Daily Archives: June 13, 2017

عسکری بینک لمیٹڈ اور یونین پے انٹرنیشنل کے درمیان این ایف سی اور ای ایم وی ڈیبٹ کارڈ کے اجراء کے معاہدے پر دستخط

/شنگھائی، 13 جون 2017ء / پی آر نیوزوائر/– پاکستان کے اہم بینکاری ادارے عسکری بینک لمیٹڈ (اے کے بی ایل) اور دنیا کی سب سے بڑی ادائیگی اسکیموں میں سے ایک یونین پے انٹرنیشنل کے درمیان پاکستان میں یونین پے کوئیک پاس (این ایف سی) اور ای ایم وی چپ کارڈز جاری کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ اقدام اے کے بی ایل صارفین کے لیے ادائیگیوں کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے “ٹیپ اینڈ گو” کونٹیکٹ لیس ادائیگیوں کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں، یہ معاہدہ اے کے بی ایل صارفین کو 41 ملین تاجرین اور دنیا بھر میں 2 ملین سے زائد اے ٹی ایم مشینیں استعمال کرنے کے ساتھ 10 ملین آن لائن مرچنٹ سائٹس پر ادائیگی کے قابل بنائے گا۔

عسکری بینک لمیٹڈ پاکستان کے گروپ ہیڈ آپریشنز جناب فرخ اقبال خان اور یونین پے انٹرنیشنل مشرق وسطیٰ کے جنرل مینیجر جناب ہانگ وانگ نے شنگھائی، چین میں شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پر یونین پے انٹرنیشنل کے چیف بزنس ڈیویلپمنٹ آفیسر جناب لیری وانگ اور اے کے بی ایل کے کنٹری ہیڈ برانچ لیس بینکنگ و اے ڈی سی سیز جناب عاصم بشیر بھی موجود تھے۔

عسکری بینک لمیٹڈ کے گروپ ہیڈ آپریشنز جناب فرخ اقبال خان نے  کہا کہ “عسکری بینک مالیاتی خدمات کے شعبے میں تشکیل نو اور تعریف نو میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور کوئیک پاس (این ایف سی) اور ای ایم وی چپ کارڈ کے اجراء کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کے ساتھ معاہدے پر دستخط اسی سمت میں ایک اور قدم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عسکری بینک، مالیاتی شمولیت کے لیے اے کے بی ایل کے اسٹریٹجک منصوبے کی تعریف نو کرتے ہوئے چین میں مالیاتی شمولیت کے لیے یونین پے کے بہترین کامیاب طریقوں سے فائدہ اٹھائے گا۔

عسکری بینک لمیٹڈ کے کنٹری ہیڈ برانچ لیس بینکنگ و اے ڈی سیز جناب عاصم بشیر نے کہا کہ “ہم پاکستان میں یونین پے کے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ عسکری بینک نئی اور جدید مصنوعات کی پیشکش کے ذریعے صارفین کے تجربے اور انہیں بہترین سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ ‘ٹیپ اینڈ گو’ کونٹیکٹ لیس ادائیگیوں کی سہولت اے کے بی ایل صارفین کے لیے ادائیگیوں کو محفوظ و مامون رکھتے ہوئے انہیں مزید آسانیاں فراہم کرے گی۔”

یونین پے انٹرنیشنل کے چیف بزنس ڈیویلپمنٹ آفیسر جناب لیری وانگ نے کہا کہ “ہم اے کے بی ایل کے ساتھ پاکستانیوں کے لیے ادائیگی کا نیا طریقہ فراہم کرنے پر بہت مسرور ہیں۔ ان سالوں میں یونین پے نے پاکستان میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ فی الوقت پاکستان میں 70 فیصد اے ٹی ایمز اور 95 فیصد پی او ایس ٹرمنلز یونین پے کارڈز قبول کر رہے ہیں اور ملک میں 3.4 ملین یونین پے کارڈز جاری کیے جاچکے ہیں۔ یونین پے کی جدید سہولیات جیسا کہ کوئیک پاس اور ای ایم وی چپ کارڈز کی پیشکش یہاں مقامی شہریوں کے لیے ہماری خدمات کی قابلیت کو مزید بہتر بنائے گی۔”

مائیڈیا: گھریلو مصنوعات تیار کرنے والا نامور چینی ادارہ دنیا بھر میں اپنی جدید شاخیں قائم کررہا ہے

شنگھائی، چین، 13 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– رواں سال اپریل میں مائیڈیا نے آسٹریا میں اپنے یورپی تحقیق و ترقی اور جدید مرکز کا آغاز کیا تھا۔ اسی اثنا میں سلیکون ویلی، امریکا میں اس کے ایمرجنگ ٹیکنالوجی سینٹر کا افتتاح ہوا اور کام کی شروعات کی گئی۔

مائیڈیا گروپ اب تک آٹھ ممالک میں 17 تحقیق و ترقی مراکز، بیرون ملک 60 شاخیں، 10 ہزارمحققین  اور 300 غیر ملکی ماہرین کا حامل ہوچکا ہے۔ عالمی معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) حل فراہم کرنے والے  معروف چینی ادارے ہواوے، جو پوری دنیا میں 36 مشترکہ جدید مراکز قائم کرچکا ہے، کی طرح مائیڈیا بھی چینی برانڈ کا نمائندہ بن چکا ہے جس نے اپنے شعبے کے اندر جدت طرازی میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔

اپنی عالمگیر حکمت عملی سے ہم آہنگ رہتے ہوئے مائیڈیا گروپ دنیا بھر کی سرفہرستسائنسی اور تکنیکی شخصیات کو متوجہ کرنے کے سلسلے میں تیزی لارہا ہے۔ سال 2016ء میں شروع کیے گئے “مائیڈیا اسٹار” نامی پروگرام کے تحت دنیا کی 100 بہترین جامعات سے بہترین قابلیت، خاص کر مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھنے والوں کو، دس لاکھ چینی یوآن سے زائد سالانہ تنخواہ کی پرکشش پیشکش اور تین سال کے اندر تیزی سے ترقی دینے کی حوصلہ افزا حکمت عملی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔

فوشان، گوانگ ڈونگ میں واقع مائیڈیا کا گلوبل انوویشن سینٹر اپنے عالمی فکری وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے صنعتی اداروں کے درمیان سائنسی اور ٹیکنالوجی جدت کا  نیا کوہستان بن گیا ہے۔ 30 ارب یوآن کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ یہ وسیع تحقیق و ترقی مرکز آزادانہ تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ جدت طرازی کے لیے  260,000 مربع میٹر پر محیط علاقہ  اور 10 ہزار افراد کو رہائش فراہم کر رہا ہے۔ یہاں بڑی منڈی، جیسا کہ مصنوعی ذہانت، مواد اور ملمع کاری، پانی کی صفائی، سروس روبوٹس، جدید رہائش گاہیں، غذائیت اور صحت سے متعلق خدمات، کے نقطہ نظر کے ساتھ جدید ترین شعبوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی جاچکی ہیں۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مائیڈیا نے تحقیق اور ترقی میں 20 ارب یوآن سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے تھامسن رائٹرز کی رپورٹ میں گھریلو مصنوعات کی جدت طرازی کے شعبے میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ سال 2016ء میں مائیڈیا کی بیرون ملک آمدنی 64.01 ارب یوآن سے زائد ہوگئی جو اس کی مجموعی آمدنی کا 43.5 فیصد حصہ اور سال بہ سال 29.53 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

مائیڈیا گروپ کے نائب صدر و چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور مائیڈیا کارپوریٹ ریسرچ سینٹر کے صدر ڈاکٹر ہو زیکیانگ نے کہا کہ “مائیڈیا اپنی بہترین تحقیق و ترقی ٹیم کے ساتھ پانچ سالوں میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی بنانے والا ادارہ بنانے اور جامع انداز سے جدید مصنوعات تیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔”

ذریعہ: مائیڈیا گروپ

منسلک تصاویر کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=291029

گوانگژو کی صنعتی ترقی سے جدت طرازی کے امکانات ظاہر ہوگئے

گوانگژو، چین، 12 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– 2000 برسوں سے بھی زائد عرصے سے گوانگژو جنوبی چین کا تجارتی مرکز رہا ہے۔ تجارت میں اس کی ممتاز حیثیت نے اسے “ملینیا بزنس سٹی” کے طور پر شہرت دلوائی ہے۔ جب سے چین نے اصلاحات کی پالیسی نافذ کرنے اور 1978ء میں اس کا آغاز کیا ہے، گوانگژو صف اول میں شامل  رہا ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ متحرک اقتصادی علاقوں میں سے ایک گوانگژو گزشتہ 30 سالوں سے زائد عرصے سے چین کو دنیا بھر کے لیے کھولنے میں پیش پیش رہا ہے۔ سال 2016ء میں شہر کی جی ڈی پی تقریباً دو ٹریلین یوآن (294.4 ارب ڈالر) تک جاپہنچی جو سنگاپور اور ہمسائے ہانگ کانگ کے مساوی ہے۔

جدت طرازی سے حاصل ہونے والی اس عظیم شہرت کے ساتھ گوانگژو میں متعدد کاروباری ادارے شہر کی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ جدید دور میں مسابقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پیانو بنانے والا عالمی شہرت یافتہ ادارہ پرل ریور پیانو گروپ ان روایتی اداروں میں سے ایک ہے جنہوں نے گوانگژو میں شدید مسابقت کا سامنا کیا ہے۔ ان کے ترجمان یانگ ویہوا نے کہا کہ شدید مسابقت کے باوجود ادارہ 1956ء میں اپنے قیام کے بعد سے مسلسل جدت طرازی کے ذریعے ثابت قدم رہا ہے۔

اب یہ ادارہ تقریباً 100 ممالک اور خطوں میں فروخت ہونے والے  پیانو کے عالمی مارکیٹ شیئر میں 25 فیصد سے زائد کا حصہ دار ہے۔ اسی کامیابی کے باعث ادارے کو مسلسل 16 سالوں تک دنیا کا سب سے بڑے پیانو ساز کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں ادارے نے انتہائی معیاری پیانو کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے لیے جرمنی کے سب سے بڑے پیانو بنانے والے ادارے شیمل میں 90 فیصد حصص خریدے تھے۔

حالیہ برسوں میں گوانگژو جدید ساخت گری اور روبوٹکس پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی بہتری میں سرمایہ کاری کے لیے روایتی شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ گاڑیاں بنانے والے شعبے میں کار ساز اداروں، جیسا کہ ڈونگ فینگ نسان، گوانگکی ٹویوٹا اور گوانگکی ہونڈا،میں ویلڈنگ اور اسپرے کے لیے زیر استعمال روبوٹس کی تعداد 400 سے زائد ہوچکی ہے۔

گوانگژو میونسپلٹی کے انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے والوں کے علاوہ 10 شعبوں مثلاً پیٹروکیمیکل، برقیات اور فرنیچر بنانے والے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر روبوٹس اور جدید ڈیوائسز استعمال کی جارہی ہیں۔ گذشتہ سال کے آخر تک گوانگژو میں  تقریباً 600 کاروباری ادارے خودکار طریقے سے پیداوار کے طریقے استعمال کر رہے تھے۔

ٹیکنالوجی میں ترقی کے علاوہ شہر ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں کو فروغ دینے پر سنجیدگی سے توجہ مرکوز رکھتے ہوئے نئی رفتار حاصل کر رہا ہے۔ گوانگژو کی بلدیاتی حکومت کے تازہ منصوبے کے مطابق، شہر کی جانب سے اپنائی جانے والی آئی اے بی اسکیم کا مقصد ایسی ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بائیوفارماسیوٹیکل کو مستحکم کرنا ہے، کروڑوں مالیت کے کی پیداواری قدر رکھنے والے صنعتی حلقوں کے قیام سے اس کی کشش، تخلیقی صلاحیتوں اور مسابقت میں اضافے متوقع ہے۔

برقی معلومات تیار کرنے والی صنعت میں کروڑوں مالیت کی پیداواری قدر فراہم کرنے والا واحد نیا ڈسپلے کلسٹر تخلیق کیا جاچکا ہے۔ 139.3 ارب یوآن (20.5 ارب ڈالر) کی مجموعی قدر کے ساتھ دس نئے ڈسپلے تیار کرنے والے، بشمول ایل جی ڈسپلے اور اسکائی ورتھ، گوانگژو میں 20 بہترین برقی معلومات بنانے والے اداروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ 10.5-جنریشن ڈسپلے کے لیے فوکسکون ایکو-صنعتی پارک کے ساتھ زینگ چینگ ضلع، گوانگژو میں قدم جما چکا ہے، جو کہ چین کی اصلاحات اور کھلی پالیسی کے بعد سے جدید ساخت گری کے شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے، اس سے گوانگژو کی نئے ڈسپلے تیار کرنے والے شعبے ایک نئی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے، جس کی مالیت 61 ارب یوآن (8.97 ارب ڈالر) ہے، کا آغاز مارچ 2017ء میں کیا چکا ہے، اس قدم سے کثیرالقومی تائیوانی اداروں سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 70 اداروں کی ایک لہر کی گوانگژو کی طرف متوجہ ہونے کی توقع ہے۔ جون 2019ء میں تکمیل کے بعد اس منصوبے سے 92 ارب یوآن (13.5 ارب ڈالر) کی پیداواری قدر حاصل کرنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے جس سے گوانگژو کو ڈسپلے ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بنانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

ذریعہ: گوانگژو بلدیہ حکومت

Publicis Groupe: Opening of the new restaurant Le Drugstore

Opening of the new restaurant Le Drugstore
with decor by the designer Tom Dixon and
menu by 3 stars Michelin Chef
Eric Frechon.

The Publicis Drugstore takes on a new lease of life with the opening of the restaurant Le Drugstore; its decor and menu signed by a trend-setting duo. A new journey in capital letters, faithful to the spirit of the site that is constantly evolving. From raw to cooked, from the traditional baguette to the signature millefeuille, from the finger sandwich to gourmet ice-cream, from the iconic croque-monsieur to beef tartar with caviar.

This is a way for this legendary site, so emblematic of everything Parisian, to proclaim its renewed identity. The original Publicis Drugstore came into being in 1958, on the initiative of Marcel Bleustein-Blanchet, founder of Publicis; a brand as much as a meeting place, it was the first store to be open seven days a week. Cultish, Parisian, cosmopolitan, the Publicis Drugstore has always extolled Paris as the capital of desire in every shape and form.

On May 24, 2017, the Publicis Drugstore revealed a new facet of its personality with Le Drugstore, a restaurant designed like a members-only club, yet open to all, where brass, marble and leather banquettes create an intimate, convivial atmosphere in the heart of the city.

“A place of energy, movement, and novelty, breaking away from routine without losing its identity. Its roots are Anglo-American, its spirit is French. All this is embodied in the new Le Drugstore restaurant, from breakfast to an after-work, from tea-time to an evening meal. This brasserie proclaims the identity of the place and everything it symbolizes: accessibility, comfort, pleasure. A legendary site designed to enhance every moment of the day with a generous welcome that makes everyone feel at home.” Jacques Terzian, General Manager of Publicis Drugstore.

Le Drugstore: 133, avenue des Champs-Elysées 75008 Paris
Reservation@ledrugstore.com 01 44 43 77 64
Open Monday to Friday from 8 am to 2 am, Saturday and Sunday from 10 am to 2 am

FOOD AND MOOD VISUALS CAN BE DOWNLOADED FROM https://lion.box.com/s/rzxmvr4oijc7zo9o7gupro9k0hqzhypd
MORE VISUALS AVAILABLE END JUNE – ON REQUEST

Press contacts
– Le Drugstore : Olivia Gauran – olivia.gauran@consultants.publicis.fr01 44 82 47 82 / 06 23 76 43 57
– Eric Frechon : Melchior Agence de Communication – Clarisse Ferreres-Frechon – clarisse@agencemelchior.com – 06 26 67 17 60      
  and Valentine Dubois – valentine@agencemelchior.com – 06 43 60 79 77                                                                                        

– Tom Dixon – Juliette Greenspan – juliette.greenspan@tomdixon.net

Midea: a Champion Chinese Home Appliance Manufacturer Locating Its Innovative Institutions Worldwide

SHANGHAI, China, June 13, 2017 /Xinhua-AsiaNet/ — In April this year, Midea launched its European R&D and Innovation Center in Austria. At the same time, its Emerging Technology Center opened and started operating in Silicon Valley, the United States.

Midea Group has by now owned 17 R&D centers, over 60 overseas branches, 10,000 researchers, and 300 foreign experts in eight countries. Like Huawei, a leading global information and communication technology (ICT) solutions provider based in China, which has established 36 joint innovation centers all over the world, Midea has also become a representative Chinese brand which has taken a leading position of innovation in this area.

In line with its globalization strategy, the Midea Group has been accelerating its pace to attract top scientific and technological personnel globally. The “Midea Star” program, launched in 2016, recruits top talents from the world’s top 100 universities, especially the experts in Artificial Intelligence, with an attractive  offer of an annual salary package of over one millionChina yuan and an encouraging policy of rapid promotion within three years.

Relying on its global intellectual resources, Midea’s Global Innovation Center, located in Foshan, Guangdong, has became a new highland of science and technology innovation among manufactory enterprises worldwide. This large R&D base, with an accumulated investment of 30 billion yuan, covers an area of 260,000 square meters, and accommodates more than 10,000 people, for independent research and development as well as innovation. Great breakthroughs have been made here in cutting-edge fields with big market prospective, such as the artificial intelligence, materials and coatings, water treatment, service robots, smart homes, nutrition and health services.

Statistics show that in the past five years, Midea has invested more than 20 billion yuan in research and development, ranking first in the field of home appliances innovation in Thomson Reuters’ report. In 2016, the overseas revenue of Midea exceeded 64.01 billion yuan, accounting for 43.5% of its total revenue, an increase of 29.53% year on year.

“Midea is committed to building a world-class technology manufacturing enterprise with a first-class R&D team, and to making advanced products comprehensively in five years,” said Dr. Hu Ziqiang, vice president, Chief Technology Officer of Midea Group and president of Midea Corporate Research Center.

SOURCE: Midea Group

Image Attachments Links:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=291029

Gemalto Simplifies and Secures Access to Cloud Applications with New Access Management Service

SafeNet Trusted Access Helps Companies Mitigate Risk with Integrated Single Sign-on, Multi-Factor Authentication and Risk-Based Analytics

  • Improves user experience providing Smart Cloud Single Sign-On (SSO) for authentication when defined by the access policy
  • Simplifies access management to cloud applications such as Office 365, ServiceNow and Salesforce.com
  • Leverages a powerful data-driven policy engine for enterprises to optimize business security and user convenience via scenario-based access conditions

AMSTERDAM – June 13, 2017 – Gemalto, the world leader in digital security, today announced the launch of SafeNet Trusted Access, an access management and identity protection service, to secure cloud and on premise applications. Powered by a robust risk-based analytics engine, Gemalto’s solution delivers integrated Cloud Single-Sign-On (SSO) and Multi-factor Authentication (MFA) capabilities so companies can easily implement secure, conditional access and additional authentication levels when outlined in the policy engine.

According to recent research, enterprises in 2017 are expected to utilize an average of 17 cloud applications to support their IT, operations and business strategies. With SafeNet Trusted Access a user can log on once to access all approved applications, as defined by the policy for that application.

(Gemalto will host a webinar on June 28 at 11:00am ET titled “Getting Rid of Risky Business: How contextual information is securing cloud app access”. Click here to register.)

The adoption of cloud apps is fast becoming mainstream. Yet IT teams lag in their ability to effectively manage and restrict access to these apps and offer their employees the convenience they expect.  With SafeNet Trusted Access,  IT Managers can set scenario-based policies linked to associated risk factors and implement step up authentication for a particular application or group of users, depending on the level of sensitivity and role,” said Francois Lasnier, Senior Vice President of Authentication Products at Gemalto. “We built this newest addition on the expertise and success of the award winning SafeNet Authentication Service to support our customers as they migrate their enterprise workflows into the cloud. We designed this next-generation MFA and Cloud SSO platform with the goal of making it easier for IT to align security with business processes.”

“Historically, controlling access to resources has been ‘red-light/green-light’ or binary – you’re either allowed in or you’re not, and once they are in, most SSO offerings are blind to anything a user does once they are granted. By combining analytics with IAM, SafeNet Trusted Access provides companies with the ability to identify anomalies in access patterns that could indicate risk and help prevent data breaches,” said Garrett Bekker, Principal Analyst at 451 Research. “

Gemalto’s SafeNet Trusted Access key features include:

  • Scalability– The solution features built-in integration templates making it easy for companies to add new and existing cloud applications as needed
  • Supports long-term IAM strategy – Companies benefit from a broad range of Gemalto’s stronger authentication methods and form factors such as one-time-passwords and biometrics
  • Risk-based analytics and detailed access policies– Scenario-based policies define access controls, assess whether a login attempt is secure, apply the appropriate level of authentication and  require additional security measures when necessary
  • Visibility – Provides the right level of visibility into workforce identity and access activities & events
  • Centralized access management– A single pane of glass gives visibility into all access events streamlining security audits, tracking and help desk requests like password resets
  • Regulatory compliance– IT can ensure compliance with relevant legislation and standards using the solution’s data driven insights on user behavior, access events and policy enforcement.

Additional Resources:

Forrester Report: Building your IAM Strategy
4 Steps to Cloud Access Management
SafeNet Trusted Access Product Brief
SafeNet Trusted Access FAQ
Video: How Continuous Authentication Is Enhancing Cloud Access Management
Video: How Identity and Access Management (IAM) Works in the Cloud
Infographic: Cloud Access Management

About Gemalto

Gemalto (Euronext NL0000400653 GTO) is the global leader in digital security, with 2016 annual revenues of €3.1 billion and customers in over 180 countries. We bring trust to an increasingly connected world.

Our technologies and services enable businesses and governments to authenticate identities and protect data so they stay safe and enable services in personal devices, connected objects, the cloud and in between.

Gemalto’s solutions are at the heart of modern life, from payment to enterprise security and the internet of things. We authenticate people, transactions and objects, encrypt data and create value for software – enabling our clients to deliver secure digital services for billions of individuals and things.

Our 15,000+ employees operate out of 112 offices, 43 personalization and data centers, and 30 research and software development centers located in 48 countries.

For more information visit www.gemalto.com, or follow @gemaltosecurity on Twitter.

Gemalto media contacts:

Philippe Benitez
Americas
+1 512 257 3869
philippe.benitez@gemalto.com
Kristel Teyras
Europe Middle East & Africa
+33 1 55 01 57 89
kristel.teyras@gemalto.com
Shintaro Suzuki
Asia Pacific
+65 6317 8266
shintaro.suzuki@gemalto.com

Attachments:
http://www.globenewswire.com/NewsRoom/AttachmentNg/ba9f683d-0715-4c52-9d8a-01d0346ffc8f

Attachments:
A photo accompanying this announcement is available at http://www.globenewswire.com/NewsRoom/AttachmentNg/adf33ea6-e4df-4b63-b04a-528b73fec280