Category Archives: General Press Releases

Roadside Bomb Kills Four Security Troops In Northwestern Pakistan

Pakistan’s military says a roadside bomb has killed four members of the country’s security forces and wounded three others in the northwestern Kurram tribal area.

A statement said that the improvised explosive device went off on October 15 near Kharlachi, a border crossing with Afghanistan.

Unidentified security officials were quoted as saying up to three bombs went off in the attack, which was claimed by the Pakistani Taliban. Officials told the AFP news agency that the search party belonged to the paramilitary Frontier Corps.

The army statement said the troops were taking part in a search operation for the militants who had held an American-Canadian family that was rescued last week after almost five years in captivity.

It said the dead included an officer.

Kurram is one of the seven agencies in the Federally Administered Tribal Areas (FATA), a semiautonomous tribal region of Pakistan adjacent to Afghanistan’s Nangarhar Province.

On October 11, Pakistani soldiers rescued U.S. citizen Caitlan Coleman, her Canadian husband, Joshua Boyle, and their three children in Kurram after the military received intelligence from U.S. officials.

Coleman and Boyle were kidnapped while backpacking in Afghanistan in 2012. The couple’s three children were born in captivity.

The family had been held by the Afghan Taliban-aligned Haqqani network.

After landing in Canada late on October 13 with his wife and children, Boyle accused the kidnappers of murdering their infant daughter and raping his wife.

President Donald Trump has praised Islamabad for acting on the U.S. intelligence tip and showing its willingness to “do more to provide security in the region.”

U.S. officials have long accused Pakistan of ignoring the presence of the Haqqani network and other extremist groups within its borders.

Copyright (c) 2015. RFE/RL, Inc. Reprinted with the permission of Radio Free Europe/Radio Liberty, 1201 Connecticut Ave NW, Ste 400, Washington DC 20036.

Roadside Bomb Kills Four Security Troops In Northwestern Pakistan

Pakistan’s military says a roadside bomb has killed four members of the country’s security forces and wounded three others in the northwestern Kurram tribal area.

A statement said that the improvised explosive device went off on October 15 near Kharlachi, a border crossing with Afghanistan.

Unidentified security officials were quoted as saying up to three bombs went off in the attack, which was claimed by the Pakistani Taliban. Officials told the AFP news agency that the search party belonged to the paramilitary Frontier Corps.

The army statement said the troops were taking part in a search operation for the militants who had held an American-Canadian family that was rescued last week after almost five years in captivity.

It said the dead included an officer.

Kurram is one of the seven agencies in the Federally Administered Tribal Areas (FATA), a semiautonomous tribal region of Pakistan adjacent to Afghanistan’s Nangarhar Province.

On October 11, Pakistani soldiers rescued U.S. citizen Caitlan Coleman, her Canadian husband, Joshua Boyle, and their three children in Kurram after the military received intelligence from U.S. officials.

Coleman and Boyle were kidnapped while backpacking in Afghanistan in 2012. The couple’s three children were born in captivity.

The family had been held by the Afghan Taliban-aligned Haqqani network.

After landing in Canada late on October 13 with his wife and children, Boyle accused the kidnappers of murdering their infant daughter and raping his wife.

President Donald Trump has praised Islamabad for acting on the U.S. intelligence tip and showing its willingness to “do more to provide security in the region.”

U.S. officials have long accused Pakistan of ignoring the presence of the Haqqani network and other extremist groups within its borders.

Copyright (c) 2015. RFE/RL, Inc. Reprinted with the permission of Radio Free Europe/Radio Liberty, 1201 Connecticut Ave NW, Ste 400, Washington DC 20036.

ڈسکوری چینل کی شی کے عہد پر تحقیق

China: Time of Xi – تین قسطوں کی ایک نئي دستاویزی سیریز جو مملکت وسط کے نئے باب کو دریافت کرتی ہے

سنگاپور، 13 اکتوبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/– اس اکتوبر میں دنیا کی نگاہیں بیجنگ کی جانب ہیں جہاں چینی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اگلے صدر کے انتخاب کے لیے جمع ہیں جو ایک دہائی میں دو مرتبہ ہونے والی تقریب ہے۔ صدر شی جن پنگ ممکنہ طور پر دوسرے عہد کا آغاز کریں گے اور دنیا چین کے مستقبل کے لیے سرگرمی سے انتظار کر رہی ہے۔https://photos.prnasia.com/prnvar/20171013/1965570-1-a

https://photos.prnasia.com/prnvar/20171013/1965570-1-a

14 سے 16 اکتوبر تک روزانہ صبح 9 بجے ڈسکوری چینل کی جدید ترین تین حصوں کی دستاویزی سیریز، China: Time of Xi ، اس تاریخی موقع پر روشنی ڈالے گی اور چین کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے پردے اٹھائے گی کہ چین کا یہ انوکھا تجربہ دنیا کو کیا پیش کر سکتا ہے اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے زبردست کوشش کے ساتھ فرد کو کیا چیز تحریک دے سکتی ہے۔

China: Time of Xi  کی میزبانی ٹی وی پروڈیوسر اور ڈیزائنر ڈینی فورسٹر، بایومیڈیکل انجینیئر ڈاکٹر جورڈن اینگوین کے ساتھ ساتھ ماہر بشریات میری ان اوچوٹا کریں گے۔ مختلف شعبہ جات کا احاطہ کرتے ہوئے، ہر میزبان اپنے تجربے کے متعلقہ شعبوں میں تاریخ کے اس اہم مرحلے پر چین کا 360 درجے کا منظرنامہ پیش کرے گا۔ ‘چین پر نظر رکھنے والے’ معروف عالمی افراد کا پینل اضافی تبصرے اور سوچ کو تحریک دینے والی سوچ پیش کریں گے کہ صدر شی کس طرح چین کو چلا رہے ہیں تاکہ اپنے ملک کو دنیا میں طاقتور کردار بنا سکیں۔

صدارت کے پہلے پانچ سال کے اختتام پر چینی رہنما شی جن پنگ ملک کی جدید تاریخ کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک بن گئے ہیں۔ ہر قسط اُن کے سیاسی نظریات اور اقتصادی حکمت عملی کے کلیدی ستونوں کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتی ہے، ان عناصر کو چار براعظموں سے خوبصورتی  سے حاصل کیے گئے مناظر اور کرداروں کی بنیاد پر کیس اسٹڈیز کے ذریعے زندگی دی گئی ہے۔

پہلی قسط (عوامی جمہوریہ) میں ، دستاویزی سلسلہ بنیاد ڈالے گا کہ 21 ویں صدی میں “عوامی” جمہوریہ ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہے، کیمرے کی آنکھ سے معلوم ہوگا کہ کیوی کی کاشت کرنے والے کسانوں سے لے کر پر رونق بیجنگ میں ٹیکسی ڈرائیور تک؛ فٹ بال کا شوق اور بڑے خواب رکھنے والی نوجوان لڑکیوں سے لے کر چھوٹے قصبے کے دکانداروں تک کہ ٹیکنالوجی جن کی زندگی تبدیل کرچکی ہے۔ فلم یہ بھی تلاش کرے گی کہ صدر شی کے ابتدائی تجربات نے ‘چینی خواب’ کے لیے ان کے وژن کو کس طرح تبدیل کیا ہوگا اور انہیں عوامی سطح پر 50 ملین چینی باشندوں کے لیے غربت کے خاتمے کا عہد کرنے کی تحریک دی جو اب بھی اقوام متحدہ کے خط غربت سے نیچے رہ رہے ہیں۔https://photos.prnasia.com/prnvar/20171013/1965570-1-b

https://photos.prnasia.com/prnvar/20171013/1965570-1-b

دوسری قسط (Running China Now) ملک کو معیشت، ماحولیات اور بدعنوانی کے شعبوں میں درپیش حقیقی چیلنجز پر نظر ڈالے گی۔ اقتصادی دائرے میں چین کی نئی ٹیکنالوجی جیسا کہ اے آئی سے چلنے والے خود مختار ڈرونز اور انقلابی برقی اسکائی ٹرین میں تیزی سے سرمایہ کاری اسے اپنی معیشت کو متنوع اور جدید بنانے میں مدد دے رہی ہے جبکہ کئی نوجوان چینی ماحولیات کو صاف کرنے کے لیے منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں، نتیجہ قانون کی حکمرانی کی نئی تعظیم ہے۔ کیس اسٹڈیز کے ذریعے ہم شی جن پنگ کی چین کے ہر شعبے میں “سسٹم اپگریڈ”  کے مطالبے کی گہرائی میں گئے۔ ہم نے دریافت کیا کہ کس طرح انتہائی کمرشل صوبہ فوجیان میں شی جن پنگ کے نوجوان سرکاری عہدیدار کی حیثیت سے تجربات نے چین کی معیشت کے حوالے سے ان کے رویّے کو شکل دی۔

All Aboard میں سلسلے کو تکمیل تک پہنچاتے ہوئے۔ آخری قسط نئے چین کا اثر و رسوخ کہ وہ کس طرح ان برادریوں اور زندگیوں کو تبدیل کر رہا ہے جو اس کی سرحدوں سے دور نیروبی اور وینس جیسے شہروں میں رہتی ہیں، ساتھ ساتھ ‘مشترکہ منزل کی عالمی برادری’ کے صدر شی کے وژن میں گہرائی تک دیکھے گی۔ کمبوڈیا، انڈونیشیا اور امریکا سے کہانیوں کے ساتھ چین عالمی اسٹیج پر سب سے نمایاں کردار کے طور پر اپنا مقام حاصل کرتا ہے، ہم صدر شی جن پنگ کے “مشترکہ منزل کی عالمی برادری” کے وژن پر تحقیق کریں گے – ایک متاثر کن نظریہ ایک نئے عالمی نظام کے لیے، یا چین کے عالمی مقاصد کا چوغا؟

ناظرین China: Time of Xi   مندرجہ ذیل پروگرامنگ شیڈول کے مطابق دیکھ سکتے ہیں:

چينل قسط 1 پریمیئر قسط 2 پریمیئر قسط 3 پریمیئر قسط 1 نشر مکرر قسط 2 نشر مکرر قسط 3نشر مکرر
ڈسکوری چینل ایشیا 14 اکتوبر (ہفتہ) 9 بجے صبح 15 اکتوبر (اتوار) 9 بجے صبح 16 اکتوبر (سوموار) 9 بجے صبح 15 اکتوبر (اتوار) 8بجے صبح 16 اکتوبر (سوموار) 8بجے صبح 17 اکتوبر (منگل) 8 بجے صبح

ڈسکوری نیٹ ورکس ایشیا-پیسفک کے بارے میں

ڈسکوری نیٹ ورکس ایشیا-پیسفک، نمبر ایک عالمی تفریحی ادارے ڈسکوری کمیونی کیشنز کا ایک شعبہ، 15 برانڈز کے اپنے مجموعے کے ذریعے اعلیٰ معیار کے مواد کے ساتھ ناظرین کو تجسس، کشش اور تفریح دینے میں مطمئن کرنے سے وابستہ ہے۔ بقائے زندگی سے فطری تاریخ، سائنسی عجائبات سے مشکل ترین کاموں، سفر کے لیے گاڑی چلانے سے طرز زندگی، اور جدید ترین انجینئرنگ شاہکاروں سے لے کر براہ راست کھیلوں کی تقریبات تک، ہر چینل خطے بھر میں ناظرین کے لیے لازمی دیکھے جانے والے مختلف پروگرام پیش کرتا ہے۔ نیٹ ورک کے 15 برانڈز 14 زبانوں اور لہجوں میں پروگرامنگ کے ساتھ 38 ممالک اور خطوں میں مجموعی طور پر 902 ملین صارفین تک پہنچتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.discoverycommunications.com۔

ذرائع ابلاغ کے سوالات اور ہائی ریز تصاویر کے لیے رابطہ کیجیے:

چارمین فونگ
اے کے اے ایشیا
ٹیلی فون:
65-6222-6136+
ای میل: discovery@aka-asia.com

تصویر –https://photos.prnasia.com/prnh/20171013/1965570-1-a
تصویر – https://photos.prnasia.com/prnh/20171013/1965570-1-b

 

Western Family Held by Taliban Arrives in Canada

ISLAMABAD � An American-Canadian couple and their three children arrived in Canada after five years in Taliban captivity in Afghanistan.

The family flew Friday from Pakistan to Canada via Britain.

Acting on a tip from U.S. intelligence, Pakistani officials say their troops rescued U.S. national Caitlan Coleman and her Canadian husband, Joshua Boyle, on Wednesday, hours after their captors transported them in a car to the Pakistani side of the long, porous Afghan border.

Boyle provided a written statement to The Associated Press Friday saying, God has given me and my family unparalleled resilience and determination.

Rescue operation

The Pakistan military revealed details of the rescue operation Thursday.

A U.S. plane was standing by at the military airbase in Islamabad, waiting to fly the family to a U.S. military base in Germany for a medical checkup, but Pakistani security sources told VOA Boyle refused to board the flight fearing their scrutiny.

Instead, the family boarded Pakistan’s state-run carrier and left for Britain.

Coleman and Boyle went missing while backpacking in Afghanistan in 2012. The Afghan Taliban later claimed responsibility for kidnapping them. U.S. officials maintain the couple was in captivity of the Haqqani terrorist organization linked to the Taliban.

The insurgent group, which released two videos of the hostages while they were in captivity, had been demanding the release of their prisoners in exchange for Boyle and his wife. While in captivity, the couple had three children, who were rescued with them.

One of the prisoners the militants wanted to be freed is Annas Haqqani, who is on death row in an Afghan prison. The detainee is the younger brother of Sirajuddin Haqqani, who heads the Haqqani network and also serves as a deputy to the leader of the Taliban.

A senior Taliban official when contacted by VOA claimed the Coleman and Boyle converted to Islam while in captivity.

The Taliban need not have to keep them hostage and thought they be freed to go anywhere they wanted to because their hardships as an extended family were increasing in captivity, the official said requesting anonymity.

Turning point for US, Pakistan?

U.S. and Pakistani officials have expressed hope the hostages’ release could represent a turning point in traditionally mistrust-marred relations between the two countries, and it could lead to better cooperation between the uneasy allies in fighting Taliban and other Islamist extremists in Afghanistan.

Both sides, U.S. and Pakistan, they have agreed to remain engaged in the future as well for better cooperation and better understanding of each other’s concerns and also how to deal with the challenges, Foreign Ministry spokesman Nafees Zakaria said Friday.

Washington has long alleged Islamabad maintains ties to the Haqqanis and the Taliban, helping them expand and prolong the conflict in neighboring Afghanistan. Pakistani officials deny the allegations and touted Wednesday’s successful hostage rescue operation as another demonstration of its counterterrorism resolve and cooperation with the U.S.

We have been taking on the terrorists. And we have also said in the past as well that if we have the intelligence provided by the U.S., then we will be able to take action. So we have taken action based on the intelligence that was provided by the U.S. side, noted Zakaria while speaking to reporters in Islamabad.

President Donald Trump on Thursday praised the release of the family from captivity from the Haqqani network, a terrorist organization with ties to the Taliban. He also called the development a positive moment in U.S.-Pakistan relations.

The Pakistani government’s cooperation is a sign that it is honoring America’s wishes for it to do more to provide security in the region, he said in a statement.

We hope to see this type of cooperation and teamwork in helping secure the release of remaining hostages and in our future joint counterterrorism operations, Trump added

He later told reporters that he believes Pakistan is started to respect the United States again.

U.S. Defense Secretary Jim Mattis gave reporters almost no information on the operation that led to the family’s freedom, other than to say, it’s a very good moment, and we intend to work with Pakistan in a collaborative way in the future to stop terrorism that includes kidnapping.

Other hostages

Meanwhile, an American, Kevin King, 60, and an Australian Timothy Weeks, 48, are being held hostage in Afghanistan. The two teachers, with the American University of Afghanistan in Kabul, were kidnapped at gunpoint near the campus in August 2016.

In a video the Taliban released in June, the hostages begged Trump to negotiate their freedom with the Islamist insurgent group.

Source: Voice of America

Western Family Held by Taliban Arrives in Canada

ISLAMABAD � An American-Canadian couple and their three children arrived in Canada after five years in Taliban captivity in Afghanistan.

The family flew Friday from Pakistan to Canada via Britain.

Acting on a tip from U.S. intelligence, Pakistani officials say their troops rescued U.S. national Caitlan Coleman and her Canadian husband, Joshua Boyle, on Wednesday, hours after their captors transported them in a car to the Pakistani side of the long, porous Afghan border.

Boyle provided a written statement to The Associated Press Friday saying, God has given me and my family unparalleled resilience and determination.

Rescue operation

The Pakistan military revealed details of the rescue operation Thursday.

A U.S. plane was standing by at the military airbase in Islamabad, waiting to fly the family to a U.S. military base in Germany for a medical checkup, but Pakistani security sources told VOA Boyle refused to board the flight fearing their scrutiny.

Instead, the family boarded Pakistan’s state-run carrier and left for Britain.

Coleman and Boyle went missing while backpacking in Afghanistan in 2012. The Afghan Taliban later claimed responsibility for kidnapping them. U.S. officials maintain the couple was in captivity of the Haqqani terrorist organization linked to the Taliban.

The insurgent group, which released two videos of the hostages while they were in captivity, had been demanding the release of their prisoners in exchange for Boyle and his wife. While in captivity, the couple had three children, who were rescued with them.

One of the prisoners the militants wanted to be freed is Annas Haqqani, who is on death row in an Afghan prison. The detainee is the younger brother of Sirajuddin Haqqani, who heads the Haqqani network and also serves as a deputy to the leader of the Taliban.

A senior Taliban official when contacted by VOA claimed the Coleman and Boyle converted to Islam while in captivity.

The Taliban need not have to keep them hostage and thought they be freed to go anywhere they wanted to because their hardships as an extended family were increasing in captivity, the official said requesting anonymity.

Turning point for US, Pakistan?

U.S. and Pakistani officials have expressed hope the hostages’ release could represent a turning point in traditionally mistrust-marred relations between the two countries, and it could lead to better cooperation between the uneasy allies in fighting Taliban and other Islamist extremists in Afghanistan.

Both sides, U.S. and Pakistan, they have agreed to remain engaged in the future as well for better cooperation and better understanding of each other’s concerns and also how to deal with the challenges, Foreign Ministry spokesman Nafees Zakaria said Friday.

Washington has long alleged Islamabad maintains ties to the Haqqanis and the Taliban, helping them expand and prolong the conflict in neighboring Afghanistan. Pakistani officials deny the allegations and touted Wednesday’s successful hostage rescue operation as another demonstration of its counterterrorism resolve and cooperation with the U.S.

We have been taking on the terrorists. And we have also said in the past as well that if we have the intelligence provided by the U.S., then we will be able to take action. So we have taken action based on the intelligence that was provided by the U.S. side, noted Zakaria while speaking to reporters in Islamabad.

President Donald Trump on Thursday praised the release of the family from captivity from the Haqqani network, a terrorist organization with ties to the Taliban. He also called the development a positive moment in U.S.-Pakistan relations.

The Pakistani government’s cooperation is a sign that it is honoring America’s wishes for it to do more to provide security in the region, he said in a statement.

We hope to see this type of cooperation and teamwork in helping secure the release of remaining hostages and in our future joint counterterrorism operations, Trump added

He later told reporters that he believes Pakistan is started to respect the United States again.

U.S. Defense Secretary Jim Mattis gave reporters almost no information on the operation that led to the family’s freedom, other than to say, it’s a very good moment, and we intend to work with Pakistan in a collaborative way in the future to stop terrorism that includes kidnapping.

Other hostages

Meanwhile, an American, Kevin King, 60, and an Australian Timothy Weeks, 48, are being held hostage in Afghanistan. The two teachers, with the American University of Afghanistan in Kabul, were kidnapped at gunpoint near the campus in August 2016.

In a video the Taliban released in June, the hostages begged Trump to negotiate their freedom with the Islamist insurgent group.

Source: Voice of America

سیرالیون کی خاتون اوّل اور بینگمیٹ نے افریقی بچوں کے لیے عطیات کے منصوبے کا اجراء کردیا

فری ٹاؤن، سیرالیون، 13 اکتوبر 2017ء/پی آرنیوزوائر/– سیرالیون کی خاتون اوّل محترمہ سیا نیاما کوروما اور چینی کمپنی – بینگمیٹ نے مل کر افریقہ میں خواتین اور بچوں کی صحت کے فروغ کے لیے خشک دودھ کے عطیات کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ دریں اثناء،ایوان صدر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں سیرالیون کے لیے چینی سفیر جناب وو پینگ، چین کے لیے سیرالیون کی قائم مقام  سفیر محترمہ کوما موموہ، محترمہ ماریاتو کارگبو خیر سگالی سفیر اور وزارت صحت، ایم ایس ڈبلیو جی سی اے، ایم او ایچ ایس وغیرہ کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ پروڈکٹ 20 ہزار سے زیادہ 1 سے 5 سال کے بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں کو غذائی سپلیمنٹ فراہم کرے گی۔https://photos.prnasia.com/prnvar/20171012/1965004-1-a

https://photos.prnasia.com/prnvar/20171012/1965004-1-a

خاتون اوّل محترمہ کوروما نے کہا کہ “میرا پہلا کام افریقہ میں خواتین میں کثرت اموات کو کم کرنا تھا، میں بچوں کے لیے غذائیت کی اہمیت کو جانتی ہوں، اس لیے آج کا تحفہ بیش قیمت ہے۔ میں منصوبے میں ماریہ کی کوششوں اور ملک کے لیے ان کے حصے کو سراہتی ہوں۔ بینگمیٹ بچوں کے لیے اشیائے خوردونوش میں رہنما چینی ادارہ ہے جو بلند ایس سی آر شعور رکھتا ہے، یہ خشک دودھ ہمارے بچوں کو زیادہ غذائیت دے گا۔ میں اپنے شوہر – صدر کوروما، اپنے دفتر، سیرالیون کی ماؤں اور بچوں کی طرف سے اس زبردست مدد پر بینگمیٹ کا خلوص سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔”

جناب وو پینگ نے کہا کہ بچے انسانیت کا مستقبل ہیں۔ بینگمیٹ بچوں کی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والے سرفہرست چینی اداروں میں سے ایک ہے۔ سیرالیون حکومت اور عزت مآب صدر ڈاکٹر ارنیسٹ بائی کوروما کی مضبوط قیادت نے مناسب خوراک تک سیرالیون کے عوام کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے زبردست کوششیں کی ہیں۔ یہ عطیہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاسی ہی نہیں کرتا بلکہ بینگمیٹ کی سماجی ذمہ داریوں کا بھی مظاہرہ کرتا ہے۔

جناب فرینک وانگ، ڈائریکٹر بینگمیٹ انٹرنیشنل، نے افریقہ میں خواتین اور بچوں کی صحت کے فروغ کے لیے محترمہ کوروما کی مسلسل کوششوں کو سراہا، “بینگمیٹ چین میں بچوں کے لیے خوراک اور خدمات فراہم کرنے والا معروف ادارہ ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں بینگمیٹ دنیا کے معروف اداروں، حکومتی اداروں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ بچوں کے لیے اعلیٰ معیار کی خوراک تیار کرنے کے لیے قریبی کام کر چکا ہے۔ محبت کے جذبے کے ساتھ بینگمیٹ افریقہ میں خاندانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کو زیادہ صحت مند اور زیادہ خوشیوں بھری زندگی گزارنے کے لیے متاثر کرنے میں محترمہ کوروما کے ساتھ تعاون پر مسرور ہے۔”https://photos.prnasia.com/prnvar/20171012/1965004-1-b

https://photos.prnasia.com/prnvar/20171012/1965004-1-b

معلوم ہوا ہے کہ یہ بینگمیٹ کا پہلا افریقی عطیہ منصوبہ ہے، جو سیرالیون میں ماؤں اور بچوں کی صحت کی ترویج کے لیے بہت زیادہ بھی اہمیت رکھتاہے۔ بینگمیٹ اگلا قدم بچوں کے لیے عالمی غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی میں مسلسل مدد کے لیے سارک ممالک میں عطیات جاری کرے گا۔

بینگمیٹ کے بارے میں

1992ء میں قائم شدہ بینگمیٹ بے بی اینڈ چائلڈ فوڈ کمپنی لمیٹڈ (“BEINGMATE “) چین کا سب سے معروف مصنوعات و خدمات فراہم کنندہ ہے۔ یہ  ماں، نومولود اور بچوں کے لیے سائنٹیفک اور محفوظ مصنوعات و خدمات پر مسلسل کام، تیاری اور شمولیت سے وابستہ ہے۔ یہ چین، آئرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ سمیت “گلوبل گولڈن ملک سورس بیلٹ” میں 8 دودھ کے بنیادی اڈے بنا چکا ہے۔ محبت کے کارپوریٹ جذبے کے ساتھ بینگمیٹ بچوں کو صحت مند انداز میں جینے اور انسانیت کی تحفظ پذیر پیشرفت میں اپنا حصہ ڈالنے میں مدد دیتا ہے۔

بینگمیٹ 2017ء:

2017.01: ہارورڈ بزنس اسکول کیس کے طور پر انتخاب؛

2017.06: سارک ممالک میں بچوں کی مدد کے لیے سارک-سی سی آئی کے ساتھ خشک دودھ کے عطیے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط؛

2017.08: نئی پالیسی کے بعد چینی ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ منظور شدہ فارمولاز کی فہرست میں بینگمیٹ کی مصنوعات “0001-0009” میں مندرج؛

2017.10: بینگمیٹ کے 39 آئی ایم ایفس نئی پالیسی کے لیے چینی ایف ڈے کی جانب سے منظور کیے گئے ہیں؛

2017.10: بینگمیٹ نے سیرالیون کی خاتون اوّل کے ساتھ عطیے کے منصوبے کا اجراء کیا؛

اپنے قیام کے بعد سے اب تک بینگمیٹ معاشرے کے لیے 1 ارب رینمنبی کی مصنوعات اور فنڈز عطیہ کر چکا ہے۔