گوانگژو کی صنعتی ترقی سے جدت طرازی کے امکانات ظاہر ہوگئے

گوانگژو، چین، 12 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– 2000 برسوں سے بھی زائد عرصے سے گوانگژو جنوبی چین کا تجارتی مرکز رہا ہے۔ تجارت میں اس کی ممتاز حیثیت نے اسے “ملینیا بزنس سٹی” کے طور پر شہرت دلوائی ہے۔ جب سے چین نے اصلاحات کی پالیسی نافذ کرنے اور 1978ء میں اس کا آغاز کیا ہے، گوانگژو صف اول میں شامل  رہا ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ متحرک اقتصادی علاقوں میں سے ایک گوانگژو گزشتہ 30 سالوں سے زائد عرصے سے چین کو دنیا بھر کے لیے کھولنے میں پیش پیش رہا ہے۔ سال 2016ء میں شہر کی جی ڈی پی تقریباً دو ٹریلین یوآن (294.4 ارب ڈالر) تک جاپہنچی جو سنگاپور اور ہمسائے ہانگ کانگ کے مساوی ہے۔

جدت طرازی سے حاصل ہونے والی اس عظیم شہرت کے ساتھ گوانگژو میں متعدد کاروباری ادارے شہر کی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ جدید دور میں مسابقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پیانو بنانے والا عالمی شہرت یافتہ ادارہ پرل ریور پیانو گروپ ان روایتی اداروں میں سے ایک ہے جنہوں نے گوانگژو میں شدید مسابقت کا سامنا کیا ہے۔ ان کے ترجمان یانگ ویہوا نے کہا کہ شدید مسابقت کے باوجود ادارہ 1956ء میں اپنے قیام کے بعد سے مسلسل جدت طرازی کے ذریعے ثابت قدم رہا ہے۔

اب یہ ادارہ تقریباً 100 ممالک اور خطوں میں فروخت ہونے والے  پیانو کے عالمی مارکیٹ شیئر میں 25 فیصد سے زائد کا حصہ دار ہے۔ اسی کامیابی کے باعث ادارے کو مسلسل 16 سالوں تک دنیا کا سب سے بڑے پیانو ساز کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں ادارے نے انتہائی معیاری پیانو کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے لیے جرمنی کے سب سے بڑے پیانو بنانے والے ادارے شیمل میں 90 فیصد حصص خریدے تھے۔

حالیہ برسوں میں گوانگژو جدید ساخت گری اور روبوٹکس پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی بہتری میں سرمایہ کاری کے لیے روایتی شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ گاڑیاں بنانے والے شعبے میں کار ساز اداروں، جیسا کہ ڈونگ فینگ نسان، گوانگکی ٹویوٹا اور گوانگکی ہونڈا،میں ویلڈنگ اور اسپرے کے لیے زیر استعمال روبوٹس کی تعداد 400 سے زائد ہوچکی ہے۔

گوانگژو میونسپلٹی کے انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے والوں کے علاوہ 10 شعبوں مثلاً پیٹروکیمیکل، برقیات اور فرنیچر بنانے والے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر روبوٹس اور جدید ڈیوائسز استعمال کی جارہی ہیں۔ گذشتہ سال کے آخر تک گوانگژو میں  تقریباً 600 کاروباری ادارے خودکار طریقے سے پیداوار کے طریقے استعمال کر رہے تھے۔

ٹیکنالوجی میں ترقی کے علاوہ شہر ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں کو فروغ دینے پر سنجیدگی سے توجہ مرکوز رکھتے ہوئے نئی رفتار حاصل کر رہا ہے۔ گوانگژو کی بلدیاتی حکومت کے تازہ منصوبے کے مطابق، شہر کی جانب سے اپنائی جانے والی آئی اے بی اسکیم کا مقصد ایسی ابھرتی ہوئی حربی صنعتوں جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بائیوفارماسیوٹیکل کو مستحکم کرنا ہے، کروڑوں مالیت کے کی پیداواری قدر رکھنے والے صنعتی حلقوں کے قیام سے اس کی کشش، تخلیقی صلاحیتوں اور مسابقت میں اضافے متوقع ہے۔

برقی معلومات تیار کرنے والی صنعت میں کروڑوں مالیت کی پیداواری قدر فراہم کرنے والا واحد نیا ڈسپلے کلسٹر تخلیق کیا جاچکا ہے۔ 139.3 ارب یوآن (20.5 ارب ڈالر) کی مجموعی قدر کے ساتھ دس نئے ڈسپلے تیار کرنے والے، بشمول ایل جی ڈسپلے اور اسکائی ورتھ، گوانگژو میں 20 بہترین برقی معلومات بنانے والے اداروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ 10.5-جنریشن ڈسپلے کے لیے فوکسکون ایکو-صنعتی پارک کے ساتھ زینگ چینگ ضلع، گوانگژو میں قدم جما چکا ہے، جو کہ چین کی اصلاحات اور کھلی پالیسی کے بعد سے جدید ساخت گری کے شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے، اس سے گوانگژو کی نئے ڈسپلے تیار کرنے والے شعبے ایک نئی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے، جس کی مالیت 61 ارب یوآن (8.97 ارب ڈالر) ہے، کا آغاز مارچ 2017ء میں کیا چکا ہے، اس قدم سے کثیرالقومی تائیوانی اداروں سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 70 اداروں کی ایک لہر کی گوانگژو کی طرف متوجہ ہونے کی توقع ہے۔ جون 2019ء میں تکمیل کے بعد اس منصوبے سے 92 ارب یوآن (13.5 ارب ڈالر) کی پیداواری قدر حاصل کرنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے جس سے گوانگژو کو ڈسپلے ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بنانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

ذریعہ: گوانگژو بلدیہ حکومت

[related_post themes="text" id="122262"]