Category Archives: Urdu

‫16 ویں ایشین میراتھون چیمپیئن شپس کا چین کے ڈونگ گوان میں آغاز

ڈونگ گوان، چین، 27 نومبر 2017ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/–

26 نومبر کو 16 ویں ایشین میراتھون چیمپیئن شپس اور ڈونگ گوان انٹرنیشنل میراتھون 2017ء ڈونگ گوان، چین میں شروع ہوئی۔ اس دوڑ میلے نے 18 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 40 پروفیشنل ایتھلیٹس اور 30,000 دوڑنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ بھارت کے گوپی تھوناکل اور شمالی کوریا کی کم ہائی گیونگ نے بالترتیب مردوں اور عورتوں کی میراتھون چیمپیئن شپس جیتیں۔ چیمپیئن شپس کی میزبانی کرکے ڈونگ گوان کو ایک متحرک اور دلکش شہر کی حیثیت سے دنیا کی توجہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔

26 نومبر کی صبح 7:30 پر ڈاکٹر طالب ف الساء، نائب صدر ایشین ایتھلیٹس ایسوسی ایشن (اے اے اے)، مارس آر نکولس، سیکریٹری جنرل اے اے اے اور لو یی شینگ، سیکریٹری ڈونگ گوان میونسپل پارٹی کمیٹی کی جانب سے شاٹ کے ساتھ ہی مقابلے کا آغاز ہوا۔ یہ مقابلہ چار حصوں پر مشتمل تھا، جن میں فل میراتھون (42.195 کلومیٹر)، ہاف میراتھون (21.0975 کلومیٹر)، منی میراتھون (5.2 کلومیٹر) اور کارنیول جوائے رن (2.6 کلومیٹر) پر مشتمل تھا۔

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ایشین میراتھون چیمپیئن شپس ایشیا میں میراتھون روڈ رننگ میں سب سے اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی مقابلے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ڈونگ گوان تیسرا چینی شہر ہے جو بیجنگ اور ہانگ کانگ کے بعد اس مقابلے کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ کھیل سب کے لیے کی طرف داری کرنے والے کی حیثیت سے اپنی شہرت کو صحیح ثابت کر رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ یہ انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ اور تاریخی ثقافت کے لیے بھی عالمی سطح پر جانا مانا شہر ہے۔ شہری ترقی کے راستے پر گامزن ڈونگ گوان سبز ترقی کے وژن کو طویل عرصے سے نافذ کیے ہوئے ہے۔ شہری ماحول کو بہتر بنانے میں کامیابیوں اور بہتر سافٹ پاور نے مقامی افراد کو حقیقی ثمرات سمیٹنے کا موقع دیا ہے۔ بہت سے دیگر اہم بین الاقوامی کھیلوں کے مواقع کی میزبانی کے پیچھے ایسی ہی وجوہات ہیں۔

2019ء میں ایشین میراتھون چیمپیئن شپس ایک مرتبہ پھر ڈونگ گوان میں ہوگی، جو دنیا بھر سے مشہور دوڑنے والوں کو بلائے گا۔ اور شہر اسی سال شریک میزبان کی حیثیت سے فیبا باسکٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔ “بڑی تقریبات ایک شہر کو مضبوط کرتی ہیں” کے خیال کو تسلیم کرتے ہوئے ڈونگ گوان 2015ء سے بی ڈبلیو ایف سڈرمین کپ، 2016ء سونگ شان لیک انٹرنیشنل میراتھون اور اب 16 ویں ایشین میراتھون چیمپیئن شپس اور ڈونگ گوان انٹرنیشنل میراتھون کی میزبانی کر چکا ہے۔ یہ عظیم تقریبات ڈونگ گوان کو ایک متحرک اور مسحور کن شہر بنانا جاری رکھیں گی جو ایک فخریہ کھیلوں کو چاہنے والی عوام رکھتا ہے۔

ذریعہ: انتظامی کمیٹی برائے 16 ویں ایشین میراتھون چیمپیئن شپس

سیاؤشان، چین: ایک ابھرتی ہوئی کاؤنٹی معیشت سے بین الاقوامی شہری ضلع تک

ہانگچو، چین، 22 نومبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/–

18 نومبر 2017ء کو مشرقی چین کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہری اضلاع میں سے ایک ہانگچو شہر کے سیاؤشان ضلع میں ایک خصوصی “خاندانی اجتماع” ہوا۔ 800 سیاؤشان افراد، جو ملک اور دنیا بھر میں مختلف شعبہ جات کی ممتاز شخصیات ہیں، پہلی بار سیاؤشان ضلعی حکومت کے مطالبے پر دوبارہ ملاپ کے لیے گھر واپس آئے۔

تقریباً 40 سال کی ترقی کے بعد سیاؤشان، جو کاروباری منتظمین اور اصلاح پسندوں کے شہر کے طور پر معروف ہے، چین میں ٹاؤن شپ معیشت کی مستحکم کارکردگی کے ساتھ ایک معروف کاؤنٹی معیشت سے آج ایک روایتی بین الاقوامی شہری ضلع میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سیاؤشان چین کے دریائے چیانتانگ کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ یہ جدید ضلع جی20 ہانگچو اجلاس کے مرکزی مقام کا میزبان ہے۔ یہ اپنی اقتصادی ترقی کی وجہ سے معروف ہے اور بارہا چین میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین مقام قرار دیا جا چکا ہے۔ اصلاحات اور چین کے کھلنے کے بعد سے سیاؤشان کے افراد نے چین کی نجی معیشت کو پروان چڑھانے میں ایک معجزہ تخلیق کیا۔

لو گوانچیو، جو حال ہی میں وفات پا گئے ہیں، سیاؤشان سے تھے۔ انہیں چین کے نجی ملکیت کے اداروں کا “گاڈفادر” مانا جاتا ہے۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے وانگ سیانگ گروپ کی بنیاد رکھی اور چین میں پہلا او ای ایم بنایا جس نے جنرل موٹرز گاڑیوں کے پرزہ جات اور جزو فراہم کیے۔ اس کے امریکی ماتحت ادارے نے 26 امریکی ریاستوں میں درجنوں کاروبار کھولے اور امریکا میں 8,000 سے زیادہ ملازمتیں تخلیق کیں۔ ریاست الینوائے نے ریاست کے لیے چینی ادارے کے حصے کو تسلیم کرتے ہوئے ہر سال 12 اگست کو “وانگ سیانگ دن” قرار دیا ہے۔

1986ء میں کیمیکل کمپنی کے طور پر قیام سے چوان ہوا گروپ ایک معروف اور متنوع جدید نجی ادارے میں تشکیل ہونا شروع ہوا۔

حالیہ سالوں میں سیاؤشان، چین کا “اقتصادی پہلوان”، “شہر کی تبدیلی کے ذریعے ایک آل راؤنڈ معیشت اور سماجی تبدیلی کو تحریک دینے” کے مشن کو سہارا دے رہا ہے۔

مقامی حکومت اس حقیقت کا ادراک کرتی ہے کہ جدت طرازی ترقی کا نمبر ایک محرّک ہے۔

سیاؤشان اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ زون میں واقع ہانگچو بے انفارمیشن پورٹ سیاؤشان میں انٹرنیٹ صنعت کے لیے ایک اہم “انکیوبیشن” پلیٹ فارم ہے۔ یہاں چین کے 30 سے زیادہ معروف انٹرنیٹ ادارے جمع ہوئے اور یہ سیاؤشان کے لیے ایک اہم محرک بن چکا ہے کہ ایک ساخت گری کے علاقے کو انفارمیشن معاشی علاقے میں آگے کی جانب اہم قدم اٹھائے۔

اس وقت سیاؤشان کی نئی صنعتی تشکیل، جس میں انٹیلی جینٹ مینوفیکچرنگ مرکزی حیثیت رکھتی ہے، صورت گری کررہی ہے۔ چین کا پہلا بگ ڈیٹاالائنس اور پہلی صنعتی بگ ڈیٹا لیبارٹری سیاؤشان میں قائم ہوئی۔ علی بابا اور نیٹ ایز جیسے انٹرنیٹ کے عظیم ادارے، ساتھ ساتھ معروف اے آئی اداروں نے بھی یہاں قیام کا انتخاب کیا۔

جی20 ہانگچو اجلاس کا مرکزی مقام سیاؤشان میں واقع ہانگچو انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر ہے۔ جس علاقے میں یہ واقع ہے — اولمپک اسپورٹس ایکسپو سٹی 2022ء ہانگچو ایشین گیمز کی بھی میزبانی کرے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق 25 ستمبر 2016ء سے جب یہ مرکز کھولا گیا، یہ 1,800 سے زیادہ کانفرنسوں اور 37 نمائشوں کی میزبانی کرچکا ہے جس کا کل نمائشی رقبہ 3.5 ملین مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ اس کا جی20 اجلاس ایکسپیریئنس ہال کا ایک ملین مرتبہ دورہ کیا جاچکا ہے۔

بین الاقوامی کانفرنس منتظمین کی جانب سےسراہے گئے ہانگچو انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر نے 2017ء میں آئی سی سی اے (انٹرنیشنل کانگریس اینڈ کنونشن ایسوسی ایشن) میں کامیابی سے شمولیت اختیار کی اور یو آئی اے (یونین آف انٹرنیشنل ایسوسی ایشن) کا چین سے واحد رکن بنا۔ مستقبل میں مزید بین الاقوامی میلے، کانفرنسیں اور ثقافتی تقریبات ہوں گی۔

یہ امر مسلّمہ ہے کہ سیاؤشان چین کے سب سے زیادہ متحرک نمائشی شہر اور کنونشن اور نمائش کے لیے دنیا کے معروف مقام میں تبدیل ہوگا۔ اندازہ ہے کہ 2019ء تک کل نمائشی آمدنی 15 ارب یوآن (2.3 ارب امریکی ڈالرز) تک پہنچے گی اور 1,000 سے زیادہ نمائشیں ہوں گی۔ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ سیاؤشان اس طرح ایک نئی صنعت کو بنائے گا – اعلیٰ ترین نمائش۔

جی20 ہانگچو اجلاس کے بعد سیاؤشان ہانگچو کو دنیا سے منسلک کرنے والا اہم شہری ضلع بن چکا ہے۔ مستقبل میں یہ ضلع کنونشن اور نمائش کی صنعت کو پوری قوت سے تعمیر کرے گا اور تمام تر کوششیں “ایگزی بیشن+” کے تصور پر مبنی چین کے بین الاقوامی شہر کی تعمیر کے لیے کی جائے گی۔

چین کی اعلی  ترین جامعہ کی جدت طرازی بین الاقوامی کیمپس کاآغاز

ہانگچو، چین، 20 نومبر 2017ء/سنہوا-ایشیانیٹ

21 اکتوبر 2017ء کو زی جیانگ یونیورسٹی انٹرنیشنل کیمپس کا باضابطہ آغاز ہوا۔ تقریباً ایک سال قبل امریکن اکیڈمی آف انجینیئرنگ کے فیلو پروفیسر فلپ ٹی کرین چین میں زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو) آئے تھے۔ “مشرقی کیمبرج” کی شہرت رکھنے والی اس جامعہ میں انہوں نے زی جیانگ یونیورسٹی/یونیورسٹی آف الینوائے اربانا-شیمپین انسٹیٹیوٹ (زیڈ جے یو-یو آئی یو سی انسٹیٹیوٹ) کے کل وقتی ڈین کا نیا خطاب حاصل کیا۔

مشترکہ ادارہ زیڈ جے یو کے ہائننگ انٹرنیشنل کیمپس میں قائم کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تعلیم کے نئے نمونے کی حیثیت سے انسٹیٹیوٹ یو آئی یو سی ، اور زیڈ جے یو کے اتنے  اعلی نصاب تعلیم اور وسائل کے ذریعے عالمی معیار کی انجینئرنگ تعلیم فراہم کر ےگا۔ دریائے یانگزے کے ڈیلٹائی خطے کے مرکزی علاقے میں خلیج ہانگچو میں واقع انٹرنیشنل کیمپس تقریباً80 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، زیڈ جے یو-امپیریئل جوائنٹ لیب فار اپلائیڈ ڈیٹا سائنس اور زیڈ جے یو-یو او ای (یونیورسٹی آف ایڈنبرا) انسٹیٹیوٹ قائم ہے۔ خلیج ہانگچو کے علاقے کو اقتصادی جدّت طرازی کا محرّک بنانے کے چینی حکومت کی پرعزم منصوبہ بندی کے ساتھ، یا سان فرانسسکو خلیج کے علاقے کے چینی ورژن کی تیاری کے لیے، اس نئے زیڈ جے یو کیمپس کی طرف کافی توجہ دی گئی ہے۔

“انٹرنیشنل کیمپس کی تعمیر زی جیانگ یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور کامیابی ہے۔ پروفیسر سونگ یونگ ہوا، ایگزیکٹو نائب صدر زیڈ جے یو اور بانی ڈین انٹرنیشنل کیمپس نے کہا۔ بین الاقوامی حیثیت کے کرنے والے اسکول چلانے کی مشق کے کئی سالوں کے بعد زیڈ جے یو نے 2013ء میں ایک 4ایس گلوبل اسٹریٹجی”  بنائي جو ممتاز اور موثر ہے، جنہیں “تزویراتی”، “جوہری”، “تحفظ پذیر” اور “خدمت رخی” کے نام دیے گئے۔ چین میں نئے قاعدے کی بنیاد پر، ‘4جی گلوبل اسٹریٹجی’ زیڈ جے یو کی بین الاقوامیت کے لیے نظری و عملی ڈھانچہ قائم کرتی ہے، جبکہ عالمی معیار کی موجودہ جامعات کی اچھی مشقوں کو بھی ترتیب دے رہی ہے۔” سونگ نے کہا۔

زیڈ جے یو بین الاقوامیت کی سمت اختیار کرنے والی چین کی سرفہرست جامعات میں شامل ہے۔ حالیہ چند سالوں میں “سائنس اور تعلیم کے ذریعے ملک کی تجدید” اور “باصلاحیت افراد کے ساتھ ملک کو مضبوط کرنے” کی قومی حکمت عملیوں کے نفاذ کے ساتھ، چین کی اعلیٰ تعلیم نےآزادی اور ترقی کے نئے نمونے کو ظاہر کیا اور “ڈبل فرسٹ کلاس انیشی ایٹو” کے ذریعے تازہ ترین حکومتی مدد کے ساتھ عالمی اعلیٰ تعلیم میں مر کز  کی  جانب گامزن ہے۔

چین بیرون ملکی تعلیم کے لیے طلبہ کی بڑی تعداد برآمد کررہا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی طالب علم چینی اداروں میں درجہ سوم کی تعلیم کے خواہشمند ہیں، جو انسانی وسائل کی ترقی میں بین الاقوامیت کی زیادہ بلند سطح کی جانب رہنمائی کررہی ہے۔ 2016ء بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے چینی طالب علموں کی تعداد 545,000 تک پہنچی، جو 180 ممالک اور خطوں کا احاطہ کر رہے ہیں اور چین غیر ملکی طلبہ کے سب سے بڑے برآمد کنندہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اسی سال 443,000 غیر ملکی تعلیم چین میں علم حاصل کر رہے تھے، جو اسے ایشیا میں نمبر ایک مقام بنا رہے ہیں۔ مزید برآں، چین غیر ملکی باصلاحیت افراد کے لیے ایک مضبوط “مقناطیسی اثر”  ظاہر کر رہا ہے، جو 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد بیرون ملک تعلیم حاصل کرکے وطن لوٹنے والے چینی طالب علموں کی سب سے بڑی لہر کو ظاہرکررہا ہے۔ 2016ء کے اختتام تک چین واپس لوٹنے والے طالب علموں کی کل تعداد 2.65 ملین سے بڑھ چکی تھی۔

1897ء میں قائم ہونے والا زیڈ جے یو چینیوں کی جانب  سے قائم کردہ اعلیٰ تعلیم کے اوّلین جدید اداروں میں سے ایک ہے۔ 120 سال کی ترقی سے یہ چین میں سرفہرست جامعات میں سے ایک بن چکا ہے۔ اسینشل سائنس انڈیکیٹر (ای ایس آئی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، نومبر 2017ء میں، زیڈ جے یو 18 شعبوں میں سرفہرست 1 فیصد میں شمار ہوتی ہے اور 5 شعبوں میں عالمی تعلیمی اداروں میں سرفہرست 50 میں شامل تھی، جو اسے چین کے دیگر اداروں  جن کی کارکر دگی ي بہترین ہے۔

چینی و بین الاقوامی جامعات کے ساتھ مزید تعاون کے ذریعے چین اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اکٹھا کر رہا ہے۔ 2016ءکے اختتام تک چین 188 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلے کے تعلقات قائم کرچکا ہے، جس نے 46 بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ تعلیمی تعاون اور تبادلہ  کیا، اور 47 ممالک اور خطوں کے ساتھ تعلیمی اسناد کی باہمی تسلیم شدگی کے معاہدے کیے۔ 2,480 چین-بین الاقوامی تعاون- سے چلنے والے ادارے اور منصوبے موجود ہیں جن کی منظوری وزارت تعلیم، چین دے چکی ہے۔

ستمبر 2017ء کے تک زیڈ جے یو پانچ براعظموں کے 34 ممالک کی 170 جامعات یا تعلیمی اداروں کے ساتھ مختلف سطح کے تعاون کرچکی ہے۔ 2016ء میں 4,800 سے زیادہ طلبہ نے بین الاقوامی تبادلے میں حصہ لیا اور 3,400 سے زیادہ ڈگری طلبہ اس کی کیمپس کی جانب متوجہ ہوئے۔

چینی جامعات کی بین الاقوامیت پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر کرین نے کہا کہ عالمگیریت کے پس منظر میں انسانیت کو زیادہ سے زیادہ یکساں چیلنجز کا سامنا ہے؛ دریں اثناء، عالمگیریت اعلیٰ تعلیم میں ہمیں غیر معمولی مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ بین الثقافتی اور بین العلاقائی تعاون کے ذریعے طلبہ تحقیق و جدت طرازی کی صلاحیت کو بڑھانے کے زیادہ مواقع پائیں گے، اور مستقبل میں رہنمائی کرنے والے تخلیقی باصلاحیت افراد بنیں گے اور اقتصادی نمو اور سماجی ترقی کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے۔

ذریعہ: زی جیانگ یونیورسٹی (زیڈ جے یو)

تصویری منسلکات کے روابط:

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=301208

 

 

 

‫Gemalto تصدر أول نموذج “متكامل” لإنترنت الأشياء في العالم قادر على إنشاء اتصال LTE

يقدم النموذج الجديد تغطية LTE ذات 12 نطاق بالإضافة إلى إمكانية الانتقال إلى تقنية الجيل الثالث أو تقنية الجيل الثاني في جهاز واحد.

أمستردام، 09 أكتوبر 2017 – شركة Gemalto، الرائدة على مستوى العالم في مجال الأمن الرقمي، تقوم بتوسيع نطاق اتصالات إنترنت الأشياء الصناعية من خلال إنجاز مرموق في مجال الهندسة اللاسلكية، عن طريق أول وحدة لإنترنت الأشياء في هذا القطاع تقدم اتصالًا عالميًا على 12 نطاقًا من نطاقات اتصالات LTE، بالإضافة إلى تغطية خلوية بشبكات الجيلين الثاني والثالث من خلال جهاز واحد فقط. وهذا من شأنه أن يعمل على تبسيط شديد للوجستيات وأعمال التوزيع إلى جانب خفض تكاليف استخدامات إنترنت الأشياء على مستوى العالم.Picture.jpg
هذا ومن المتوقع أن تتجاوز القيمة السوقية لقطاع إنترنت الأشياء خلال العقد المقبل 195 مليار دولار أمريكي مما سيؤدي بدوره إلى إحداث نقلة نوعية في قطاعات الصناعات التحويلية والطاقة والنقل وغيرها من القطاعات الأخرى الكثيرة¹. تجدر الإشارة إلى أن إنترنت الأشياء للقطاعات الصناعية، الذي شكل الثورة الصناعية الرابعة، يعتمد على حلول اتصالات عالمية فعالة يمكن توزيعها بسهولة في أي مكان في العالم.

نموذج إنترنت الأشياء “المتكامل”

سيعمل منتج Gemalto الجديد وحدة إنترنت الأشياء Cinterion® PLS62-Wعلى توفير اتصال LTE Cat. 1 عالي الفعالية من خلال نطاقات LTE البالغ عددها 12 نطاقاً مع توفير اتصال لاسلكي بشبكات الجيلين الثاني والثالث متعددة النطاقات في حالة عدم توفر شبكة الجيل الرابع. وهذا من شأنه أن يسمح لشركات تصنيع الأجهزة وجهات التكامل إعداد تطبيق واحد يمكن من خلاله الاتصال من أي مكان في العالم حتى في حالة انتقال الحلول بين مناطق مختلفة ومعايير شبكات خلوية مختلفة.

الأنظمة المدمجة تبسط وتعجل من إعداد المنتجات الجديدة

يعمل نظام Java® القوي المدمج في وحدة إنترنت الأشياء على إضافة طاقة معالجة إلى حلول الإنترنت الأشياء. وهذا يجعل من تصميم التطبيقات أكثر سهولة وسرعة من خلال مشاركة الذاكرة ومكتبة ضخمة من أكواد المصدر المفتوحة الحالية وركائز البرمجيات المعترف بها. وبالإضافة إلى ذلك، فهو يبسط من إدارة دورة الحياة مع تبسيط التكامل مع نظم تقنية المعلومات المتكاملة.

 الإدارة المُحسّنة لحلول الطاقة
نظام إدارة متقدم وقوي يضمن الموثوقية ويوفر وضع خمول مُحسَّن لحفظ الطاقة وإطالة عمر البطارية. وهذا يمثل أهمية جوهرية للتطبيقات الصناعية عن بعد، وهو قطاع من المتوقع أن تصل قيمته إلى 5.2 مليار بحلول عام 2025 ².

 وفي هذا الصدد قال Andreas Haegele، نائب الرئيس الأول لمنتجات إنترنت الأشياء لدى شركة Gemalto “إن وحدة LTE Cat.1 متعددة النطاقات المزودة بتقنية Cinterion مع إمكانية الانتقال إلى شبكات الجيلين الثاني والثالث مثالية لحلول التتبع والتعقب وخدمات الاتصال عن بعد وإدارة الأساطيل وهي بذلك تعد بمثابة محطة متكاملة لاتصالات إنترنت الأشياء، بغض النظر عن مكان نشر حلول إنترنت الأشياء أو عن مكان نقلها”. وأضاف “إن تقنية Cinterion PLS62-W عالية الكفاءة تتواءم مع التطبيقات التي تحتاج إلى العمل عبر مختلف بيئات الاتصالات الشبكية اللاسلكية لسنوات عديدة.

 [1] شركة Markets and Markets

² شركة Grand View Research

المراجع ذات الصلة:

وحدة إنترنت الأشياء Cinterion® PLS62-W

نشرة معلومات منتجات  وحدة إنترنت الأشياء

نبذة عن جيمالتو

شركة جيمالتو (المدرجة في بورصة يورونيكست تحت الرمز NL0000400653 GTO) هي الشركة الرائدة عالمياً في مجال الأمن الرقمي، بعائدات سنوية بلغت 3.1 مليار يورو في عام 2016 وعملاء في أكثر من 180 بلداً. نحن نحقق الثقة في عالم متزايد الترابط.

من البرمجيات الآمنة إلى القياسات البيومترية وعمليات التشفير، تمكّن تقنياتنا وخدماتنا الشركات والحكومات من التحقق من الهويات وحماية البيانات كي تبقى آمنة كما أنها تمكّن الخدمات في الأجهزة الشخصية، والكيانات المرتبطة والسحابة الحاسوبية وما بينها.

تقع حلول جيمالتو في القلب من الحياة العصرية، من عمليات الدفع إلى أمن المؤسسات وإنترنت الأشياء. فنحن نتحقق من هوية الأشخاص، والمعاملات والكيانات، والبيانات المشفرة ونخلق قيمة للبرمجيات – بحيث نمكّن عملاءنا من تقديم خدمات رقمية آمنة لمليارات الأفراد والأشياء.

لدينا أكثر من 15,000 موظف يعملون انطلاقاً من 112 مكتباً، و43 مركزاً للتخصيص والبيانات، و30 مركز أبحاث وبرمجيات في 48 دولة.

للمزيد من المعلومات، قم بزيارة www.gemalto.com، أو تابعنا على تويتر عبر @gemalto.

 مسؤولو الاتصالات الإعلامية في جيمالتو:

شينتارو سوزوكي
آسيا باسيفيك
8266 6317 65+
shintaro.suzuki@gemalto.com
كريستيل تيراس
الشرق الأوسط وأفريقيا
89 57 01 55 1 33+
kristel.teyras@gemalto.com
فيليب بينيتيز
أمريكا الشمالية
3869 257 512+
philippe.benitez@gemalto.com

لا يُعتبر نص هذا الإصدار الصحفي المُترجم صيغة رسمية بأي حال من الأحوال. النسخة الموثوقة الوحيدة هي الصادرة بلغتها الأصلية وهي الإنجليزية، وهي التي يُحتكم إليها في حال وجود اختلاف مع الترجمة.

‫”فيستا جيت” توسع نشاطها في الشرق الأوسط وتحقق نموا في عدد عملائها بنسبة 50%

الشركة العالمية الرائدة في مجال الطيران تزيد من عروضها لمواصلة الأداء الإيجابي في المنطقة

  • زيادة الاشتراك في عدد ساعات الطيران بمقدار الضعف
  • زيادة عدد المشتركين في البرنامج الجديد بنسبة 50٪
  • توفر خدمة الطيران المتكاملة الآن داخل وخارج المملكة العربية السعودية كجزء من خطة التوسع
  • النتائج الإيجابية تتبع عملية الاستثمار التي قامت بها “رون كابيتال” بمبلغ 150 مليون دولار

9 نوفمبر 2017، دبي- أعلنت “فيستا جيت” شركة الطيران العالمية الرائدة، اليوم، عن النتائج الإيجابية التي تم تحقيقها في منطقة الشرق الأوسط في ظل توجه الأفراد والشركات بعيدا عن امتلاك الطائرات الخاصة بشكل كامل أو جزئي.

وعلى الصعيد الإقليمي، شهد برنامج الشركة الرئيسي زيادة مضاعفة في عدد ساعات الطيران هذا العام نتيجة لزيادة عدد المشتركين بنسبة 50% في البرنامج. وعليه ، تمكّنت شركة “فيستا جيت” من التفوّق على إجمالي نتائج النشاط التجاري لمجال الطيران في الشرق الأوسط، والذي من المتوقع أن يحقق نموا بمقدار 9% هذا العام.

ولتعزيز مستوى الخدمات التي يتم تقديمها للعملاء في الشرق الأوسط، تم الإعلان أيضا عن إطلاق رحلات من وإلى المملكة العربية السعودية وذلك لما تتمتع به من إمكانات كبيرة لممارسة نشاط الطيران التجاري عبر أجوائها لدول المنطقة، وتمثل المملكة الحصة الأكبر من قاعدة عملاء الشركة في الشرق الأوسط بنسبة 39%، تليها الإمارات العربية المتحدة بنسبة 30%، يتبعها قطر والكويت ومصر على التوالي بنسبة 7%.  وقد كانت “فيستا جيت” شركة الطيران الأولى التي قامت بإلغاء التكاليف المترتبة على إيصال الطائرة إلى البلد الذي يتواجد فيه العميل، ليتمتع العملاء بحريّة كاملة عند السفر من وإلى أي مكان وفي أي وقت.

وقد زارت طائرات “فيستا جيت” أكثر من 1600 مطارا على مستوى العالم و68 مطارا في الشرق الأوسط، وقد أثبتت دبي أنها لاتزال الوجهة المفضلة لعملاء الشركة القادمون من موسكو، ولندن، ونيس، ومومباي؛ الذين يمثلون قاعدة العملاء الأكبر للشركة. ومع الأهمية المتزايدة لقطاع الطيران في الشرق الأوسط تأتي الزيادة في عدد الشركات المعنية بهذا المجال، وبالتالي فإن شركة “فيستا جيت” مهيئة تماما لتلبية متطلبات السوق وتحقيق المزيد من النجاح والنتائج الإيجابية على مدى السنوات المقبلة من خلال  أسطولها حول العالم وإمكانية الوصول إلى أكثر من 70 طائرة، تمتلك كل منها مقصورة واسعة تلبي كافة احتياجات العملاء.

ولقد شهد الشرق الأوسط في السنوات الخمسة الماضية تحولا كبيرا في مجال الأعمال، حيث أن 70٪ حاليا من إجمالي رحلات الطيران الخاصة داخل المنطقة تتم لأغراض تجارية، إلا أن تقديم مستوى عال من الخدمات لا يزال أمرا أساسيا للمسافرين. لذا تقوم “فيستا جيت” بالإعداد لكل رحلة بما يلائم احتياجات عملائها، إن كان ذلك لأغراض العمل أو الترفيه، كما أنه تم تدريب المضيفين من قبل معهد “بتلر” البريطاني لتقديم خدمات استثنائية، إضافة إلى تقديم أشهى المأكولات المعدة من قبل أشهر طهاة العالم.

وقد أصبحت “فيستا جيت”  واحدة من الشركات الأكثر تكاملا من الناحية التكنولوجية في مجال الطيران وذلك نتيجة لجهودها في الاستثمار والتنمية على مدى 13عاما. وقد قدمت الشركة هذا العام (فيستا جيت دايركت)، وهو تطبيق عضوية جديد يتيح للعملاء الوصول إلى رحلات الذهاب والرحلات الشاغرة عبر تطبيق الشركة وموقعها الإلكتروني. ويعتبر (فيستا جيت دايركت) أول تطبيق عضوية في مجال الطيران القادر على توفير خدمات متكاملة للعملاء.

وقال توماس فلوهر، مؤسس ورئيس شركة “فيستا جيت”: ” يسرنا للغاية أن نعلن عن نتائج اليوم وذلك مع استمرار “فيستا جيت” في إثبات مكانتها في عالم الأعمال وملكية الطائرات. ونسعى بلا كلل في “فيستا جيت” لتقديم خدمات عالمية لا مثيل لها ونحن واثقون من توسيع قاعدة عملائنا في الشرق الأوسط مع زيادة الطلب على خدمات السفر في المنطقة. ومع تعزيز نشاطنا في المملكة العربية السعودية سنمكّن رجال الأعمال من السفر بسلاسة ورفاهية عبر منطقة الشرق الأوسط.”

تقدّر الآن “فيستا جيت” بما يزيد عن 2.5 مليار دولار، وذلك بعد الاستثمار الذي قامت به “رون كابيتال” بمقدار 150 مليون دولار في الشركة.  وتعتبر “فيستا جيت” في وضع مثالي للاستحواذ على حصة أكبر من السوق من خلال تقديم تغطية عالمية، وأقصى قدر من الإنتاجية، ونوعية لا مثيل لها من الخدمات.

عن “فيستا جيت”:

تأسست الشركة  في عام 2004 من قبل توماس فلوهر، وتعدُ “فيستا جيت” شركة الطيران العالمية الأولى والوحيدة التي تطلق رحلاتها عبر جميع أنحاء العالم. وقد قامت شركة الطيران بنقل عملائها من رجال الأعمال والمسؤولين على أسطولها المجهّز من الفضة والمفروش بأفخر أنواع الجلود عبر 187 دولة حول العالم. وقد وضعت الشركة نموذجا مبتكرا؛ حيث يدفع العملاء مقابل ساعات الطيران فقط دون تحمل أعباء ومخاطر الأصول المرتبطة بملكية الطائرات. ويقدم البرنامج الذي تقدمه “فيستا جيت” معلومات مفصلة عن خدمة الاشتراك وفق ساعات الطيران على أسطولها من الطائرات التي يمكن استئجارها على المدى المتوسط والبعيد، لتحلق بالمسافرين في أي مكان وأي وقت.

لمزيد من المعلومات حول “فيستا جيت”، يرجى زيارة الموقع vistajet.com

أو يمكنكم التواصل مع:
جينيفر تايلور
شركة “فيستا جيت” العالمية
هاتف: 3077 617 203 (0) 44+
الهاتف المتحرك: 335505 7834 (0) 44+
jennifer.tyler@vistajet.com
VistaJet@finsbury.com
جيمس ليفيتون
فينزبري
هاتف: 3851 251 207 44+

ٹیئنز نے نئی دہلی میں 22 ویں سالگرہ کا جشن منایا

نئی دہلی، 7 نومبر 2017ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– چینی کثیر القومی اداروں کے مجموعے، ٹیئنز گروپ، نے اتوار کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی 22ویں سالگرہ کا جشن متعلقہ سرگرمیوں کے سلسلے کے ساتھ منایا۔

لگ بھگ 50 ممالک اور خطّوں سے تقریباً 10,000 ٹیئنز کاروباری شراکت داروں نے اس بین الاقوامی اجتماع میں شرکت کی۔

ٹیئنز کے جنرل مینیجر برائے سرمایہ کاری و ترقیاتی مرکز لی جیاننگ نے کہا کہ”ٹیئنز متحرک انداز میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر عمل کر رہا ہے، عالم گیریت کے عمل کو تیز کررہا ہے، سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے بھارت کو مرکزی مارکیٹوں میں سے ایک بنا رہا ہے اور زیادہ شاخوں اور فرنچائزڈ اسٹورز کے قیام پر کام کررہا ہے۔”

“ٹیئنز نے عالمی مارکیٹ کو 21 علاقوں میں تقسیم کیا اور وسائل کی تقسیم کو بہتر بنایا، لی نے  مزید کہا کہ اس وقت ٹیئنز  تقریباً 37 ممالک اور خطّوں میں کامیابی کے ساتھ داخل ہو چکا ہے، جن میں امریکا، آسٹریلیا، فرانس، ریپبلک آف  کوریا، متحدہ عرب امارات وغیرہ شامل ہیں۔”

لی کے مطابق ٹیئنز بھارتی ای-کامرس مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے گا، بھارت کے اعلیٰ معیار کے فراہم کنندگان کے ساتھ تعاون بڑھائے گا اور ٹیئنز کے عالمی مارکیٹنگ نیٹ ورک کو بھارت میں پیش کردہ مصنوعات کو دنیا بھر میں فروغ دینے کے لیے استعمال کرے گا۔ دریں اثناء یہ بھارت میں عوامی بہبود میں بھی مسلسل حصہ لے گا۔

لی جنیوان، چیئرمین و صدر ٹیئنز گروپ، نے نئی دہلی میں شرکا کے لیے وڈیو پیغام دیا، کہا کہ ٹیئنز اپنی نئی عالمی حکمت عملی کو باضابطہ جاری کرے گا اور انٹرپرینیورشپ کے نئے سفر کا آغاز کرے گا۔

1995ء میں لی جنیوان کی جانب سے شمالی چین کے ساحلی تیانجن شہر میں قائم ہونے والا ٹیئنز گروپ بایوٹیکنالوجی، ہیلتھ مینجمنٹ، سیاحت، تعلیم، ای-کامرس اور مالیاتی سرمایہ کاری سمیت کئی شعبوں میں موجود  ہے، اور 110 ممالک اور خطوں میں اس کی شاخیں ہیں۔ ٹیئنز 2002ء میں بھارتی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور اس وقت ملک میں 12 شاخیں اور 75 فرنچائزڈ اسٹورز چلاتا ہے۔

ذریعہ: ٹیئنز گروپ

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=300181