوغراف: إدارة الوصول إلى التطبيقات السحابية

نبذة عن جيمالتو

شركة جيمالتو (المدرجة في بورصة يورونيكست تحت الرمز NL0000400653 GTO) هي الشركة الرائدة عالمياً في مجال الأمن الرقمي، بعائدات سنوية بلغت 3.1 مليار يورو في عام 2016 وعملاء في أكثر من 180 بلداً. نحن نحقق الثقة في عالم متزايد الترابط.

تمكّن تقنياتنا وخدماتنا الشركات والحكومات من التحقق من الهويات وحماية البيانات كي تبقى آمنة كما أنها تمكّن الخدمات في الأجهزة الشخصية، والكيانات المرتبطة والسحابة الحاسوبية وما بينها.

تقع حلول جيمالتو في القلب من الحياة العصرية، من عمليات الدفع إلى أمن المؤسسات وإنترنت الأشياء. فنحن نتحقق من هوية الأشخاص، والمعاملات والكيانات، والبيانات المشفرة ونخلق قيمة للبرمجيات – بحيث نمكّن عملاءنا من تقديم خدمات رقمية آمنة لمليارات الأفراد والأشياء.

لدينا أكثر من 15,000 موظف يعملون انطلاقاً من 112 مكتباً، و43 مركزاً للتخصيص والبيانات، و30 مركز أبحاث وبرمجيات في 48 دولة.

للمزيد من المعلومات، قم بزيارة www.gemalto.com، أو تابعنا على تويتر عبر @gemalto.

مسؤولو الاتصالات الإعلامية في جيمالتو:

كريستيل تيراس
الشرق الأوسط وأفريقيا
33155107598+
Kristel.teyras@Gemalto.com