Category Archives: Urdu

عالمی اسٹارٹ اپ مقابلے شی لوز ٹیک نے ایشیا کے لیے پہلے جینڈر-لینس فنڈ کا اجراء کردیا

https://photos.prnasia.com/prnvar/20180917/2239750-1

شی لوز ٹیک 2018ء عالمی اسٹارٹ اپ مقابلہ اور بین الاقوامی کانفرنس

بیجنگ، 18 ستمبر 2018ء/پی آرنیوزوائر/– دنیا بھر سے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کے بانی، پیشہ ور افراد اور سرمایہ کار دنیا کے سب سے بڑے زنانہ اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ مقابلے شی لوز ٹیک 2018ء کے لیے بیجنگ میں آگئے۔

https://photos.prnasia.com/prnvar/20180917/2239750-1

رواں سال “مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز” کے موضوع کے ساتھ یہ کانفرنس شی لوز ٹیک کی شریک بانی اور سی ای او ورجینیا ٹین کے اولین جینڈر-لینس وی سی برائے ایشیا تیجا وینچرز کے اجراء کے ساتھ شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ “تیجا وینچرز خواتین کی زیر قیادت اور خواتین پر اثر رکھنے والے کاروباروں میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہے، بالخصوص انکیوبیٹنگ ٹیکنالوجی میں جو عورتوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ہم نے مالیاتی خدمات، آن لائن-سے-آف لائن کھپت، تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں زبردست مواقع دیکھے۔”

لیسلی گوہ، ورلڈ بینک گروپ کی اولین سی ٹی او، نے خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے پر کلیدی خطاب کیا۔ ان کا ذاتی مقصد ٹیکنالوجی کو ایک مساوی گُر کے طور پر استعمال کرنا اور ترقی پذیر دنیا میں خواتین کو با اختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں حاصل کر سکیں۔ انہوں نے “تبدیلی کو دلیری کے ساتھ قبول کرنے اور نئے مواقع کی مسلسل کھوج” کرنے پر عورتوں کی حوصلہ افزائی کی۔

چین چوتھے صنعتی انقلاب میں عالمی رہنما بننے کی اپنی کوششوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو مرکزی ستون بنا چکا ہے۔ لن ڈائی، سینس ٹائم پروڈکٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ٹریسی چینگ، فنانشل ٹائمز چائنا پبلشر، نے دنیا کی سب سے قابل قدر مصنوعی ذہانت کمپنی سینس ٹائم کی تعمیر پر اظہار خیال کیا۔ ایک پینل نے “مستقبل میں سرمایہ کاری” کے موضوع پر، جو سیکوئیا، فوسن، ہاربر ویسٹ اور جے آر آر کرپٹو سے معروف خواتین سرمایہ کاروں پر مشتمل تھا، چینی مارکیٹ میں ترقی کے مواقع، آئندہ “سرمایہ سرما” کے امکان اور سرمایہ کاری کی صنعت میں بحیثیت عورت درپیش فوائد/چیلنجز پر اپنے خیالات پیش کیے۔ مصنوعی ذہانت اور بلاک چین پر مزید سیشنز نے واضح کیا کہ چین میں خواتین کاروباری منتظمین کس طرح ماحول کو تبدیل کر رہی ہیں۔

کانفرنس کا عروج شی لوز ٹیک 2018ء گلوبل اسٹارٹ اپ مقابلوں کے فائنلز کے ساتھ آیا۔ 12 ممالک کے اسٹارٹ اپس میں سے کینیڈا کے آبی معیار کا تجزیہ کرنے والے اسٹارٹ اپ فریڈسینس نے پہلا انعام حاصل کیا جبکہ چین کی ہیلتھ مانیٹرنگ ڈیوائس میرا دوسرے نمبر پر آئی، اور اسرائیل کی روبوٹک ویل چیئر ری سمیٹری اور سنگاپور کی 4ڈی اے آئی امیجنگ ٹیکنالوجی ڈی اوپٹرون تیسرے نمبر پر رہی۔ شی لوز ٹیک خواتین کے لیے ٹیکنالوجی اور خواتین کی جانب سے ٹیکنالوجی کو انکیوبیٹ اور سرمایہ دینے کے لیے عالمی وسائل فراہم کرنے سے وابستہ ہے۔ ہماری نظریں 2019ء میں زیادہ عالمی مقامات تک پھیلنے اور انٹریپرینیورشپ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں خواتین کی کامیابیوں اور جدت طرازی کو سامنے لانے پر مرکوز ہوں گی۔

تصویر – https://photos.prnasia.com/prnh/20180917/2239750-1

‫هارد روك كافيه يفتتح أولى فروعه بمطار دبي الدولي حيث الموسيقى الراقية والمأكولات اللذيذة والملابس الأنيقة

  • من المقرر افتتاحه في نوفمبر 2018
  • أحدث إضافة إلى المفاهيم المتعلقة بالطعام ونمط الحياة في مطار دبي الدولي

دبي، الإمارات العربية المتحدة، 18سبتمبر 2018 – أنهت “مطارات دبي” اتفاقها مع “هارد روك إنترناشيونال” وشركائها الإقليميين الذين سيشهدون إطلاق باكورة سلسلة مطاعم “هارد روك كافيه” المقرر افتتاحه في أوائل شهر نوفمبر في “قاعة B”. سيضم الموقع الجديد مطعمًا مرخصًا وأطعمة معدة لتناولها بالخارج وفقرات ترفيه حية وهدايا تذكارية من موسيقى الروك ومتجرًا لبيع موسيقى الروك يزخر بمجموعة عالمية.

يُعد هارد روك إنترناشونال من أشهر العلامات التجارية في العالم إذ يشتهر بمنتجاته من الأزياء والموسيقى المتاحين الآن في مطار دبي الدولي في متجر لموسيقى الروك بالقرب من بوابة B27. كما يشتهر بتقديم تجارب لا تُنسى لتناول الطعام وأماكن لإقامة حفلات هارد روك حيث ستكمل البرنامج الموسيقى لمطار دبي الدولي التابع لسلسلة مطارات دبي.

ويضيف هذا المطعم مفهومًا جديدًا إلى سلسلة المفاهيم المتعلقة بالطعام الفاخر ونمط الحياة وسيقام في أكثر مطارات العالم ازدحامًا حيث يسعى جاهدًا لإسعاد المسافرين بتجارب ثرية وراقية وتحويل القاعات إلى مكان رائع مما يجعل المطار وجهة في حد ذاته.

وبهذه المناسبة قال يوجين باري، نائب الرئيس التنفيذي لشركة مطارات دبي: “نحن سعداء بإضافة هارد روك كافيه إلى قائمة تشغيل مطار دبي الدولي، إذ يتماشى تمامًا مع مطار يشتهر عالميًا بالمأكولات والمشروبات ومحلات التجزئة والموسيقى. يطبق هارد روك كافيه المعايير فيما يتعلق بربط الطعام اللذيذ بالموسيقى وهو عنصر أساسي في استراتيجيتنا لخلق تجربة مطار فريدة من نوعها”.

ومن جانبه قال أنيبال فرنانديز لوردن، نائب الرئيس لشؤون عمليات وتطوير الامتياز التجاري لشركة هارد روك إنترناشيونال “يتطلع هارد روك إلى افتتاح مقره الثاني في دبي بعد مرور عدة سنوات من العمل الناجح في هذه المدينة الشهيرة”. وأضاف “لم يكن بوسعنا إيجاد موقع أفضل من هذا لإهداء ذكريات رائعة للمسافرين عن واحدة من أشهر العلامات التجارية عالميًا في مجال الطعام والترفيه”.

ومنذ تأسيسها في عام 1971، أسهمت هارد روك في العديد من الأنشطة الخيرية في جميع أنحاء العالم، ومن ثم يأخذ هارد روك كافيه الجديد على عاتقه هذا الالتزام في السوق الذي يعمل بها. وفي كل مدينة من المدن التي يشغلها هارد روك، يضع الموظفون على رأس أولوياتهم أن يصبحوا شركاءً قيمين في المجتمع وذلك من خلال الأموال والأطعمة والمشروبات والسلع والجهود الإنسانية.

يقع هارد روك كافيه في مبنى الركاب 3 بوابة ب، مما يضيف إلى مجموعة مطار دبي الدولي الرائعة من العروض الترفيهية التي تضم أكثر من 100 خيار أمام الركاب لتناول الطعام وتلبي جميع الأذواق والميزانيات.

Contact:
Hannah Burden Hamer
Dubai Airports
corporate.communications@dubaiairports.ae
97145044394+

A photo accompanying this announcement is available at http://www.globenewswire.com/NewsRoom/AttachmentNg/672af5c8-a8db-4150-b306-984484cd54c2

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع

گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/–

2230 سال قبل قائم ہونے والے بین الاقوامی شہر گوانگچو میں 16 ستمبر کو 24 واں عالمی روٹ ڈیولپمنٹ فورم کا آغاز ہوا۔

روٹس ایونٹ کو عالمی شہری ہوابازی کی برادری میں عام طور پر “دی اولمپکس” اور “ورلڈ ایکسپو” کہا جاتا ہے۔ ورلڈ روٹس 2018ء غیر معمولی سطح کی رہی، جس نے 115 ممالک کی ایئرلائنوں، ہوائی اڈوں کی انتظامی انجمنوں، حکومتوں اور ٹریول ایجنسیوں کے 3500 سے زیادہ مہمانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جو 1995ء میں پہلے ایڈیشن کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس عظیم ایونٹ نے گوانگچو اور چین کے لیے بین الاقوامی مارکیٹوں میں مواقع پیدا کیے اور گوانگچو کے بین الاقوامی ہوا بازی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا۔

“ایک نیا ہوائی اڈہ قومی ترقی کے لیے ایک نئے محرّک کا کردار ادا کرتا ہے۔” حالیہ چند سالوں میں گوانگچو کی بین الاقوامی ہوابازی مرکز اور ایئرپورٹ معیشت نے تیز رفتار ترقی کا مشاہدہ کیا۔ ہوا بازی مرکز، بہتر ہوتے ہوئے، گوانگچو کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی زبردست ترویج کی سہولت اور اس کی جدت طراز گنجائش کو خوب بہتر بنانے اور ملحقہ علاقوں کی ترقی کو تحریک دینے کی صلاحیت دیتا ہے۔

گوانگچو بایون انٹرنیشنل ایئرپورٹ چین کا تیسرا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔ فورم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر تقریب کے منتظم گوانگڈونگ ایئرپوٹ اتھارٹی نے سات چینی اور غیر ملکی ایئرلائنوں کے ساتھ فضائی راستے ترتیب دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے اور مستقبل قریب میں میڈرڈ، میلان، سینٹ پیٹرزبرگ اور اسلام آباد کے لیے اہم راستے کھلنے کی توقع ہے۔ اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ بایون ایئرپورٹ ایسے 23 بین الاقوامی راستوں سے منسلک ہے جو نئے جاری ہوئے ہیں یا وہاں کے لیے پروازوں میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ستمبر میں بارسلونا میں ہونے والی ورلڈ روٹس 2017ء میں پرچم ملنے کی تقریب کے بعد سے سات دیگر مقامات کے ساتھ منسلک ہو چکا ہے۔  یہ ہوائی اڈہ اب تک تقریباً 80 چینی اور غیر ملکی ایئرلائنوں کا مسکن ہے، اور 210 سے زیادہ مقامات کے ساتھ فضائی رابطے رکھتا ہے، جن میں سے لگ بھگ 90 سمندر پار ہیں۔

“ایک عالمی معیار کا ہوا بازی مرکز بہت بڑی اور قابل قدر ٹریفک لا سکتا ہے،” وین وینسنگ، جنرل مینیجر گوانگڈونگ ایئرپورٹ اتھارٹی نے کہا، مزید وضاحت کی کہ ملک اور دنیا سے منسلک ہونے کی اور وسائل مختص کرنے کی زبردست صلاحیت نے گوانگچو کو ہوائی اڈے کی معیشت کو ترقی دینے پر فطری برتری حاصل کرنے دی۔ گوانگچو متعدد بلند پایہ منصوبوں کا مسکن ہے، جن کی نمائندگی ایئر بس اور بوئنگ کے کارخانے کر رہے ہیں جو مسافر طیاروں کو کارگو طیاروں میں بدل رہے ہیں۔ شہر کی ہوا بازی دیکھ بھال صنعت کی ایک اور جھلک ہے، جس نے دنیا کے سب سے بڑے طیارے کی دیکھ بھال اور فریٹر کنورژن مراکز کی تشکیل کا مشاہدہ کیا۔

اسی طرح ہوائی اڈے کی معیشت سے متعلقہ صنعتوں نے بھی تیز رفتار ترقی کا لطف اٹھایا جیسا کہ گوانگچو اپنی ہوا بازی طاقت کو مزید بہتر بنا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گوانگچو بین السرحدی ای-کامرس کاروبار میں مسلسل چار سالوں سے بلحاظِ حجم چین میں سرفہرست ہے۔ جامع بونڈڈ زونز اب 1,000 سے زیادہ اداروں کے حامل ہیں جو بین السرحدی ای-کامرس میں شامل ہیں، اور 100,000 سے زیادہ اقسام کی مصنوعات کو رجسٹر کر رہے ہیں۔ ہر روز اوسطاً 140,000 سے زیادہ کارگو کی فہرستیں ہوائی اڈے پر سنبھالی جاتی ہیں۔

“یہ کانفرنس گوانگچو، گوانگ ڈونگ بلکہ پورے چین میں اصلاحات کی کامیایبوں اور افتتاحیہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم دنیا بھر کے ہوائی اڈوں، ایئرلائنوں اور ٹریول ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے مزید پلیٹ فارمز تعمیر کرنے، اور سب کے لیے یکساں کارگر ترقی کو حاصل کرنے کے لیے مزید چینلز کا آغاز کرنے کے خواہشمند ہیں۔” چینگ شوفو، سیکریٹری سی پی سی گوانگچو میونسپل کمیٹی نے فورم میں کہا۔

چین میں‍ ورلڈ روٹس 2018ء، جو چین میں ہونے والا تیسرا ایڈیشن تھا، میں جمع بین الاقوامی ہوا بازی برادری باہمی اتصال اور سب کے لیے کارگر تعاون سے بہت امیدیں رکھتی ہے، اور مستقبل میں ہوا بازی کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔

ٹیوولڈ، ایتھوپین ایئرلائنز کے سی ای او، نے چین میں ہوابازی مارکیٹ میں مزید وسعت کی اپنی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ گوانگچو اور چین میں دیگر بڑے ہوائی اڈوں کے لیے اپنی پروازوں کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

10 ستمبر کو جے سی (کمبوڈیا) انٹرنیشنل ایئرلائنز نے گوانگچو-سہانوکول روٹ کا باضابطہ آغاز کیا، جو دونوں مقامات کو ملانے والا پہلا فضائی راستہ ہے۔ اپیکھا اناپوما بنتوتا پتھیرانا، سینیئر نائب صدر جے سی، نے فورم میں کہا کہ “اس وقت جے سی گوانگچو سمیت چین کے 10 شہروں کے ساتھ براہ راست رابطے رکھتا ہے۔ ہم رواں سال کے اختتام تک اس تعداد کو 15 تک پہنچانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔”

“ہم جنوبی چین، بالخصوص گوانگچو، میں مزید پیشرفت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ گوانگڈونگ ہمارے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔” یہ کہنا تھا حسین جہان، نائب صدر، ایشیا پیسفک ترکش کارگو کا۔

ذریعہ: گوانگڈونگ ایئرپورٹ اتھارٹی

د چین په سوینګ کې د شنه پرمختګ په برخه کې د ميوو صبر کول

سوینګ، چين، سپتمبر ۱۴ ، ۲۰۱۸ / پي آر نيوز وائر / – د سپتمبر په پنځمه، د “شين” بطور سايټشن غونډه د چين په لويديځ چينايي سيچان ښار کې سوينګن کې ترسره شوه. دغه ناسته، د ” ۲۰۱۸ گرین اقتصاد سوینګ کانفرانس” په نامه یادوي، د ۳۰۰ نامتو چینی چینپوهانو، علماوو او سوداګرانو پام ځانته راوباوه. دوی د یو دیوال لاندې راټول شول او سوینګین سره د مرکزي ټکي په توګه د شنه پرمختګ په اړه په څو اړخیزو او ژورو تبادلو کې ښکیل شول،.

په ۲۰۱۷ کې، سوینګ لا هم یو داسې سیمه وه چې لا تر اوسه یې د خپلې ژورې دودیز زراعتي ماډل څخه آزاد نه دی کړی. مګر په همدغه کال کې، سوینګ هم لوړه کړه چې په پرمختیا کې د یوې نوې تګلارې پلمه وکړي، د رواجونو دودونو بدلولو او راتلونکې ته مخه کړي.

په تیرو لسیزو کې، شنه ښار په ښار کې نوی چرګ رامینځته کړی دی. د صنعتي جوړښت تعدیلاتو له الرې، دودیز صنعتونه د برقی معلوماتو، ماشینونو او تجهیزاتو، ذہین تولیداتو، نویو توکو، عصري لوژستیک او نور پیدا شوي صنعتونو لخوا بدلیدلی. د یوې لسیزې د شنه ښار جوړونې او ساختماني کار وروسته، ښاري سیمې اوس د سرې پارک پارک او شنه ځای موقعیت لري ۱۲.۸۶مربع متره، د ۴۱.۳۵ في صد د شنه کولو پوښښ بشپړ شوی او د ۳۷.۴۷في صد نا بشپړ پوښښ کچه. د ګوانینګ جھیل، د ښار په مینځ کې د اوبو یوه برخه، د ۱۴.۸ في صد کیلومتره مربع پراخ ساحه لري، او سوینګ د چین د مخکښانو په منځ کې د “سپنج ښار” جوړولو لپاره پیل دی. په ۲۰۱۸ کې د “چین د ښارونو ښار” راپور، په ګډه د ملګرو ملتونو د هاییتاتټ او د چین د ښاري پلان جوړونې ټولنه، د ښار سایینګ انځور، د “په چین کې شنه ښارګوټی” موضوع سره د مخ مخ انځور کړ. دا ښكاره ښار هم د مختلفو مجسمو لرغونو آثارو او همدارنګه د “گرین ورلډ سټینټ” او “بین المللي پارک ښار” په څیر د غوښتنو څخه وروسته ترلاسه كړې.

د سپتمبر ۲۶ او ۲۷ترمنځ، د گرین ډولپمنټ ساینس او ټیکنالوژۍ کنفرانس به د “پاک انرژي: د شنه پرمختګ لپاره نوی موټر” تر عنوان لاندې سوین کې ترسره شي. لوړ پوهان پوهان، د کور او بهر څخه به لوړ پوهان او شرکتونه به یو ځل بیا د ګرم انرژی او د بریښنا ذخیره کولو، د انرژۍ نوي ذخیره، شنه مالي، د ” یو بلټ یو سړک” په شنه ښارونو کې همکاري، د کلیوالي کلیو بیا رغونه او نوی پرمختیا. دوی به د ساینس، ټیکنالوژۍ، شنه پرمختیا او د خلکو په وړاندې د ټولو اړخونو تر منځ یو تشخیص په نښه کړي.

سوئننگ، چین میں ماحول دوست ترقی پر ثابت قدمی ثمربار

سوئننگ، چین، 15 ستمبر 2018ء/پی آرنیوزوائر/– 5 ستمبر کو ایک “گرین” برین اسٹورمنگ سیشن مغربی چینی صوبے سیچوان کے شہر سوئننگ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس نے، جسے “2018ء گرین اکانمی سوئننگ کانفرنس” کا نام دیا گیا، تقریباً 300 معروف چینی ماہرین، اسکالرز اور کاروباری منتظمین کی توجہ مبذول کرائی۔ وہ ایک چھت تلے جمع ہوئے اور ماحول دوست ترقی کے حوالے سے سوئننگ کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کثیر پہلو اور عمیق تبادلوں میں شامل ہوئے۔

2007ء میں سوئننگ بدستور ایسا علاقہ تھا جو خود روایتی زرعی نمونے کی گہری جڑوں سے بدستور آزاد نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس سال، سوئننگ نے ترقی میں نئی پیشقدمی کا بھی عہد کیا، تاکہ راسخ روایات کو تبدیل کرے اور مستقبل کی طرف تیزی سے بڑھے۔

گزشتہ دہائی میں سرسبزی نے شہر کا ایک نیا جلوہ پیش کیا۔ صنعتی ڈھانچے میں تبدیلی کے ذریعے روایتی صنعتوں کی جگہ الیکٹرانک انفارمیشن، مشینری اور آلات، انٹیلی جینٹ مینوفیکچرنگ، نیو مٹیریلز، جدید لاجسٹکس اور دیگر ابھرتی ہوئی صنعتیں لے چکی ہیں۔ ماحول دوست شہرکاری اور تعمیر کی دہائی کے بعد شہری علاقہ اب فی کس باغات اور سرسبز مقامات کا 12.86 مربع میٹر علاقہ رکھتا ہے، سرسبزی کے کل احاطے کی شرح 41.35 فیصد ہے اور نامکمل گھاس کے احاطے کی شرح 37.47 فیصد ہے۔ شہر کے وسط میں واقع آبی ذخیرہ گوانین جھیل 14.8 مربع کلومیٹر کا سطحی رقبہ رکھتی ہے اور سوئننگ “اسپنج سٹی” کی تعمیر شروع کرنے والے چین کے اولین شہروں میں سے ایک ہے۔ “چینی شہروں کی حالت” کے 2018ء ایڈیشن نے، جسے یو این ہیبیٹٹ اور اربن پلاننگ سوسائٹی آف چائنا نے مشترکہ طور پر شائع کیا، سرورق پر “چین میں سبز شہرکاری” کے عنوان کے ساتھ سوئننگ شہر کی تصویر لگائی۔ تعمیرات میں سرسبزی سے بھرپور شہر کو “گرین ورلڈ سٹی” اور “انٹرنیشنل پارک سٹی” جیسے مؤقر مناصب اور دلپسند خطابات بھی مل چکے ہیں۔

26 اور 27 ستمبر کے درمیان گرین ڈیولپمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کانفرنس “صاف توانائی: ماحوحل دوست نمو کے لیے نیا محرّک” کے عنوان سے سوئننگ میں ہوگی۔ اندرون و بیرون ملک سے سرکردہ  ماہرین، دانشور اور معروف ادارے ایک مرتبہ پھر جمع ہوں گے اور صاف توانائی اور توانائی محفوظ کرنے، نئی توانائی گاڑیوں، ماحول دوست مالیات، “ون بیلٹ ون روڈ” پر واقع سبز شہروں میں تعاون، دیہی تجدید حیات اور جدت طراز ترقی جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ وہ سائنس، ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور عوام کے لیے موافق تمام پہلوؤں سے واضح تکمیل پر بات کریں گے۔

‫18 ویں ورلڈ ونٹر سٹیز ایسوسی ایشن فار میئرز کانفرنس میں ماحول دوست ترقی پر گفتگو کے لیے 41 شہر شینیانگ میں جمع

شینیانگ، چین، 14 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 18 ویں ورلڈ ونٹر سٹیز ایسوسی ایشن فار میئرز کانفرنس (WWCAM کانفرنس) 12 ستمبر 2018ء کو شینیانگ میں منعقد ہوئی تھی۔ شینیانگ میونسپل گورنمنٹ کے مطابق کانفرنس نے 30 ممالک کے 41 سٹی گروپس اور 52 چیمبر آف کامرس گروپوں کو مدعو کیا تھا۔ موضوع “سرمائی شہر، بہتر زندگی” کے ساتھ WWCAM نے سرمائی شہروں کی منصوبہ بندی اور تعمیر پر، اور اسمارٹ سٹی کی تعمیر و ماحول دوست ترقی پر تحقیق کی۔ WWCAM دنیا بھر میں ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدت طرازی اور سرمائی شہروں کے درمیان تبادلوں اور تعاون کو بھی فروغ دے گا۔

1982ء میں سپورو،جاپان میں پہلی WWCAM کانفرنس کے انعقاد سے اب تک کہ 36 سالوں میں یہ ہر دو سال میں منعقد ہوتی ہے۔ اپنی گزشتہ کامیابی کی بنیاد پر یہ کانفرنس رکن شہروں کی محدودیت کو توڑتی ہے اور ان ممالک کے سرمائی شہروں کے نمائندوں کو مدعو کرتی ہے جو براعظموں میں پھیلے ہیں لیکن یکساں چیلنجز رکھتے ہیں، اور دنیا بھر کے شہروں کے درمیان نئی تحریک پیدا کرتے ہیں۔

“طول بلد میں اوپر اور سطح سمندر سے بلندی پر واقع شہروں کو شدید گرمی، ٹریفک اور ماحولیاتی مسائل کاسامنا ہے” کانفرنس کے دوران لارا فرٹس، ڈائریکٹر سالٹ لیک سٹی کی اکانمک ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ، نے کہا: “سالٹ لیک سٹی 2040ء تک شہری بجلی کے لیے 100 فیصد قابل تجدید توانائی کا منصوبہ اور گرین ہاؤس گیسوں کو 80 فیصد تک کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو ہر شہری کو سرد موسم میں تازہ ہوا کا  لطف اٹھانے کا موقع دے گی۔ ہمارے ریسورسز پلان سے متاثر ہوکر شینیانگ حکومت ہمارے ساتھ گہرے اور قریبی تعاون میں شامل ہے تاکہ ہم کوئلے سے بجلی بنانے کی جگہ قابل تجدید توانائی ذرائع پر منتقل ہوں۔”

کانفرنس میں سپورو، جاپان؛ سیول، جنوبی کوریا؛ وینکوور، کینیڈا اور کلیرموں-فیراں، فرانس کے 15 میئرز یا نمائندگان نے شہری تجربات اور کامیابیوں کا تعارف کروایا، اور زیادہ معیار اور مؤثریت کے ساتھ نئے اسمارٹ شہروں کے قیام سے متعلق اور زیادہ ماحول دوست ترقی کے ساتھ سبز شہروں کے قیام پر تجاویز دیں۔

18 ممالک سے 48 کاروباری انجمنوں اور لیاؤننگ سے 60 متعلقہ اداروں، بشمول امریکا کے امبو گروپ، جاپان کے سپورو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، فن لینڈ کے اورن گروپ، یورپین یونین چیمبر آف کامرس، شینیانگ براڈ گروپاور شینیانگ ٹورازم گروپ نے ونٹر سٹیز بزنس کانفرنس میں تقریبا 150 افراد کی شمولیت کے ساتھ شرکت کی۔ اجلاس کے دوران 20 سے زیادہ غیر ملکی اداروں اور 50 سے زائد چینی اداروں نے سیاحت، آئی ٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر شعبہ جات میں بالمشافہ منصوبے کیے۔

“بنائیں بہتر زندگی” نہ صرف اچھی خواہش کا اظہار اور دنیا بھر میں افراد کو بہتر زندگی کے سنجیدہ تعاقب کو ہی پیش نہیں کرتی، بلکہ شہری تنظیم کی ناگزیر تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ جیانگ یووی، میئر شینیانگ، نے کہا کہ شینیانگ رابطہ کاری کو مضبوط کرنے اور دیگر شہروں کے ساتھ تبادلے کو مستحکم بنانے، عملی تعاون کو وسیع کرنے اور ماحول دوست اور شہر کی صحت مندانہ ترقی کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔ دریں اثناء، کئی شہروں کے میئرز اور چیمبر آف کامرس نمائندگان نے بھی شینیانگ کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے کی اپنی خواہش، بین الاقوامی ثقافتی سیاحت کی صنعت کے منصوبوں کو زبردست انداز میں بنانے، اور بہتر شہری منصوبہ بندی میں اپنے تجربات اور کامیابیوں، نفیس ترقی اور مسلسل بہتری کا بھی اظہار کیا۔

ذریعہ: شینیانگ شہری حکومت

تصویری اٹیچمنٹس کے لنکس:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=319339