Daily Archives: July 7, 2017

میڈیا عالمی اشتراکی جدت طرازی کے حصول کے لیے کوشاں

شنگھائی، چین، 7 جولائی 2017ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/– 2017ء جی20 اجلاس 7 جولائی کو ہیمبرگ میں شروع ہوگا۔ اس اجلاس کا موضوع “ایک باہم منسلک دنیا کی تشکیل” ہے، جو 2016ء جی 20 ہانگچو اجلاس میں مقرر کی گئی ایک آزاد عالمی معیشت کی تعمیر کے موضوع کا تسلسل ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ چین اور جرمنی متحرک انداز میں جدت طراز تعاون اور باہم تعاون کے ذریعے جدت طرازی کا جال بن چکے ہیں جو دونوں ملکوں کے اداروں، کالجوں اور جامعات، حکومتوں اور سائنسی تحقیقاتی اداروں کا احاطہ کرتے ہوئے مرحلہ وار صورت اختیار کر رہا ہے۔

چینی ادارے جن کی نمائندگی میڈیا گروپ نے کی، نے اس کورس کے دوران فیصلہ کن جدت طرازی محرک کا کردار ادا کیا۔ رواں سال جنوری میں میڈیا 95 فیصد حصص کے ساتھ کے یو کے اے اے جی کا اہم حصص یافتہ بنا، جو معروف عالمی روبوٹ کمپنی ہے۔ اپریل کے اواخر میں آر اینڈ ڈی اینڈ انوویشن سینٹر یورپ (آر ڈی آئی سی ای) نے سلیکون ویلی، امریکا میں سان ہوزے میں اپنی افتتاحی تقریب منعقد کی اور باضابطہ طور پر کام کا آغاز کیا۔ ان تبدیلیوں نے مارکیٹ کو قائل کیا کہ میڈیا اپنی جدت طرازی کی صلاحیتوں پر ایک مستحکم قدم اٹھا چکا ہے اور اس کا آزاد نمونہ عالمگیریت کے دوران مضبوط ہو رہا ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی گروپ کی حیثیت سے میڈیا اپنی کاروباری وسعت کو پھیلا چکا ہے تاکہ گھریلو مصنوعات، گرمی ہوا داری ایئر کنڈیشننگ (ایچ وی اے سی)، اسمارٹ لاجسٹکس، روبوٹس اور آٹومیٹک سسٹمز کا احاطہ کریں۔ ادارہ دنیا بھر کے 8 ممالک میں 17 آر اینڈ ڈی مراکز قائم کر چکا ہے جو 10,000 محققین اور 300 سے زیادہ سینئر غیر ملکی ماہرین رکھتے ہیں۔ اس کی آر اینڈ ڈی گنجائش کا “عالمی ربط” ادارے کی طاقت بن چکا ہے کہ وہ عالمی جدت طرازی نمونے تشکیل دے۔

اس کے علاوہ میڈیا نے ایک نئے عالمی انٹرپرائز جدت طرازی موڈ کو تشکیل دیا جو اپنی خصوصیات رکھتا ہے – ایک چار سطحی سسٹم برائے آر اینڈ ڈی۔ اس نے معروف مقامی و غیر ملکی کالجوں اور جامعات، مکمل عالمی ٹیکنالوجیکل وسائل اورجدید ترین آزاد جدت طرازیوں کے ساتھمتحرک اشتراک کیا۔

“ہماری کامیابیاں ٹیکنالوجیکلجدت طرازی کے مسلسل تعاقب اور مناسب آر اینڈ ڈی ڈیولپمنٹ کے ساتھ ساتھ وسیع تجربے اور گزشتہ تین سالوں میں مسلسل ترقی کی مرہون منت ہیں۔ مستقبل میں ہم دیگر مناسب ممالک میں غیر ملکی آر اینڈ ڈی مراکز قائم کریں گے۔ ہم بین الاقوامی سطح پر اثاثہ جات کو متعین کرنے اور ایک عالمی سطح کے سرفہرست ٹیکنالوجی بنیاد پر ساخت گر ادارے کے قیام کے لیے اپنے ترقیاتی ہدف کی جانب مسلسل آگے بڑھنے کے لیے کوشاں ہیں۔” ڈاکٹر ہو چی چیانگ، نائب صدر، سی ٹی او اور ڈائریکٹر سینٹرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا گروپ نے کہا۔

ذریعہ: میڈیا گروپ

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=292596

‫زیارت نو ہانگ چو، 2016ء جی20 اجلاس کا میزبان شہر –”ای ڈبلیو ٹی پی” ہانگ چو کو “آن لائن شاہراہ ریشم” کے تزویراتی مرکز کی حیثیت سے ترویج دے گا

ہانگ چو، چین، 7 جولائی 2017ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/– 16 جون کو یو جی ایل جی ایشیا پیسفک ریجن “دی بیلٹ اینڈ روڈ” لوکل کوآپریشن پروفیشنل کمیٹی (بی آر ایل سی) باضابطہ طور پر ویسٹ لیک میں صدر دفاتر رکھتی تھی اور ہانگ چو کی مستقل “مکین” بنی، مشرقی چین میں 2016ء جی20 اجلاس کا میزبان شہر، جو خود کو “آن لائن شاہراہ ریشم” کے تزویراتی مرکز کی حیثیت دینے کا ہدف رکھ رہا ہے۔

“بیلٹ اینڈ روڈ ان اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے جنہیں میں نے زندگی میں دیکھا،” جین شپلی، سابق وزیر اعظم نیوزی لینڈ اور بین الاقوامی مالیاتی فورم کی بورڈ رکن نے 17 جون کو 2017ء سلک روڈ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے افتتاحی اجلاس میں کہا۔

چاؤ یدے، سی پی سی کی کی ہانگ چو میونسپل کمیٹی کے سیکریٹری نے کہا کہ ہانگ چو بین السرحدی ای-کامرس کے لیے جامع تجرباتی زون کی تعمیر جاری رکھے گا اور بین السرحدی ای-کامرس کے لیے بین الاقوامی مسابقت کے ساتھ ایک جدت طراز، خدمات و بگ ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کو تیز کرے گا، تاکہ ای-کامرس کے لیے ایک بہترین کاروباری ماحول تخلیق کیا جا سکے اور ہانگ چو کو “آن لائن شاہراہ ریشم” کے لیے تزویراتی مرکز بنایا جا سکے۔”

بلاشبہ، ہانگ چو ایک نئے سفر کے نقطہ آغاز پر کھڑا ہے، جیسا کہ زمینی و بحری شاہراہ ریشم نے ہزاروں سال پہلے مغرب کی جستجو کا آغاز کیا تھا۔ اس سال کی ابتدائی سہ ماہی میں ہانگ چو نے 1.82 ارب امریکی ڈالرز کی بین السرحدی ای-کامرس ریکارڈ کی ہے، جس میں 1.35 ارب امریکی ڈالرز کی برآمدات بھی شامل ہیں جو سال بہ سال میں 21.78 فیصد کا اضافہ ہے۔ کل 106 ای-کامرس ادارے اس عرصے کے دوران تجرباتی زون میں منتقل ہوئے، جو ہانگ چو کی غیر ملکی تجارت کا اہم محرک ہے۔

درحقیقت، ہانگ چو سب سے متحرک نئی معیشت رکھنے والے چینی شہروں میں سے ایک بن چکا ہے، اور شہر کو مختلف پائلٹ اصلاحی پروگراموں کا ہدف دیا گیا ہے جیسا کہ نیشنل انڈیپینڈنٹ ڈیمونسٹریشن زون اور نو منظور شدہ ہانگ چو ایئرپورٹ اکانمک ڈیمونسٹریشن زون۔ اعدادوشمار نے ظاہر کیا کہ جی20 اجلاس کے بعد ہانگ چو کا بین الاقوامی اثر و رسوخ نئی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

قومی اصلاحی منصوبوں کے ساتھ ساتھ شہری انجمنوں کے کچھ منصوبوں کی گونج بین الاقوامی سطح پر بھی سنی گئی۔ گزشتہ سال جی20 اجلاس کے دوران جیک ما، بانی و ایگزیکٹو چیئرمین علی بابا، نے پہلی بار “ای ڈبلیو ٹی پی” (الیکٹرانک ورلڈ ٹریڈ پلیٹ فارم) کا خیال پیش کیا، جو جی 20 رہنماؤں کی کمیونک ہانگ چو سمٹ میں لکھا گیا تھا۔

یہ خیال جلد ہی حقیقت کا روپ دھار گیا۔ رواں سال مارچ میں علی بابا گروپ اور حکومت ملائیشیا نے مشترکہ طور پر چین سے باہر پہلے ای ڈبلیو ٹی پی “ڈجیٹل مرکز” کے قیام کے لیے اہم تعاون کے معاہدے کا اعلان کیا تاکہ ملائیشیا میں اور جنوب مشرقی ایشیا کے پورے خطے کو عالمی تجارت میں شریک کرنے کے لیے نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مدد دی جا سکے۔

ہوانگ وان بنگ، چیف آپریٹنگ آفیسر ملائیشیا ڈجیٹل اکانمی کارپوریشن (ایم ڈی ای سی) نے کہا کہ “ہم (علی بابا کو استعمال کرکے) ملائیشیا کی معیاری مصنوعات کو بیرون ملک فروخت اور ملائیشیائی باشندوں کے لیے اعلیٰ معیار کی درآمدات متعارف کروا سکتے ہیں۔”

دریں اثنا، ہانگ چو لوگو کے ساتھ ساختہ چین مصنوعات دنیا تک پہنچیں۔ فرینکفرٹ، جرمنی میں ایک سڑک ہے جس کا نام چینی کمپنی چنٹ پر ہے۔ صرف سیمنز، بوش وغیرہ ایسے ادارے ہیں  جنہيں جرمنی میں یہ اعزاز ملا ہے۔ دو سال قبل، چنٹ گروپ نے کیپٹل آپریشن اور اثاثہ جات کی تنظیم نو کے ذریعے جرمنی کے معروف فوٹووولٹیک ادارے کونرجی کے پرزہ بنانے والے ایک کارخانے کو ایک سب سے بڑے مقامی پی وی ماڈیول کاروبار میں تبدیل کیا تھا، جس سے 200 ملازمتیں تخلیق ہوئیں۔

اعدادوشمار نے ظاہر کیا کہ اس وقت بیلٹ اینڈ روڈ ممالک میں 93 غیرسمندر پار سرمایہ کاری منصوبے ہیں جو ہانگ چو کے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے چین کی طرف سے 3.563 ارب امریکی ڈالرز کا عہد کیا گیا ہے، جو ہانگ چو کی کل بیرونی سرمایہ کاری کی عہد کردہ 37.86 فیصد رقم ہے۔

ذریعہ: ہانگ چو میونسپل کمیٹی آف دی سی پی سی

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=292617

Revisit Hangzhou, Host City of 2016 G20 Summit – “eWTP” to promote Hangzhou as strategic hub of “Online Silk Road”

HANGZHOU, China, July 7, 2017 /Xinhua-AsiaNet/– On June 16, UCLG Asia Pacific Region “The Belt and Road” Local Cooperation Professional Committee (BRLC) was officially headquartered by the West Lake and became a permanent “resident” of Hangzhou, the host city of 2016 G20 Summit in East China, which is aiming to build itself into a strategic hub of “Online Silk Road.”

“The Belt and Road is one of the most important initiatives I’ve ever seen in my life,” Jenny Shipley, former Prime Minister of New Zealand and board member of International Finance Forum, said at 2017 Silk Road International Association Inaugural Meeting on June 17.

Zhao Yide, secretary of Hangzhou municipal committee of the CPC, said that Hangzhou will continue the construction of a comprehensive experimental zone of cross-border e-commerce, and speed up the construction of an innovation, service and big data center with international competitiveness for cross-border e-commerce, so as to create the best business environment for e-commerce and build Hangzhou into a strategic hub of “Online Silk Road.”

Obviously, Hangzhou has been standing on the starting point of a new journey, like the land and maritime Silk Roads opening the exploration of the West thousands of years ago. In the first quarter of this year, Hangzhou recorded a 1.82 billion U.S. dollars turnover of cross-border e-commerce, including an export of 1.35 billion U.S. dollars, an increase of 21.78 percent year on year. A total of 106 e-commerce companies moved to the experimental zone during the same period, serving as an important driver of foreign trade for Hangzhou.

As a matter of fact, Hangzhou has now become one of the Chinese cities with the most dynamic new economy, and the city is tasked with several pilot reform programs, such as the National Independent Innovative Demonstration Zone and the newly-approved Hangzhou Airport Economic Demonstration Zone. The data show that after the G20 Summit, Hangzhou’s international influence reached a new level.

In addition to national reform plans, some initiatives from civil society are also resonating internationally. During the G20 Summit last year, Jack Ma, founder and executive chairman of Alibaba, for the first time put forward the concept of “eWTP” (Electronic World Trade Platform), which was written into the G20 Leaders’ Communique Hangzhou Summit.

This idea quickly became a reality. In March this year, Alibaba Group and the Malaysian government jointly announced an important cooperation deal to build the first eWTP “digital center” outside China to help young people and small businesses in Malaysia and the whole region of Southeast Asia to participate in global trade.

“We can (use Alibaba to) sell Malaysian quality products to foreign countries and introduce high quality imports for Malaysians,” said Huang Wanbing, chief operating officer of the Malaysia Digital Economy Corporation (MDEC).

Meanwhile, made-in-China products with Hangzhou logo advance to the world. In Frankfurt, Germany, there is a street named after a Chinese company Chint. Only Siemens, Bosch etc. have been given the same honor in Germany. Two years ago, Chint Group, through capital operation and assets restructuring, transformed a component factory of the German well-known photovoltaic enterprise Conergy into the largest local PV module business, creating more than 200 jobs.

Data show that at present there are 93 overseas investment projects in Belt and Road countries coming from Hangzhou. For those projects, the Chinese side pledged 3.563 billion U.S. dollars, accounting for 37.86 percent of the agreed amount of Hangzhou’s total foreign investment.

SOURCE: Hangzhou Municipal Committee of the CPC

Image Attachments Links:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=292617

Midea Strives to Achieve Global Collaborative Innovation

SHANGHAI, China, July 7, 2017 /Xinhua-AsiaNet/– 2017 G20 Summit will soon kick off in Hamburg on July 7. This summit is themed as “Shaping an Interconnected World”, which continues the subject of building an open world economy set at 2016 G20 Hangzhou Summit. Against this backdrop, China and Germany have been actively conducting innovative cooperation and a collaborative innovation network covering enterprises, colleges and universities, governments and scientific research institutions of the two countries is gradually taking shape.

Chinese enterprises represented by Midea Group act as decisive innovation drivers during this course. In January this year, Midea became the principal shareholder of KUKA AG, a world leading robot company, with a stake of about 95%. In late April, R&D and Innovation Center Europe (RDICE) of Midea was announced open in Graz, Austria; meanwhile, its Emerging Technology Center (ETC) had its opening ceremony held in San Jose in Silicon Valley, US and was officially put into operation. These changes have convinced the markets that Midea has taken a firm leap relying on its innovation capability and open pattern fostered during globalization.

As an international technology group, Midea has expanded its business scope to cover household appliances, Heating Ventilation Air Conditioning (HVAC), smart logistics, robots and automatic systems. The company has set up 17 R&D centers in 8 countries worldwide with a total of over 10,000 researchers and more than 300 senior foreign experts. The “global linkage” of its R&D capacity has become a powerhouse for the company to form the global innovation pattern.

Besides, Midea has pioneered a new worldwide enterprise innovation mode with its own characteristics – the 4-Tier System for R&D. It has also established joint labs through active cooperation with famous domestic and overseas colleges and universities, integrated global technological resources and deeply advanced open innovation.

“Our achievements are the result of our constant pursuit for technological innovation and proper R&D deployment as well as experience accumulation and continuous progress in the past three years. In the future, we will set up overseas R&D centers in other suitable countries. We are committed to allocating assets internationally and steadily striding toward our development goal of building a world top-notch technology-based manufacturing enterprise.” said Doctor Hu Ziqiang, Vice President, CTO and Director of the Central Research Institute of Midea Group.

SOURCE: Midea Group

Image Attachments Links:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=292596

Pakistan Hails UN for Listing Jamaat-ul-Ahrar as Global Terrorist

ISLAMABAD � Pakistan has hailed a United Nations Security Council decision to declare the group Jamaat-ul-Ahrar, or JuA, a global terrorist organization. The anti-state militant group has claimed responsibility for a majority of recent terrorist attacks in the country.

The group, which split from the outlawed Pakistani Taliban in 2014, is associated with Islamic State and operates out of Afghanistan’s eastern Nangarhar province as well as Pakistan’s tribal border district of Mohmand, according to information posted on the U.N. website Thursday.

The designation subjects JuA to an assets freeze, travel ban and arms embargo.

“Pakistan welcomes the listing of Jamaat-ul-Ahrar by the U.N. Security Council. Pakistan had proposed this listing,” said a Foreign Ministry statement Friday in Islamabad.

JuA has not yet commented on the U.N. decision.

The Pakistani government banned JuA last November following a series of attacks that killed dozens of people, including members of the minority Christian community.

Authorities maintain that militants fleeing security operations have found refuge in “ungoverned” Afghan border areas where they have joined with Islamic State and launch terrorist attacks against Pakistan.

Military officials allege the Afghan intelligence agency is backing JuA extremists in plotting the violence and cross-border raids on Pakistani security forces.

The group also took credit for last year’s Easter suicide bombing in the city of Lahore that killed more than 70 people, including Christians and Muslims.

Kabul rejects allegations it harbors JuA and, in turn, blames Islamabad for sheltering Taliban insurgents and the dreaded Haqqani network involved in deadly attacks in Afghanistan.

In April, the Pakistani military announced the capture of Ehsanullah Ehsan, a central leader and JuA spokesman.

The detained militant, in a video confession, said the Afghan spy agency, with the support of Indian counterparts, harbored and used fugitive militants to orchestrate terrorist activities inside Pakistan.

Kabul and New Delhi rejected the accusations.

Source: Voice of America

Afghans Stage Rare Anti-Iran Rally, Denounce Iran’s Rouhani

Residents and civil society activists staged a protest Friday in southern Afghanistan to denounce neighboring Iran’s President Hassan Rouhani for criticizing Afghan water management and dam projects.

Hundreds of demonstrators peacefully marched through the streets of Lashkargah, capital of Helmand province near the Iranian border. They chanted, Death to Hassan Rouhani and Death to enemies of Afghanistan.

The protesters called on President Ashraf Ghani’s government to not be deterred by the Iranian warning and to implement water management and storage projects along Afghan rivers.

At an international conference on sandstorms and environmental issues in Tehran on Monday, the Iranian leader warned that construction of several dams in Afghanistan could destroy civilizations in Iranian border provinces, forcing people to abandon their homes.

We cannot remain indifferent to the issue, which is apparently damaging our environment, the Iranian leader said before an audience that included Afghan delegates.

Rouhani was referring to Afghan dams such as Kajaki, Kamal Khan, Bakhshabad and Salma in provinces that border Iran.

Afghan politicians also have been criticizing the Iranian president for his comments, which they say amount to direct interference in the internal affairs of Afghanistan.

Afghan media have also expressed outrage through special commentaries and editorials.

We can continue living brotherly, but the use of the things that belong to us is our immediate right. We need our waters; we need electricity, irrigation and greenery. Thus, we should be the first ones that use our rivers, English daily Afghanistan Times wrote in an editorial published Friday.

The paper went on to say that 80 percent of Afghan water flowed to Iran and neighboring Pakistan without being used inside Afghanistan.

Tehran has not commented on the criticism Rouhani’s comments provoked in Afghanistan.

Afghanistan and Iran signed a water-sharing treaty in 1973, stipulating that Iran not make claims to water from the Helmand River in excess of the amount agreed upon in the treaty, even if additional water becomes available in the future.

President Ghani has recently noted that Iran continues to receive its fair share of water from the river and that the country cannot claim more than what has been agreed upon.

We want domestic production…We will manage our water and control it, Ghani said.

After assuming office in 2014, the Afghan president vowed to construct 21 new dams, calling them key to efforts to boost the troubled economy and produce jobs for unemployed youth.

The controversy over the construction of new dams comes as Kabul accuses Iran of increasing contacts with the Taliban fighting the Afghan government and international forces.

Provincial officials and politicians have alleged that Iranian security forces are arming and providing medical assistance to insurgents, allegations Tehran denies.

Afghan officials say Iran wants to bolster the Taliban to prevent Islamic State militants from threatening Iranian territory.

Source: Voice of America